Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

”چمن، تورخم اور غلام خان خیبر پختونخوا کے وہ تین اہم کراسنگ پوائنٹس ہیں جو افغانستان کے ساتھ واقع ہیں۔ بارڈر بند کرنے کی وجہ سے پاکستان کو صرف کسٹمز کی مد میں اب تک تقریباً سات ارب روپے کے قریب نقصان ہو چکا ہے“ - سینئر صحافی Imtiaz...

21,581 Aufrufe • vor 9 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

27 ستمبر جلسے کا عنوان ہے "ریلیز عمران خان"، اس جلسے کا مقصد خیبر پختونخوا میں آپریشن کو بند کرانا ہے۔عمران خان چاہیں تو کل ہی رہا ہو سکتے ہیں، عمران خان دو تین چیزیں مان لیں تو کل ہی رہا ہو سکتے ہیں۔عمران خان آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔عمران خان صوبوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔عمران خان کہتے ہیں کہ جس صوبے یا علاقے میں قدرتی وسائل ہوں، سب سے پہلا حق اس پر اسی علاقے کا ہے۔ہمارا جلسہ حقوق کے لیے ہے، جو ہر پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے ہے۔عمران خان کی رہائی کا مقصد ملک میں رائج ہائبرڈ نظام سے بغاوت ہے۔ہم سب نکلیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں اس ملک میں ہائبرڈ نظام قبول نہیں، اس ملک میں جو ناجائز آپریشن ہو رہے ہیں ہمیں منظور نہیں۔خاص طور پر تیراہ کاجو واقعہ ہوا ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ہم اپنے خیبر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور جلسے میں بھی اس کا اظہارِ یکجہتی کریں گے۔27 ستمبر کو پشاور میں جو جلسہ ہو رہا ہے یہ آپ سب عوام کا جلسہ ہے۔تمام پاکستانیوں بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام سے کہتا ہوں کہ اپنے حقوق کے لیے نکلیں۔

Asad Qaiser

21,231 Aufrufe • vor 1 Jahr

عاصم منیرٹرمپ اور ڈالروں کے لیے افغانستان میں رجیم چینج کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس نے بلگرام ائیربیس کا جو وعدہ کیا ہے وہ پورا نہیں کر سکتا۔ اسی لیے افغانستان میں پاکستان کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں ۔آئی ایس آئی نے بڑا خرچہ کر کے اشرافی ٹائپ کے مولوی اکٹھے کر کے افغانستان کے خلاف ریلیاں نکلوائی ہیں۔جس میں پچاس سے اوپر انکا بندہ نہیں جمع ہوا۔اور یہ نفرت کے جو بیج بو رہے ہیں افغانستان کے اندر، آج پاکستان کی جارحیت کے خلاف عوام سڑکوں پر ویسے نعرے لگا رہی ہے جیسے وہ امریکہ کےلیےلگاتے تھے “پاکستان کی ظالم رجیم مردہ باد” جسطرح ایران کے بچے مرگ با امریکہ کے کارڈ لیکر پھرتے ہیں،اسی طرح افغانستان میں بچے مرگ با پاکستان کے کارڈ لیکر گھوم رہے ہیں۔کئی جگہ پر عاصم یزید اور شریف خاندان کی تصویریں جلائی گئیں اور پاکستان کی فوجی رجیم کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ وہاں کی عوام نے اپنی حکومت اور اپنی فوج کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ۔ پاکستان میں کتنے لوگ اپنی حکومت اور افواج کو یہ خراج تحسین پیش کر رہے ہیں ؟پاکستان میں اس وقت اپنی ہی فوج کے خلاف نفرت کا لاوا ابل رہا ہے ۔ آپ نہ صرف اپنے ملک بلکہ پڑوسی ملک کی نسلوں کے اندر بھی نفرت کے بیج بو رہے ہیں ۔عادل راجہ

Rodium-A

47,322 Aufrufe • vor 7 Monaten

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر مائیکل ایتھرٹن، پاکستان اور انگلینڈ کے میچ کے دوران فخرِ پاکستان اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر انہیں ذرّہ برابر بھی یقین ہوتا کہ عمران خان نے کوئی سنگین غلطی کی ہے یا ان کے خلاف لگائے گئے الزامات میں حقیقت ہے، تو کیا وہ کبھی ایک براہِ راست کرکٹ میچ کی کوریج کے دوران اس حساس معاملے کو اٹھاتے؟ Sky Sports دنیا کے معروف اسپورٹس براڈکاسٹرز میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے عالمی سطح کے پلیٹ فارم پر، وہ بھی پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان براہِ راست میچ کے دوران، عمران خان کی صحت اور ان کے حالات پر گفتگو ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کا معاملہ اب محض پاکستان کی سیاست تک محدود نہیں رہا۔ عمران خان کی عالمی سطح پر قائم ساکھ، ان کی کرکٹ کی خدمات اور پاکستان کو دنیا بھر میں پہچان دلانے میں ان کے کردار سے دنیا بخوبی واقف ہے۔ تین سال سے قید عمران خان کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن ان کی عالمی کریڈبیلٹی اور پاکستان کے لیے ان کی خدمات کو دنیا کی نظروں سے نہیں چھپایا جا سکتا۔ 🇵🇰

Jahanzeb Khan PTI UK

59,395 Aufrufe • vor 1 Monat

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 Aufrufe • vor 6 Monaten

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 Aufrufe • vor 9 Monaten