Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

ڈاکٹر معیدپیرزادہ نے جمیل دہلوی کی فلم Immaculate Conception, اور پاکستانی پیر کے ہجرے میں برطانوی خاتون کو حمل کا قصہ بتا کر آخر میں ایک بہت گہری بات کہی ہے۔ کہا جب تک آپ سب میری طرح اور ڈاکٹر شہبازگل کی طرح پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ساری چالاکیاں نہيں...

23,905 views • 8 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

فوج وہ ادارہ ہے جس کی ٹریننگ ہی تشدد ہے، جن کی سوچنے کی تربیت ہی صرف اتنی ہے کہ گولی کے جواب میں گولی چلانی ہے، لیکن جب آپ ان کی قیادت کو سویلین ڈومین میں لے کر آتے ہیں جہاں سیاست، مکالمہ اور اختلافِ رائے کی گنجائش ہوتی ہے تو آپ پورے سویلین نظام کو ملیٹرائز کر دیتے ہیں، اب جب ان کو کسی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ان کو وہ بات گولی کی طرح لگتی ہے، جب معید پیر زادہ پوڈ کاسٹ کرتے ہیں تو ان کو لگتا ہے کہ گولیاں چل گئی ہیں جیسے ڈاکٹر معید پیر زادہ کے پاس مشین گن ہو۔ ان میں تنقید سُننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، اسی لیے جو انکی مرضی کی بات نہیں کرتا وہ دشمن ہے، وہ سویلین لینڈ اسکیپ میں بھی اسی نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہ دوست ہے یہ دشمن ہے اور یہ غدار ہے، پھر جب کوئی کچھ بھی تنقید کرتا ہے تو ان کو لگتا ہے بمبار منٹ ہو گئی ہے معید پیر زادہ ایف 16 اڑا رہا ہے اور اس وجہ سے ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت جواب دے جاتی ہے، جنگوں میں یہ سب چلتا ہے لیکن جب آپ اس کو گورننس اور سویلین ڈومین میں لگاتے ہیں تو ملک کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر حسین ندیم Via Rodium-A Hussain Nadim Moeed Pirzada

Qasim Khan Suri

82,243 views • 1 year ago

یہ کلپ دیکھیں۔ اس میں نیلسن مینڈیلا کی عظمت اپنے جوبن پر ہے۔ میزبان کی ہزار کوششوں کے باوجود مینڈیلا نے فلسطینی لیڈرز کی مذمت نہيں کی۔ یاسر عرفات کو اپنا دوست کہا۔ کہا فلسطینیوں کی جدوجہد ہماری جدوجہد جیسی ہے۔ ہم دونوں ظالم کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ میزبان نے کہا آپ پر اور آپ کے ملک جنوبی افریقہ پر پابندیاں ہیں(1990 کی بات ہے) آپ امریکی یہودیوں کو کیوں ناراض کر ریے ہیں؟ یہ پابندیاں ختم نہيں ہوں گی۔ کچھ ایسا کہیں کہ وہ خوش ہوں اور آپ سے پابندیاں ہٹ جائیں۔ زندگی آسان ہوجائے۔ کچھ ڈپلومیسی دکھائیں۔ مینڈیلا نے جواب میں کہا کہ وہ شخص لیڈر کہلوانے کا حقدار نہيں ہے جو لالچ یا خوف میں آکر اپنا اصولی مؤقف تبدیل کر لے۔ نہ ایسے لیڈر کو اپنی قوم کو لیڈ کرنے کا حق ہے۔ پھر ایک خوبصورت بات کہی۔ ایک ایسی عقلمندانہ بات کہ ہر پاکستانی لیڈر کو اپنے پلو سے باندھ لینی چاہیے کیونکہ یہ اکثر یہ غلطی کرتے ہیں۔ مینڈیلا نے کہا کہ میں آپ کے دشمنوں کو اپنا دشمن نہيں بنا سکتا۔ آپ کیوں بضد ہیں کہ میں آپ کے دشمنوں کو اپنا دشمن مانوں؟ ہمارے دوست اور دشمن جدا جدا ہیں۔ جو آپ کے دشمن ہیں ہم انہيں دوست سمجھتے ہیں۔ اور جو آپ کے دوست ہیں وہ ہمارے دوست نہيں ہیں۔ یہ باتیں سن کر میزبان ہوا میں معلق ہوگیا تو مینڈیلا کی حس مزاح پھڑک اٹھی۔ اس نے کہا مسٹر کوپل سوری اگر میں نے تمہیں فریز کردیا تو۔ حال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ ہر بڑے لیڈر کی خوبیاں مینڈیلا میں موجود تھیں۔ لیکن ایک ایسا بڑے لیڈرز کا وصف بھی موجود تھا جو اللہ تعالٰی خال خال انسانوں کو ودیعت کرتا ہے۔ دشمن کے ہتھیار ناکارہ کرنے والی حس مزاح۔ مشکل سے مشکل مذاکرات میں مینڈیلا اپنے اس وصف کا استعمال کرکے ماحول کی تلخی کو ختم کر دیتا تھا۔ دشمن کو پتہ بھی نہيں چلتا اور اسے غیر مسلح کردیتا تھا۔ بلا شک و شبہ مینڈیلا ایک عظیم لیڈر تھا۔

Jimmy Virk - Imranian 🇵🇰

34,636 views • 10 months ago

اللہ کی فوج کے ساتھ لاکھ سپاہیوں سے دوسرا سوال: آپ کے ادارے کے سربراہ اس سدیوں میں پیدا ہونے والے لیڈر کو torture کر رہے ہیں۔ یہ وہ بندہ ہے جس سے آپ کے ملک کی پہچان ہے اور جب آپ یہ وڈیو دیکھیں گے تو مانیں گے کہ یہ سچ میں ہماری قوم کے غریبوں کے لیے درد رکھتا ہے! آپ سب فوج میں آکر شاید اپنے آپ کو عام پاکستانیوں سے الگ سمجھنے لگے ہیں، اس لیے شاید درد نہیں ہوتا آپ کے دل میں جب قوم کے لیڈر کو اس طرح ٹارچر کیا جارہا ہو ؛ آج آپ شاید محفوظ ہوں مگر یہ جو نانصافی اور ظلم ہے ، یہ آپ کے گھر تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ بس پوچھنا یہ تھا کہ ادارے کے بڑوں کو خط یا WhatsApp بھیجنے کی اجازت ہے؟ اور اگر ہے تو کچھ گلہ کیا یا پھر یہ سمجھانے کی کوشش کی اتنا ظلم بےگناہوں پر نہیں کرنا چاہیے؟ اور اگر نہیں ہمت ہوئی یہ سب کہنے کی تو کس منہ سے اپنے بچوں کو بہادری اور حق بات کرنا سکھائیں گے؟ بندوق استعمال کرلینا بہادری نہیں ہوتی، وہ تو جنگ کے کچھ دنوں میں چلتی ہے، مگر روز مرہ زندگی میں تو اصولوں کی جنگ ہوتی ہے، کس منہ سے اصول سکھائیں گے؟ جب وہ بڑے ہو کر پچھلے تین سال کے واقعات پڑھ کر آپ سے پوچھیں گے کہ آپ کی ظالموں تک رسائی تھی مگر پھر بھی کچھ نہیں بولے ان کو! لوگوں کو بہت مان تھا آپ سب پر۔ ایک ظلم کو جھیلنے کا دکھ تو ہے ہی سب کو مگراس سے بڑا دکھ شاید مان ٹوٹنے کا ہے۔ کچھ کریں ناُ کریں، موقعہ ملے تو یہ ضرور پوچھیے گا اپنے بڑوں سے اور کچھ ساتھیوں سے کہ گولی کیوں چلائی اللہ کی فوج نے اللہ کے پر امن اور نہتے بندوں پر !

Jibran Ilyas

45,518 views • 9 months ago

خان صاحب کو جب ایک مہینے کے لیے مکمل آئسولیشن میں رکھا گیا تھا اور یہ خبر چلا دی گئی تھی کہ خان صاحب کو کچھ کر دیا گیا ہے تب میں بولتا رہا کہ خان صاحب ٹھیک ہیں لیکن یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یہ بات میں نے لاکھوں لوگوں کے سامنے لائیو سٹریمنگ میں بھی کی تھی اس کے علاوہ میں نے سپیس میں بھی یہ باتیں کیں ٹویٹس پہ بھی کی اپنے ولاگ میں بھی کیں تھیں کہ یہ سب کچھ عوام کی پلس چیک کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے اور اگر ہم خاموش رہیں گے تو یہ لوگ اس چیز کو حقیقت میں کر دیں گے اب دوبارہ سے ہماری پلس چیک کی جا رہی ہے خان صاحب کو دوبارہ سے مکمل طور پر آئیسولیشن میں رکھ دیا گیا ہے جس طرح پریس کانفرنسز کی گئی اور بولا گیا کہ خان صاحب نیشنل سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں میرے پاکستانیوں جب جب ان لوگوں نے کسی عوامی لیڈر کے لیے یہ الفاظ بولے ہیں تو ان لوگوں نے ایسے تمام عوامی لیڈر کو راستے سے ہٹایا ہے اب باری مرشد عمران احمد خان نیازی کی ہے اگر ہم لوگ سڑکوں پہ نکل اتے ہیں تو یہ کام حقیقی طور پر نہیں ہو پائے گا اب ہمیں منگل کو بھرپور طریقے سے باہر نکل کے خان صاحب سے ان کی بہنوں کی ملاقات کو یقینی بنانا ہے پلس چیک کرنے والی بات جو میں نے سب سے پہلے کی تھی وہی بات اب سب کر رہے ہیں میری وہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی تھی اب جو بات میں کر رہا ہوں یہ بھی ٹھیک ثابت ہوگی اگر ہم باہر نہیں نکلتے تو خدانخواستہ ہم اپنے خان کو اپنے انکھوں کے سامنے سے اس دنیا سے جاتے ہوئے دیکھیں گے اگر ہم باہر نکل ائیں گے تو یہ لوگ اس شیطانی عمل کو کرتے ہوئے ڈریں گے کیونکہ عوام کا خوف ان کو ابھی بھی ڈراتا ہے۔۔۔۔

Haider Saeed

20,345 views • 8 months ago