Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ اسرائیل امریکہ ایران جنگ کی اپڈیٹ شئیر کریں یا پھر پاک فضائیہ کے حملوں کی اپڈیٹ شئیر کی جائے۔ کیونکہ آج تو پاکستانی طیارے دن کو بھی نمک حراموں پر بمباری کر رھے ہیں اور ہماری زمینی افواج افغانستان کے اندر داخل ہو...

86,211 просмотров • 7 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 29

Фото профиля Intelligence Analyst
Intelligence Analyst7 месяцев назад

Thats Pakistani posts stop misleading your poor brainless people

Фото профиля Mehmood Butt
Mehmood Butt7 месяцев назад

ALLAH HO AKBAR 💞💞💞

Фото профиля Ajab khan Shenwari
Ajab khan Shenwari6 месяцев назад

هاهاهاهاهاهاهاهاها کها هی بهایی

Фото профиля Amirrajput Rajput
Amirrajput Rajput7 месяцев назад

چوتیے باقی چور یہ بتا ہم نے تب بھی ہوتے ہیں جب بہت زیادہ نقصان ہوا

Фото профиля All Hail King Asim
All Hail King Asim7 месяцев назад

Musalman mar rahe hain besharmon! Agr ehsan kia tha afghanio pr to uski qeemat bhi begharat fouj me dollars me america se wusool ki thi

Фото профиля Abdul Jamil
Abdul Jamil7 месяцев назад

بوگمبو ( ٹرمپ) خوش ہوا، جناب۔ ناپاک غلام آرمی

Фото профиля WeLfairStAtE
WeLfairStAtE7 месяцев назад

امریکہ، اسرائیل اور پاک فوج تینوں پارٹنر ہیں

Фото профиля Ahmad bin Mohammad
Ahmad bin Mohammad7 месяцев назад

بہت اچھا ٹائم ہے سب مصروف ہیں واہ خان پٹی۔ کو حاصل کر لیا جاے

Фото профиля Afghan Dost
Afghan Dost7 месяцев назад

Acha G

Фото профиля بنت فاروق
بنت فاروق7 месяцев назад

اللّٰہ کے واسطے ایسی وڈیو شیئر ناکریں، پاک فوج کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہیں

Фото профиля پښتون 🇦🇫
پښتون 🇦🇫7 месяцев назад

Is this a Hollywood or Bollywood😂

Фото профиля Nazia Chaudhary🇵🇰
Nazia Chaudhary🇵🇰7 месяцев назад

@Asiii_010 پورے خطے میں لگتا ہے اگ لگ رہی ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ کہیں امریکہ پاگل ہو کے ایران پر جاپان کی طرح ایٹم اپنا پھینک دے

Фото профиля Saadat Wahid
Saadat Wahid7 месяцев назад

افغانستان پر زمینی حملہ خطر ناک حد تک بیوقوفانہ ہے

Фото профиля Zahid Islam Tanoli
Zahid Islam Tanoli7 месяцев назад

اللہ ہماری افواج کا حامی و ناصر ھو۔آمین پاک فوج پائندہ باد

Фото профиля Sonia Talha Siddiqui
Sonia Talha Siddiqui7 месяцев назад

اور ابھی میچ کی اپڈیٹس بھی شروع ہو جانی آج تو افطاری باہر سے ہی آئے گی 🤦🏻‍♀️🤦🏻‍♀️🤦🏻‍♀️🤦🏻‍♀️🤦🏻‍♀️

Фото профиля میری پہچان پاکستان
میری پہچان پاکستان7 месяцев назад

☺️

Фото профиля Sumera Tahir🇵🇰
Sumera Tahir🇵🇰7 месяцев назад

✌️🐅

Фото профиля crazy1
crazy17 месяцев назад

Jab k kashmir mein dakhal honay ki zaroorat hai ... :X

Фото профиля Ms sham
Ms sham7 месяцев назад

Ye Han asli wali 😂😂

Фото профиля حقایق نیوز
حقایق نیوز7 месяцев назад

هههه پاکستانی میڈیا نے جھوٹ بول کر آدھا افغانستان فتح کر لیا، ہمارے آدھے لیڈروں کو شہید کر دیا، کابل کو تباہ کر دیا۔

Фото профиля prince baloch
prince baloch7 месяцев назад

Hahahaha bs jhoot bolte jao award melyga hahahaha

Фото профиля Sajjad Hussain Mujahid
Sajjad Hussain Mujahid7 месяцев назад

اپنا کام جاری رکھیں۔یہی وقت افغانستان میں رحیم چینج کرنے کا وقت ہے

Фото профиля M.Umar Bhatti
M.Umar Bhatti7 месяцев назад

@Yasiraw96840267 پاک فوج زندہ باد

Фото профиля Saira kosar
Saira kosar7 месяцев назад

افغانستان میں داخل ہونا تو بہت آسان ہے بھیاء

Фото профиля ابرارغزنیوال
ابرارغزنیوال7 месяцев назад

تم لوگوں نے خواب میں آدھی دنیا کو فتح کیاہواہے

Фото профиля Taimoor Ali Khan
Taimoor Ali Khan7 месяцев назад

@Asiii_010 یہ سارا کھیل امریکہ نے اسرائیل انڈیا نے مل کر رچایا ہے ,,اس کے لیے استعمال انہوں نے خوارج کے کتوں کا کیا ہے , لیکن ان سب کتوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کے اوپر سے اؤ نیچے سے اؤ اگے سے اؤ پیچھے سے اؤ ہم تیار ہیں تمہیں نیست و نابود کرنے کے لیے مزہ نہ ائے تو پیسے واپس

Фото профиля Sahil Sarwari
Sahil Sarwari7 месяцев назад

Fact vs fake

Фото профиля A.Baqi.S
A.Baqi.S7 месяцев назад

جناب پاکستان کا افغانستان پہ حملہ اسی سلسلے کی پہلی کڑی تھی ۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔پاکستان، امریکہ اور اسرائیل ایک پیج پر ہیں اس وقت۔بلا وجہ لی تعریفیں نہیں ہو رہی تھی پاکستان کی ان دنوں۔

Фото профиля Noni🇵🇰
Noni🇵🇰7 месяцев назад

سب سے پہلے پاکستان

Похожие видео

سعید چوہدری کے مطابق غیر ملکی جریدے دی ٹیلیگراف تین بار آرٹیکل لکھ چکا ھے کہ طیاروں کی مارکیٹ میں جے ایف 17 تھنڈر اور رافیل میں مقابلہ شروع ہو چکا ھے۔ اور اسوقت پاکستان 16 ممالک کے ساتھ جے ایف 17 تھنڈر کی بات چیت کر رہا ھے جس میں کچھ ڈیل مکمل ہو چکی ہیں جبکہ باقی ڈیل کے اعلانات ہونے باقی ہیں۔ کچھ دن پہلے پاکستانی وزیردفاع مراکش کے ساتھ جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 کے 40 طیاروں کی یادداشت پر سائن کر چکے ہیں۔ اسوقت جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3 کی ڈیمانڈ بہت بڑھ چکی ھے کیونکہ پاکستان نے اس میں موڈیفکیشین کی ھے اسکو مذید جدید بنایا ھے۔ ان طیاروں کے استعمال ہونے والے میزائل/بم میں REK کٹ لگائی گئی ھے۔ جس سے عام بم بھی گائیڈڈ سمارٹ ویپئن میں تبدیل کر دیتا ھے اور پاکستان اس کا کامیاب تجربہ بھی کر چکا ھے۔ اس REK کٹ سے عام بم بھی اپنے نشانے پر جا کر لگا ھے۔۔ اس طیارے کی مانگ اس لئے بھی زیادہ ھے کیونکہ یہ جنگ میں آزمایا جا چکا ھے اور یہ طیارہ خود کو منوا چکا ھے۔ جبکہ رافیل عملی جنگ میں ناکام ہوا ھے۔ اور اسوقت صرف بھارت ہی رافیل کا گاہک بچا ھے، اور اسی سلسلے میں فرانس کا صدر خود انڈیا آ رہا ھے تاکہ رافیل کے مزید طیاروں کی ڈیل کی جا سکے۔۔ یعنی انڈین پائلٹس کی تربیت دیکھتے ہوئے اسے کوئی طیارے دینے کو تیار نہیں اور رافیل کو خریدار نہیں مل رھے۔ اس لئے یہ دونوں ملک اب آپس میں ہی یسو پنجو کھیلنا شروع ہو گے ہیں۔۔۔

چوہدری شاہد محمود

32,949 просмотров • 8 месяцев назад

خیبرپختونخوا کی عوام کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور ایران کی جانب سے مسلم ممالک پر مبینہ حملوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایران کو مسلم ممالک کے خلاف کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان کو اس تنازع سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ نقصان کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوام نے اپیل کی کہ تمام اسلامی ممالک اس جنگ بندی کے لئے کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک کو آپس میں تقسیم کیا جائے، اور باہمی اختلافات یا جنگ کی صورت میں صرف نقصان ہی ہوگا۔

Shazia

10,610 просмотров • 6 месяцев назад

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 просмотров • 6 месяцев назад

صدر ٹرمپ تھکے ہوں یا نہیں امریکی عوام ایران جنگ سے تنگ آرہے ہیں اور اس جنگ کو مسترد کررہے ہیں تازہ سرویز بتاتے ہیں کہ زیادہ تر امریکی ایران کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں کرتے۔ ادھر میدانِ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی شدید فضائی کارروائیوں سے ایران کی فوجی صلاحیت اور معیشت کو بڑا نقصان پہنچا ہے، لیکن اس کے باوجود ایران کی ریاستی ساخت اور قیادت بدستور قائم ہے۔اسی دوران جنگ کی شدت میں بھی کچھ کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں اور سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ جنگ اب اپنے زور سے محروم ہو رہی ہے؟آج کے On My Radar میں اہم موضوع پر گفتگو کریں گے پاکستان کے تجربہ کار سفارتکار اور امریکہ و چین میں سابق سفیر مسعود خان اور عالمی مالیات کے ماہر اور سابق انویسٹمنٹ بینکر یوسف نذر۔دونوں مہمان اس بات کا جائزہ لیں گے کہ امریکی عوام کی رائے کیوں بدل رہی ہے، جنگ کے معاشی اثرات کیا ہوں گے اور کیا آخرکار واشنگٹن اور تہران کو سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا؟مکمل گفتگو دیکھنے کے لیے On My Radar کا یوٹیوب لنک ضرور کلک کریں

Kamran Khan

33,612 просмотров • 6 месяцев назад