Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

چین کے کسانوں میں گائیوں کے لیے فائر تھراپی (Fire Therapy) کا استعمال روایتی چینی طب (Traditional Chinese Medicine - TCM) کے اصولوں پر مبنی ہے۔ یہ طریقہ کار بنیادی طور پر ان گائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو سردیوں میں یا بچے کو جنم دینے سے...

32,639 просмотров • 9 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

عموماً لوگوں کے ذہن میں اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے حوالے سے بہت سے خدشات اور سوالات ہوتے ہیں۔ پتہ نہیں یہ پروسیجر کیسے ہوتا ہے، کتنی تکلیف ہوتی ہے، اسٹنٹ کیسا ہوتا ہے، کہاں لگتا ہے اور دل کی نالی میں کیسے پہنچایا جاتا ہے۔ چونکہ اب یہ پروسیجر بہت عام اور محفوظ ہو چکا ہے، اس لیے آج ہم نے اپنی ایک بزرگ مریضہ کی اجازت سے ایک مختصر ویڈیو ریکارڈ کی ہے تاکہ آپ اس پورے عمل کو آسان انداز میں سمجھ سکیں۔ اینجیوپلاسٹی کے آغاز میں مریض کے ہاتھ میں ایک کینولا لگایا جاتا ہے۔ اسی راستے سے ایک باریک ٹیوب، جسے کیتھیٹر کہا جاتا ہے، دل کی نالیوں کے دہانے تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس کیتھیٹر کے ذریعے ہلکی سی ڈائی دی جاتی ہے تاکہ اسکرین پر دل کی نالیوں کی تصویریں واضح نظر آئیں اور معلوم ہو سکے کہ تنگی کہاں موجود ہے۔ اس کے بعد ایک نہایت باریک وائر نالی کے اندر سے گزارتے ہوئے تنگ حصے کو کراس کر کے آگے نارمل حصے تک پہنچائی جاتی ہے۔ پھر اسی وائر کے اوپر ایک چھوٹا سا بیلون لے جایا جاتا ہے جو تنگ جگہ پر راستہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ بعد ازاں اسی وائر کے ذریعے اسٹنٹ مطلوبہ مقام تک پہنچایا جاتا ہے۔ جب اسٹنٹ بالکل تنگی والی جگہ پر آ جاتا ہے تو بیلون کو پھلا کر اسٹنٹ کو نالی میں مکمل طور پر کھول دیا جاتا ہے۔ یوں اسٹنٹ نالی کی دیوار کا حصہ بن جاتا ہے اور خون کا بہاؤ بحال ہو جاتا ہے۔ پھر بیلون اور باقی آلات باہر نکال لیے جاتے ہیں اور پروسیجر مکمل ہو جاتا ہے۔ اسی تمام عمل کی مختصر مگر مکمل تفصیل اس ویڈیو میں دکھائی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس سے آپ کو اینجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ کے بارے میں بہتر آگاہی ملے گی اور آپ یہ پیغام دوسروں تک بھی پہنچا سکیں گے کہ یہ کوئی خوفناک یا پیچیدہ عمل نہیں بلکہ ایک محفوظ، مؤثر اور نسبتاً سادہ پروسیجر ہے جو روزانہ ہزاروں مریضوں میں کامیابی سے انجام دیا جاتا ہے۔

Yasir Bashir

14,282 просмотров • 3 месяцев назад

عربی شہزادے ہر سال دسمبر/جنوری میں تلور کے شکار کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ ۔عربی شہزادوں کے لیے شکار گاہیں تیار کی جاتی ہیں۔ ہر سال چار کلو میٹر کے احاطے پر عارضی شہر تعمیر کیا جاتا ہے، اس عارضی شہر میں دو سو رہائشی مہمان خانے تیار کیے جاتے ہیں۔ عربی شہزادوں کی معاونت کے لیے ایک ہزار ملازم رکھے جاتے ہیں۔ یہ تمام ملازمین مقامی افراد ہوتے ہیں جن کو روزگار مل جاتا ہے۔ شہزادوں کے چلے جانے کے بعد بھی وہ ایک ہزار ملازم پورا سال تنخواہ سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ اس صحرا میں پانی کی ترسیل ٹینکروں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ صحرا میں مقیم شہر کو جنریٹر کے زریعے بجلی کی فراہمی بھی یقینی بنائی جاتی ہے۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے اس عارضی شہر کو خار دار تاروں سے سیل کیا جاتا ہے۔ ان تمام سہولیات کا انتظام میزبان حکومت کے تعاون سے کیا جاتا ہے۔عرب شہزادوں کے جانے کے بعد اس شہر کو مسمار کر دیا جاتا ہے۔ اور سامان کو گودام میں منتقل کر دیا جاتا ہے

Pakistan Tourism

102,187 просмотров • 8 месяцев назад

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,518 просмотров • 9 месяцев назад

پاکستانی اشرافیہ کے بچوں کا پروٹوکول اور ڈالہ کلچر ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے میں عام لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کر رہی ھے اور معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہی ھے۔ ایسے شاہانہ پروٹوکول طبقاتی تقسیم کو ننگا کرتے ہیں۔ جب عام آدمی کا بچہ سکول جاتے ہوئے ٹریفک میں پھنس جاتا ہے، یا بیمار ہو کر سرکاری ہسپتال کے باہر گھنٹوں انتظار کرتا ہے، تو اسی وقت اشرافیہ کے بچے سرکاری گاڑیوں کے جھنڈوں، مسلح محافظوں اور پولیس کی سرخیاں بچھا کر سڑکوں پر بادشاہوں کی طرح گھوم رھے ہوتے ہی۔ یہ پروٹوکول صرف حفاظت کا نام نہیں، بلکہ ایک نمائشی طاقت اور مراعات کا کھیل ہے۔ بچوں کی تعلیم اور علاج کے لیے ٹیکس چھوٹ اور مفت سہولیات، سرکاری وسائل پر بیرون ملک دورے اور شاپنگ، ٹریفک روک کر راستہ صاف کرانا، جبکہ عام شہری کی ایمبولینس کو بھی راستے میں کھڑا کر دیا جاتا ھے، یہ سب کس کے پیسوں سے؟؟ اسی غریب، مزدور اور متوسط طبقے کے ٹیکس سے، جس کے بچوں کو ایسا پروٹوکول تو دور کوئی بنیادی سہولیات بھی نہیں ملتی، اشرافیہ کے بچوں کو یہ حق دے دیا گیا ھے کہ پورا نظام ان کی سہولت کے لیے رک جائے۔۔ یہ مراعات نہیں، ظلم ہے۔ یہ طبقاتی تفریق ہے جو معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سوال کریں۔ کیا ایک بچے کی جان دوسرے بچے سے زیادہ قیمتی ہے صرف اس لیے کہ اس کے والد کی کرسی اونچی ہے؟ یا وہ بہت پیسے والا ھے؟ یا پھر اسکے والد کے بہت تعلقات ہیں؟ آئین پاکستان کے مطابق امیر غریب سب برابر ہیں۔ تو پھر یہ سب کیوں؟ خدارا یہ پروٹوکول ختم کریں، مراعات ختم کریں اور وسائل کو عام عوام تک پہنچائیں جہاں سے یہ آئے ہیں۔ #طبقاتی_انصاف #پروٹوکول_ختم_کرو

چوہدری شاہد محمود

17,651 просмотров • 7 месяцев назад

بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے کو کبھی جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ لاپتہ نہیں بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کے وجود ہی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک ہفتے کے اندر اندر انہی حکومتی نمائندوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مختلف اور متضاد بیانات دئے گئے ہیں۔ دس دن قبل وزیراعلیٰ نے بیان دیا کہ 2 فروری کے بعد کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان بذاتِ خود اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ایک ہفتہ قبل وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سراسر فراڈ ہے اور اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جبکہ پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وفاقی حکومت جبری طور پر لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ کل آصمہ جہانگیر کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے نہ صرف اس سنگین مسئلے کو مرغی اور انڈے جیسی غیر سنجیدہ مثال سے جوڑ کر کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی بلکہ یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک بلوچستان میں دہشتگردی ہے، جبری گمشدگیاں ہوتی رہیں گی۔ یہ بیان خود اس بات کا اعتراف ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ یہ بات ایک اس بیٹی کے سامنے کہی گئی جس کے والد گزشتہ سترہ برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں اور وہ انکی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہیں اور اسی بیٹی کے ساتھ اور دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین سے ستمبر 2022 میں رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں لواحقین کے دکھ درد کو سمجھنے کا دعویٰ کیا گیا، ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا اور واضح الفاظ میں وعدہ کرکے یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ جبری گمشدگیاں نہیں ہوں گی، جس شخص پر بھی الزام ہے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کیا جائے گا۔ مگر کل میرے سامنے یہ کہا گیا کہ اگر کسی کو اٹھایا جائے گا تو اسے قانون کے مطابق ڈیل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، خود ایک وفاقی وزیر اس کی نفی کر رہا ہے۔ بطور ایک ایسی بیٹی جس کا والد جبری طور پر لاپتہ ہے، کیا میں یہ امید بھی نہ رکھوں کہ ہمارے پیاروں کو آئین اور قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے گا؟ جب ایک وزیر خود آئین کی عملداری پر سوال اٹھا دے تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟ اور آج انہی وعدوں کی نفی خود حکومتی بیانات سے ہو رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ریاست اور ریاست سرگردان ہے حکومتی نمائندے خود شدید تضاد اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کبھی اس مسئلے کو مکمل طور پر جھٹلایا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردی کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ جبری گمشدگیاں ریاست کے ماتھے پر سیاہ دھبہ بن چکی ہیں اور جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا ہے اس پر بات ہوتی رہے گی، حکومتی نمائندے اس مسئلے کو جیسے چاہیں جھٹلائیں یا جائز قرار دیں اس مسئلے کو حل کئے بغیر بری الزمہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ Rana Sana Ullah Khan Azam Nazeer Tarar

Sammi Deen Baloch

31,666 просмотров • 6 месяцев назад

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 просмотров • 2 лет назад

جب کوئی سامنے سے آتی بال کو جج نہ کر سکے اور چال میں لچک بھی ہو تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے پہلی ڈسپریکسیا (Dyspraxia) ہے ​یہ اعصابی مسئلہ ہے جو عضلاتی کوآرڈینیشن کو متاثر کرتا ہے۔ ڈسپریکسیا کا شکار افراد کے چلنے کا انداز دیکھنے والوں کو عجیب، غیر متوازن، یا بہت زیادہ لچکدار لگ سکتا ہے کیونکہ ان کا دماغ جسم کے توازن کو صحیح طرح سنبھال نہیں پاتا۔ سامنے سے آتی بال کو جج نہ کر پانا اور ہاتھ پیر کا بروقت نہ ہلنا ڈسپریکسیا کی سب سے کلاسک علامت ہے۔ ​اس کی دوسری وجہ Klinefelter Syndrome - XXY ہو سکتی ہے مردوں میں عام طور پر XY کروموسوم ہوتے ہیں، اس جینیاتی کیفیت میں ایک اضافی X کروموسوم (XXY) آ جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون (مردانہ ہارمون) کی کمی ہو سکتی ہے، جس سے مسلز کی طاقت کم ہوتی ہے جس سے جسم کی بناوٹ اور ہڈیوں کا ڈھانچہ تھوڑا نزاکت مائل ہو سکتا ہے، اور موٹر سکلز (چیزوں کو پکڑنا، توازن برقرار رکھنا) کمزور ہو جاتی ہیں۔ ​اس کی تیسری وجہ (Visual Processing Disorder) ہو سکتی ہے ​اس میں بال تو نظر آ رہی ہوتی ہے لیکن دماغ کا وہ حصہ جو اس منظر کو دیکھ کر جسم کو حرکت دینے کا حکم دیتا ہے وہ سست ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ فاصلے کا درست حساب نہیں لگا پاتا۔ چوتھی وجہ ہائپوٹونیا یعنی "مسلز کا ڈھیلا پن" ہو سکتی ہے ۔ اگر کسی کے پٹھے پیدائشی یا اعصابی طور پر زیادہ لچکدار اور نرم ہوں، تو اس کے جوڑ مستحکم نہیں ہوتے۔ ایسے افراد جب چلتے ہیں تو ان کی چال میں ایک خاص قسم کا لچکدار پن یا لہر ہوتی ہے اور ان کے reflexes بھی بہت سست ہوتے ہیں۔

Shafqat Ch

124,969 просмотров • 3 месяцев назад

تمام لبرل حضرات کو میں ایک ہی جواب دینا چاہتا ہوں🚨 سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنے خیالات اور لبرل ازم کا پرچار خیبرپختونخوا کے لوگوں پر مسلط نہ کریں، محترم۔ یہ نہ خیبرپختونخوا کا کلچر ہے اور نہ ہی یہاں بیٹیوں کو اس مقصد کے لیے کالجز بھیجا جاتا ہے۔ آپ پختونخوا کو امریکہ نہ بنائیں، اور نہ ہی صرف اپنی مرضی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں !! دوسری بات یہ کہ میں نے یہ ٹویٹ خیبرپختونخوا سے لکھ کر پوسٹ کیا ہے۔ ہم نے اپنے معاشرے کی حیا اور عزت کے مطابق بات کی ہے۔ مذہب اور کلچر کا لفظ استعمال کیے بغیر بھی میں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ کوئی بھی والدین اپنی بیٹی کو ایسے تعلیمی ادارے میں نہیں بھیجے گا !! ہمارے خیبرپختونخوا کے مشران نہ لڑکوں کو غیر اخلاقی ہونے کی اجازت دیتے ہیں اور نہ لڑکیوں کو۔ اور خاص طور پر یہ حقیقت کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت، احترام اور وقار اسلام نے دیا ہے۔ مرد اور عورت کا مقام الگ ہے — عورت عزت، احترام اور وقار کا نام ہے !! ایک مرد جب تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کی تعلیم اس کی ذات تک محدود رہتی ہے، لیکن جب عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو اس کی تعلیم نسلوں کی تعلیم بنتی ہے، معاشرے کی تربیت بنتی ہے۔ یہ عورت کا وقار ہے — اور آپ جیسے لبرل لوگ اسی وقار کو چھیننا چاہتے ہیں !! ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں تعلیم یافتہ ہوں، علم حاصل کریں، خوشیاں پائیں۔ مگر ہمارے ہاں پختونخوا میں جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں، ان میں لڑکیوں کا سرعام رقص کرنا اور اس کو سراہنا معاشرتی گندگی پھیلانے اور عورت کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے !! اگر کسی کو اپنی بیٹی کو نچوانے کا اتنا ہی شوق ہے تو برائے مہربانی اپنی ذاتی پرائیویسی میں رکھ کر نچوائے — نہ کہ تعلیمی اداروں میں بیٹیوں کا ڈانس کروا کر اس پر تالیاں بجوائے۔ کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹی ناچنے کے لیے تعلیمی ادارے میں داخلہ لے !! ہر والدین اپنے بیٹے اور بیٹی کو باحیا اور باعزت دیکھنا چاہتا ہے، ایسا کہ ان کی عزت پر کوئی انگلی نہ اٹھے۔ اور اگر کوئی بندہ مرد اور عورت کو ایک جیسا درجہ دینا چاہتا ہے کہ عورت اور مرد برابر ہیں، تو وہ سرعام اعلان کرے کہ وہ اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے، کیونکہ اللہ رب العالمین کے قوانین کے مطابق عورت کی اپنی عزت ہے اور مرد کی اپنی عزت !! لہٰذا یہ لبرل ازم اور یہ بے حیائی خیبرپختونخوا سے باہر رکھیں۔ یہ بات ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کے احکامات کو مانتے ہیں۔ جو نہیں مانتے، ان کے لیے تو سڑکوں پر ناچنا بھی کوئی بڑی بات نہیں !! اور یہی وہ لوگ ہیں جو "میرا جسم میری مرضی" کو ان ڈائریکٹلی ڈیفینڈ کر رہے ہیں، ورنہ اگر غور کیا جائے تو مقصد ایک ہی ہے صرف طریقہ بدل ہے !!

Mohammad Shehzad Khan

41,533 просмотров • 8 месяцев назад

تم اپنی حکمتِ عملی میں بدنیت بھی ہو، تم چاہتے بھی نہیں ہو کہ ملک میں کوئی آرام آئے اور اطمینان آئے۔ اور کہتے ہو ریاست ماں ہے، ریاست ماں ہے۔ ماں وہ تو اولاد کو اکٹھا کرتی ہے۔ اگر اس کی اولاد میں کہیں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اختلاف پیدا ہوتا ہے اور وہ تقسیم ہوتے ہیں، ماں پر کیا گزرتی ہے؟ ماں اپنے اولاد کو جوڑتی ہے۔ ہمیں اللہ نے ایسی ماں عطا کی ہے جو قوم کی تقسیم اور انتشار کی پالیسیاں بناتی ہے۔ لڑاؤ اور حکومت کرو، لڑاؤ اور حکومت کرو۔ قوم کو تقسیم کرنا، سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مدارس کی تنظیموں کو تقسیم کرنا، لڑانا، ہر جگہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ، اور تم اس کو مارو اور اس کے ذریعے نیچے کرو۔ یہ حکمتِ عملی بنانا۔ اگر یہ ماں ہے تو ایسی ماں پہ لعنت، ماں اس طرح ہوتی ہے؟ ماں کی ممتا تڑپتی ہے، اپنے اولاد کی، اس کی خیرخواہی کے لیے، ان کی وحدت کے لیے۔ وہ اپنے اولاد کو ایک صف میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے دل میں جو اپنے اولاد کے لیے رأفت اور رحمت ہوتی ہے، کیا ہم وہ دیکھ رہے ہیں؟ اس ملک پہ ماں اس طرح ہوتی ہے؟ یہ ماں تو نہیں ہوتی، یہ کوئی ڈائن ہوگی۔ ماں بناؤ ریاست کو، ماں بناؤ، قوم کو ایک قوم بناؤ۔ اور اس حالت پہ کہتے ہیں کہ جو صوبے پہلے سے بنے ہوئے ہیں، ان کو بھی توڑو۔ اب باقی کام رہ گیا ہے، صوبوں کو توڑنا۔ کس لیے؟ خوبصورت نعروں کو قوم کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہر برے کام میں آپ اس کی ایک خوبصورت تصویر بنا دیتے ہیں، قوم کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔ اب بہت سی باتیں اس کو اصول کے حوالے سے زیرِ بحث نہیں لے جاتی، عملی حوالے سے، ماحول کے حوالے سے اس کو دیکھا جاتا ہے۔ اور ہمیں تو حکمرانوں کی نیت پر بھی شک ہے کہ اٹھارویں ترمیم اور اس پہ صوبوں کے اختیارات ان کے حلق کا کانٹا بنے ہوئے ہیں، اندر نہیں جا رہا ہے۔ اب آئین کہتا ہے کہ صوبوں کے جو حقوق ہیں، NFC ایوارڈ، اس پہ اضافہ ہوگا، کم ہی نہیں ہو سکے گا۔ اب کہتے ہیں یہ تو سارے محصولات صوبے رکھ جاتے ہیں، تو جب صوبے ٹوٹ جائیں گے تو پھر نیا معاہدہ کرنا پڑے گا، نیا NFC ایوارڈ آئے گا۔ تو ہمارے ملک کی قوموں، مختلف صوبوں، اس کے اندر رہنے والے لوگوں، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے۔ تو میں نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ کوئی بندہ لحاف میں لیٹا ہوا تھا، تو اس کے اندر ایک جوں اس کو لگ گیا ہے، تو جوں کو تلاش کرنے کی بجائے اور جوں کو مارنے کی بجائے، اس نے رضائی کو آگ لگا دی ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں ورکز کنونشن سے خطاب 25 اگست 2026

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,176 просмотров • 6 дней назад