Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

کسی اور چہرے کو دیکھ کر تیری شکل ذہن میں آ گئی تیرا نام لے کے ملا اسے میرے حافظے کا یہ حال تھا

10,020 views • 6 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

"میں تمہیں پھول دینے کے لیے آیا" میں ہاتھوں میں محبت کا نازک سا تحفہ لیے تمہاری گلی میں آیا تھا۔ دل دھڑک رہا تھا، سوچا تھا تمہیں دیکھوں گا تو آنکھوں میں خوشی جھلکے گی، ہونٹوں پر مسکراہٹ ہوگی، اور شاید تمہاری پلکوں کے جھکنے میں کوئی خاموش اقرار مل جائے، لیکن جیسے ہی تم پر نظر پڑی، میرے قدم وہیں رک گئے۔ تم کسی اور کے ساتھ تھیں، تمہاری ہنسی، جو کبھی میری زندگی کی روشنی تھی، آج کسی اور کی باتوں پر چمک رہی تھی، وہ ہاتھ، جن کے لمس کی خواہش میں میں راتوں کو جاگا کرتا تھا، آج کسی اور کے قریب تھے، اس لمحے میرے دل میں جیسے کوئی تیز دھار چیز پیوست ہو گئی ہو، میرے پورے وجود میں ایک آگ سی لگ گئی۔ میرے ہاتھوں کے پھول مرجھا گئے، جیسے ان کو بھی اس منظر نے جھلسا دیا ہو، میں وہیں کھڑا رہا، ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیاں چنتا، اور سوچتا رہا: کیا یہ وہی تم ہو، جس کے لیے میں اپنی دنیا سمیٹ کر لایا تھا؟ یہ دکھ محض کسی اور کے ساتھ دیکھنے کا نہیں تھا، یہ اس اعتماد کے ٹوٹنے کا تھا جو میں نے تم پر کیا تھا۔ یہ اس لمحے کے بکھرنے کا تھا جسے میں نے تمہارے نام کر رکھا تھا۔ مجذوبؔ ملبورن رات کے ۹:۲۷

Majzoob

39,060 views • 1 year ago

بلیوں کو کھلونا سمجھ کر گھر نہ لائے۔ (میں نے 4 اگست کو لاہور میں لارنس روڈ پر ایک بلا سڑک سے ریسکیو کیا تھا۔ تقریباً 26 دن تک اس کی کئی پوسٹیں لگانے کے بعد بالآخر ایک مہربان خاتون نے اسے دو روز قبل اتوار کو ایڈاپٹ کر لیا۔ اگلے روز جب میں دفتر سے گھر پہنچا تو فلیٹس کی بیسمنٹ میں ایک بچے کو ایک چھوٹی سی پرشین کیٹ کے ساتھ کھیلتے دیکھا۔ میں نے پوچھا، ’’یہ کہاں سے لائے ہو؟‘‘ اس نے بتایا کہ اوپر کسی نے اسے دو دن کے لیے دی ہے۔ میں نے کہا کہ تمہارے پاس نیچے اسے رکھنے کی مناسب جگہ بھی نہیں ہے، نہ تمہیں معلوم ہے کہ اسے کیا کھلانا ہے اور نہ اس کی دیکھ بھال کا کوئی تجربہ ہے۔ بچے کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ نیچے چوکیدار کا تقریباً چھ سالہ بچہ تھا۔ میں نے فوراً اس سے بلی لی اور اسے اوپر گھر لے آیا۔ وہ لٹر باکس میں گئی اور اسے لوز موشن ہوئے۔ میں نے اس کے مالک کو فون کیا تو اس نے کہا، ’’میں کل آ جاؤں گا۔‘‘ میں نے سوچا کہ اس دوران اس حالت میں یہ بلی کیسے رہ سکتی تھی، خاص طور پر جب وہ ایک پرشین کیٹ ہے۔ اس کا رویہ مجھے انتہائی غیر ذمہ دار لگا۔ خیر، میں اسے فوراً ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ وہ بہت زیادہ ڈی ہائیڈریٹڈ تھی۔ اسے تین چار انجیکشن لگے۔ اگلے دن بھی اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا کیونکہ اسے مسلسل لوز موشن ہو رہے تھے۔ آج تیسرے دن اچانک وہ بالکل نڈھال ہو گئی، اور اب اسے صبح اور شام ڈرِپ لگ رہی ہے۔ میں نے مالک کو دوبارہ فون کیا اور اسے اس کی حالت کا بتایا تو اس نے کہا میں یہ بلی نہیں رکھ سکتا اپ نے رکھنی ہے تو رکھ لیں۔ کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ بلیوں کو کھلونا سمجھ کر لے آتے ہیں اور پھر یا تو سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں یا بغیر یہ دیکھے کسی کے حوالے کر دیتے ہیں کہ وہ شخص اس معصوم جانور کو سنبھال بھی سکتا ہے یا نہیں۔ میرے نزدیک یہ انتہائی ظالمانہ اور سفاک عمل ہے۔ میں نے ایک بلے کو تقریباً ایک ماہ تک ریسکیو کیا، اس کا علاج کروایا اور پھر اسے ایک اچھے گھر میں ایڈاپٹ کروایا۔ اگلے ہی دن یہ ننھی سی بلی میرے سامنے آ گئی۔ اب سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کروں۔ بس دعا کریں کہ یہ معصوم بچی صحت مند ہو جائے۔ اس کی عمر تقریباً چار پانچ ماہ ہے، بہت چھوٹی سی اور معصوم ہے۔ ان شاء اللہ جب یہ بالکل صحت مند ہو جائے گی تو میں اس کے لیے بھی ایک اچھا اور ذمہ دار گھر تلاش کروں گا جہاں اسے محبت اور اچھی دیکھ بھال مل سکے۔ اللہ اس ننھی جان کو صحت دے۔ آمین۔ ❤️) Copied from Facebook

Mehwish Qamas Khan

24,621 views • 1 month ago