Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

کیا واقعی شرم اور حیا کا کوئی تصور باقی نہیں رہا ؟؟ مہمانوں کے ساتھ بدتہذیبی، بدزبانی اور غیر اخلاقی سوالات کرنا نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ پنجاب کی سماجی اور اخلاقی تہذیب کا مذاق ہے .!!

39,489 просмотров • 9 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

صحیفہ جبار خٹک کے پنجاب کے لوگوں اور اردو بولنے والے طبقے کے خلاف حالیہ بیان نے عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ کسی بھی محنتی قوم کو "کام چور" کہنا نہ صرف حقیقت کے منافی ہے بلکہ یہ نفرت پھیلانے کے مُترادِف ریویوز فیک نہیں بلکہ پنجابی عوام نے دیئے جو صحیح ہیں پنجاب کی عوام اور اردو بولنے والوں کی تضحیک • محنت کش طبقہ: پنجاب کی عوام اور اردو بولنے والے پاکستانی معیشت کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی محنت پر شک کرنا ان کی توہین ہے۔ • گوگل ریٹنگ اور ردِعمل: جب ان لوگوں نے احتجاجاً ان کے کاروبار کی ریٹنگ کم کی، تو اب ان کا رونا ان کے اپنے کیے کا نتیجہ ہے۔ جو دوسروں کی عزت نہیں کرتا، اسے اپنی عزت کے لیے رونے کا حق نہیں۔ • کاروباری اخلاقیات: پنجاب میں رہ کر اور یہاں سے کما کر یہیں کے لوگوں کو برا بھلا کہنا اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے۔ ایسے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کاروبار صرف پیسوں سے نہیں بلکہ عوام کی محبت اور عزت سے چلتا ہے۔ قانونی اور سماجی مطالبات • بھاری جرمانہ: نفرت انگیز بیانات اور فرقہ واریت یا لسانیت کو ہوا دینے پر ایسے افراد پر بھاری جرمانہ عائد ہونا چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی ایسی جرات نہ کرے۔ • عوامی بائیکاٹ: پنجابی عوام کا اپنی طاقت دکھانا اور ریٹنگ کم کرنا ایک جائز جمہوری حق ہے، جس نے یہ ثابت کر دیا کہ پنجابی عوام اب ایسی بدتمیزی کو برداشت نہیں کرے گی۔

Naina💫

22,506 просмотров • 6 месяцев назад