Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

کل سے اس وڈیو نے ذہن کو متاثر کیا ہوا ہے۔ دو دن بعد ساری دنیا کی طرح پاکستان میں بھی ہم عورتوں کا عالمی دن منارہے ہونگے اور حالت یہ ہے کہ معصوم بچی درندوں کے ٹھڈے کہا رہی ہے۔ پردہ نہ کرنے پر سزا دینے والے اس...

64,751 Aufrufe • vor 6 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ایک ایسے معاہدے پر ہم جشن منا رہے ہیں کہ جس کی تفصیلات کا حکومت پاکستان کو علم ہی نہیں ہے، پاکستان کی پارلیمنٹ کو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب معاہدے کا نہیں پتہ کہ یہ دراصل ہے کیا، وفاقی کابینہ کو معاہدے کا نہیں پتہ، حکومتی وزراء سے بات ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتہ کہ اس معاہدے میں کیا لکھا ہوا ہے، حکومتی چینلز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس معاہدے کو آپ نے مذہبی رنگ نہیں دینا یعنی قوم کو کچھ اور بتانا چاہتے ہیں اور انٹرنیشنل میڈیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارا کوئی اسلامی اتحاد نہیں بن رہا نہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ NATO طرز کا کوئی اتحاد ہے اور نہ اس میں یہ تاثر جانا چاہیے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کہیں ترکی یا سعودی عرب کے کام آ سکتی ہے، حکومتی کنٹرولڈ میڈیا کو خاص طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ آپ نے اس طرف نہیں جانے دینا، کسی کو بھی نہیں پتہ کہ یہ معاہدہ ہے کیا، ایک انڈرسٹینڈنگ یہ ہے کہ شاید یہ معاہدہ دہشتگردی کے خلاف ہے کیونکہ تینوں ممالک اپنے کو دھشتگردی سے متاثرہ قرار دیتے ہیں، درحقیقت یمن کے حوثیوں کو سعودی عرب ایک دھشتگرد تنظیم سمجھتا ہے اور انہیں حوثی باغی کہا جاتا ہے تو ان کے خلاف ایک مشترکہ فوجی محاذ کھڑا ہو گا، لیکن کابینہ اور پارلیمان کو معاہدے کی تفصیلات نہ بتانا بہت بڑی غفلت ہو سکتی ہے، اس سے پہلے بھی سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا معاہدہ کابینہ اور پارلیمان کے بغیر کیا گیا، وزیر دفاع خواجہ آصف کہتا ہے کہ ہم افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں تو کیا سعودی عرب نے افغانستان کے ساتھ جنگ کو اپنے ملک پر حملہ قرار دیا؟ کٹھ پُتلی پارلیمنٹ فارم 47 پر بنی ہوئی ہے اور اردلی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اتنی اوقات اور سکت نہیں ہے کہ عاصم منیر سے کہہ سکے کہ ہمیں کم از کم پارلیمان سے یہ معاہدہ گزارنے اور منظور کرانے دو۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

18,165 Aufrufe • vor 1 Monat

میں اپنے کارکنان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ مختصر نوٹس پر بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔آج کا دن ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سرخرو کیا۔بھارت یہ سمجھ رہا تھا کہ پاکستان اندرونی طور پر تقسیم کا شکار ہے۔ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا قائد اس وقت جیل میں ہے۔بھارت نے سوچا کہ وہ اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھا کر پاکستان پر جارحیت کرے گا اور ہمیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا۔عمران خان نے ہمیشہ کہا کہ پاکستان بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے۔جب بھی پاکستان کو کسی مشکل کا سامنا ہوا، پی ٹی آئی کے کارکن ہمیشہ فرنٹ لائن پر کھڑے رہے۔ہم پر جو بھی ظلم ہوا، ہم اس کے خلاف اپنے ملک میں آئینی جدوجہد جاری رکھیں گے۔پی ٹی آئی اس وقت ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اور عمران خان اس کے قائد ہیں۔عوام نے ہمیں الیکشن میں کامیاب کرایا ہے، اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ملک کا دفاع کریں۔ہم اپنی ایئر فورس کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ہم ملک کے دفاع کے لیے متحد ہیں، لیکن اگر آپ واقعی قومی یکجہتی چاہتے ہیں تو عمران خان کو رہا کریں۔عمران خان کو جیل میں رکھنا قومی یکجہتی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔عمران خان ، پی ٹی آئی قیادت اور کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔

Asad Qaiser

14,200 Aufrufe • vor 1 Jahr

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 Aufrufe • vor 2 Jahren

بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے کو کبھی جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ لاپتہ نہیں بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کے وجود ہی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک ہفتے کے اندر اندر انہی حکومتی نمائندوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مختلف اور متضاد بیانات دئے گئے ہیں۔ دس دن قبل وزیراعلیٰ نے بیان دیا کہ 2 فروری کے بعد کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان بذاتِ خود اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ایک ہفتہ قبل وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سراسر فراڈ ہے اور اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جبکہ پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وفاقی حکومت جبری طور پر لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ کل آصمہ جہانگیر کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے نہ صرف اس سنگین مسئلے کو مرغی اور انڈے جیسی غیر سنجیدہ مثال سے جوڑ کر کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی بلکہ یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک بلوچستان میں دہشتگردی ہے، جبری گمشدگیاں ہوتی رہیں گی۔ یہ بیان خود اس بات کا اعتراف ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ یہ بات ایک اس بیٹی کے سامنے کہی گئی جس کے والد گزشتہ سترہ برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں اور وہ انکی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہیں اور اسی بیٹی کے ساتھ اور دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین سے ستمبر 2022 میں رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں لواحقین کے دکھ درد کو سمجھنے کا دعویٰ کیا گیا، ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا اور واضح الفاظ میں وعدہ کرکے یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ جبری گمشدگیاں نہیں ہوں گی، جس شخص پر بھی الزام ہے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کیا جائے گا۔ مگر کل میرے سامنے یہ کہا گیا کہ اگر کسی کو اٹھایا جائے گا تو اسے قانون کے مطابق ڈیل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، خود ایک وفاقی وزیر اس کی نفی کر رہا ہے۔ بطور ایک ایسی بیٹی جس کا والد جبری طور پر لاپتہ ہے، کیا میں یہ امید بھی نہ رکھوں کہ ہمارے پیاروں کو آئین اور قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے گا؟ جب ایک وزیر خود آئین کی عملداری پر سوال اٹھا دے تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟ اور آج انہی وعدوں کی نفی خود حکومتی بیانات سے ہو رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ریاست اور ریاست سرگردان ہے حکومتی نمائندے خود شدید تضاد اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کبھی اس مسئلے کو مکمل طور پر جھٹلایا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردی کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ جبری گمشدگیاں ریاست کے ماتھے پر سیاہ دھبہ بن چکی ہیں اور جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا ہے اس پر بات ہوتی رہے گی، حکومتی نمائندے اس مسئلے کو جیسے چاہیں جھٹلائیں یا جائز قرار دیں اس مسئلے کو حل کئے بغیر بری الزمہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ Rana Sana Ullah Khan Azam Nazeer Tarar

Sammi Deen Baloch

31,666 Aufrufe • vor 7 Monaten

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی رہنما اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن بلاشبہ تاریخی ہے، لیکن بدقسمتی سے یہ دن منفی معنوں میں تاریخ کا حصہ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں کچھ دن فخر اور کامیابی کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں، اور کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جنہیں یاد کر کے قوم کو افسوس ہوتا ہے۔ “آج کا دن بھی ان ہی دکھ اور تکلیف والے دنوں میں شمار ہوگا۔” سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ امریکہ کی تین سو سالہ تاریخ میں صرف پچیس ترامیم ہوئیں، لیکن پاکستان میں محض تیرہ مہینے کے دوران دوسری آئینی ترمیم پیش کی جا رہی ہے۔ “چھبیسویں ترمیم طویل سیاسی گفت و شنید، مشاورت اور اتفاقِ رائے کے بعد منظور کی گئی تھی۔ اس عمل میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علماء اسلام سب شریک تھے۔ مگر آج ہم صرف تیرہ مہینے بعد اسی ترمیم کو ریورس کرنے جا رہے ہیں، جو افسوسناک اور تشویشناک ہے۔” انہوں نے کہا کہ چھبیسویں ترمیم جمہوری ڈائیلاگ کا نتیجہ تھی، مگر ستائیسویں ترمیم اکثریت کے زور پر لائی جا رہی ہے۔ “یہ طرزِ عمل سیاسی شرافت کے منافی ہے۔ جب ہم نے چھ ہفتوں کی مشاورت کے بعد اتفاقِ رائے سے ترمیم منظور کی، تو یقین تھا کہ یہ پائیدار پیش رفت ہے۔ لیکن آج ایک گھنٹے کی کارروائی میں وہ تمام محنت اور اعتماد ختم کر دیا گیا۔” انہوں نے کہا کہ جے یو آئی پاکستان اب اس سیاسی دھوکے کے بعد اپنے لائحہ عمل کا ازسرِ نو جائزہ لے گی۔ “ہم پر جو وعدہ خلافی کی گئی ہے، اس کے بعد پارٹی فیصلہ کرے گی کہ کیا ہم اب بھی چھبیسویں ترمیم کو اون کر سکتے ہیں یا نہیں۔” سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آئین کو شخصیات کے لیے نہیں بلکہ نسلوں کے لیے بنایا جاتا ہے، مگر افسوس کہ آج دستور کو شخصیات کے تابع کیا جا رہا ہے۔ “یہ دن تاریخ میں ہمیشہ منفی حوالوں سے یاد رکھا جائے گا، کیونکہ آج جمہوری اقدار، آئینی شرافت اور باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔” آخر میں انہوں نے کہا کہ اس طرزِ عمل کے بعد 1973ء کے آئین کا جو کریڈٹ پاکستان پیپلز پارٹی کو حاصل تھا، وہ بھی اب برقرار نہیں رہا۔ “آج کا یہ دن سیاسی و آئینی لحاظ سے قوم کے لیے دکھ بھرا دن ہے۔”

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,588 Aufrufe • vor 10 Monaten

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 Aufrufe • vor 1 Jahr