正在加载视频...

视频加载失败

#گو_افغانی_گو کا نعرہ لگانے کا انجام پنجاب والو کو مل گیا چھچھ والو اب گھروں سے نکالتے وقت آپ بھی تیاری کرلو بستی سے شروع ہونے والی لڑائی محلہ آصف آباد تک ان پہنچی اور واپس دوبارہ GT روڈ پار کی طرف منتقل ہوگئی لڑائی پنجابیوں اور افغانیوں کے...

45,358 次观看 • 6 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

کرم ۔ اورکزئی اپڈیٹ 22 فروری 2026 اس وقت میں کرم میں موجود ہوں۔ یہاں پر خوارج کے درمیان لڑائی جاری ہے اور یہ لڑائی اورکزئی تک جا پہنچی ہے۔ خوارج کی مارٹر گولہ باری کے نتیجے میں عام عوام نشانہ بن رہے ہیں، شہری سنٹرل کرم سے لے کر خوارج کے دو گروپوں کے درمیان سخت لڑائی اورکزئی تک جا پہنچی ہے۔ آپس کی لڑائی کے دوران کچھ مارٹر گولے آبادی والے علاقوں میں جا گرے، جس کی وجہ سے متعدد افراد شہید اور زخمی ہو گئے، شہری کرم کے کاظم گروپ اور تیراہ سے تعلق رکھنے والے خوارج آمنے سامنے ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ابھی بھی میرے پیچھے لڑائی جاری ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ شرپسند عناصر نے عام لوگوں کی شہادت کے بعد اورکزئی میں فوجی چیک پوسٹوں پر حملے کی کوشش کی اور فائرنگ بھی کی، شہری فوجی جوانوں نے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی اور صبر کا مظاہرہ کیا، کیونکہ پاک فوج نہیں چاہتی کہ عام لوگ شہید ہوں یا انہیں کوئی نقصان پہنچے، شہری اس لڑائی کی وجہ سے عوام کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ ان شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے، شہری

Fahmidah Yousfi

10,884 次观看 • 7 个月前

کریم آباد بے مقصد کھنڈر پاس کی اصلیت. کوالٹی انتہائی خراب، دیواروں سے لے کر سڑک کی کوالٹی تھرڈکلاس ہے... اگر ایک عام آدمی کسی چلتے پھرتے ٹھیکیدار سے بھی بنواتا تو زیادہ اچھا بنا لیتا. کرپشن اور نااہلی کا شاہکار یہ انڈر پاس بنا کسی ضرورت کے بنایا گیا یے حسین آباد کی جانب سے جہاں سے یہ شروع ہو رہا ہے وہاں اب سائیڈز میں صرف ایک لین رہ گئی ہے اور یہ ہی ایک لین کریم آباد تک جا رہی ہے یعنی سائیڈوں میں موجود دکان داروں کا کاروبار مکمل تباہ ہو گیا ہے، انڈر پاس سے ضیاالدین کی طرف نکلنے پر روڈ ہی نہیں ہے اور ناجائیز تجاوزات کی بھرمار ہے جو بھی ٹریفک یہاں سے نکلے گا وہ موسی کالونی پر بری طرح پھنسے گا اسکے بعد تھوڑا آگے ضیاء الدین کینسر اسپتال کے موڑ پر پھنسے گا... حسین آباد عثمان میموریل اسپتال سے کریم آباد اور پھر ضیاءالدین تک مسلہ صرف غیرقانونی تجاوزات کا تھا اور اب بھی ہے یہاں کسی انڈرپاس کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی. صاف محسوس ہوتا ہے کہ محض کسی کو نوازنے کے لئے یہ زبردستی کا کام نکالا گیا، تاکہ وہ قوم کا پیسہ ڈکار سکے اور اس نے بھی بجٹ پر قناعت نہیں کی 4 سال پروجیکٹ کو لٹکایا اور بجٹ کا بھی 4 گنا مذید کھا گیا اور یہ کچرہ بنایا ہے.

ٹوٹ بٹوٹ

10,802 次观看 • 5 个月前

“کراچی پنجاب میں تھا اور پنجاب کا حصہ تھا۔”امیتابھ بچن بالکل درست کہہ رہے ہیں . امیتابھ بچن کی بات کراچی پنجاب میں تھا یا پنجاب کا حصہ تھا بالکل درست ہے اس کا سادا سا مطلب ہے کہ تقسیم سے پہلے کا کراچی تک پھیلا ہوا پنجاب ہندوستان کا اتنا بڑا صوبہ تھا کہ کراچی پنجاب کا ہی ایک حصہ لگتا تھا۔پنجاب ایک طرف جمنا دوسری طرف افغانستان تیسری طرف کراچی اور چوتھی طرف جموں کشمیر گلگت بلتستان چین تک پھیلا ہواتھا۔سندھ کا اسوقت کوئی وجود نہیں تھا سندھ بمبئی کا حصہ تھا کراچی کی بندرگاہ درحقیقت پنجاب کی گندم چاول کپاس اور زرعی اجناس یورپ ایکسپورٹ کرنے کیلئے ہی انگریزوں نے تعمیر کی تھی۔دوسرا سارا ناتھ انڈیا کراچی کی بندرگاہ براستہ پنجاب استعمال کرتا تھا۔اگر پاکستان نہ بنتا کراچی پنجاب کا ہی حصہ ہوتا اور اندرون سندھ بمبئئ کا حصہ ہوتا۔ویسے بھی کراچی کی بندرگاہ گذشتہ آٹھ ہزار سالوں سے ہڑپا سپتا سندھو کے زمانوں سے بلاشرکت غیرے پنجاب ہی بندرگاہ ہی کی بندرگاہ رہی ہےاور پنجاب ہی کے زیر استعمال میں رہی ہے۔قدیم پنجابی سلطنت سپتا سندھو /پنجاب ہڑپا اور ٹیکسلا کی ساری درآمدات و برآمدات عالمی تجارت میسوپٹیمیا اور دیگرقدیم دیشوں سے سندھو دریا سے جڑے سمندر/ کراچی کے ذریعہ ہی ہوتی تھی جوایسٹ انڈیا کمپنی نے کراچی کی بندرگاہ بننے تک انڈس دریا میں چلنے والے بحری جہازوں اور جہازی کشتیوں کے ذریعے کراچی کے سمندر تک مال پہنچانے اور لانے کیلئے جاری رکھی ۔پنجاب کی درآمد وبرآمدکیلئےہی کراچی کی بندرگاہ تعمیر کی گئی۔ہزاروں سالوں سے پنجاب کے پنج ست دریاؤں کا پانی ,پنجند کا پانی, پنجابی دریا سندھو /Indus کے ذریعے سمندر میں جاگرتاہے .سندھو دریا کےاندر بہنے والاسندھ گذرکر سمندر میں جاگرنےوالا پنجاب کےپنج ست دریاؤں کا پانی اور سمندر تک جانیوالی دریا کی بلاشرکت غیرے روزاول سے پنجاب کو سندھو دریا کا حق ملکیت دیتی ہے۔ پنجاب ہزاروں سالوں سے بیرونی دنیا تجارت کیلئے کراچی کی بندرگاہ یا سمندر اپنی بندرگاہ کے طور پر استعمال کرتا آ رہا ہے۔اور سپتا سندھو کی ساری بیرونی تجارت سمندر کےسندھو پنجاب سے جڑے ہونے کی وجہ سے ہوتی آرہی تھی۔ کیوں کہ اس وقت سندھ کا کوئی وجود نہیں تھا .سندھ صوبہ انگریزوں نے قائم کیا۔اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ سپتا سندھو اور ٹیکسلا کی آٹھ ہزار سال قدیم پنجابی سلطنوں کے زمانوں سے کراچی اور اس کا سمندر پنجاب کےزیر استعمال اور پنجاب کا حصہ رہا ہے اور پنجاب زمانہ قدیم آٹھ ہزار سال سے کراچی اور سمندر تک تھا اور ہے۔جب تک پنجاب کے پانچ دریاؤں کا پانی پنجند سے لے کر پنجاب کا سب سے بڑا پنجابی دریا سندھو المعروف دریائےپنجاب کراچی کے سمندر تک لے کر جاتا رہے گا اسوقت تک کراچی اس کی بندرگاہ اور سمندر بھی پنجاب کاحصہ رہے گا۔ اسی لئے امیتابھ بچن جو خود بھی پنجابی ہیں یا کوئی بھی اور پنجابی یا ساراپنجاب سارا نارتھ انڈیا کہہ سکتا ہے کہ کراچی پنجاب میں تھا۔اور سمندر کے سندھو دریا کے ذریعے پنجاب سےجڑے ہونے کی وجہ سے ہم بلا کسی تردر کے کہہ سکتے ہیں کہ کراچی پنجاب میں ہے تھا اور ہمیشہ رہے گا۔کیونکہ اسوقت پنجاب آدھے بھارت کے برابر تھا اور سندھ کو کوئی نہیں جانتا تھاتب سندھ کا کوئی وجود نہیں تھا۔سندھ کل کی بات ہے۔ساری دنیا پنجاب کو ہی ہند سے الگ ایک ملک کے طور پر اور کراچی پنجاب میں ہے کے طور پر ہی کراچی کو جانتی تھی۔

Chaudhry Nazeer Kahut

60,153 次观看 • 1 个月前