Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

کیا مریم بہتر وزیراعظم ہو سکتی ہے؟ ایک پوڈ کاسٹ میں مجھ سے کسی نے پوچھا مریم یا بلاول بھٹو میں نے واضح طور پر کہا بلاول بھٹو، پی ٹی آئی کے کچھ دوستوں نے کہا کہ آپ نے کچھ زیادہ تعریفیں نہیں کر دیں بلاول کی۔۔۔؟ میں نے...

17,895 görüntüleme • 13 gün önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,433 görüntüleme • 5 ay önce

بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل کا بڑا تہلکہ خیز انکشاف۔ Exclusive سٹوری بریک کرڈالی۔ بلاول کا اسٹبلیشمنٹ کے خلاف بیان، پنڈی سے آئی ایک کال پر لیٹ گئے، دو گھنٹے بھی اپنے موقف پر کھڑے نہ ہوسکے 🔥🔥 بلاول زرداری نے تقریر میں کہا کہ ہم نے تمہارا ساتھ دیا تھا ریاست کے مفادات کیلئے ن لیگ کیلئے نہیں۔آپ نے اس کو مقبوضہ کشمیر بنادیا۔ تقریر بلاول ذرا بھاری کر گئے۔ بلاول سیاست کی آئس کریم ہیں، جیسے آسکریم پگھل جاتی ہے، اپنی ہیت، شکل برقرار نہیں رکھ سکتی، بلاول کا بھی کچھ ویسا ہی حال ہوا ہے۔ اس بیان کے بعد بلاول سے کوئی ملنے آیا۔ یہ Exclusive خبر ہم آپ کو بالکل پوری طرح سے تحقیق کرنے کے بعد دے رہے ہیں۔ چوہدری صاحب کی طرح سے انکو کوئی ملنے آیا۔ یہ بھی میں آپ کو بتا دیتا ہوں ایک برگیڈئیر صاحب ملنے آئے، انہوں نے فون پر بات کسی اور سے کروائی جو ان سے ایک درجہ اوپر شخصیت ہیں، میجر جنرل فیصل نصیر صاحب سے۔ انہوں نے بلاول صاحب کی اچھی خاصی درگت بنائی ٹیلی فون کے اوپر۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ آواز کافی اونچی تھی اور سیدھی کھلی بے عزتی کی گئی، کہ آپ کو شرم نہیں آئی آپ نے یہ کیا باتیں کی ہیں ساری۔ آپ بھول گئے ابھی گلگت بلتستان میں آپ کو حکومت دی ہے۔ How Much You and Your Dad Wants۔ صدارت آپ کو دی، دو گورنر شپ آپ کو دیں، ڈپٹی سپیکر آپ کا بنوایا۔ انہوں نے سب کچھ گنوا دیا۔ سب کچھ آپ کو دیا ہوا ہے، آپ کو شرم نہیں آرہی آپ نے کس قسم کی تقریر ہمارے بارے میں کی ہے۔ اور پھر ساتھ ہی بلاول آئس کریم پگھل گئی۔ اب یہ آپ کی مرضی ہے، آپ بلاول صاحب کو اسٹروبری آئس کریم سمجھتے ہیں یا آپ انہیں چاکلیٹ سمجھتے ہیں، یا آپ انہیں ونیلا یا بیچ میں کوئی اور فلیور مکس سمجھتے ہیں، بہرحال جو بھی ہو وہ آئس کریم ہیں، تو پھگل گئی فوراً ہی۔ بلاول نے کہا کہ نہیں نہیں میرا مقصد یہ نہیں تھا، میرا تو یہ تھا، میرا تو یہ تھا، وہی جو وہ کچی پکی بچارے اردو بولتے ہیں۔ پھر جنرل نے کہا مجھے نہیں پتہ، ابھی اور اسی وقت اسے ختم کریں اور Statements جاری کریں اور پھر فون بند کردیا۔ جو برگیڈئیر صاحب ساتھ بیٹھے تھے اُن سے بلاول صاحب نے پوچھا اب کیا کریں؟ اب یہ بھی فوجیوں کا طریقہ ہوتا ہے، ایک ذرا جو بھی ریٹائرڈ فوجی افسران ہے وہ آپ کو بتائیں گے پاؤں بھاری رکھیے گا، دوسرا کہے گا سر وہ آپ سے زیادہ کچھ غصہ کر گئے، صاحب غصے میں تھے لیکن میں آپ کی پوزیشن سمجھتا ہوں تو ایک آپ کے ساتھ مل جاتا ہے، تو بریگیڈیئر صاحب نے کہا کہ آپ انٹرویو دے دیں ٹیلی ویژن پر۔ پھر دو عدد انٹرویو Arrange کروائے گئے۔ پھر بلاول نے وسیم بادامی کے پروگرام میں کہا میں نے ریاست کہا تھا، میں نے اسٹبلیشمنٹ تو نہیں کہا تھا۔ یہ حالت ہے انکی۔ یہ Statements دے کے دو گھنٹے اپنی Statement پر نہیں رہے سکتے اور انہوں نے لیڈر بننا ہے اور کل کو وزیراعظم بننا ہے۔ دیکھ لیا آپ نے کیسے بری طرح سے انکو ملٹری جنرل استعمال کرتے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

46,672 görüntüleme • 1 ay önce