Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

گورنر پنجاب کا ردعمل یہی بتا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی اب جمہوریت کا ایک نیا دروازہ کھولنے کی تیاری کر رہی ہے ۔۔۔پی ٹی آئی کے ساتھ ممکنہ اتحاد کا اہم سگنل آگیا !

83,758 görüntüleme • 9 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

ڈیرہ غازی خان ضمنی الیکشن کمپین ۔۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا "عمران خان اور پی ٹی آئی فرینڈلی" بیانیہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی عوامی حثیت — ڈیرہ غازی خان کے ضمنی انتخاب میں سامنے آنے والے چند تلخ حقائق ۔۔ ڈیرہ غازی خان کی ضمنی الیکشن کمپین نے ایک بار پھر دکھا دیا ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی زمینی حقیقت کیا ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ پی ٹی آئی تو ہاری ہی نہیں، مگر پھر بھی کچھ لوگ غصے میں ہیں۔ ن لیگی وفاقی وزیر خود پی ٹی آئی والوں کو “ہمارے بھائی” کہہ کر منانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ ووٹ مل سکیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی ووٹرز کو یہ کہہ کر قائل کر رہی ہے کہ اگر ن لیگ سے بدلہ لینا ہے تو پی ٹی آئی والے ہمیں ووٹ دیں۔ یعنی دونوں جماعتیں اپنی مہم میں ایک دوسرے کے خلاف کوئی بیانیہ نہیں دے رہیں، بلکہ الٹا پی ٹی آئی اور عمران خان کا نام استعمال کر رہی ہیں۔ صورتحال واضح ہے: دونوں پارٹیوں کے پاس کوئی قابلِ ذکر نعرہ، کوئی کارکردگی، اور نہ ہی اپنے لیڈروں کا کوئی وزن بچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے امیدواروں کی پوری کمپین میں صرف عمران خان اور پی ٹی آئی کا بیانیہ نظر آتا ہے — نہ اپنا منشور، نہ اپنے رہنما۔ اصل حقیقت یہی ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی اس حد تک کمزور ہو چکی ہیں کہ اگر یہ اپنی پارٹی کے نام یا اپنے لیڈروں کی بنیاد پر ووٹ مانگیں، تو عوام انہیں مسترد کر دے۔ اسی کمزوری کی وجہ سے آج یہ دونوں جماعتیں پی ٹی آئی کے ووٹر کو خوش کرنے اور عمران خان سے بالواسطہ وفاداری دکھانے پر مجبور ہیں۔ یہی ان دونوں پارٹیوں کی زمینی حیثیت اور اصل سیاسی حقیقت ہے۔

Ahsan Wahid

68,343 görüntüleme • 9 ay önce

ندیم افضل چن کا نیا فارمولا پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی ملکر وفاق میں حکومت بنائیں اس طریقہ سے پاکستان آگے بڑھے گا ۔ پرفارمینس سندھ میں 25 سے 30 سالوں سے مسلسل حکومت یے کھنڈارات کا منظر پیش کررہا ہے کراچی کی سڑکیں تک نہیں بنا سکے جب حکومت چھوڑی تو اسٹیٹ بینک کے اپنے ریزرو 6 ارب ڈالر کے آس پاس تھے 20 سے 22 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ تھی مسلم لیگ ن کی 123 نشستیں ہیں اور پیپلز پارٹی کی 74 ندیم افضل چن کہتا ہے وزیراعظم اقلیتی پارٹی کا بنایا جائے اور پی ٹی آئی کے اتحاد کے ساتھ جب پاکستان ڈیفالٹ کررہا تھا اسوقت کدھر تھے حکومت سنبھالتے پی ٹی آئی کے ساتھ ملکر اب ملک اسٹیبل ہوچکا ہے تو انھیں لوٹنے کے لیے تھما دیں ۔ یہ حکومت فارمولا کے تحت بنی یے جس میں صدر پاکستان پیپلز پارٹی کو دیا گیا پیپلز پارٹی کو بلوچستان حکومت دی گئی خیبرپختونخوا ، پنجاب میں گورنر پیپلز پارٹی چیئرمین سینیٹ پیپلز پارٹی کا یے تبدیلی کا شوق ہے تو پہلے یہ سب عہدے واپس کرو پھر اسکے بعد دیکھیں گے کون حکومت بناتا اور کون نہیں ۔۔۔!!

Raja Asim

31,020 görüntüleme • 1 yıl önce