正在加载视频...

视频加载失败

کیا اب اپنے ہی ملک میں گھومنے کے لیے ہمیں اپنی قومیت کا سرٹیفکیٹ دکھانا پڑے گا؟ جو پنجابی اس ملک کی معیشت چلاتا ہے، سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، اور فوج میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کرتا ہے، اسے یہ طعنے دینا کہ...

28,834 次观看 • 3 个月前 •via X (Twitter)

31 条评论

دماغ سے فارغ 的头像
دماغ سے فارغ3 个月前

گدھے کے بچے واقعے کو غلط رنگ کیوں دے رہے ہو لواری ٹنل سے موٹر سائیکل کے گزرنے پہ پابندی ہے جیسا کہ موٹر وے پہ موٹر سائیکل نہیں جا سکتی اس بات پہ بائیکرز سیاحوں کی پولیس کے ساتھ بحث ہوئی یہ چترال پولیس کی جگہ پنجاب پولس ہوتی سارے مرغے بنے ہوتے

Mohsin Farooq 的头像
Mohsin Farooq3 个月前

اب بہت دیر ہو چکی ہے پٹھان اب پنجاب میں قابض ہو چکے ہیں۔اس بات کو پہلے سوچنا چاہیے تھا۔پٹھان ایک منافق قوم ہے جس کا ایمان صرف پیسہ ہے۔

Ali Raza 的头像
Ali Raza3 个月前

esy log aur inky rishtadaar punjab mai properties buy krty, busieness krty, bacho ko school college ya unis mai lgaty, even agricultural land buy krty.. aur panjab k logo k lye inky dil nafrat se bhry hain hain.. Jaag_punjabi #punjab #panjab

Tutan Koma 的头像
Tutan Koma3 个月前

سب سے زیادہ ٹیکس کے پیسے پنجاب پر ھی لگتے ھیں۔ لہذا یہ کسی پر احسان نھیں۔ خود دیتے ھو۔ اور خود کھاتے ھو۔ گو افغان گو کا نعرہ لگاو گے۔ پھر یہی اپکے ساتھ ھوگا۔ دوسرے قومیتوں کو تنگ کرو گے۔ ردعمل ائے گا۔

Abdul Wasey Achakzai 的头像
Abdul Wasey Achakzai3 个月前

بلکل غلط عمل ہے جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ ایک عام پنجابی ٹورسٹ کیساتھ ایسا عمل گھٹیا سوچ کی عکاسی کرتا ہے اگر کسی کو مسئلہ ہے تو پنجاب کے مقتدرہ طبقے سے مسئلہ ہوگا عام غریب پنجابی کا کیا قصور ہے ۔ یہ تو بے غیرتی ہوئی کہ طاقتور کو چھوڑ کر کمزور پر غصہ نکالا جا رہا ہے

پاڪستان کا بد قسمت شہری 的头像
پاڪستان کا بد قسمت شہری3 个月前

پاڪستان کو قومیت نہیں بلکہ مذهب جوڑ سکتا ہے. قومیت تو تفریق و منافرت پیدا کرتی ہے.

8-Nill - استبداد :-( 的头像
8-Nill - استبداد :-(3 个月前

ان م چ کو جہاں ملیں وہیں ختم کرنا لازم ھو چکا ھے

CH SB پنجا بی 的头像
CH SB پنجا بی3 个月前

@Khali_111 In sab ko bhag bhag k punjab ana hai lekin waha inko punjabi bardasht nai

Mustafa Gujjar 的头像
Mustafa Gujjar3 个月前

الیکشن کے موقع پر بیرونی عناصر کا داخلہ بند ہے۔ تھوڑا خیال کریں یوتھیے جب بائیکر بن کر جائیں گے اور زبردستی داخل ہونے کی کوشش کریں گے تو یہی کچھ ہوگا۔

Muhammad Mujeeb 的头像
Muhammad Mujeeb3 个月前

پنجاب والے جاتے ہی کیوں ہیں؟ ان دوسری قوموں کو بھی پنجاب سے نکالا جائے

iCloud 的头像
iCloud3 个月前

Jahil admi Without verification itna lamba post nai karty for spread hate only. The police already told that bikers not allowed in northern areas for safety reasons and i am passed by this place 2 days ago. And jab ap police ki bath nai manty tho wo apko marengay

sheraz latif cheema 的头像
sheraz latif cheema3 个月前

پنجابیاں نوں وی چائیدا اے کہ لعنت بھیجن ایہناں تے۔۔۔ایہہ اوتھے امب لین جاندے نے

Abu Omama 的头像
Abu Omama3 个月前

@malik_zavi79568 جیسے پنجاب صرف کسی پنجابی کی جاگیر نہیں بلکہ پاکستان ہی ہے۔ اسی طرح تمام پاکستانی علاقہ جات کسی خاص قوم قبیلے کی جاگیر نہیں۔ ہر پاکستانی، پاکستان میں ہر عوامی جگہ پہ جانے کا حقدار اور پاکستان کا مالک ہے۔۔۔ 5، 6 اکھٹے ہو کر احتجاج پہ بیٹھ جاتے جب تک کوئی سینئر نہ آتا

Bilal King 的头像
Bilal King3 个月前

Jo bi Panjabi ayna chata ha to hazara ay ham hazaray waly welcome kary gy or jo bi nasal parast ha is par lannt

Yasir Mughal 的头像
Yasir Mughal3 个月前

Ma dar chod ...... Gandum Punjab ke Fruit Punjab ka.... ......aur hum Sy badmashe

Farman khan 的头像
Farman khan3 个月前

یہ کون سی جگہ ھے بھائی ؟

Imran Khan 的头像
Imran Khan3 个月前

Zabr 10

syed 的头像
syed3 个月前

You are wrong if you are facing such cirumtance for first time other ethinic people in this countries are facing this from last 3 decades

Kings 的头像
Kings3 个月前

Punjabis let the army take their mothers sisters and daughters and dont do nothing about it Dont think you can come to Kashmir who have fought for its rights Read your history, punjabis never fought in any foreign war, just occupied their own population No cowards in AJK

Kash 的头像
Kash3 个月前

Thanks to purana pakistan and naya psychopath dictator

Afzal Raaj 的头像
Afzal Raaj3 个月前

شہری بچے عموما بدتمیز، اکھڑ مزاج، بدچلن اور خود کو زیادہ سیانا سمجھنے والے ھوتے ھیں ۔

SHANI JUTT VLOG 的头像
SHANI JUTT VLOG3 个月前

@realrazidada اگر پنجابیوں نے بھی ایسا کرنا شروع کردیا تو پھر انہوں نے رنڈی رونا شروع کر دینا ہے۔

Rafayyy 的头像
Rafayyy3 个月前

ایسے بیغیرتوں کومعافی نہیں ملنی چاہیئے

Muhammad Tahir 的头像
Muhammad Tahir3 个月前

Ye bohat hi baghairty hay

Ameen bhatti 的头像
Ameen bhatti3 个月前

لسانیت اور تعصب کو ہوا مت دیں۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد ۔

Farid khan 的头像
Farid khan3 个月前

"Every citizen has the right to move freely and be respected, regardless of region or ethnicity. Awareness, tolerance and legal measures can help ensure harmony across all provinces of Pakistan."

Hamza Sohail 的头像
Hamza Sohail3 个月前

Punjabi sab se zayada tax deta h??? bhai Karachi or uske waris urdu speakings, akele tmhare poore province se zyada tax deta he

Bilal King 的头像
Bilal King3 个月前

Nasal parasti sa civil war hoti ha or civil war sa sum taba hota ha jo bi nasal parast ha is par lanat

🇵🇰 Join-Pakistan🇵🇰 的头像
🇵🇰 Join-Pakistan🇵🇰3 个月前

complete details instead of short wording

sub se pehly pakistan 的头像
sub se pehly pakistan3 个月前

Ye kon begherat log hi lanat ho in pr kia ye inky bap ka mulk hi

asher shahzad 的头像
asher shahzad3 个月前

بہت اچھا ہوا انکے ساتھ انکو بھی چین نہیں گھر میں۔۔۔۔ بائکاٹ کرو ان علاقوں کا

相关视频

پاکستان آرمی کا ایک افسر اپنے زخمی سپاہی کو کندھے پر اٹھا کر پہاڑوں سے نیچے لا رہا ہے۔ یہ صرف ایک ویڈیو نہیں، بلکہ اس رشتے کی عکاسی ہے جو پاکستانی فوج کے افسروں اور جوانوں کے درمیان قائم ہے۔ یہاں کوئی پنجابی، بلوچ، سندھی، کشمیری، پشتون یا گلگتی نہیں ہوتا، سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر سب پاکستانی ہوتے ہیں۔ ایک ہی وردی، ایک ہی پرچم اور ایک ہی مقصد انہیں ایک خاندان میں جوڑ دیتا ہے۔ پاکستان آرمی میں افسر صرف حکم دینے والا کمانڈر نہیں ہوتا، بلکہ اپنے جوانوں کا محافظ، رہنما اور مشکل وقت میں ان کا سب سے مضبوط سہارا بھی ہوتا ہے۔ یہاں ہر سپاہی کی جان قیمتی ہے، اور ہر افسر اپنے جوانوں کو اپنی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ اپنے خاندان کا حصہ سمجھتا ہے۔ پاکستان آرمی میں افسر اپنے جوانوں کو ماتحت نہیں بلکہ اپنے بھائی سمجھتے ہیں۔ اسی لیے میدانِ جنگ ہو یا برف پوش پہاڑ، وہ اپنے سپاہیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔ یہ اعتماد، محبت اور قربانی کا وہ رشتہ ہے جو پاکستان آرمی کی اصل طاقت ہے۔ یہی جذبہ ہے جو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان آرمی صرف ایک فوج نہیں، بلکہ پاکستان کے ہر رنگ، ہر زبان اور ہر قومیت کو جوڑنے والا ایک مضبوط خاندان ہے۔ 🇵🇰❤️

Pakistan Defence🇵🇰

14,923 次观看 • 3 个月前

میری اپیل ہے تمام مخلص اور نظریاتی گراؤنڈ ورکرز سے، جو عمران احمد خان نیازی سے حقیقی محبت کرتے ہیں، کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ اپنی آواز بلند کریں۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے علاقوں میں موجود MNA اور MPA کے گھروں یا دفاتر کے سامنے پرامن احتجاجی طور پر کھڑے ہوں۔ آپ کو ان سے کسی قسم کی بحث یا جھگڑے کی ضرورت نہیں — بس اپنے ضمیر کی آواز کو ویڈیو پیغام کی صورت میں ریکارڈ کریں۔ ویڈیو پیغام میں صرف اتنا کہنا ہے: "میں اپنے علاقے کے MNA/MPA کے گھر یا دفتر کے سامنے کھڑا ہوں۔ یہ ہمارے ووٹوں سے منتخب ہو کر آیا تھا، ہمیں امید تھی کہ یہ عمران خان کی رہائی کے لیے آواز اٹھائے گا، لیکن اس نے ہمیں مایوس کیا۔ یا تو یہ بزدل ہے، یا غدار ہے، یا پھر کسی مجبوری کا شکار ہے — جو بھی وجہ ہو، عمران خان آج جیل میں ہے تو اس کا ذمہ دار یہی MNA/MPA ہے۔" یہ ویڈیو پیغام پرامن ہو، باوقار ہو، اور سچ پر مبنی ہو۔ اسے سوشل میڈیا پر پھیلائیں، تاکہ ہر پاکستانی کو معلوم ہو کہ عوام جاگ چکی ہے، اور اب کسی بے وفا نمائندے کو خاموشی کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ اگر آپ میں یہ حوصلہ نہیں کہ اپنے علاقے کے MNA یا MPA کے گھر یا دفتر کے سامنے جا کر ایک پرامن ویڈیو پیغام ریکارڈ کر سکیں… تو معذرت کے ساتھ، آپ حقیقی آزادی کی جنگ، عمران خان کی رہائی، یا پاکستان کی بقا کے دعوے صرف باتوں تک محدود رکھیں۔ لیکن مجھے یقین ہے! وہی مخلص، نظریاتی کارکن جو دل سے عمران خان سے محبت کرتے ہیں — وہ ضرور کھڑے ہوں گے، سچ بولیں گے، اور یہ پیغام سوشل میڈیا پر پھیلائیں گے۔ #مائنس_عمران_خان_نامنظور #رہائی_تک_مزاحمت #ReleaseImranKhan Aleema Khanum Mian Abbad Farooq Waqar Malik

Ayesha Khan

28,126 次观看 • 1 年前

27 ستمبر جلسے کا عنوان ہے "ریلیز عمران خان"، اس جلسے کا مقصد خیبر پختونخوا میں آپریشن کو بند کرانا ہے۔عمران خان چاہیں تو کل ہی رہا ہو سکتے ہیں، عمران خان دو تین چیزیں مان لیں تو کل ہی رہا ہو سکتے ہیں۔عمران خان آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔عمران خان صوبوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔عمران خان کہتے ہیں کہ جس صوبے یا علاقے میں قدرتی وسائل ہوں، سب سے پہلا حق اس پر اسی علاقے کا ہے۔ہمارا جلسہ حقوق کے لیے ہے، جو ہر پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے ہے۔عمران خان کی رہائی کا مقصد ملک میں رائج ہائبرڈ نظام سے بغاوت ہے۔ہم سب نکلیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں اس ملک میں ہائبرڈ نظام قبول نہیں، اس ملک میں جو ناجائز آپریشن ہو رہے ہیں ہمیں منظور نہیں۔خاص طور پر تیراہ کاجو واقعہ ہوا ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ہم اپنے خیبر کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور جلسے میں بھی اس کا اظہارِ یکجہتی کریں گے۔27 ستمبر کو پشاور میں جو جلسہ ہو رہا ہے یہ آپ سب عوام کا جلسہ ہے۔تمام پاکستانیوں بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام سے کہتا ہوں کہ اپنے حقوق کے لیے نکلیں۔

Asad Qaiser

21,231 次观看 • 1 年前

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 次观看 • 9 个月前

ایک پاکستانی کی شہریت مشکوک کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ صرف یارزمان ولد پائندہ خان کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسے پاکستانی خاندان کی شناخت کا مسئلہ ہے جس کی جڑیں نسلوں سے اس وطن کی مٹی میں پیوست ہیں۔ یارزمان کا تعلق ضلع باجوڑ، تحصیل سلارزئی، علاقہ برسدین ٹی بستہ سے ہے۔ وہ روزگار کی تلاش میں راولپنڈی اور اسلام آباد میں مزدوری کر رہا تھا کہ اس دوران اس کا شناختی کارڈ چوری ہو گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب اسے حراست میں لے کر بغیر مکمل تحقیقات کے ڈیپورٹ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے شخص کی شہریت کو کیسے مشکوک بنایا جا سکتا ہے جس کے پاکستانی ہونے کی گواہی صرف کاغذات نہیں بلکہ اس کے گاؤں، علاقے اور پوری قوم کے لوگ دیتے ہیں؟ برسدین کا بچہ بچہ، بزرگ، نوجوان، مرد اور خواتین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یارزمان ولد پائندہ خان اور اس کا خاندان نسلوں سے پاکستانی شہری ہیں۔ اگر کسی کا شناختی کارڈ چوری ہو جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی شہریت بھی چھین لی جائے؟ کیا بغیر مکمل تحقیقات کے کسی محنت کش کو اپنے وطن سے محروم کرنا انصاف کہلائے گا؟ یہ صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی بلکہ ایک پورے خاندان کی شناخت، عزت اور مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہوگا۔ ریاستی اداروں سے گزارش ہے کہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے اس معاملے کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ ویڈیو میں علاقے کے معتبر افراد اور مقامی باشندے بھی یارزمان کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کر رہے ہیں۔ لہٰذا متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ ہے کہ کسی بھی قسم کی کارروائی سے قبل تمام حقائق کا جائزہ لیا جائے اور ایک محنت کش پاکستانی شہری کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ایک پاکستانی کی شناخت صرف ایک کارڈ نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی، اس کا خاندان، اس کی تاریخ اور اس کے وطن سے وابستگی ہوتی ہے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ یارزمان ولد پائندہ خان کو سنا جائے، اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور اسے اس کا جائز حق دیا جائے۔ Mohsin Naqvi Sohail Afridi Chief Secretary Khyber Pakhtunkhwa KP Police Government of KP

Zahid Jan

25,417 次观看 • 2 个月前

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 次观看 • 8 个月前

عمران خان پرنشانے پر کیوں ہے؟ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستان کو ایک آزاد، خودمختار اور طاقتور ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کا مقصد صرف سیاست میں تبدیلی نہیں، بلکہ پاکستان کے تمام اداروں کی آزادی اور مضبوطی ہے تاکہ ملک عالمی سطح پر اپنی عزت اور وقار دوبارہ حاصل کر سکے۔ہم عمران خان کے ساتھ مل کر ایک ایسے پاکستان کی تعمیر چاہتے ہیں جو نہ صرف داخلی طور پر خود مختار ہو، بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط مقام رکھتا ہو۔ ملک کے فیصلے خود ملک کے اندر ہوں گے، تو پاکستان دنیا کے ساتھ ایک عزت دار اور باوقار تعلقات قائم کر سکے گا، بجائے اس کے کہ بیرونی طاقتوں کے زیر اثر ہو۔ ہماری سیاست کا محور پاکستان کے سیاسی نظام کو مضبوط بنانا ہے۔ دوسری طرف، پاکستان میں دھاندلی کرنے والے، آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹنے والے اور احتجاج کا حق چھیننے والے حاکم و مقتدرہ دراصل ملک کی سالمیت اور خودمختاری پر حملہ آور ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف سیاسی کرپشن کو فروغ دیتے ہیں، بلکہ عوام کے حق حکمرانی کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔ ایسے عناصر ملک میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں اور اس کے عالمی وقار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ قوم کو سمجھنا ہوگا کہ اگر ان عناصر کا راستہ روکا جائے اور عوامی فیصلہ سازی کو مضبوط بنایا جائے، تو پاکستان اپنی تقدیر خود بدل سکتا ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو

Senator Allama Raja Nasir

21,124 次观看 • 1 年前

کسی بھی ملک میں دہشت گردی ہو پاکستان ہمیشہ دہشتگردی کے خلاف کھڑا رہا ہے جو واقعہ پیش افسوسناک ہے بھارت کے اپنے شہری پوچھ رہے سری نگر میں تعینات 7 لاکھ فوج کی موجودگی میں یہ حملہ کیسے ہو گیا؟ وہ پوچھ رہے ہیں جو پہلے حملے ہوئے ان کی رپورٹیں کہاں ہیں؟ بھارتی شہری اپنی ہی حکومت پر سوالات اٹھارہے ہیں یہ ایک فالس فلیگ ہے اور ہمیشہ کی طرح ایک بزدلی کا مظاہرہ ہے یہ بزدلی کا مظاہرہ بھارت ہمیشہ کرتا ہے اور کر رہا ہے اس کا الزام وہ پاکستان پہ ڈال رہا ہے میں نے سنا ہے کوئی گیدڑ بھپکیاں بھی دی جا رہی ہیں میں تو صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ ہماری چائے ہے بہت اچھی لیکن ہم ہر دفعہ چائے نہیں پلایا کرتے ایک آدھی دفعہ کوئی مہمان آئے تو اس کو چائے پلا دیتے ہیں لیکن اس کے بعد اگر مہمان زیادہ ہوں تو اس کا جواب پاکستان کی فوج کو پاکستان اور عوام کو بہت اچھے سے دینا آتا ہے اس قسم کے فالس فلیگ کو بنیاد بنا کر اگر بھارت کسی بھی قسم کی کسی ایڈونچر کا سوچ رہا ہے میں ان کو خبردار کرنا چاہتی ہوں پہلے بھی الحمدللہ پاکستان نے بھارت کو ہر دفعہ دھول چٹائی ہے پچھلی دفعہ ہم نے چائے پلا کے بھیجا تھا اس دفعہ ہم سے شاید اتنی مروت نہ ہوگی

Azma Zahid Bokhari

36,194 次观看 • 1 年前

پیپلز پارٹی کے رہنما تیمور تالپور کھلے عام ریاستِ پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "اگر سندھ کی تقسیم کی بات کی تو ایک اشارے پر پورا پاکستان بند ہو جائے گا اور سندھ کا بچہ بچہ خودکش بن جائے گا۔" افسوسناک امر یہ ہے کہ جب سندھ میں "پاکستان نہ کھپے"، "پاکستان مردہ باد" کے نعرے لگتے ہیں، مغلظات بکی جاتی ہیں یا سندھو دیش کی ریلیاں نکالی جاتی ہیں، تب ان رہنماؤں کی زبان سے یہ نہیں نکلتا کہ "سندھو دیش کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا اور پاکستان کے لیے ہم کٹ مریں گے۔" اگر پیپلز پارٹی واقعی ایک جمہوری اور عوامی جماعت ہوتی، تو اس کے رہنما آئین کی بالادستی کا درس دیتے۔ اس کے برعکس عام گلی محلوں اور ٹاک شوز میں خودکش حملوں، پرتشدد کارروائیوں اور ملک کو جام کرنے کی دھمکیاں دینا کھلم کھلا دہشت گردی اور ریاست کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ انتظامی یونٹس یا کسی بھی آئینی و سیاسی موضوع پر اختلافِ رائے ہر شہری اور جماعت کا جمہوری حق ہو سکتا ہے، لیکن اس کی آڑ میں عوام کے بچوں کو پرتشدد راستوں پر دھکیلنا اور ملک کو یرغمال بنانے کا دعویٰ کرنا پاکستان میں قانون کی حکمرانی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کراچی کا ایک عام اور لاچار شہری جب اپنے اوپر ہونے والے مظالم، پانی کی عدم فراہمی یا ناانصافی پر صرف آہ بھی بھرتا ہے، تو پوری ریاستی مشینری فوراً حرکت میں آ جاتی ہے اور پرچے کاٹ دیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف جب کوئی بااثر سیاسی رہنما کیمروں کے سامنے بیٹھ کر ریاست کے وجود، امن و امان اور قانون کو سیدھا چیلنج کرتا ہے اور بچوں کو خودکش بنانے کی بات کرتا ہے، تو تمام ادارے مجرمانہ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ دہرا معیار اس تلخ سوال کو جنم دیتا ہے کہ: کیا ملک کا قانون صرف کمزوروں کو دبانے کے لیے بنایا گیا ہے؟

Sყҽԃ Mσɳιʂ Jαʋҽԃ

24,009 次观看 • 1 个月前

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 次观看 • 6 个月前

یہ ویڈیو لکی مروت کے گاؤں نصرخیل کی ہے، جہاں آج ایک اسکول میں فوج کیمپ لگانے کے لیے آئی تھی۔ اس پر گاؤں کی امن کمیٹی کے لوگ نکل آئے اور انہوں نے فوج کو اسکول سے نکال دیا۔ امن کمیٹی کے لوگ اس ویڈیو میں نعرے لگا رہے ہیں کہ جب یہاں دہشت گرد موجود تھے، تب تم لوگ نہیں آ رہے تھے۔ پھر ہم نے خود امن کمیٹی بنائی، ان کا مقابلہ کیا اور اپنے علاقے سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا۔ اب یہاں فوج کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی یہاں فوج کو آنے کی اجازت ہوگی۔ جو لوگ غیرت مند ہوتے ہیں، جو کسی کے ٹاؤٹ یا سہولت کار نہیں ہوتے، جو اپنے وطن، اپنی مٹی اور اپنی سرزمین سے محبت کرتے ہیں، وہ اس طرح معلوم اور نامعلوم، دونوں قسم کے دہشت گردوں سے اپنی مٹی اور اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہیں۔ نہ وہ وزیرستان والوں کی طرح فوج سے نفرت کی وجہ سے دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں، نہ اپنے علاقے میں معلوم و نامعلوم دہشت گردوں کو گھسنے دیتے ہیں؛ بلکہ اپنی حریت اور آزادی کے لیے اگر ہتھیار اٹھانے کی ضرورت پڑے تو اسے سنت سمجھ کر اٹھاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ کسی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر نہیں ہوتے اور نہ ہی متاثرین بن کر زندگی گزارتے ہیں، بلکہ اپنے علاقے میں امن اور خوشحالی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ جب آپ اپنے علاقے میں دہشت گردوں کو گھسنے نہیں دیں گے اور ان کی سہولت کاری نہیں کریں گے، تو پھر آپ کو یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ وہاں فوج کو بھی گھسنے نہ دیں۔ یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ آپ دہشت گردوں کے سامنے خاموش رہیں یا پھر ان کی سہولت کاری کریں، اور جب فوج آپ پر بمباری کرے، آپ کو بے گھر کر دے، تو آپ مظلومیت کا رونا بھی روتے رہیں۔

Pakistan Walli

131,670 次观看 • 1 个月前