Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

کل ۹ فروری بروز پیر صبح نو بجے اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس راجہ انعام امین منہاس کے بنچ میں میری اپیل کی سماعت ہو گی جس میں میں نے اپنے خلاف جاری ٹرائل میں منشیات کے الزامات/دفعات کو چیلنج کر رکھا ہے کیونکہ...

37,204 Aufrufe • vor 7 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

مخصوص خفیہ ایجنسی اورسی ٹی ڈی پر مشتعمل درجنوں اسلحہ بردار افراد نے مجھے اسلام آباد میں اپنے گھر سے گزشتہ جمعہ کی رات کو 12:10 منٹ پر اغوا کیا تھا۔ میں اپنے والدین کا ایک ہی بیٹا ہوں۔ اغوا کے لئے خفیہ ایجنسی کی کالی ویگو، سی ٹی ڈی کے دو ڈالے اور ایک ٹویوٹا فیلڈر گاڑی کو استعمال کیا گیا۔ گاڑی میں بٹھاتے ساتھ ہی میری آنکھوں پر پٹی اور کالا کپڑا باندھ دیا گیا تھا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچے تو مجھ سے کہا گیا کہ آپ ہم سے تعاون کریں اور ہم آپ سے۔ وہ سوالات پوچھتے گئے کہ آپ نو مئی کو کہاں تھے وغیرہ وغیرہ اور میں جوابات دیتا گیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ ایک وڈیو بناؤ جس میں بتاؤ کہ میں احتجاج اور سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف جو بھی کمپین کرتا ہوں اس کا حکم عمران خان اور پارٹی کی سینئر قیادت دیتی ہے اور معافی مانگو۔ میں نے یہ کام کرنے سے انکار کر دیا کہ عمران خان کے خلاف کوئی بیان نہیں دوں گا۔ پھر یہ سنتے ساتھ ہی انہوں نے مجھ پر بدترین تشدد کرنا شروع کر دیا۔ میرے سر اور جسم پر جوتوں، مُکوں اور مختلف اوزاروں سے کئی گھنٹوں تک تشدد کرتے گئے۔ تشدد کے نشانات ابھی تک میرے جسم پر موجود ہیں ہیں اور تصاویر بھی ریکارڈ کا حصہ بن گئی ہیں۔ میں عمران خان اور پارٹی کے خلاف بیان کے لئے نہیں مانا اور نا ہی وڈیو بنوائی۔ بدترین تشدد کے بعد جب میری حالت بے زار ہوگئی تو انہوں نے مجھے پانی پِلایا اور کہا کہ ہم آپ کو چھوڑنے لگے ہیں اور مجھے امادہ کیا گیا کہ میں اپنے اغوا کی تفصیلات کسی کو نہیں بتاؤں گا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری اتنی جلدی رہائی جسٹس محسن اختر کیانی کی وجہ سے ہوئی۔ اگر مجھے رہا نا کیا جاتا تو میرے والدین ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کرتے جس کے لئے میں نے پہلے سے ہی ایک بیان حلفی لِکھ کر اپنے دوست کو دیا ہوا ہے جس میں لکھا ہوا ہے کہ مجھے اغوا کر کے غائب کر دیا جائے تو ذمہ داران کے نام لکھے ہوئے ہیں جس کا ڈائرکٹ الزام خفیہ اداروں پر جاتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی جس طرح سے احمد فرحاد کا کیس چلا رہے ہیں اس سے حساس اداروں پر سخت ترین دباؤ ہے۔ میرا موبائل فون آج دن تک واپس نہیں کیا گیا جس میں میری ذاتی زندگی کی بہت معلومات ہیں۔ نا تو میں بلیک میل ہوں گا اور نا ہی میں کبھی عمران خان اور اپنی پارٹی کی خلاف جاؤں گا بے شک مجھے قتل کر دیا جائے۔ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک عمران خان کا وفادار رہوں گا، انشاءاللہ۔ اس کے علاوہ میں تمام پی ٹی آئی ورکرز، سوشل میڈیا وارئرز اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وقت ضائع کئے بغیر میری رہائی کے لئے آواز اٹھائی اور دعایئں کی۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کا احسان مند رہوں گا۔ PTI

Wajahat Sami

673,530 Aufrufe • vor 2 Jahren

بریکنگ نیوز : انسدادِ دھشت گردی کے عدالت نے سپریمٹینڈنٹ جیل کو عدالتی حکم عدولی پر شو کاز نوٹس جاری کر دیا۔ اسلام آباد پولیس بیرئیر پر پولیس سے ہاتھا پائی کے الزام میں انسدادِ دھشت گردی عدالت کے جج طاہر محمود سپرا کے حکم کے باوجود دونوں ملزمان کو آج ویڈیو لنک پر پیش نہیں کیا جا سکا۔ اس سے پہلے اڈیالہ جیل کے حکام نے ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ایڈوکیٹ ھادی کے وکالت نامے بھی عدالتی حکم کے باوجود عدالت میں پیش نہیں کیئے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ انٹرنیٹ کی خرابی کے باعث ملزمان کو اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ جج سپرا نے حکمنامے میں کہا کہ اس حوالے سے نہ تو کوئی تحریری رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی اور نہ ہی اڈیالہ جیل سے کوئی اہلکار عدالت میں پیش ہوا جو عدالتی عمل میں رکاوٹ ڈالنے اور عدالتی حکم عدولی کے مترادف ہے، اس وجہ سے انسداد دھشت گردی کے قانون کے تحت اڈیالہ جیل کے سپرینٹنڈنٹ کو شو کاز نوٹس دیا جاتا ہے کہ کیوں نہ انکو چھ ماہ قید کی سزا سنائی جائے، یہ شو کاز نوٹس سپریٹینڈنٹ کو ذاتی طور پر وصول کرا کر آج ہی جواب بھی طلب کیا جاتا ہے۔

Matiullah Jan

39,463 Aufrufe • vor 2 Tagen

شاید فیصلہ یہ ہوا ہے کہ عمران خان کو فی الحال وہ کوئی مراعات نہیں ملنی چاہئیں جو سپریم کورٹ کے اس معاملہ پر فیصلے میں سپریم احکامات میں جاری ہوئی تھیں مگر اس سے پہلے کہ ان پر عمل پتا خان صاحب کو دوبارہ اڈیالہ جیل کی قید تنہائی میں دھکیل دیا گیا تھا آج عمران خان کی شفاء اسپتال منتقلی کا معاملہ شدید غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوگیا اور یہ کیس آج اچانک سپریم کورٹ سے نکل کر وفاقی آئینی عدالت کے دروازے پر پہنچ گیا ہے اور یہ پیش رفت اُس وقت ہوئی جب سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت صرف ایک دن بعد، 16 ستمبر کو طے تھی۔وفاقی آئینی عدالت نے عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے، جس میں توہینِ عدالت کی درخواست اور حکومت کی نظرثانی اپیل بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ عدالت میں یہ نکتہ سامنے آیا کہ جیل رولز کے تحت قیدی کو سرکاری اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے تو عمران خان کے لیے نجی اسپتال کا حکم کیوں دیا گیا؟اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ 16 ستمبر کو سپریم کورٹ میں طے شدہ سماعت ہوگی بھی یا نہیں؟آئینی و قانونی ماہر بیرسٹر اسد رحیم سے اس اہم عدالتی موڑ کی مکمل تشریح سننے کے لیے OMR یوٹیوب لنک پر کلک کریں اور پورا پروگرام دیکھیں۔

Kamran Khan

91,644 Aufrufe • vor 13 Tagen

امریکہ میں موجود صحافی احمد نورانی کا بھائی بازیابی کے 5 ماہ بعد پہلی بار منظر عام پر آگیا اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکلوانے کی درخواست پر سماعت کے بعد والدہ کے ہمراہ میڈیا سے جذباتی گفتگو " میرا بھائی کی صحافت سے کوئی تعلق نہیں مجھے باہر جانے کی اجازت دیں میں اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں میرا فری لانس کام سات ماہ میں ختم ہو چکا میری زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے میں محمد علی ہوں میں الیکٹریکل انجینئر ہوں میرے ساتھ چھ سات ماہ پہلے جو کچھ ہوا وہ آپ جانتے ہیں میں صحافی احمد نورانی کا چھوٹا بھائی ہوں میرا احمد نورانی کے کام کے ساتھ ، صحافت یا کسی قسم کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں میں انجینئر کے طور پر کام کرتا رہا ہوں فری لانسر کے طور پر دو تین سال سے کام کر رہا ہوں میرے لاپتہ ہونے کی وجہ سے میرا سارا کام بہت زیادہ متاثر ہوا بند ہو گیا میری موبائل ڈیوائس جس میں پروفیشنل ڈیٹا تھا وہ بھی واپس نہیں کیا گیا میرے اکاؤنٹ بند کروا دئیے گئے پھر عدالت کے حکم پر کھولے تو کچھ وقت کے بعد دوبارہ بنک اکاؤنٹس بند کر دئیے گئے سعودی عرب کا ورک ویزہ لیا تقریبا 9 لاکھ روپے خرچ آیا ،میں نے ایک لاکھ روپے کا ٹکٹ بک کروایا ایف آئی اے کی جانب سے مجھے آف لوڈ کر دیا گیا ساڈھے آٹھ گھنٹے مجھے حراست میں رکھا گیا اداروں کے حوالے سے دھمکی دی گئی پہلے آدھے گھنٹے کے بعد اگلے آٹھ گھنٹے پانی تک مجھے نہیں دیا گیا پھر آف لوڈ کی اسٹیمپ لگا کر مجھے آف لوڈ کر دیا گیا (ہائی کورٹ میں پی سی ایل سے نام نکلوانے کے کیس کو) ابھی آگے سے آگے کیا جا رہا ہے میرا نام کیوں پی سی ایل پر ڈالا گیا مجھے بتایا جائے یہ مستقل ہراساں کرنا اور بلیک میلنگ ہے جو کچھ پہلے میرے ساتھ ہوا میں نے بہت مشکلات کا سامنا کیا اس پر بات نہیں کروں گا میرے ساتھ جو ہوا اس کی وجہ سے ذہنی اور فزیکلی میں نے بہت مشکلات کا سامنا کیا مجھے بتایا جائے ایسا ظلم میرے ساتھ کیوں کیا جا رہا ہے میرا درخواست ہے کہ میرا نام پی سی ایل سے ہٹایا جائے میرا کام پچھلے سات ماہ سے بند ہے اس ملک میں مجھے میری فیملی کو مستقل تھرہٹس ہیں مجھے مستقل ہراساں کرنے کا سامنا ہے میری فیملی کے بھی بنک اکاؤنٹس بند ہیں میں اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں اگر میں یہاں نہیں کرسکتا تو باہر جانے کی اجازت دی جائے "

Saqib Bashir

336,784 Aufrufe • vor 10 Monaten

⚖️ وکیل عثمان وڑائچ کا بیان (پریس کانفرنس): “یہ فیصلہ انتہائی افسوسناک ہے۔ جب سنگل بینچ کی جانب سے حکومت کو واضح حکم دے دیا گیا تھا، تو صرف اس بنیاد پر کہ مخالف فریق کو نہیں سنا گیا — یہ کہنا مکمل طور پر گمراہ کن ہے۔ کیونکہ عدالت کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ پہلے چار ماہ انہی (راؤ گینگ) کو بار بار سنا گیا، اُن کے وکلا کے دلائل موجود ہیں، اور تمام تاریخیں عدالتی ریکارڈ میں درج ہیں۔” 🔴 آج اسلام آباد ہائی کورٹ نے جسٹس سردار اعجاز اسحق خان کے اس فیصلے کو معطل کر دیا، جس میں حکومت کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ 1 ماہ میں انکوائری کمیشن بنائے اور 4 ماہ میں رپورٹ مکمل کرے۔ یہ فیصلہ ان سینکڑوں متاثرین، NCHR اور اسپیشل برانچ کی رپورٹس کی روشنی میں دیا گیا تھا جو مذہبی انتہا پسند گروہوں کی جانب سے انٹریپمنٹ اور جھوٹے توہین مذہب کے الزامات کا شکار ہوئے۔ سادہ سی بات دو اور دو چار کی طرح آج وکٹمز کے وکیل عثمان وڑائچ نے پریس کانفرنس میں واضح کر دی۔ وہ گزشتہ دو سال سے اکثریتی کیسز میں وکیل ہیں اور عدالت میں باقاعدہ نمائندگی کرتے ہوئے عوام کے سامنے مسلسل اپنے دلائل رکھتے آئے ہیں۔ یہ بھی ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ وکٹمز کے وکلا کو بعد میں سنا گیا، جبکہ ابتدائی چار ماہ کی عدالتی کارروائی میں صرف راؤ بلاسفیمی گینگ کو سنا جاتا رہا — جو کہ ریکارڈ پر موجود ہے۔ ایک جھوٹے کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ “ہمیں سنا نہیں گیا” جبکہ کیمرے کی آنکھ سے سب نے دیکھا اُس پر اسٹے آرڈر لینا — جھوٹ پر مبنی بیانیہ، بدمعاشی، اور اداروں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔ یقیناً وکلا اس سٹے آرڈر کو چیلنج کریں گے — کیونکہ یہ فیصلہ نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ انصاف کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی ایک خطرناک کوشش بھی۔ Muhammad Usman Warraich

Sonia Khan khattak(SK)

10,370 Aufrufe • vor 1 Jahr

سلمان اکرم راجہ کا عمران خان سے ملاقات کرائے بغیر اُنکے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پابندی کے کیس میں حتمی دلائل طلب کرنے پر سخت ردعمل عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پابندی کے کیس میں اسلام اباد ہائیکورٹ (جسٹس ارباب محمد طاہر) نے میری بطور وکیل عمران خان سے ملاقات کرانے کا حکم دیا، میری ملاقات نہیں کرائی گئی، میں نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی اور کہا کہ عدالت کے حکم کے باوجود میری عمران خان سے ملاقات نہیں ہو رہی، کوئی وکیل کیسے اپنے موکل سے ہدایات لیے بغیر جواب داخل کر سکتا ہے؟ کل کیس لگا تو جج صاحب نے توہینِ عدالت کو چھوڑ کر کہا کہ عمران خان سے ہدایات نہیں لے سکے پھر بھی کیس میں دلائل دیں، یہ صرف پاکستان نہیں، پوری دنیا کی عدالتی تاریخ بلکہ انسانی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت یہ کہے کہ ایک شخص ایک مقدمے میں فریق ہے اور جو حکومت کے کنٹرول اور تحویل میں ہے جس سے ملاقات کرانا بالکل حکومت کا جیل انتظامیہ کا اختیار ہے اُس سے ہدایات لیے بغیر ہی کیس چلایا جائے، دس ہزار سال پیچھے چلے جائیں تب بھی ایسا واقعہ نہیں ملے گا کہ ایک شخص جو کال کوٹھڑی میں پڑا ہے اُس کیلئے ایک وکیل مقرر کر کے کہا جائے کہ اس سے ہدایات نہیں لے سکتے لیکن اس کے خلاف مقدمہ میں جواب اور دلائل دو، سلمان اکرم راجہ

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

15,083 Aufrufe • vor 7 Monaten

سندھ پولیس اور سندھ کے نظامِ انصاف کےُلئیے لمحہِ فکریہ : سندھ میر پور خاص سے تعلق رکھنے والے صحافی فلک شیر کے تیرہ سالہ بیٹے اور اُسکی نانی کو مبینہ طور پر سندھ پولیس کے اہلکاروں نے ۲۴ مارچ کی رات راولپنڈی کے لئیے سفر کے دوران اغوا کر لیا جسکے گواہ بھی موجود ہیں۔ سندھ پولیس کے سینئیر افسر نے سندھ ہائی کورٹ میں پیش کردہ اپنی رپورٹ میں واقعے کے عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں اس واقعے کی تصدیق بھی کر دی مگر عدالت نے اس پر مزید رپورٹ طلب کرتے ہوئے اب ۹ جون کی تاریخ ڈال دی ہے۔ اب اگر پولیس شھریوں کو لاپتہ کریگی اور عدالتیں لمبی تاریخیں دینگی تو اُن ماؤں اور والدین کا کیا بنے گا جنکے بچے یوں اغوا کئیے جائینگے۔ سندھ ہائی کورٹ کے ایک چیف جسٹس کا بچہ جب اغوا ہوا تھا تو سپریم کورٹ میں سارے ججوں کا ہنگامی اجلاس ہوا تھا جسکے بعد وہ نوجوان اغوا کاروں سے مقابلے کے بعد برآمد ہو گیا تھا۔ مگر شاید یہ جج کا نہیں صحافی کا بچہ ہے اس لیئے سندھ ہائی کورٹ ایسے کیسوں میں لمبی تاریخیں دیتی ہے۔

Matiullah Jan

19,396 Aufrufe • vor 4 Monaten