正在加载视频...

视频加载失败

گلوبل صمود فلوٹیلا 2.0 پر صیہونی اسرائیل نے حملہ کر کے فلوٹیلا مسافرین کو یرغمال بنا لیا ہے جس میں پاکستان کے سابق سینیٹر اور پاک فلسطین فورم کے سرپرست مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں!!! اب اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ پاکستانی عوام جہاں کہیں بھی...

13,955 次观看 • 4 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,636 次观看 • 3 年前

خیبرپختونخوا کی عوام کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ عوام کے لئے مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ اور ایران کی جانب سے مسلم ممالک پر مبینہ حملوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایران کو مسلم ممالک کے خلاف کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان کو اس تنازع سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ نقصان کا سامنا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوام نے اپیل کی کہ تمام اسلامی ممالک اس جنگ بندی کے لئے کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی کوشش ہے کہ مسلم ممالک کو آپس میں تقسیم کیا جائے، اور باہمی اختلافات یا جنگ کی صورت میں صرف نقصان ہی ہوگا۔

Shazia

10,610 次观看 • 6 个月前

دنیا اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں بین الاقوامی قوانین کھلم کھلا پامال ہو رہے ہیں۔ غزہ ایک کھلی جیل بن چکا تھا، جہاں فلسطینی عوام پر ظلم، نسل کشی اور تباہی مسلط کی گئی، اور ان کی مزاحمت ایک جائز حق ہے۔ اسرائیلی قیادت، بالخصوص نیتن یاہو، عالمی قوانین کو تسلیم نہیں کرتی اور خطے کے مختلف ممالک پر مسلسل جارحیت کرتی رہی ہے۔ امن کے نام پر پیش کیا جانے والا نیا “پیس بورڈ” درحقیقت فلسطینیوں کو غیر مسلح کرنے اور ان کے حقِ آزادی کو سلب کرنے کی کوشش ہے۔ اس بورڈ میں فلسطینی عوام کی کوئی نمائندگی موجود نہیں، جبکہ اس کی قیادت متنازع عالمی شخصیات کے ہاتھ میں دی جا رہی ہے۔ پاکستان نے پارلیمنٹ اور عوام کو اعتماد میں لیے بغیر اس عمل میں شمولیت اختیار کر کے اپنی ساکھ اور قومی وقار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کو کمزور کرنے اور اسلامی اصولِ “نفیِ سبیل” کے بھی منافی ہے۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، اس فیصلے پر تفصیلی بحث کی جائے، اور اس نام نہاد پیس بورڈ کے خلاف قرارداد منظور کی جائے۔ یہ مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پاکستان، اس کے عوام، دینِ اسلام، غیرت اور قومی حمیت کا معاملہ ہے۔ (پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب)

Senator Allama Raja Nasir

11,343 次观看 • 8 个月前

مذاکرات کی باتیں بہت مگر باقاعدہ مذاکرات ابھی کہیں دور ہیں اس کے برعکس امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ شدت اختیار کر رہی ہے، مگر پھر بھی پس پردہ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان indirect negotiations میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔اس کے باوجود زمینی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا چکی ہیں، جس نے عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت پر بھی شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ پاکستان کو اپنی توانائی کی ضروریات اور درآمدی بل کے حوالے سے ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔آج کے On My Radar میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے واضح انداز میں کہا کہ یہ جنگ زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکتی اور اس کا واحد حل مذاکرات ہیں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران عالمی سمندری قوانین کے تحت آبنائے ہرمز میں جہازوں پر کوئی پابندی یا ٹیکس عائد نہیں کر سکتا، اور پاکستان کو فوری طور پر پیٹرولیم قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنا ہوگا تاکہ عالمی جھٹکے کا مقابلہ کیا جا سکے۔ OMR مکمل شو دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

14,804 次观看 • 6 个月前

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 次观看 • 2 年前

(پاکستان 🇵🇰 💪) یہ مولانا شیخ عمران حسین ہیں جنہوں نے 2004 میں ٹرینیڈاڈ میں دجال دی فالس مسیحا یا اینٹی کرائسٹ پر اپنے لیکچر کی وضاحت کی- (اس دلچسپ ویڈیو کے ٹرانسکرپٹ کا مکمّل اردو ترجمہ پیش کر رہا ہوں- اسے ضرور پڑھیں اور سنیں)- "اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں، اگر آپ پیسوں کی دنیا کو دیکھیں تو آپ کو دیوار پر لکھا نظر آئے گا- بریٹن ووڈز معاہدہ ٹوٹ رہا ہے، یہ پہلے ہی ٹوٹ چکا ہے اور ایک نیا بین الاقوامی مالیاتی نظام قریب ہے، جس میں امریکی ڈالر غائب ہو جائے گا- اور جب امریکی ڈالر کریش ہو گا تو امریکی معیشت اس کے ساتھ کریش ہو جائے گی- میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ امریکہ پر 11 ستمبر کا حملہ 1914 کے موسم گرما کے دہشت گردانہ حملے سے غیر معمولی مماثلت رکھتا ہے- اور یہ کہ جو واقعات اب دنیا میں رونما ہو رہے ہیں، افغانستان پر حملہ، عراق پر حملہ، نئی امریکی سامراج جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، ان سب کا مقصد ایک مشن ہے، اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی جنگ کی راہ ہموار کرنا- اور اس بڑی جنگ کے نتیجے کے طور پر جو اسرائیل چھیڑنے جا رہا ہے، اسرائیل کی ریاست کا علاقہ ڈرامائی طور پر پھیلتا جا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مقدس سرزمین کی بائبل میں بتائی گئی سرحدوں کو گھیر لیا جا سکے- بائبل کہتی ہے، "مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک"، لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک مقدس سرزمین کا درحقیقت کوئی ذکر موجود نہیں ہے، یہ ایک گڑھا ہوا جھوٹ ہے- لیکن اب یہ بائبل میں موجود ہے، انہوں نے اسے زبردستی داخل کیا ہے۔ اور اس لیئے اسرائیل کو ایک بڑی جنگ چھیڑنی ہے، جس سے ریاست کے علاقے میں ڈرامائی طور پر توسیع ہو جائے گی، تاکہ اسرائیل نہر سویز کو کنٹرول کر لے- اور اسرائیل کل خلیج کے تیل کو کنٹرول کر لے گا- اور امریکی ڈالر پر ایک ساتھ حملہ آور ہو گا اور امریکی ڈالر گرتا جائے گا- اور جب یہ گرے گا تو کاغذی کرنسی کی پوری دنیا کو اپنے ساتھ لپیٹ لے گا- جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ اسرائیل جنگ کے ایسے ہتھیار اتارے گا جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے- اور اس کے اختتام پر اسرائیل دنیا میں ایک نئی حکمران ریاست کے طور پر امریکہ سے اقتدار سنبھال لے گا- لیکن، اسرائیل اس جنگ کو نہیں چھیڑ سکتا، کیوں کہ اب بھی راستے میں بہت خاص رکاوٹیں موجود ہیں- اور اب اپنی سوچ کی ٹوپی پہن لیجیئے- کہ وہ کونسی سب سے اہم رکاوٹ ہے، جو اب بھی اسرائیل کی ایک بڑی جنگ چھیڑنے کی راہ میں کھڑی ہے؟ اور یہ ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت- اور اس کے ساتھ ایران کی میزائل صلاحیت بھی ہے- اور اس طرح، ہم اس وقت جتنے بھی ہنگاموں سے گزر رہے ہیں، دنیا کی بساط پر وہ تمام تدبیریں، جب اسرائیل وہ بڑی جنگ چھیڑتا ہے اور امریکہ کی جگہ دنیا میں ایک حکمران ریاست کے طور پر آتا ہے، پہلی حکمران ریاست برطانیہ تھی، دوسری حکمران ریاست امریکہ تھی، تیسرا اور آخری یہ دھوکے باز، اسرائیل کی ریاست ہوگی- اس لیئے میں آپ کو یہ تجویز کر رہا ہوں کہ اینٹی کرایسٹ یا دجال اب مرحلہ دوم مکمل کر چکے ہوں گے، ایک دن جو ایک مہینے کے برابر ہے، اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہو گا، ایک دن جو ایک ہفتے کے برابر ہے، یعنی بہت کم مدت- یہ وہ وقت ہے جب دہشت گردی اپنے عروج پر ہے- انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کو قتل کرنا جاری رکھیں گے جو اسرائیل کی ریاست کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی جرات کرتے ہیں۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے- لیکن CNN آپ کو یہ کبھی نہیں بتائے گا۔ میری بات سننے کا شکریہ-

Amir H. Qureshi

13,333 次观看 • 6 个月前

پاکستان نے اس سے پہلے پوری دنیا میں امن کے حوالے سے جو کردار ادا کیا، وہ قابلِ تعریف تھا۔ پوری دنیا نے اس کی تعریف کی اور ہمیں بھی اس پر بڑا فخر محسوس ہوا۔لیکن ہم پینترا کیسے بدلتے ہیں، یہ ذرا دیکھ لیجیے۔ یہ چھوٹے موٹے، ننھے منے صحافی، جو اسٹیبلشمنٹ کے ماؤتھ پیس سمجھے جاتے ہیں، ان کے بیانیے میں اچانک تبدیلی آ گئی ہے۔اگر آپ اس پورے تنازع کو دیکھیں تو دوبارہ جنگ کی شروعات امریکہ نے کی۔ لیکن ان ماوتھ پیس کا نہ ان کا اپنا کوئی ضمیر ہے، نہ سچ بولنے کی طاقت، اور نہ ہی ظلم کو ظلم کہنے کی ہمت۔ جس نے ظلم کیا، جس نے بربریت کی، اور جس نے امن کے عمل کو سبوتاژ کیا، وہ امریکہ تھا۔ لیکن اسے ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے یہ ماؤتھ پیس دوبارہ IRGC کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔اب انہیں بھی اندازہ ہے کہ آگے کس پلڑے میں بیٹھنا ہے۔ کیونکہ کل رائٹرز کی خبر آئی کہ کویت اور پاکستان بھی دفاعی تعاون کے ایک نئے مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ یعنی کل پھر یہ بھی کہا جائیگا کہ کویت پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا ۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اب ایک نیا بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ لیکن پاکستان کو بہت سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ ایک دشمن ہم پہلے ہی افغانستان کو بنا چکے ہیں، بھارت پہلے سے ایک اعلان شدہ حریف ہے، جبکہ ملک کے اندر حالات بھی مثالی نہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔اگر ہم ایک اور تنازع میں کودیں گے اور ایران کے ساتھ بھی محاذ آرائی کی طرف جائیں گے تو اس کے نتائج بھی پاکستان کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ جب پورے محلے سے تعلقات خراب ہوں تو اپنا گھر بھی محفوظ نہیں رہتا۔خدارا اپنے ملک کے بارے میں سوچیں، اس پر رحم کریں، اور کم از کم پاکستان کے مفاد کو سامنے رکھ کر بیانیہ تشکیل دیں۔ دنیا کے سامنے ایک خودمختار اور باوقار ریاست کے طور پر ابھریں، نہ کہ دوسروں کے بیانیے کو اپنا کر ان کی زبان بولیں اور دوسروں پر الزامات لگاتے پھریں۔

Harmeet Singh

11,013 次观看 • 2 个月前

حماس نے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ 25 اکتوبر کو اس کی بین الاقوامی مہم #حصار_السفارات کا حصہ بن کر امریکی اور اسرائیلی سفارت خانوں پر غزہ میں جاری نسل کشی کے خلاف احتجاج کریں۔ اس سلسلے میں سینیٹر مشتاق احمد خان آبپارہ سے امریکی سفارت خانے تک مارچ کیلئے پہنچے۔ مارچ کے آغاز سے پہلے ہی پولیس نے مظاہرین پر دھاوا بول دیا اور 28 شرکاء کو گرفتار کرلیا جن میں اکثریت طلباء کی ہے۔ مظاہرین پر 13 دفعات پر مشتمل ایف آئی آر درج کی گئی جس میں دہشتگردی کی دفع 7ATA بھی شامل ہے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان اور دیگر مظاہرین کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ پولیس نے عدالت سے سینیٹر مشتاق احمد خان اور مظاہرین کا تیس روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی جس کو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد خان اور دیگر مظاہرین کو جیل بھیج دیا۔ #ReleaseAllProtesters #ReleaseSenatorMushtaq #AidHamasNotIsrael

Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان

71,937 次观看 • 1 年前

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر مائیکل ایتھرٹن، پاکستان اور انگلینڈ کے میچ کے دوران فخرِ پاکستان اور سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر انہیں ذرّہ برابر بھی یقین ہوتا کہ عمران خان نے کوئی سنگین غلطی کی ہے یا ان کے خلاف لگائے گئے الزامات میں حقیقت ہے، تو کیا وہ کبھی ایک براہِ راست کرکٹ میچ کی کوریج کے دوران اس حساس معاملے کو اٹھاتے؟ Sky Sports دنیا کے معروف اسپورٹس براڈکاسٹرز میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے عالمی سطح کے پلیٹ فارم پر، وہ بھی پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان براہِ راست میچ کے دوران، عمران خان کی صحت اور ان کے حالات پر گفتگو ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کا معاملہ اب محض پاکستان کی سیاست تک محدود نہیں رہا۔ عمران خان کی عالمی سطح پر قائم ساکھ، ان کی کرکٹ کی خدمات اور پاکستان کو دنیا بھر میں پہچان دلانے میں ان کے کردار سے دنیا بخوبی واقف ہے۔ تین سال سے قید عمران خان کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن ان کی عالمی کریڈبیلٹی اور پاکستان کے لیے ان کی خدمات کو دنیا کی نظروں سے نہیں چھپایا جا سکتا۔ 🇵🇰

Jahanzeb Khan PTI UK

59,358 次观看 • 26 天前

انتہائی افسوس ناک اور قابلِ مذمت، 27 ویں رمضان المبارک کی بابرکت رات کابل میں نشے کے عادی افراد کے ہسپتال کو پاکستانی فضائیہ نے ڈکٹیٹر عاصم منیر کے حکم پر بمباری میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں بدقسمتی سے 400 افغان مسلمان بھائی شہید ہوئے جس کہ عام شہری تھے، عاصم منیر نے کابل میں اسرائیل کا وہی ظلم دہرایا ہے کہ جب جنگی جنونی نیتن یاہو نے غزہ میں ایک ہسپتال پر بمباری کر کے 500 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا تھا، بڑی سے بڑی جنگ میں بھی ہسپتالوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا یہ سیدھا جنگی جرم ہے، افغانستان سے ایک غیر ضروری جنگ پاکستانی عوام کی اجازت کے بغیر افغانستان میں ٹی ٹی پی کو ختم کرنے کے نام پر شروع کی گئی اور نشانے ہسپتالوں کے لیے جا رہے ہیں، مناب ایران کے ایلیمنٹری اسکول میں 180 بچیوں کو بمباری کر کے شہید کرنے والے امریکہ و اسرائیل اور پاکستان میں کیا فرق رہ گیا ہے؟ مشرف کی مغربی آقاؤں کی فون کال پر لیٹنے کی پالیسیوں کی قیمت پاکستان 1 لاکھ سے زائد پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شہادت، ہزاروں افراد کے زخمی ہونے اور مالی نقصانات کے ساتھ بدترین معیشت کی شکل میں کئی سالوں تک ادا کر چکا ہے، دو ہمسایہ برادر اسلامی ممالک کے درمیان نفرت کے جو بیج اس مرتبہ عاصم منیر نے بوئے ہیں یہ کئی دھائیوں تک سرحد کے دونوں طرف معصوم زندگیاں کھا جائیں گے اور زیادہ نقصان پاکستانی عوام کا ہونا ہے، دو جنگی جنونیوں نیتن یاہو اور عاصم منیر کے ہوتے ہوئے اس خطے میں امن ناممکن ہے۔

Qasim Khan Suri

120,218 次观看 • 6 个月前

شہباز حکومت کی فلسطین سے غداری۔ غزہ کی پیٹھ خنجر گھونپ ڈالا۔ جبکہ غزہ لہولہان اور آخری سانسیں لے رہا ہے۔ پہلے پاکستانی وفد کے خفیہ دورے پر غداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں گئی اور اب حکومت پاکستان نے براہ راست یہ کارنامہ سر انجام دیا جس پر یھودی امریکی کانگریس سے شاباشی بھی وصول کی۔ امریکی یہودی کانگریس نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں منظور کی گئی قرارداد سے انتہائی سخت دفعات کو نکالنے، اور 7 اکتوبر کو اسرائیل پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرنے پر پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ قرارداد میں قابل ذکر تبدیلیاں: ۱. 7 اکتوبر کے دہشت گرد حملوں کی باضابطہ مذمت ۲. اسرائیل کے شہری علاقوں پر راکٹ حملوں پر واضح تنقید اور مسلح گروہوں کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا بالواسطہ ذکر ۳. اسرائیلی حکام کے خلاف کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کا مستقل نظام قائم کرنے کی شق کا خاتمہ—اس کی جگہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو ایک غیر پابند تجویز دی گئی ۴. قیدیوں، خواتین قیدیوں، اور لاشوں کی حوالگی سے متعلق بین الاقوامی معیار کا حوالہ—جو کہ حماس پر بالواسطہ تنقید ہے امریکی یہودی کانگریس نے OIC اور پاکستان پر زور دیا ہے ڈو مور کا مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ قراردادوں میں حماس کی براہ راست مذمت کریں اور یھودی یرغمالیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ واضح طور پر شامل کریں۔ امریکی یہودی کانگریس کے پریس ریلیز کا لنک

Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان

73,988 次观看 • 1 年前

پاکستان کی جانب سے اسرائیل پر جوہری حملے کی دھمکی کا جھوٹا اور من گھڑت پروپگینڈا بے نقاب* انتہا پسند بھارتی حکومت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کے مزید شواہد منظر عام پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پاکستان کیخلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع، ذرائع را کے فیک اکاؤنٹ IRAN WATCH نے دعویٰ کیا کہ; ’’اسرائیلی چینلز کے مطابق پاکستان نے امریکا کو آگاہ کیا کہ اگر ایران پر جوہری حملہ ہوا تو پاکستان اسرائیل کے خلاف جوہری ردعمل دے گا‘‘ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے اس منفی اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا مقصد اسرائیل کیلئے ہمدردیاں پیدا کرنا ہے، ذرائع اس زہریلے پروپیگنڈے کو پاکستان کی وزارت خارجہ نے یکسر مسترد کردیا ہے، ذرائع حکومت پاکستان واضح کرچکی ہے کہ وہ ایران کی بین الاقوامی فورمز پر اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے گی، ذرائع اس خبر کے جھوٹا ہونے کا یہ بھی ثبوت ہے کہ بیان کے ساتھ ایکس کا ایک وضاحتی نوٹ بھی شامل کیا گیا ہے، ذرائع وضاحتی نوٹ کے مطابق; ’“کسی بھی مستند یا سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ پاکستان نے امریکا کو ایسا کوئی پیغام دیا ہے‘‘ خواجہ آصف کے حوالے سے جھوٹ بولا گیا کہ پاکستان نے ایران کو حملے سے قبل انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں، ذرائع خواجہ آصف نے 14 جون کو قومی اسمبلی میں ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا، ذرائع اب آر ٹی وی نے بھی اس بیان کی غلط تشریح کرنے پر معذرت کی ہے، ذرائع ایک طرح سے آر ٹی کا بھی یہ اقرار ہے کہ یہ پروپیگنڈا تھا جس شکار وہ بھی ہوئے ہیں، ذرائع اس سے قبل بھارتی خفیہ ایجنسی را اور اسرائیل ملکر پاکستان کو FATF گرے لسٹ میں شامل کرانے پر کام کرتے رہے، ذرائع پاکستان کو FATF گرے لسٹ میں شامل کرانے میں ناکامی کے بعد اب "را" نے یہ گھٹیا پروپیگنڈا شروع کردیا، ذرائع اس منفی پروپیگنڈے کا مقصد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ امریکا سے توجہ ہٹانا بھی ہے، ذرائع

PTV News

50,805 次观看 • 1 年前

حکمرانوں کی دنیاوی پالیسیوں اور لالچ کا قرآن و سنت کے قطعی(مستقل) فیصلوں کے سامنے کوئی وزن نہیں ہے، یہودیوں کی تاریخ معاہدہ توڑنے کی ہے،امریکہ کی تاریخ مداخلت کی ہے، یہاں کئی معاہدے ہوئے مگر تاریخ میں ہر صلح نے فلسطینیوں کو کمزور اور اسرائیل کو مضبوط کیا ہے، امریکہ اور ٹرمپ اسرائیل کو عسکری اور مالی امداد کے ذریعے فلسطینیوں پر ظلم کے ذمہ دار ہیں، امریکہ نے 2023 میں 21 ارب کی اسرائیل کو امداد بھیجی،جس معصوم بچوں کو لہو لہان کیا گیا اور انسانی تاریخ کا سب سے بڑا ظلم غزہ کی سر زمین پر ڈھایا گیا۔ نیتن یاہو جنگی اور انسانیت شکن جرائم کا مرتکب ہوا ہے، مصلحت چھوڑ کر اصولی موقف اپنائیں کیونکہ قرآن و احادیث کی روایت میں یہودیوں کے ساتھ مفاہمت پر اعتبار مشکل ہے۔جن کو قرآن و حدیث میں معاہدہ شکن قرار دے کر لعنت کی گئی ہے ان کے ساتھ معاہدے میں کس کو خوش کرنے کے کئے شمولیت کی گئی ہے ؟ بانی اسرائیلی جارحیت پر بانی پاکستان کے نظریہ اور فکر کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس میں انہوں نے اسرائیل کو ناجائز بچہ قرار دیا۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ڈیرہ اسماعیل خان میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

12,349 次观看 • 11 个月前