正在加载视频...

视频加载失败

کیا کراچی کے مسائل کی تمام تر ذمہ داری صرف سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے؟ کیا ٹاؤنز اور صوبائی و قومی اسمبلی میں موجود منتخب نمائندے بھی اس شہر کے معاملات میں برابر کے جوابدہ نہیں ہیں؟

26,894 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

*وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا حزب اختلاف کے ممبران اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس* صوبائی اسمبلی میں ممبران اسمبلی کی مراعات کے متعلق جو قانون پاس ہوا ہے اس حوالے سے کنفیوژن پیدا کیا گیا، سوشل میڈیا اور میڈیا میں ایسی باتیں سامنے آرہی ہیں جن کا اس ایکٹ میں نام و نشان بھی نہیں ممبران صوبائی اسمبلی کے لئے بلیو پاسپورٹ 1988 کے قانون میں پہلے سے موجود تھا صوبائی کابینہ کسی ایسی نئی چیز کی منظوری نہیں دی جو 1988 کے ایکٹ میں شامل نہ ہو صوبائی کابینہ نے جو مسودہ منظور کرکے اسمبلی کو بھیجا تھا اس میں ممبران اسمبلی کے لئے لائف ٹائم پاسپورٹ اور اہل خانہ کے لئے پاسپورٹ شامل نہیں تھا، اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد اپوزیشن نے ان میں کچھ ترامیم کیں، آج وزیر اعلی سہیل آفریدی نے واضح ہدایات دی ہیں کہ ایکٹ کے جن شقوں پر اعتراضات آرہے ہیں، تمام پارلیمانی لیڈر کو بٹھا کر ان پر نظر ثانی کی جائے، پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ہمیشہ مثبت تنقید کا خیر مقدم کیا ہے، وزیراعلی سہیل آفریدی کی ہدایات پر صحافی برادری کیساتھ مل بیٹھ کر جرمانوں اور دیگر نکات پر بات کرینگے، شفیع جان خیبر پختونخوا کی اسمبلی عوام کی منتخب نمائندہ اسمبلی ہے یہاں عوامی مفادات کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوگا اگر موازنہ کیا جائے، تو خیبر پختونخوا اسمبلی کے ممبران کی مراعات دیگر صوبوں کی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے ممبران کے مراعات سے کہیں زیادہ کم ہیں، جب سے صوبے میں ہماری حکومت آئی یے ممبران اسمبلی کی مراعات میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، صوبائی اسمبلی کے ممبران کے لئے جو نئی مراعات منظور کی گئیں ہیں وہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان اسمبلی کے مقابلے میں ابھی بھی کم ہیں، ٹول ٹیکس پچھلے 20 سالوں سے پارلیمنٹیرینز اور ججز کے لئے فری ہیں، بجٹ کے معاملے پر بھی صوبائی حکومت پر بلا جواز تنقید کی گئی حالانکہ ہم نے عمران خان کے وژن کے مطابق ایک بہترین بجٹ دیا ہے، ہم پر شائد اس لئے تنقید ہو رہی ہے کہ ہم عوام کے اصل نمائندہ حکومت ہیں، ممبران اسمبلی کو درپیش سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انہیں کٹیگری بی سکیورٹی دی گئی ہے، قومی اسمبلی، سینٹ ممبران سمیت ملک میں کل 57000 بلیو پاسپورٹ جاری ہوئے ہیں، ان پر بات ہونی چاہئے، وفاقی حکومت جاری شدہ بلیو پاسپورٹ کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھے، صوبائی اسمبلی کے ممبران کو پہلے سے چار اسلحہ لائسنس کی اجازت تھی، صوبے کی مخصوص سکیورٹی حالات اور ممبران کو درپیش سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ادائیگیوں پر ممبران کو مزید چار لائسنس کی منظوری دی گئی ہے،

Shafi Jan

11,517 次观看 • 2 个月前

کل سے کچھ حضرات فرمائشی پروگرامز اور ٹویٹس کرکے کوہستان کرپشن کیس کا ملبہ پاکستان تحریک انصاف اور صوبائی حکومت کے اوپر ڈالنے کی مذموم کوشش کررہے ہیں۔ کوہستان کرپشن کیس کے حوالے سے وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا بیان آن ریکارڈ موجود ہے۔ اس کیس میں اصل ذمہ داری اکاؤنٹنٹ جنرل (AG) پر عائد ہوتی ہے، جو کہ وفاق کے ملازم ہیں۔ جتنی بھی رقم اکاؤنٹس سے نکالی گئی، وہ براہ راست AG کے اکاؤنٹ سے نکالی گئی، اس میں صوبائی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے، اور نہ ہی صوبائی فنانس ڈیپارٹمنٹ اس معاملے میں ملوث ہے۔ یہ معاملہ ہم نے خود اجاگر کیا ہے۔ ہماری حکومت نے اس حوالے سے کابینہ میں باقاعدہ فیصلہ منظور کروایا ہے جو خیبر پختونخوا اسمبلی میں منظوری کے بعد باقاعدہ قانونی شکل اختیار کرلے گا۔ تاکہ آئندہ تمام سرکاری اکاؤنٹس کی مانیٹرنگ فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ماتحت ہوگی اور ان تمام اکاؤنٹس کا مکمل ڈیٹا فنانس ڈیپارٹمنٹ کے پاس دستیاب ہوگا۔ یہ اقدام اس لیے کیا گیا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے اور مالی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

Yar Muhammad Khan Niazi

17,527 次观看 • 1 年前

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے ممبر صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی کی طویل ملاقات وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے ممبر صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی کی تفصیلی ملاقات ہوئی، جس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ، صوبائی وزیر بلدیات مینا خان آفریدی اور صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان بھی موجود تھے۔ ملاقات کے دوران حلقہ PK-71 سے متعلق تمام تحفظات، شکایات اور دیگر اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ممبر صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے اپنے حلقے کو درپیش مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور غیر ضروری مداخلت سے متعلق تمام معاملات وزیراعلیٰ کے سامنے رکھے۔ وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے تمام شکایات کو بغور سنا اور واضح الفاظ میں یقین دہانی کرائی کہ: “آپ اس حلقے کے منتخب عوامی نمائندے ہیں، اس لیے آپ کے حلقے کے معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ آپ کا آئینی، قانونی اور جمہوری حق ہے، جس کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔” وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ حلقہ PK-71 میں تمام سرکاری محکمے اور متعلقہ ادارے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی امور کے حوالے سے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی کے ساتھ مکمل رابطہ رکھیں گے اور ان کی مشاورت و رہنمائی کے مطابق کام کریں گے، تاکہ عوامی خدمت کا عمل مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا سکے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے ممبر صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی سے کہا کہ “گھر کے معاملات گھر کے اندر ہی حل ہونے چاہییں۔ اختلافات یا تحفظات کو باہمی مشاورت سے دور کیا جائے، جبکہ ایسے معاملات کو سوشل میڈیا پر لانے کے بجائے پارٹی اور حکومتی فورمز پر حل کرنا زیادہ مناسب اور مؤثر طریقہ ہے۔” ملاقات خوشگوار اور مثبت ماحول میں ہوئی، جس میں باہمی اعتماد، حلقہ PK-71 کی ترقی، عوامی مسائل کے فوری حل، منتخب عوامی نمائندے کے آئینی اختیارات کے احترام اور حکومتی امور میں مؤثر رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

Abdul Ghani Afridi

40,713 次观看 • 2 个月前

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے بلاآخر یہ تسلیم کر ہی لیا کہ کچھ قوتیں صوبہ سندھ میں اختیارات اور وسائل اس بنیاد پر حاصل کرنا چاہتی ہیں یا انہیں اسلام آباد منتقل کرنا چاہتی ہیں کیونکہ سندھ حکومت نے صوبے کے عوام کیلئے کچھ نہیں کیا۔ اس بحث سے قطع نظر کہ یہ قوت اسٹیبلشمنٹ ہے یا وفاقی حکومت، پیپلز پارٹی کی سرکار کے ہاتھوں ملک کے تجارتی مرکز کراچی کی تباہی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ کیا پیپلز پارٹی کے قائدین اس خام خیالی میں ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ یا کوئی بھی محب وطن وفاقی حکومت کراچی کی اس بربادی پر خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ طاقتور حلقوں میں کراچی کی انتظامی خود مختاری، شہر کو "انتظامی یونٹ" کا درجہ دینے یا پھر اسلام آباد سے کراچی کے معاملات کو چلانے جیسے اہم آپشنز زیر غور ہیں۔ اس تمام صورتحال میں پیپلز پارٹی کے رہنماوں کو سندھ میں اپنی حکومت کا خاتمہ صاف نظر آ رہا ہے اور وہ اب اسے وفاق اور صوبے کی لڑائی یا پھر لسانیت کا رنگ دینے کی ہر مذموم کوشش کرینگے۔ #Karachi #Pakistan #Sindh #Punjab #BalochistanHaiPakistan #KPK DG ISPR

Imran Hussain

13,417 次观看 • 8 个月前