正在加载视频...

视频加载失败

کوٹلی کے چچا یعقوب کا بیٹا یاسر کہتا ہے شوکت نواز پر ایک کروڑ کا انعام رکھا ہے ہم حکومت پاکستان کو شوکت نواز کے بدلے چار ارب دینے کو تیار ہیں۔ مجھے یقین ہے چچا یعقوب اپنے بیٹے کی یہ ویڈیو دیکھ کر اسے لازمی کہیں گے کہ...

19,226 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

ہم نے کچھ عرصے پہلے سندھ میں زرداری کنگڈم پر ایک ڈاکیومنٹری اپلوڈ کی تھی ۔۔ جس پر لوگوں نے ہمیں بہت سراہا اور ہمت کی داد دی کہ سمجھ نہیں آتا پاکستان میں اتنی ہمت کا مظاہرہ کوئی کیسے کرسکتا ہے ۔۔۔ اور لوگوں نے ہمیں بہت پوچھا بھی کہ ڈر نہیں لگتا؟ جس پر ہم نے پمیشہ ایک ہی بات کی کہ اللہ کا حکم ہے کہ 'اے ایمان والوں حق کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوجائے' تو ہم کچھ خاص نہیں کر رہے بس وہی کر رہے ہیں جس کا اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے ۔۔۔ لیکن آج یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ اس ویڈیو کے صرف یوٹیوب پر ہی دو ملین سے زائد ویوز ہیں جبکہ دیگر پلیٹ فارمز ملا کر تو 10 ملین سے زائد بنتے ہیں ۔۔ اب کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس میں کیا خاص بات ہے، تو جناب ہمارے لیے یہ نمبر اس لیے اہم ہے کہ یہ پاکستان میں اس مشکل دور میں ان لوگوں کی تعداد ہے جو نہ صرف حق اور سچ کو دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں بلکہ اُس کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونے کی ہمت بھی رکھتے ہیں ۔۔ اگر آپ نے ابھی تک یہ ڈاکیومنٹری نہیں دیکھی تو کمنٹس میں لنک موجود ہے لازمی دیکھیں

Raftar

42,913 次观看 • 11 个月前

فرقہ واریت کی بنیاد پر لوگوں کا کتنا خون کیا گیا، مجھے بھی اپنے ساتھیوں نے رابطے کیے کہ جی ہمیں قتل کیا جا رہا ہے ہمیں بندوق کی اجازت دے دو، ہم نے کہا نہیں یہ جمعیۃ کا روش نہیں ہے، کہنے لگے پھر ہم سیٹ ہار جائیں گے میں نے کہا ہار جائیں کوئی مسئلہ نہیں، ایک سیٹ ہارنے سے کچھ نہیں بنے گا جی اپنے منہج کو تبدیل نہیں کرنا، اشتعال میں نہیں آنا، تحمل اور برداشت سے کام لینا ہے، آج اگر مدارس پاکستان سے وابستہ ہے، آج اگر علماء پاکستان سے وابستہ ہیں، آئین سے وابستہ ہیں، قانون سے وابستہ ہیں، ملک کے ساتھ وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں، پھر سزا کس چیز کی ان کو دی جا رہی ہے؟ تمام تر وفاداریوں کے باوجود اگر اس طبقے کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے تو پھر مان لو کہ نہ مولوی دہشت گرد ہے نہ مدرسہ دہشت گرد ہے نہ یہ دہشت گردوں کے مراکز ہیں لیکن الزام چسپاں کر دو تاکہ اس الزام کے سہارے پر تم ان کو دیوار سے لگاؤ اور دنیا کو تسلی دو کہ ہم تو پاکستان میں دہشت گردی سے جنگ لڑ رہے ہیں اور پھر اس عنوان سے ڈالر کماتے رہو، ہمارے خون پر ڈالر کماتے ہو تمہیں شرم نہیں آتی! قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,255 次观看 • 1 年前

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,845 次观看 • 20 天前

ایک ایسے معاہدے پر ہم جشن منا رہے ہیں کہ جس کی تفصیلات کا حکومت پاکستان کو علم ہی نہیں ہے، پاکستان کی پارلیمنٹ کو پاکستان، ترکی اور سعودی عرب معاہدے کا نہیں پتہ کہ یہ دراصل ہے کیا، وفاقی کابینہ کو معاہدے کا نہیں پتہ، حکومتی وزراء سے بات ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں پتہ کہ اس معاہدے میں کیا لکھا ہوا ہے، حکومتی چینلز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس معاہدے کو آپ نے مذہبی رنگ نہیں دینا یعنی قوم کو کچھ اور بتانا چاہتے ہیں اور انٹرنیشنل میڈیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہمارا کوئی اسلامی اتحاد نہیں بن رہا نہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ NATO طرز کا کوئی اتحاد ہے اور نہ اس میں یہ تاثر جانا چاہیے کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کہیں ترکی یا سعودی عرب کے کام آ سکتی ہے، حکومتی کنٹرولڈ میڈیا کو خاص طور پر آگاہ کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ آپ نے اس طرف نہیں جانے دینا، کسی کو بھی نہیں پتہ کہ یہ معاہدہ ہے کیا، ایک انڈرسٹینڈنگ یہ ہے کہ شاید یہ معاہدہ دہشتگردی کے خلاف ہے کیونکہ تینوں ممالک اپنے کو دھشتگردی سے متاثرہ قرار دیتے ہیں، درحقیقت یمن کے حوثیوں کو سعودی عرب ایک دھشتگرد تنظیم سمجھتا ہے اور انہیں حوثی باغی کہا جاتا ہے تو ان کے خلاف ایک مشترکہ فوجی محاذ کھڑا ہو گا، لیکن کابینہ اور پارلیمان کو معاہدے کی تفصیلات نہ بتانا بہت بڑی غفلت ہو سکتی ہے، اس سے پہلے بھی سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا معاہدہ کابینہ اور پارلیمان کے بغیر کیا گیا، وزیر دفاع خواجہ آصف کہتا ہے کہ ہم افغانستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں تو کیا سعودی عرب نے افغانستان کے ساتھ جنگ کو اپنے ملک پر حملہ قرار دیا؟ کٹھ پُتلی پارلیمنٹ فارم 47 پر بنی ہوئی ہے اور اردلی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اتنی اوقات اور سکت نہیں ہے کہ عاصم منیر سے کہہ سکے کہ ہمیں کم از کم پارلیمان سے یہ معاہدہ گزارنے اور منظور کرانے دو۔ #FascismUnderAsimLaw #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

18,165 次观看 • 1 个月前

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔مولانا فضل الرحمن

Fahim Akhtar Malik

11,304 次观看 • 6 天前

ایک عالمی ماہر معیشت نے ٹوئٹ کیا کہ پاکستان نے ایران امریکہ کی سیز فائر کرا کے دنیا کی اکانومی کا تین ہزار ارب ڈالرز کا فائدہ/منافع کیا ہے۔ آج ہی اس دنیا کی IMF نے پاکستان کو ایک ارب بیس کروڑ ڈالر کی قسط کے لیے گیارہ سخت شرائط بھیجی ہیں جو عوام کو ہی ٹائٹ کرنے والی ہیں جس میں بجلی گیس تیل کی قیمتیں بڑھیں گی۔ اس وقت ہی سیز فائر میں دوبئی نے کہا ہے ہمارا دو ارب ڈالرز واپس کرو جس کو اس جنگ رکنے سے براہ راست فائدہ ہوا ہے۔ ہم نے دو ارب ڈالرز کسی اور سے ادھار مانگ کر واپس کیے ہیں اس پر الگ سود دیں گے۔ آن اے لائٹر نوٹ ہمیں سیز فائر کے زریعے دنیا کو تین ہزار ارب ڈالرز کا فائدہ، دوبئی کو قرضے کی واپسی کے بعد آئی ایم ایف کی ان نئی شرائط کا پلندہ ملا ہے۔ دونوں کچھ دن انتظار بھی نہ کرسکے نہ آئی ایم ایف نہ دوبئی۔ اگر امریکہ اور ایران ہرموز پر اب فی بیرل ایک ڈالر ٹیکس کا سوچ رہے ہیں تو جنگ رکوانے اور اس پر تین ہزار ارب ڈالرز عالمی فائدے پر ہمارا حصہ ایک فیصد بھی نہیں بنتا کہ ہم نے سیز فائر کرائی ؟ 😬 مکمل پروگرام لنک 👇 via YouTube Neo News Fawad Ahmed Nasrullah Malik Rabeea

Rauf Klasra

64,899 次观看 • 5 个月前

عوام سن کر کہے گی کہ ہمیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ مگر۔۔۔۔۔۔ 🚨🚨اسد عمر صاحب نے عامر متین صاحب کے پروگرام میں بتایا ہے کہ ساری کہانی یہ سنائی جاتی ہے کہ آئی ایم ایف نے بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے بہت سختی کی ہوئی ہے ، ہم نے کسی نہ کسی طرح وہ خسارہ کم کرنا ہے اور دیکھیں ہم نے کمال کردیا ہے بلکہ ہم نے پرائمری سر پلس create کر دیا ہے، کیا واقعی پرائمری سرپلس نظر آرہا ہے؟ جی ڈی پی کے لحاظ سے دو فیصد پرائمری سر پلس ہے،یعنی تقریبا! 28 سو ارب کا پرائمری سرپلس۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ دو فیصد پرائمری سرپلس کہاں سے اور کیسے آیا؟ یہ تمام کا تمام وہ پیسہ ہے جو صوبوں سے روکا گیا ہے اس میں سے ایک ہزار ارب سے زائد تو وہ پیسہ ہے جو صوبوں نے کہا ہے کہ ہم مالا مال ہو گئے ہیں تو ہم ایک ہزار ارب وفاق کو تحفے میں دینا چاہتے ہیں، اسی طرح سے صوبوں کو کہا گیا ہے کہ آپ جو ٹیکس اکھٹا کرتے ہیں،اس میں سے 17 سو 80 ارب روپے آپ نے بینک میں رکھنا ہے، خرچ نہیں کرنا، کیونکہ ہم نے آئی ایم ایف کو پرائمری سرپلس دکھانا ہے، این ایف سی میں تبدیلی کا ہدف بغیر کسی آئینی ترمیم کے حاصل کر لیا گیا ہے، صوبوں کے بازو مروڑ کر نہ صرف ان سے ایک ہزار ارب سے زائد کی گرانٹ لے لی گئی ہے بلکہ وہ اپنی آمدن کا 1780 ارب خرچ ہی نہیں کر سکیں گے، پہلے ساڑھے 57 فیصد صوبوں کو جاتا تھا اور 42 فیصد وفاق رکھتا تھا، اب عملی طور پر 61 فیصد وفاق کا ہے اور صرف 39 فیصد صوبوں کا ہے، اب عوام یہ سن کر سوچے گی کہ ہمیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟صوبوں کے پاس 57 فیصد رہے یا 39 فیصد، عوام کو ضرور فرق پڑے گا کیونکہ عوام کی ضرورت کی تمام چیزیں مثلاً صحت ، تعلیم، پینے کا صاف پانی، آبپاشی، گلیاں، سڑکیں سمیت دیگر چیزیں صوبوں نے کرنی ہوتی ہیں، اب جب صوبوں کے پاس 28 سو ارب کم آئے گا تو متاثر عوام ہی ہوں گے۔ ہم پہلے ہی گلہ کرتے تھے کہ دنیا کے مقابلے میں پاکستان صحت اور تعلیم پر بہت کم خرچ کرتا ہے، اب اس میں سے بھی 28 سو ارب نکال لیا گیا ہے،کیونکہ وفاق نہ اپنے اخراجات کم کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی طاقتور سے ٹیکس لینے کو تیار ہے،نہ سمگلنگ اور منی لانڈرنگ روکنے کو تیار ہے

Siddique Jan

25,769 次观看 • 3 个月前

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 次观看 • 2 年前

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,439 次观看 • 3 个月前

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,527 次观看 • 1 个月前

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں... جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔ آپ بتائیں! جب میرے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے عوام کا نمائندہ ہزار بار بننے کے قابل ہو، لیکن اگر وہ امریکہ اور یورپ کے لیے قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ اور پھر جب میں نے کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں ہم غلام ہیں، ہم غلام ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں، تو آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں نا کہ ہم غلام ہیں اور غلامی حقیقت ہے۔ نعرے مت لگاؤ ذرا صبر کرو، بات تو سن لو میری۔ جب مجھے کہا گیا کہ آپ اس کو تسلیم کر لیں کہ ہم غلام ہیں، تو میں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم غلام ہیں۔ لیکن اب آگے دو راستے ہیں: پہلا راستہ اس غلامی کو قبول کر لینا اور ان قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لینا۔ یہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے جو آپ کو پڑھایا گیا ہے۔ دوسرا راستہ ان قوتوں کے خلاف، اس غلامی کے خلاف آزادی کا علم بلند کرنا اور آزادی کے لیے میدان میں اترنا ہے۔ یہ میرے آباؤ اجداد اور اسلاف کا درس ہے جو مجھے پڑھایا گیا ہے۔ تجھے اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کا راستہ مبارک، مجھے اپنے اکابر اور اسلاف کا راستہ مبارک۔ میں اس غلامی کے خلاف لڑوں گا اور آخری دم تک لڑوں گا۔ #عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت #نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ #ذخائر_کے_چور

Ihsan Ullah Khan 🇵🇰

29,040 次观看 • 2 个月前

علامہ طاہر اشرفی کا افغان علماء کو جواب: ▪️بیگناہ پاکستانیوں اور مسلمانوں کو شہید کرنے والوں کیخلاف پاکستانی فوج کی کارروائیاں حقیقی جہاد ہے۔ ▪️ایک لاکھ سے زائد بیگناہ پاکستانی شہید ہوچکے ہیں۔ صرف مساجد میں ایک ہزار سے زائد پاکستانیوں کو شہید کیا گیا۔ ▪️ملا یعقوب اور دیگر طالبان رہنماؤں کی حالیہ دھمکیوں سے یہ صاف ظاہر ہے کہ انہوں نے یہ طے کیا ہے کہ ہر صورت انہوں نے ان دہشتگردوں کو جو افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشتگردی کررہے ہیں، انکی سرپرستی کرنی ہے۔ ▪️میں افغانستان کی عوام اور علماء سے یہ پوچھتا ہوں کہ افغانستان کے ایک ہزار علماء نے اعلامیہ جاری کیا تھا، کیا اس پر طالبان کی عبوری حکومت نے عمل کیا ہے؟ ▪️یعنی آپ کہتے ہیں کہ افغانستان میں بیٹھ کر خوارج، انڈیا اور اسرائیل کی مدد سے پاکستانیوں کو نشانہ بنائے بیگناہوں کو خون بہائے اور پاکستان اس پر کچھ بھی نہ کہے؟ ▪️اگر آپ سنجیدہ ہے کہ یہ سب کچھ رکنا چاہیے تو پاکستان آپ سے صرف ایک چیز مانگتا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہو اور جو پاکستان کے مجرمین ہے وہ آپ پاکستان کے حوالے کرے۔ ▪️اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ہندوستان کے ساتھ مل کر یا اسلام دشمن قوتوں کیساتھ مل کر پاکستان کیخلاف اور پاکستان کے بیگناہوں کو شہید کرینگے تو بیگناہوں کو شہید کرنے والوں کیخلاف جو کارروائی ہماری فوج کررہی ہے وہ جہاد ہے۔ ▪️کیا جہاد کا لفظ صرف آپکو آتا ہے؟ آپ نے جہاد کا حقیقی معنہ پڑھا ہے؟ ▪️آپ خود علماء کا انتخاب کرے دنیائے اسلام سے، شرعی فیصلہ کرلے۔ آپ شریعت اور اسلام کی بات کرتے ہے؟ ▪️ لائیے دنیائے اسلام کے علماء جدھر سے آپ چاہے اور بیٹھ کر پوچھتے ہیں کہ کیا یہ عمل جو پاکستان کیخلاف ہورہا ہے جو دہشتگردی افغانستان کی سرزمین سے ہورہی ہے، کیا یہ شرعا جائز ہے؟ ▪️جو کچھ افغانستان سے بیٹھ کر خوارج کررہے ہیں وہ قابل قبول نہیں ہے۔ نہ شرعی طور پر جائز ہے اور نہ قرآن و سنت اس کی اجازت دیتا ہے۔

Eagle Eye

18,011 次观看 • 6 个月前