Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

کروڑں کا بجٹ ہے پرائم منسٹر ہاؤس کا،سی ایم سیکریٹریٹ کا،کیا یہ سب ختم نہیں کردینا چاہئے؟ کامران شاہد میں اس سے بہتر حل دے سکتا ہوں، ہم ہر سال میڈیا کو 45 ارب دیتے ہیں اس سے آپ جیسے اینکروں کو پچاس پچاس لاکھ، ایک ایک کروڑ تنخواہ...

32,765 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

دنیا میں کسی کے لیے، چاہے اس نے سینکڑوں قتل کیے ہوں، چاہے وہ دنیا کا سب سے بڑا اسمگلر ہو، چاہے اس نے دنیا کی بدکاریاں کی ہوں، آج تک کسی کے لیے یہ نہیں ہوا کہ اس کے گھر والوں سے ملاقات پر پابندی ہو۔ عمران خان کا کیا کام؟ ایک سابق وزیراعظم ہے، نہ سہی ایک اچھا کرکٹر رہ چکا ہے، نہ سہی پاکستان کا سٹیزن تو ہے۔ ان سے ملاقات پر پابندی کس بنیاد پر؟ حالات بغاوت کے بھی پکے ہیں، حالات مردہ باد زندہ باد کے بھی پکے ہیں، حالات خانہ جنگی کے پکے ہیں۔ ہمیں صرف یہ ڈر ہے کہ خدانخواستہ اگر ہم عوام کو سڑکوں پر لے آئے تو پاکستان اس کو سہہ سکے گا یا نہیں؟ اس کے نتیجے میں کیا ہوگا، اس کا ہم سب کو ڈر ہے۔ ہم مجرم سمجھتے ہیں شہباز شریف کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں پیپلز پارٹی کو، ہم مجرم سمجھتے ہیں ہر اس پارٹی کو جس نے 24ویں، 25ویں ترامیم میں ووٹ دیا۔ آپ کے ووٹ کے بغیر یہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ آپ نے اپنے عدلیہ کے پر کاٹ دیے، آپ نے اپنی میڈیا پر پابندی لگائی، آپ نے اپنے پارلیمنٹ کو کمزور کیا۔ اس کا نتیجہ اب آپ کے خلاف جائے گا۔ زرداری صاحب ہو سکتا ہے آپ صدر نہ رہیں، شہباز صاحب ہو سکتا ہے آپ وزیراعظم نہ رہیں کیونکہ آپ نے ایک غلط تالاب میں پانی ڈال دیا ہے۔ یہ ابھی بھی وقت ہے، مہربانی کریں۔" اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی

Siddique Jan

20,224 görüntüleme • 4 ay önce

آپ کو 9 مئی والے واقعات یاد ہوں گے نا ڈرتے ہیں کہیں ایسا موقع پھر نہ آ جائے اس میں میں ایک سوال کرتا ہوں آپ سبھی ساتھیوں سے خاص کر جو سمجھتے ہیں کور کمانڈر کا گھر آپ کا گھر نہیں ہے وہ میرا گھر ہے کور کمانڈر کا گھر ایسے کھلا کیوں تھا کہ لوگ چلے گئے آپ جواب دیں نا اس سے کیوں نہیں پوچھا گیا کہ کور کمانڈر صاحب آپ... کور کمانڈر کا گھر تو... نہیں دیکھیں جب عوام کا ایک سمندر آ جاتا ہے نا تو پھر اس کو روکا نہیں جا سکتا نہیں ہم... گولیاں تو نہیں چلاتے نا ہماری اپنی ایک فیصلہ ہو رہا ہے سچ یہ ہے اگر 9 مئی کے لوگوں کا یہ وہ ہے آپ رات پوچھیں سوچیں وہ بھی سوچیں آپ کو بھی پتہ ہے آپ کا یہ دل بھی مانتا ہے میرا بھی مانتا ہے اس 8 فروری کو الیکشن عمران کی پارٹی... 25 کروڑ انسانوں کو شہباز شریف اور ان کے متحدہ فوجیوں، سپاہیوں اور مجھ جیسے بیکار لوگوں نے سپورٹ کیا 25 کروڑ انسانوں کے خلاف دہشت گردی کی 9 مئی میں آپ نے 10 سال جیل دیے تو میں پوچھتا ہوں سپریم کورٹ ایک پارٹی سے اس کا نشان چھینتی ہے اس کی پارٹی کے لیڈر کو کہیں بھی کاغذات نامزدگی داخل ہونے نہیں دیے گئے تمام لوگوں کی یہ جو کے پی کے کی بات کر رہا ہے 200 نشانوں پر لوگوں نے انتخاب لڑا کہیں گائے تھی کہیں گھوڑا تھا کہیں گدھا تھا ووٹ انہوں نے دیے جیت لیے آسمان سے میں عمران خان کا، میں اس کا مخالف تھا لیکن جب وہ جیت چکا ہے اور آپ بائے فورس اس کو وہ کریں گے یہ تو پاکستان کی بنیادیں ہلا دے گا قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

16,902 görüntüleme • 3 ay önce

افغان مہاجرین کی جبری انخلاء کا فیصلہ جذباتی قسم کا ہے،افغانستان سے ناراضگی کا زور ہم ان کے ہم مہاجرین پر نکال کر انہیں تکلیف دے رہے ہیں،یہ مسئلہ 2017 میں اٹھا تھا،اس وقت ہم نے تجویز دی تھی کہ آپ کیٹگریز طے کریں، اس میں ایک کیٹیگری گریجوئیٹ مہاجرین کی ہے، یہ لوگ پاکستان کا اسکل ہیں، ان کو دھکے دے کر نکالنے بجائے ملکی ترقی کے لئے انہیں کھپانا چاہئے۔ دوسری کیٹیگری افغان سرمایہ کار کی ہے جو پچھلے 35 برس سے اقتصادی ترقی میں حصہ ملا رہا ہے، ان کے سرمایہ کو تحفظ دیا جائے، اگر وہ اپنا سرمایہ یہاں سے منتقل کریں گے تو اس کے اثرات معیشت پر ہوں گے۔ تیسری کیٹیگری طلباء کی ہے، جن کی منتقلی سے ان کے نصاب میں فرق آئے گا ان کی تعلیم میں حرج ہوگا۔ ان تجاویز کو اس وقت کی کابینہ نے منظور کیا تھا ، اب کونسی کابینہ کا اجلاس ہوا ہے اور کس نے منظوری دی ہے ؟ افغان مہاجرین یک طرفہ مسئلہ نہیں ہیں،افغانستان پاکستان کا دو طرفہ مسئلہ ہے اور ہم نے خوشی سے ان کو قبول کیا تھا اور پھر پشتون معاشرے میں جہاں مہمان نوازی ان کا ایک طرہ امتیاز ہے ان کی روایات کا ایک روشن حصہ ہے، آپ چالیس سال تک کسی کو مہمان رکھ کر جب گھر سے نکالے اور لات مار کر نکالیں گے تو آپ کی چالیس پینتالیس سال کی مہمانداری کا نفی ہوجائے گی۔ اس لئے مہاجرین کے انخلاء کے لئے جامع حکمت عملی بنائی جائے،ان کی واپسی کا شیڈول طے کیا جائے،یہ واپسی کا کیسا طریقہ ہے کہ ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے،بین الاقوامی برادری کو اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، تو یہ ساری چیزیں نیگوسئیشن سے طے ہو سکتی ہیں اور ہمیں مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے، الیکشن سے قبل جے یو آئی کا وفد افغانستان گیا تھا،ہم وہاں پر ایک ہفتہ گذار کر کامیاب واپس آئے تو لیکن یہاں حکومت اتنی نااہل ہے کہ انہوں نے ان معاملات کی پاسداری نہیں کی،پاکستان اچھے کردار سے نیک نام ہوگا اس طرح کے کردار سے پاکستان کو آپ بیرونی دنیا میں کوئی اچھا نام نہیں دے رہے ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

32,241 görüntüleme • 1 yıl önce