Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

کبھی بچپن میں کہتے تھے بیٹا! اکیلے باہر نہ جانا اور آج وقت کا پہیہ ایسا گھوما ہے کہ بوڑھے باپ کی زبان پر بس یہی ایک بات ہے مجھے اکیلا مت چھوڑنا 😭❤️🤲 ​وقت کتنی جلدی بدل جاتا ہے... کل تک جو ہماری انگلی پکڑ کر دنیا دکھاتے...

131,799 views • 16 days ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

وقت گزر جاتا ہے، مگر بچوں کی ہنسی، ان کی معصوم باتیں اور ان کے ننھے قدم دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ایک پرانی ویڈیو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا انعام اولاد، صحت اور محبت ہیں۔ میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے رب نے مجھے یہ تینوں نعمتیں فراوانی سے عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہمیشہ بے حساب کی ہے۔ اس نے مجھے زندگی میں توقعات سے کہیں بڑھ کر عزت، محبت، مواقع اور آسائشیں عطا کیں۔ لیکن ان تمام نعمتوں میں جو نعمت میرے دل کے سب سے قریب ہے، وہ میری اولاد ہے۔ ریان، بہرام اور میری پیاری بیٹی میری زندگی کا حاصل ہیں۔ یہ میری محبت، میری امید، میری خوشی اور میرے آنے والے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میری سب سے قیمتی متاع کیا ہے، تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ میری اصل دولت میرے بچے ہیں۔ میں ان کا قیدی ہوں، اور یہ وہ قید ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ زندگی کے اس مرحلے پر میری سب سے بڑی خواہش نہ شہرت ہے، نہ دولت اور نہ کوئی منصب۔ میری دعا صرف یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر سکوں کہ وہ اچھے انسان، باکردار شہری اور معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کی کامیابی کا پیمانہ اس کی اولاد کے کردار سے ہی ناپا جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال حالات نے ہمیں مختلف ملکوں میں رکھا۔ میرے بچے دبئی اور برطانیہ میں رہے اور میں پاکستان میں۔ ان کی جدائی نے مجھے ہر روز یہ احساس دلایا کہ گھر دیواروں سے نہیں، بچوں کی موجودگی سے بنتا ہے۔ میں نے انہیں بے حد یاد کیا، شاید اتنا جتنا الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ اور آج، جب میرے بیٹے دبئی سے واپس آرہے ہیں اور میں انہیں لینے ایئرپورٹ جا رہا ہوں، تو دل کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میری دنیا کا ایک گمشدہ حصہ دوبارہ اپنی جگہ لوٹ رہا ہو۔ اولاد دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ زندہ دعا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتی ہے۔ جتنا انہیں دیکھتا ہوں، اتنا ہی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ریان، بہرام اور میری بیٹی — تم میری کامیابی نہیں، میری دنیا ہو۔ ❤️ الحمدللہ، ہر نعمت پر، ہر آزمائش پر، ہر وصال اور ہر جدائی پر؛ اور سب سے بڑھ کر، تم پر۔ ✨

Sher Afzal Khan Marwat

91,594 views • 1 month ago

دل پھٹ جاتا ہے... یہ خنجر، یہ پسٹل، یہ کلا/شنکوف دکھانے کا کیا مطلب ہے بھائی؟ میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں جب میں دیکھتا ہوں کہ ہماری معصوم نوجوان نسل، جو کل اس ملک کا مستقبل سنبھالنے والی تھی، آج سوشل میڈیا پر تشدد اور ہتھیا//روں کی دنیا میں کھو رہی ہے۔ وہ بچے جن کے چہرے پر معصومیت ہوتی تھی، جن کے ہاتھوں میں کاپیاں، قلم اور کتابیں ہونی چاہییں تھیں، آج ہتھیار اٹھائے ہوئے "ہیرو" بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا ہم نے انہیں یہ سکھایا تھا؟ کیا یہ وہی خواب تھے جو ہم نے اپنی اولاد کے لیے دیکھے تھے؟ اے ماں باپ! جاگ جاؤ... اے اساتذہ! ذمہ داری نبھاؤ... اے سوشل میڈیا کمپنیوں! اس زہر کو روکو... اور سب سے بڑھ کر ہمارے سیکیورٹی اداروں سے گزارش ہے، بھرپور ایکشن لو یہ صرف ایک رجحان نہیں، یہ ایک خطر/ناک طوفان ہے جو ہماری نسلوں کو /تباہ کر رہا ہے۔ دل روتا ہے سوچ کر کہ آج کا نوجوان بند/وق کی آواز میں سکون ڈھونڈ رہا ہے جبکہ اسے علم کی روشنی کی طرف جانا چاہیے تھا۔ اللہ پاک! ہماری نوجوان نسل پر رحم فرما.. . انہیں گمراہی سے نکال اور درست راستے پر لے آ۔ آمین۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب مل کر اسے روکیں۔ نوجوان نسل ہمارا اثاثہ ہے، اسے ضائع نہ ہونے دو! #نوجوان_نسل_بچاؤ #پاکستان_کا_مستقبل #تشدد_کا_خاتمہ #سوشل_میڈیا_ذمہ_داری

چوہدری قاسم

101,917 views • 2 months ago

تمام لبرل حضرات کو میں ایک ہی جواب دینا چاہتا ہوں🚨 سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنے خیالات اور لبرل ازم کا پرچار خیبرپختونخوا کے لوگوں پر مسلط نہ کریں، محترم۔ یہ نہ خیبرپختونخوا کا کلچر ہے اور نہ ہی یہاں بیٹیوں کو اس مقصد کے لیے کالجز بھیجا جاتا ہے۔ آپ پختونخوا کو امریکہ نہ بنائیں، اور نہ ہی صرف اپنی مرضی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں !! دوسری بات یہ کہ میں نے یہ ٹویٹ خیبرپختونخوا سے لکھ کر پوسٹ کیا ہے۔ ہم نے اپنے معاشرے کی حیا اور عزت کے مطابق بات کی ہے۔ مذہب اور کلچر کا لفظ استعمال کیے بغیر بھی میں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ کوئی بھی والدین اپنی بیٹی کو ایسے تعلیمی ادارے میں نہیں بھیجے گا !! ہمارے خیبرپختونخوا کے مشران نہ لڑکوں کو غیر اخلاقی ہونے کی اجازت دیتے ہیں اور نہ لڑکیوں کو۔ اور خاص طور پر یہ حقیقت کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت، احترام اور وقار اسلام نے دیا ہے۔ مرد اور عورت کا مقام الگ ہے — عورت عزت، احترام اور وقار کا نام ہے !! ایک مرد جب تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کی تعلیم اس کی ذات تک محدود رہتی ہے، لیکن جب عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو اس کی تعلیم نسلوں کی تعلیم بنتی ہے، معاشرے کی تربیت بنتی ہے۔ یہ عورت کا وقار ہے — اور آپ جیسے لبرل لوگ اسی وقار کو چھیننا چاہتے ہیں !! ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں تعلیم یافتہ ہوں، علم حاصل کریں، خوشیاں پائیں۔ مگر ہمارے ہاں پختونخوا میں جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں، ان میں لڑکیوں کا سرعام رقص کرنا اور اس کو سراہنا معاشرتی گندگی پھیلانے اور عورت کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے !! اگر کسی کو اپنی بیٹی کو نچوانے کا اتنا ہی شوق ہے تو برائے مہربانی اپنی ذاتی پرائیویسی میں رکھ کر نچوائے — نہ کہ تعلیمی اداروں میں بیٹیوں کا ڈانس کروا کر اس پر تالیاں بجوائے۔ کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹی ناچنے کے لیے تعلیمی ادارے میں داخلہ لے !! ہر والدین اپنے بیٹے اور بیٹی کو باحیا اور باعزت دیکھنا چاہتا ہے، ایسا کہ ان کی عزت پر کوئی انگلی نہ اٹھے۔ اور اگر کوئی بندہ مرد اور عورت کو ایک جیسا درجہ دینا چاہتا ہے کہ عورت اور مرد برابر ہیں، تو وہ سرعام اعلان کرے کہ وہ اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے، کیونکہ اللہ رب العالمین کے قوانین کے مطابق عورت کی اپنی عزت ہے اور مرد کی اپنی عزت !! لہٰذا یہ لبرل ازم اور یہ بے حیائی خیبرپختونخوا سے باہر رکھیں۔ یہ بات ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کے احکامات کو مانتے ہیں۔ جو نہیں مانتے، ان کے لیے تو سڑکوں پر ناچنا بھی کوئی بڑی بات نہیں !! اور یہی وہ لوگ ہیں جو "میرا جسم میری مرضی" کو ان ڈائریکٹلی ڈیفینڈ کر رہے ہیں، ورنہ اگر غور کیا جائے تو مقصد ایک ہی ہے صرف طریقہ بدل ہے !!

Mohammad Shehzad Khan

41,533 views • 8 months ago

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 views • 7 months ago

کہاں ہیں وہ لوگ جو دعویٰ کرتے تھے کہ گوادر ایئرپورٹ بلوچ قوم کے لیے نقصان دہ ہوگا؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو وسائل پر قبضے اور استحصال کے نام پر اس ایئرپورٹ کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے تھے؟ اس وقت گوادر ایئرپورٹ پر سب سے زیادہ بلوچ ہی موجود ہیں، اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ بھی بلوچستان، خاص طور پر مکران ڈویژن کے عوام کو ہو رہا ہے۔ وہ سفر، جو پہلے کئی دنوں میں طے ہوتا تھا، آج چند گھنٹوں میں ممکن ہو گیا ہے۔ یہ ایئرپورٹ ترقی کا وہ دروازہ ہے جس نے علاقے کے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ آج وہی لوگ، جو اس ایئرپورٹ کی مخالفت میں پیش پیش تھے، نہ صرف یہاں موجود ہیں بلکہ جب عمان اور کراچی کے لیے پروازیں روانہ ہو رہی تھیں، تو یہی لوگ سب سے پہلے ایئرپورٹ پر پہنچے تھے۔ گوادر ائیرپورٹ کی کامیابی ان تمام جھوٹے دعووں اور الزامات کا جواب ہے جو گوادر ایئرپورٹ کے خلاف کیے گئے تھے۔ گوادر ایئرپورٹ آج نہ صرف ترقی کی علامت بن چکا ہے بلکہ اس نے واضح کر دیا ہے کہ اس سے سب سے زیادہ فائدہ خود بلوچ عوام کو ہو رہا ہے۔ #Balochistan #Gwadar #GwadarAirport

Dukhtar-E-Balochistan🇵🇰

33,701 views • 1 year ago

حدیقہ کیانی کی اپنی گم سم ماں سے یہ گفتگو کل سے کئی بار سنی ۔۔۔۔ اور ہر بار آنکھیں نم ہوئیں ۔ یہی مائیں لفظ لفظ بولنا سکھاتی ہیں ، منہ میں نوالے ڈالتی ہیں ، بچے کے اشارے سمجھتی ہیں ، بچہ بن کر لاڈ کرتی ہیں ۔ ہر نرمی گرمی میں اپنے پروں میں سمیٹ لیتی ہیں۔ پھر وقت پلٹا کھاتا ہے ، انسان ارذل عمر کو پہنچتا ہے ، بولنے ، چلنے اور خود کھانے پینے سے قاصر ہوجاتا ہے ، انگلی پکڑ کے چلانے والوں کو کسی کی انگلی تھام کے چلنے کی ضرورت پڑجاتی ہے ۔ اولاد پر قرض کی واپسی شروع ہوتی ہے ، تناور شجر بچے بن جاتے ہیں اور ان کی اولاد ان کا مضبوط شانہ بن جاتی ہے ۔۔۔۔ تب وہ وقت آتا ہے جب اولاد ، ماں باپ کی پرورش کرنے لگتی ہے ۔ ان کو اسی لاڈ ، پیار اور برداشت سے بات سمجھانا پڑتی ہے ، جب وہ ہمارے لیے ایک لفظ کی گردان کرتے تھکتے نہ تھے ۔۔۔۔ ہمارے بھی دل اس محبت سے روشن رہیں ۔۔۔ ہم بھی اپنے ضعیف ماں باپ کو یہ لاڈ ، پیار ، پرورش لوٹاسکیں ۔ اور جو دنیا سے چلے گئے ان کے لیے صدقہ جاریہ بن سکیں ۔۔۔ رب رحمھما کما ربیانی صغیرا

Ch Asif Hamaiyon

232,367 views • 1 year ago

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 views • 16 days ago

سرفراز بگٹی بلوچستان کا وہ بیٹا ہے جس نے اس وقت بلوچستان ڈیرہ بگٹی کی سرزمین پر پاکستان و امن کا جھنڈا لہرایا تھا جب یہ کچھ سیاست دان خوف کے مارے ڈیرہ بگٹی تو کیا بلوچستان تک میں قدم نہیں رکھ سکتے تھے۔🇵🇰✌️ اسکے باوجود کیا اپنی سیاست چمکانے کے لیے اس بلوچستان کے بیٹے پر یا خود بلوچستان پر بے جا تنقید کرنا جائز ہے، جو اس وقت پورے بلوچستان میں پاکستان، اپنے پاک وطن کا مقدمہ لڑ رہا ہے؟ سرفراز بگٹی اس وقت اکیلا دہشتگرد تنظیم بی ایل اے سمیت ان تمام عناصر سے لڑ رہا ہے جو بلوچستان کے امن اور استحکام کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایسے وقت میں بلوچستان کی قیادت کر رہے ہیں جب دشمن طاقتیں یہاں انتشار پھیلانے کے درپے ہیں۔ یہ وہی سرفراز بگٹی ہیں جنہوں نے ڈیرہ بگٹی میں دہائیوں سے جاری بدامنی کو امن میں بدل دیا۔ جی ہاں! وہی قسم کی بدامنی، جس کا آج مکران ڈویژن شکار ہے۔ یہ وہی ڈیرہ بگٹی ہے جہاں ایک وقت میں بی ایل اے اور بی آر اے کی دہشتگردی اپنے عروج پر تھی۔ ہر روز دھماکے ہوتے، ہر دن خوف کی فضا قائم رہتی، اور کوئی ایسا دن نہ گزرتا جب پہاڑوں سے کوئٹہ یا ڈیرہ بگٹی پر راکٹ لانچر فائر نہ کیے جاتے۔ لیکن آج، وہی بگٹی قوم بندوق کے بجائے قلم اٹھا چکی ہے! یہ سرفراز بگٹی کی قیادت اور محنت کا نتیجہ ہے کہ آج بگٹی قبیلے کے نوجوان ایف سی، فوج اور لیویز کا حصہ ہیں، اور 99.99% بگٹی قوم کے افراد کسی دہشتگرد تنظیم کا حصہ نہیں۔ ان سب کے باوجود، کیا اسی بلوچستان کے بیٹے پر یا خود اپنے ہی بلوچستان پر سیاست کے تیر برسانا ٹھیک ہے؟ آپ کی سیاست آنی جانی ہے، لیکن کیا اپنی سیاست کی خاطر پورے بلوچستان، اپنے ہی پاک وطن کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا ٹھیک ہے؟ یہ وقت ہے حقیقت کو سمجھنے اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا، نہ کہ اسے کمزور کرنے کا! #Balochistan #DeraBugti

Dukhtar-E-Balochistan🇵🇰

12,618 views • 1 year ago

کل رات سے لے کر آج سارا دن حیدر سعید کی والدہ Farzana Saeed اور والد سعید صاحب کے ساتھ تھانوں سے لے کر عدالتوں میں ہر جگہ پتہ کیا لیکن حیدر کا کچھ پتہ نہ چلا اس کی والدہ روتی ہیں اور ان کا ایک ہی سوال ہے کہ میرا بیٹا کہاں ہے بس یہ پتہ چل جائے اس نے کوئی جرم کیا ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے بہادر ماں ہے حیدر کی میں اور تابش ایڈووکیٹ ان کی فیملی سے رابطہ میں ہیں میری تمام سوشل میڈیا اور لیڈرشپ سے گزارش ہے کہ ان تمام شوشل میڈیا کے ایکٹوسٹ کے لیے آواز اٹھائیں یہی وقت ہے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا آج اگر آپ خاموش رہے تو کل کوئی بھی حیدر سعید بن سکتا ہے۔۔۔ میں پیچھلے عرصہ حیدر کے ساتھ مسلسل رابطہ رہا اس کو معلوم تھا کہ اس کو اٹھایا جائے گا لیکن وہ گھبرایا نہیں خصوصا جب سے میری ملاقات خان صاحب سے ہوئی اس کے بعد حیدر میرے بہت نزدیک تھا میرے بھائیوں جیسا تھا ہر وقت ایک ہی بات پوچھتا تھا اویس بھائ خان صاحب کو میرا پیغام دینا کہ حیدر سعید اور اس کی فیملی آپ کے لیئے ہر وقت لڑتے رہئں گے اور آج وہ وقت ہے کہ لڑتے لڑتے وہ اغواء ہو گیا اس شخص جس کا نام حیدر سعید ہے اصل میں عمران خان کا عاشق تھا اس کو عمران خان سے عشق تھا ہر وقت قیدیوں کی بیلز سے لے کر ان کے مچلکوں تک کی فکر میں رہتا تھا وہ واقعی ایک بہادر انسان ہے اللہ پاک اس سمیت تمام سوشل میڈیا کے بھائیون کی حفاظت فرمائے آمین۔ آخری ریکوسٹ ہے کہ ایک دوسری کا ساتھ دیں ایک ہو کر ہر کسی کا بازو بنیں اپنے ہر ورکر کا اس طرح خیال رکھیں جیسے ہمارے لیڈر عمران خان اپنے ورکر کا خیال رکھتا ہے ۔۔ میری گزارش ہے کہ حیدر سعید کو عدالت میں پیش کیا جائے کل تک اگر نہ پیش کیا گیا تو ہم صبح حیدر کے لیے پٹیش دائر کریں گے خاموش نہیں بیٹھے گے انشاء اللہ ۔۔ Imran Khan

Ch Awais Younas

47,828 views • 1 year ago