Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

کبھی خاتون کے لباس تو کبھی صمد بونڈ کی بوتل پر جن مولویوں کو توہین قرآن نظر اتا ہے، وہ مولوی جب تبلیغ کی غرض سے یورپ آتے ہیں تو خود قرآن پاک کا استعمال ایسے کرتے ہیں!

69,360 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

اس مفتی کا فتویٰ سنیں— اور جہاں ملے، اسے ننگا کر کے، گنجا کر کے، منہ کالا کر کے، گلے میں جوتیوں کا ہار ڈال کر پورے شہر میں گھمائیں۔ یہ وہ شخص ہے جو مولویوں کا بچوں سے زنا اور تشدد پر پردہ ڈالنے کو دین میں نا صرف “حکمت” اور “افضل “ قرار دے رہا ہے بلکہ ، انکے کے عیب کسی کو بتانا “ گناہِ اعظیم “ قرار دے رہا ہے۔ خنزیر کی اولاد اسی کلپ میں میں نے وہ مناظربھی شامل کیے ہیں جہاں مسجدوں میں قرآن پاک ہاتھوں میں لیے، بچے قُران پاک پڑھ رہے ہیں ، تاخوں اور ریلو پر قُران کے ڈھیر ہیں اور اُستاد قُران پڑھتے بچوں کے آگے غلاظت کا ڈھیر بنا بیٹھا یا لیٹا ہے۔ کیمرے کی آنکھ نے جو مناظر قید کیے ہیں انسانی آنکھ دیکھ کر ازیت سے پھٹنے لگتی ہیں ۔ میں بات کر رہی ہوں اُن مولویوں کی جو مسجدوں اور مدرسوں میں قرآن پڑھاتے ہوئے معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ گھناؤنے جرم کرتے ہوئے اگر پکڑے جائیں تو ان پر بچوں کے ساتھ زیادتی کا پرچہ تو کٹ جاتا ہے، مگر توہینِ قرآن، توہینِ رسالت یا توہینِ مقدسات کی دفعات ان پر نہیں لگتیں—اور تشدد کے پرچے بھی “مولوی پروٹیکشن گینگ “ کے وسیلے سے بات توبہ اور معافی تلافی سے ختم ہو جاتی ہے کہ شیطان غالب آ گیا تھا ، مولوی صاحب کا قصور نہیں ۔ آج تک جتنے بچے انکی حوس ،درندگی اور تشدد کا نشانہ بنے کسی مُلے کو پھانسی نہیں ہوئی نا ہی سزا سُنائی گئی ۔ ادھر دین فروش فضل الرحمٰن ڈیزل، ابتسام الٰہی (چائلڈ ابیوز آپالوجسٹ)، طاہر اشرفی کا “قرآن بورڈ”، حسن معاویہ، راؤ کا لیگل کمیشن اور باقی سب “بلاسفیمی بزنس” کے کھلاڑی— دن رات مبینہ “گستاخانہ مواد” اور فرانزک رپورٹس لے کر میڈیا اور چینلز پر لہراتے پھرتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں فلاں کے قرآن اور جائے نماز پر “سپرم” ملا، کبھی فلاں کے فون میں فلاں فائلیں نکلیں— ان بچوں کی اوراللہ کے گھر اور کتاب کی توہین پر چُپ ملتے ہیں۔ جب انہی مولویوں کے خلاف، جن کی مسجدوں اور مدرسوں سے نام پتوں سمیت بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کی درجنوں ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں ، ان پر توہین کے مقدمات کا سوال نہیں اٹھتا— 295-سی وہاں ریڈ سے وائٹ لائن بن جاتی ہے۔ سوال سیدھا ہے: مدرسوں اور مسجدوں کے قرآن اور جائے نمازوں کی بھی فرانزک کروائیں، اور عوام کے سامنے ڈی این اے رپورٹس رکھیں—دیکھتے ہیں کہاں کیا ملتا ہے۔ اور ان مفتیوں اور مولویوں پر 295 سی لگائیں تاکہ پتہ تو چلے تُمہاری ریڈ لائن کدھر سے شروع ہو کر کدھر ختم ہوتی ہے ؟ ⸻ازقلم سونیا خان خٹک

Sonia Khan khattak(SK)

13,934 просмотров • 1 год назад

قتل کیے جانے والے مفتی منیر شاکر کی ایک حالیہ انٹرویو کا اردو ترجمہ۔ "بنوں اور اکوڑہ میں دھماکے پر مولوی طبقے کی خاموشی سوالیہ نشان بالکل نہیں ہے, کیونکہ یہ تو سرکار کی بی ٹیم ہے۔ جب سرکار روس میں جنگ چاہ رہی تھی تو ہر مسجد سے جہاد کی آوازیں گونجتی تھیں۔ جہاں سرکار جنگ کو جہاد نہیں کہتی تو ملا کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر یہ ملا لوگ حق بات کرتے تو یہ دھماکے سرے سے نہ ہوتے۔ میں مذمت کرنے کی اس روایت کے خلاف ہوں کیونکہ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ملا اپنی بیغرتی اور خاموشی پر نشانہ بنتے رہیں گے۔ ان کا کوئی نظم و ضبط کوئی اتحاد نہیں ہے۔ یہ قرآن میں جو ہے اس کو فالو ہی نہیں کرتے۔ یہ وہ جانور ہیں جو ایک دوسرے کو کھا جانے کو تیار بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ کبھی دیوبند، کبھی بریلوی تو کبھی پنجپیر پر لڑتے جھگڑتے ہیں، ان کے نام پر یہ اپنے مسلمان بھائیوں کو کافر کہتے ہیں، اور انہیں قتل کرتے ہیں۔ یہ شافعی، حنفی ، حنبلی کیا لگتے ہیں تمہارے؟ جب تم یہاں مردار ہو جاتے ہو تو دیوبند، بریل، امام مالک، امام حنفی، شافعی، اور دیگر آتے ہیں تمہارے جنازے پر؟ بلکہ یہی تمہارے قام قبیلے کے لوگ آتے ہیں۔ لہذا ان ہی کو اپنا بھائی بنا لو، ان کو اسلام سکھاو۔ مجھے ہر دھماکے اور ہر عالم پر کیے گئے حملے پر افسوس ہوتا ہے کہ آخر پشتون ہی کیوں قتل ہوتے ہیں۔ یہ دہشتگرد صرف میرے صوبے ہی کیوں آتے ہیں۔ اگر تم کہتے ہو کہ افغانستان سے آتے ہیں تو وہاں پڑوس میں انڈیا و دیگر ممالک کیوں نہیں جاتے۔ یہ کبھی پنجاب بھی نہیں جاتے۔ اول بات تو یہ کہ دہشتگرد تم صرف اس کو کہتے ہو جس سے "تمہیں" خطرہ ہو۔ اگر میرے جیسوں کو خطرہ لاحق ہو تو وہ دہشتگرد نہیں سمجھے جاتے۔ مجھے موبائل پر قتل کی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ میں نے سی ٹی ڈی، اور اپنے علاقے کے تھانے میں درخواست دی ہے۔ خود سرکار، ایم آئی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، لیکن پھر بھی مجھے سیکیورٹی نہیں دے رہے۔ جہاں جاتا ہوں پولیس تنگ کرتی ہے۔ کہتی ہے کس کی اجازت پر اسلحہ لے کر آئے ہو۔ میں جس سے اجازت لیتا ہوں وہ اجازت دیتا نہیں ہے! ان کو جس سے خطرہ ہے اس کو یہ دہشتگرد کہتے ہیں اور مجھے جس سے خطرہ ہے یہ مجھے اس کے سامنے غیر مسلح کرتے ہیں۔ دراصل دہشتگرد تو وہ ہے جس سے سب کو خطرہ ہو، عوام کو خطرہ ہو۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان تباہ ہو رہا ہے اس کے لیے کچھ کرو۔ " #munirshakir

Aneela Khalid

33,447 просмотров • 1 год назад