Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

گل نیپال تک پہنچ گئی ! بھیجو ڈالا نیپال ! لگاو فائیر وال پیکا ایکٹ !حق اور سچ کی سرحد نہیں ہوتی وہ بس پھیلتا ہے دنیا بھر میں

50,134 просмотров • 8 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

نپیال کے سیلابی کلپس اور تباہی دیکھی تو حقائق جاننے کیلیے گوگل میٹا وغیرہ پڑھا معلوم ہوا کہ نیپال اور تبت کی گلیشئرز اور پہاڑوں والی سرحد پر کہیں 5200 میٹر کی بلندی پر کسی گلیشئیر کا نچلا حصہ ٹوٹ کر 1200 میٹر نیچے تک گرا جو دریا کا رستہ تھا اُسنے دریا کا رستہ روک دیا رستہ رُکنے سے زمین سے 4000 میٹر اوپر کہیں پانی جمع ہوکر جھیل کی صورت اختیار کر گیا پانی کا پریشر بڑھتا گیا کہ کہ رکاوٹ ہٹ گئی اور اُس جھیل کا پانی 4000 میٹر سے کئی گنا پریشر کساتھ جٹانیں پتھر گارا درخت سب کُچھ ساتھ لیکر دریائی رستے سے نیچے آگیا جس سے آبادی میں بہتے دریا میں پانی کی سطح صرف 6 منٹ میں 30 فٹ تک بلند ہوگئی😳 30 فٹ کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ نئی سوسائٹیز میں گھروں کی اونچائی کی حد 30 فٹ ہوتی ہے گلیشیر گرنے سے گڑگڑاھٹ اور زمین کی تھرتھراہٹ کُچھ ایسی تھی جیسے 5.2 میگنیچیوٹ کا زلزلہ آیا ہو مگر یہ زلزلہ نہیں تھا آپ Flood in nepal سرچ کریں بہت کُچھ دیکھنے کو ملے گا نیپال 👇

کاشف چوہدری

53,018 просмотров • 1 месяц назад

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,763 просмотров • 6 месяцев назад