正在加载视频...

视频加载失败

گل نیپال تک پہنچ گئی ! بھیجو ڈالا نیپال ! لگاو فائیر وال پیکا ایکٹ !حق اور سچ کی سرحد نہیں ہوتی وہ بس پھیلتا ہے دنیا بھر میں

50,134 次观看 • 7 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

یہ ویڈیو دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے۔ لاہور موٹروے پر سردیوں کی ایک اور صبح۔ دھند اتنی گہری کہ چند قدم آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اور اس دھند کے سینے میں گھسی ہوئی ایک ڈائیوو بس۔ جو اب بس نہیں رہی، بس کے چیتھڑے سڑک پر بکھرے پڑے ہیں۔ یہ حادثہ نہیں تھا۔ یہ لاپرواہی کا انجام تھا۔ سوال یہ نہیں کہ دھند کیوں تھی؟ سوال یہ ہے کہ دھند میں رفتار کیوں کم نہیں کی گئی؟ سوال یہ ہے کہ درجنوں جانوں کو ایک ڈرائیور کی انا اور جلد بازی کے حوالے کیوں کیا گیا؟ یہ بس ٹائم پر پہنچنے کی دوڑ میں تھی، مگر کسی نے یہ نہیں سوچا کہ دیر سے پہنچنا بہتر ہے یا لاش بن کر؟ سردیوں میں موٹروے پر ہر سال یہی کہانی دہرائی جاتی ہے: دھند، تیز رفتار بسیں، اوورٹیک، ہائی بیم، اور پھر ایک ویڈیو… جس میں چیخیں نہیں ہوتیں، بس خاموشی ہوتی ہے اور لوہے کے ٹکڑے۔ قانون موجود ہے، وارننگ بھی دی جاتی ہے، پیغامات بھی آتے ہیں۔ مگر جب تک کمرشل گاڑیوں کو یہ احساس نہیں دلایا جائے گا کہ ان کی ذرا سی غفلت درجنوں گھروں کو اجاڑ سکتی ہے، تب تک یہ مناظر بدلیں گے نہیں۔ یہ ویڈیو صرف ایک حادثے کی نہیں، یہ ایک سوال ہے ہم سب سے۔ کیا ہماری جانیں واقعی اتنی سستی ہیں کہ دھند میں بھی بسیں نہیں رک سکتیں؟ اللہ رحم کرے اور ہمیں عقل دے۔ ورنہ اگلی ویڈیوکسی اور کی ہوگی۔

منصور مصطفیٰ

63,519 次观看 • 8 个月前

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,548 次观看 • 4 个月前

دوبارہ سے پڑھیں سبکی tl پر اسکو ہونا چاہیے وہ کوئی عام دن نہیں تھا… وہ ایمان کا امتحان تھا۔ 2022 میں کرناٹک کے ایک کالج کے باہر، جب حجاب کے مسئلے پر ماحول کشیدہ تھا، کچھ شدت پسند لڑکے نعرے لگاتے ہوئے ایک مسلم طالبہ کی طرف بڑھے۔ وہ لڑکی تھی—مسکان خان۔ اکیلی۔ کمزور جسم… مگر فولاد جیسا حوصلہ۔ سامنے نفرت بھرا ہجوم، کانوں میں شور، دل میں خوف کی ہلکی سی لرزش— مگر اسی لمحے اس کی زبان سے جو صدا نکلی، وہ پوری دنیا نے سن لی: اللہ اکبر! نہ وہ بھاگی، نہ چیخی، نہ پیچھے ہٹی۔ بس ڈٹ کر کھڑی رہی۔ اس ایک لمحے میں اس نے ثابت کر دیا کہ مسلمان عورت کمزور نہیں ہوتی— جب بات دین اور عزت کی ہو، تو وہ پوری امت کی نمائندہ بن جاتی ہے۔ یہ صرف ایک لڑکی کا واقعہ نہیں تھا… یہ ہر اس بیٹی کی آواز تھی جو اپنے ایمان پر فخر کرتی ہے۔ وہ لمحہ بے حد شاندار تھا— ایسا لمحہ جسے کوئی نہیں بھول پائے گا۔ آؤ، اس منظر کو پھر اپنی ٹائم لائن پر زندہ کریں، تاکہ دنیا دیکھ لے: جب ایک مسلم لڑکی کھڑی ہوتی ہے، تو وہ تاریخ لکھ دیتی ہے۔

عائزے_رومان

17,039 次观看 • 6 个月前