Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

گھر بیٹھے ای پاسپورٹ کیسے بنوایا جاسکے گا؟ پاکستانیوں کو بڑی سہولت مل گئی #EPassport #PakistanPassport #OnlinePassport #PassportFromHome #EPassportFacility #EPassportApplication

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

شاہد اسلم کا یہ ویڈیو کلپ ہر پاکستانی کو نہ صرف دیکھنا چاہیے بلکہ اسے ہر پاکستانی تک امانت سمجھ کر پہنچائیں ۔ شاہد اسلم لاہور میں کور کمانڈر والے حملے میں عینی شاہد تھے ۔۔ اور انکے بقول پانچ سے چھوٹی سیکورٹی لئیر تھی کوی اک بھی پولیس والا اور فوجی موجود نہی تھا ۔۔ جو جلوس کو روکتا ۔ جو شخص کور کمانڈر گھر کے دروازے توڑ رہا تھا وہ میجر کا داماد ہے ۔ اک سال ہونے کو ہے مگر ابھی تک کسی اک بندے کے خلاف ثبوت نہی پیش کیا گیا اگر یہ اتنا بڑا واقعہ تھا تو اس پر انکوائری کیوں نہی کی جارہی ۔۔ لاہور کور کمانڈر کہاں ہے ۔ سیکورٹی کہاں تھی ۔۔ انٹیلنس جنس کہاں تھی ۔۔ پولیس کہاں تھی ۔۔ اگر یہ اتنابڑا واقعہ تھا جسکو دیکھ کر دل خون کے انسو روتا ہے تو اک پریس کانفرنس پر دوسروں کو معافی کیسے مل گی ۔ اگ کیسے لگی کمیکل کہاں سے ایا ہے ۔ لاہور میں اک ہزار سی سی ٹی کمیرے ہیں انکی فوٹیج کہاں ہے ۔۔ کور کمانڈر کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کہاں ہے ۔ اگر یہ اتنا بڑاواقعہ ہے تو پھر عوام کور کمانڈر کے گھر تک پہنچ گی اتنے بڑی سیکورٹی فیل ہونے پر کسی اک اہلکار کو بھی سزا کے طور پر معطل نہی کیا گیا ۔۔ یہ وہ سوالات ہیں جو شاہد اسلم صاحب اٹھا رہے ہیں باقی ویڈیو دیکھیں جس سے اپکو پتہ چل جاے گا کتنا جھوٹ اور کتنا سچ بولا گیا ہے #9mayfalseflagopration #9May_Falseflag #نو_مئی_یوم_فسطائیت

Saleem Speaks

129,955 views • 2 years ago

وزیراعظم محمد شہبازشریف نےملک کے غریب و متوسط طبقے کو اپنی چھت کے حصول کے لئے ’’ وزیراعظم اپنا گھر سکیم ‘‘کا باقاعدہ اجراء کر دیا. اس ضمن میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ عام آدمی کو چھت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے ،سکیم کے تحت ایک کروڑ روپے تک کا قرض آسان شرائط پر دستیاب ہو گا ، پہلے سال 50ہزار گھروں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ،آئندہ چار برسوں میں ہدف 5 لاکھ گھروں کا ہو گا ، 10 مرلے تک گھر تعمیر کئے جاسکیں گے اور اس کے لئے فنانسنگ کا حجم 3.2کھر ب روپے ہو گا، قرضے کی واپسی کی مدت 20سال ہو گی پہلے 10سال مارک اپ 5فیصد اور اگلے 10سال مارک اپ مارکیٹ کی شرح کے مطابق ہو گا. گھروں کی تعمیر کیلئے ایک کروڑ روپےتک قرضہ لیا جاسکے گا.. وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ سکیم کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی ہو گا، تعمیراتی شعبے سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے حکومت برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ،سکیم پر عملدرآمد کا ہر مہینے خود جائزہ لوں گا۔ تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار ، وفاقی وزرا ، ارکین پارلیمنٹ اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ۔ وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کے تحت قرض حاصل کرنے والے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دی ۔ انہوں نے کہاکہ’’ وزیراعظم اپنا گھر سکیم ‘‘کے اجرا کی تقریب میں شرکت میرےلئے باعث مسرت ہے ، عوام کو اپنا گھر فراہم کرنا کسی بھی حکومت اور ریاست کا بنیادی اور مقدس فریضہ ہے ، پاکستان کی 24کروڑ آبادی میں سے بڑی تعداد اپنی چھت سے محروم ہے ، اس حوالے سے آج کی یہ تقریب انتہائی یادگار ہے ، اس سکیم کے اجراءکے لئے بہت زیادہ محنت کی گئی ہے اور بہت سے مسائل درپیش تھے لیکن انہیں نجی شعبے کی مشاورت اور دیگر متعلقہ افراد اور حکام کے تعاون سے حل کیا گیا ہے ۔وزیراعظم نے کہاکہ ایک نوجوان ڈرائیور غلام حسین کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا گھر بنانے کا موقع فراہم کیا ہے اور اسے قرض ملا ہے ، چیک حاصل کرنے والوں میں آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے لوگ بھی شامل ہیں ، اس سکیم کا اطلاق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی ہو گا۔وزیراعظم نے کہا کہ’’ گھر ہو تو اپنا ‘‘اس سکیم کا تسلسل ہے جس کا میں نے پنجاب سے آغاز کیا تھا اور اس کا نام آشیانہ رکھا گیا تھا اوراس کا موثر آغاز کیا گیا تھا اور مختلف مقامات پر خود اس سکیم کا سنگ بنیاد رکھا اور چابیاں لوگوں کے حوالے کیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ وہ ہر مہینے اس سکیم کا جائزہ لیں گے تاکہ اگرکسی قسم کی کوئی رکاوٹ ہو تو اسے دور کیا جائے اور ادائیگیاں بروقت ہوں، وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے تحت قرض کے حصول کا طریقہ کار آسان بنایا گیا ہے. انہوں نے مزید کیا کہ زیادہ قرضہ فراہم کرنے والے بینکوں کو 14اگست کوقومی ایوارڈ دیا جائے گا اور جو بینک اس میں کوتاہی کا مظاہرہ کریں گے ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہو گی ۔وزیرعظم نے کہاکہ آئندہ بجٹ میں بھی مختلف سکیموں کو شامل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے، اس سے بہت سے شعبے جڑے ہوتے ہیں ، اس سے ہماری صنعت و حرفت کو ترقی ملتی ہے اور لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومت برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ، چند ماہ قبل ملک کے ممتاز برآمد کنندگان میں ایوارڈز تقسیم کئے گئے اور انہیں ملک کے عمومی سفیر بھی بنایا جبکہ ان کے لئے 2 سال کے بلیو (سرکاری) پاسپورٹ کا بھی اجرا ءکیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم نے اپنا گھر سکیم کے تحت اہل افراد میں مختلف بینکوں کے چیک بھی تقسیم کئے.

Prime Minister's Office

31,363 views • 5 months ago

اقرار الحسن کی یہ ویڈیو ہر انسان کے لیے مکافاتِ عمل کا ایک سبق ہے اسی ویڈیو میں جب اقرار الحسن نے بشریٰ بی بی سے منسوب جھوٹی باتوں کو بنیاد بنا کر عمران خان پر گھٹیا اور غلیظ الزامات لگائے تو ایثار رانا نے اسے کہا تھا خدا کا خوف کریں، آپ کی اپنی بھی تین بیویاں ہیں، کسی کے گھر کی خاتون کے لیے ایسی زبان استعمال نہیں کرتے جواب میں اقرار الحسن نے بڑی ڈھٹائی سے کہا، عمران خان پبلک فگر ہے، ایک پارٹی کا سربراہ ہے، میں ایسا کروں گا اب وقت کی ستم ظریفی اور مکافاتِ عمل دیکھیں عمران خان جیل میں بیٹھے ہیں، اس نے اس شخص کی اس گھٹیا گفتگو کا جواب تک نہیں دیا، مگر صرف تین ماہ بعد وقت نے وہی ترازو اقرار الحسن کے اپنے دروازے پر رکھ دیا آج لوگ اس کی اپنی بیوی کی حرکات پر جملے کس رہے ہیں اور یہی شخص چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کتنے بے شرم لوگ ہیں، میری بیوی پر جملے کستے ہیں، انہیں شرم آنی چاہیے کل بشریٰ بی بی تھیں تو اسے پبلک فگر کا گھر یاد تھا، آج اپنی بیوی ہے تو عزت، شرم اور اخلاقیات یاد آ گئے کل دوسرے کے گھر کی عورت پر بات کرنا جائز تھا، آج بات اپنے گھر تک پہنچی تو دنیا بے شرم ہو گئی جرنیلوں کو اقرارالحسن کے بارے میں بڑی غلط فہمی تھی کہ اس کے ایکس پر چھے ملین سے زیادہ فالورز ہیں جہاں جاتا ہے لوگوں میں پذیرائی ملتی ہے اس عمران خان کے خلاف کھڑا کرتے ہیں اور لوگوں میں اس شخص کے زریعے عمران خان پر بہتان بازی کرواتے ہیں لیکن آج وہی اقرار الحسن نفرت کی علامت بن چکا ہے بلکہ پاکستان کی اکثریت اب اسے ایک نیم پاگل شخص سمجھتی ہے اس کی لوگوں میں غیر مقبولیت کی وجہ سے کوئی چینل اس کو نوکری پر رکھنے کو تیار نہیں

Waqar khan

114,830 views • 10 days ago

بلیوں کو کھلونا سمجھ کر گھر نہ لائے۔ (میں نے 4 اگست کو لاہور میں لارنس روڈ پر ایک بلا سڑک سے ریسکیو کیا تھا۔ تقریباً 26 دن تک اس کی کئی پوسٹیں لگانے کے بعد بالآخر ایک مہربان خاتون نے اسے دو روز قبل اتوار کو ایڈاپٹ کر لیا۔ اگلے روز جب میں دفتر سے گھر پہنچا تو فلیٹس کی بیسمنٹ میں ایک بچے کو ایک چھوٹی سی پرشین کیٹ کے ساتھ کھیلتے دیکھا۔ میں نے پوچھا، ’’یہ کہاں سے لائے ہو؟‘‘ اس نے بتایا کہ اوپر کسی نے اسے دو دن کے لیے دی ہے۔ میں نے کہا کہ تمہارے پاس نیچے اسے رکھنے کی مناسب جگہ بھی نہیں ہے، نہ تمہیں معلوم ہے کہ اسے کیا کھلانا ہے اور نہ اس کی دیکھ بھال کا کوئی تجربہ ہے۔ بچے کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ نیچے چوکیدار کا تقریباً چھ سالہ بچہ تھا۔ میں نے فوراً اس سے بلی لی اور اسے اوپر گھر لے آیا۔ وہ لٹر باکس میں گئی اور اسے لوز موشن ہوئے۔ میں نے اس کے مالک کو فون کیا تو اس نے کہا، ’’میں کل آ جاؤں گا۔‘‘ میں نے سوچا کہ اس دوران اس حالت میں یہ بلی کیسے رہ سکتی تھی، خاص طور پر جب وہ ایک پرشین کیٹ ہے۔ اس کا رویہ مجھے انتہائی غیر ذمہ دار لگا۔ خیر، میں اسے فوراً ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ وہ بہت زیادہ ڈی ہائیڈریٹڈ تھی۔ اسے تین چار انجیکشن لگے۔ اگلے دن بھی اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا کیونکہ اسے مسلسل لوز موشن ہو رہے تھے۔ آج تیسرے دن اچانک وہ بالکل نڈھال ہو گئی، اور اب اسے صبح اور شام ڈرِپ لگ رہی ہے۔ میں نے مالک کو دوبارہ فون کیا اور اسے اس کی حالت کا بتایا تو اس نے کہا میں یہ بلی نہیں رکھ سکتا اپ نے رکھنی ہے تو رکھ لیں۔ کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ بلیوں کو کھلونا سمجھ کر لے آتے ہیں اور پھر یا تو سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں یا بغیر یہ دیکھے کسی کے حوالے کر دیتے ہیں کہ وہ شخص اس معصوم جانور کو سنبھال بھی سکتا ہے یا نہیں۔ میرے نزدیک یہ انتہائی ظالمانہ اور سفاک عمل ہے۔ میں نے ایک بلے کو تقریباً ایک ماہ تک ریسکیو کیا، اس کا علاج کروایا اور پھر اسے ایک اچھے گھر میں ایڈاپٹ کروایا۔ اگلے ہی دن یہ ننھی سی بلی میرے سامنے آ گئی۔ اب سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کروں۔ بس دعا کریں کہ یہ معصوم بچی صحت مند ہو جائے۔ اس کی عمر تقریباً چار پانچ ماہ ہے، بہت چھوٹی سی اور معصوم ہے۔ ان شاء اللہ جب یہ بالکل صحت مند ہو جائے گی تو میں اس کے لیے بھی ایک اچھا اور ذمہ دار گھر تلاش کروں گا جہاں اسے محبت اور اچھی دیکھ بھال مل سکے۔ اللہ اس ننھی جان کو صحت دے۔ آمین۔ ❤️) Copied from Facebook

Mehwish Qamas Khan

24,621 views • 25 days ago

بریکنگ نیوز 🚨عادل راجہ کا شاندار تجزیہ، علی آمین گنڈا کمینے اور انکے بھائی کی بڑی گیم ایکسپوز کردی، کھل کر سب بتادیا اور ساتھ ہی سہیل آفریدی کو اہم ترین باتیں بھی سمجھا دیں 🔥🔥 سہیل آفریدی کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے علی امین گنڈاپور بننا ہے؟ میں آج یہ acknowledge کرتا ہوں، علی امین خان تمہیں پتہ ہونا چاہیے کہ میں نے تمہاری حمایت میں خان صاحب سے بھی بات کی تھی، تمہارے بارے میں جب background چیک مانگا گیا تھا کہ تمہاری ملاقاتیں ہوئی تھیں، فیصل نصیر جیل میں تم سے ملنے آیا تھا، فیصل واوڈا کو ساتھ لے کے آیا تھا اور تم نے خان صاحب کو جو ہے وہ دھوکہ دینے سے انکار کر دیا تھا، تو وہ بات مجھے بھی پتہ تھی اور خان صاحب کو بھی بتائی گئی تھی۔ اس وجہ سے تم سالے کو جو ہے وہ وزیر اعلیٰ لگایا تھا، اس لیے نہیں لگایا تھا کہ تم اربوں روپے کما لو اور تم principle کے اوپر جو ہے سودا کر لو اور تم دو ہزار چوبیس میں جس طرح بھاگے تھے، نو اضلاع cross کر کے تم بھاگ گئے اور اس کے بعد تمہارا بھائی آ کے یہاں پہ ڈرامے کرتا ہے اور کہتا ہے ہماری بڑی قربانیاں تو تم نے قربانیاں cash کی ہیں نا؟ تم نے قربانیاں دیں، جی ایم آئی سے تمہارے بھائی کا جو ہم جانتے نہیں ہیں کیپٹن نعمان امین کا کیا باتیں کرتے ہو تم لوگ؟ سالوں اگر واقعی تم نے قربانیاں دی تھیں تو اس کو cash نہ لیا ہوتا۔ تو سہیل آفریدی کے پاس ابھی choice ہے کہ وہ کیا علی امین گنڈاپور sweet boy two بنے گا یا وہ کھڑا ہو جائے گا۔ دیکھئے لوگ کہتے ہیں کہ ایک دن نہیں ایک دن آپ کا آگے جاتا ہے، اس کو روکا جاتا ہے تو ایک بہت بڑا issue بن جاتا ہے، international میڈیا اس کو pick ضرور کرے گا اگر یہ sustained احتجاج ہوگا، دھرنا ہوگا۔ اگر یہ convert ہو جائے گا آگے دھرنے کی طرف، پورا nationwide protest کے اندر اگر یہ convert ہو جاتا ہے تو international میڈیا اس کو اٹھا لیتا ہے اور تمام game اس وقت چل رہی ہے کہ امریکہ کا میڈیا اس معاملے کو نہ اٹھائے۔ اور دوسری طرف ظاہری بات ہے یمن والا معاملہ میں نے آپ کو بتا دیا کہ total game ساری وہاں پہ یہ ہے کہ عمران خان ان کو نظر نہ آ جائے جو missing peace ہے اس ساری game کے اندر، کہ عمران خان ایک ایسا peace ہے جو کہ تمام parties کو سامنے لا کے بٹھا سکتا ہے، محمد بن سلمان اس کو اپنا بھائی کہتا ہے، اس کے علاوہ ایران والے جو ہیں وہ علی خامنہ ای جو ہیں وہ ان کے ساتھ بہت زیادہ close تھے اور خان صاحب کے ساتھ بہت زیادہ close نہ تھی لیکن عزت کا رشتہ تھا دونوں کا آپس میں، عزت کا تعلق تھا اور ان کا بیٹا جو ہے ظاہری بات ہے وہ عمران خان سے ملے گا، بات کرے گا، اس کو عاصم منیر کو تو تنخواہ دیتے ہیں، عباس عراقچی سے ملا دیتے ہیں زیادہ سے زیادہ وہ ان کے اپنے صدر سے ملا دیتے ہیں، اصل power تو جو ہے وہ ان کے بیٹے کے پاس ہے تو وہ ملے گا عمران خان سے ملے گا اور کسی سے نہیں ملے گا۔ یہ بات اگر کہیں پہ ٹرمپ کے کان میں سمجھ آگئی، کہیں پڑ گئی تو آپ سوچیں کہ پھر اس کو یہ نہیں ہے کہ پاکستان میرے orders دیتا ہے نہیں دیتا، ان کو پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، پاکستان کو انہوں نے اس قابل کر دیا کہ پاکستان اپنی ٹانگوں کے اوپر کھڑے ہونے میں اس کو ages لگ سکتی ہیں اگر democracy آ جائے تو ان کے پاس تو ان سے نہیں چلے گا کام، یہ چھوٹے صوبے بنا کے صرف جو معاملات چلانا چاہتے ہیں، ان چھوٹے چھوٹے صوبوں کے بعد بھی حالات صرف مزید خراب ہوں گے، ethnic violence مزید بڑھے گا پاکستان میں اور دہشت گردی کے مزید واقعات ہوں گے، پاکستان کی economy مزید کمزور ہو گی۔ لوگ کہتے ہیں پاکستان میں اس فوج کا قبضہ ہے تبدیلی آ ہی نہیں سکتی، آ سکتی ہے انقلاب سے آ سکتی ہے، نظریاتی انقلاب پاکستان میں آ چکا ہے، زمینی انقلاب آتا تب ہی ہے جب لوگ بھوکے ہوتے ہیں اور یہ جس طرف جا رہے ہیں لوگوں کو بھوکا ہی کریں گے اور کوئی ان کے پاس جو ہے دوسرا option نہیں ہے، اسی لیے علیمہ آپا کی گرفتاری کی گئی ہے اور اب آپ سمجھیے کہ ستائیس ستمبر کتنا important ہے اور یہ کیوں ڈرے ہوئے بیٹھے ہیں ستائیس ستمبر سے، please try to understand this.

‏زہـــرہ لیــاقت

46,430 views • 12 days ago

🔔🔔 اسلام آباد میں 32 روز سے بلوچ لاپتہ افراد کے اہلخانہ کے دھرنہ میں چار سالہ شاری سب کی توجہ کا مرکز ہے۔۔ شاری خوش ہے۔۔ اسلام آباد میں پہلی بار پارک گئی اور جھولوں پر کھیل رہی ہے۔۔ یہ پارک پریس کلب کے سامنے سڑک پار ہے۔۔ معلوم نہیں بلوچستان کے دور دراز شہروں اور قصبوں میں ایسے جھولے ہوں گے یا نہیں۔۔ پارک شاری کے گھر کے پاس ہوگا یا نہیں۔۔ ہم اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے باسی تو اب اپنے بچوں کو مہنگے الیکٹرک جھولوں اور گیمز والے “تھیم پارکس، جواے لینڈ اور پلے ایریاز” میں لے کر جاتے ہیں لیکن بلوچستان سے اپنے ماموں کی تلاش کے لیے آئی چار سالہ شاری کے لیے لوہے کے یہ جھولے بھی ایک بہت بڑی مسرت کا باعث ہیں۔ شاری کو ایک فیشن ایبل عینک اور میوزک والی گھڑی بھی مل گئی ہے تو شاری کافی مصروف بھی ہے۔ شاید شاری کے لیے احمد شمیم صاحب نے مشہور نظم لکھی اور نیرہ نور صاحبہ نے گا کر امر کردی: ہمیں ماتھے پہ بوسا دو کہ ہم کو تتلیوں کے‘ جگنوؤں کے دیس جانا ہے ہمیں رنگوں کے جگنو‘ روشنی کی تتلیاں آواز دیتی ہیں نئے دن کی مسافت رنگ میں ڈوبی ہوا کے ساتھ کھڑکی سے بلاتی ہے ہمیں ماتھے پہ بوسا دو

Asad Ali Toor

27,367 views • 1 year ago

دبئی، ابو ظہبی، شارجہ کے بھائیو۔اگرہم سعودیہ کو ہٹا دیں، تو سب سے زیادہ آپ پیسہ پاکستان بھیجتے ہو۔20 لاکھ ہو آپ۔ ہر مہینے 400 ملین ڈالر گھر بھیجتے ہو۔ عمران خان نے آپ سے ڈائریکٹ مدد مانگی ہے۔ جنوری میں کم پیسے بھیجنے کا کہا ہے۔ کتنے کم؟ میں نمبر بتائوں گا۔ یہ بھی بتائوں گا کہ ہمیں پتہ کیسے چلے گا کہ جنوری کے آخر میں ہم کامیاب ہوئے یا ناکام؟ 🔴 جوسب سے زیادہ کماتے ہیں، ان سے شروع کرتے ہیں۔ رول ماڈل وہ بنیں جن کے پاس سب سے زیادہ استطاعت ہے۔ ہمارے ڈاکٹر، ہائی لیول آئی ٹی اسپیشلسٹ بھائی اور بہنیں۔ 🔴چیٹ جی پی ٹی مجھے بتاتا ہے کہ آپ تقریبا 5500 درہم بھیجتے ہیں گھر ہر مہینے۔ آپ نے ہر مہینے ۵۵۰ درہم کم بھیجنے ہیں گھر۔ تو اگر آپ 5500 بھیجتے ہیں، تو آپ نے 4950 درہم بھیجنے ہیں۔ کرلیں گے؟ لیڈر بنیں گے؟ 🔶 گھر والے باتیں سنائیں گے۔ عمران خان کو برا بھلا کہیں گے۔ آپ کو پاگل کہیں گے۔ سن لیں گے باتیں؟ برداشت کر لیں گے؟ 🔴آتے ہیں ہمارے انجیبئیر بھائیوں پے۔ چیٹ جی پی ٹی مجھے بتاتا ہے کہ آپ تقریبا 3500 درہم بھیجتے ہیں واپس گھر۔ آپ نے بھیجنے ہیں350 درہم کم۔ 10 فیصد کم۔ 🔶یعنی اگر 3500 بھیجتے ہیں تو 3150 بھیجنے ہیں۔ بھیجیں گے اتنے کم؟ جب گھر والے آپ کو پاگل کہیں گے تو آپ کو بھی اپنا آپ پاگل پاگل محسوس ہوگا۔ اس ٹینشن میں، جب خود ہی اپنے اوپر شک ہوجائے، اپنا ایمان مضبوط رکھ پائیں گے؟ 🔶اپنے اصولوں پے کھڑے ہوپائیں گے؟ اپنے فیصلے پے ٹکے رہیں گے؟ 🔴آتے ہیں ہمارے الیکٹریشن،پلمبر،کارپینٹر بھائیوں پے۔اور ایسے تمام جابز والے ہیں بھائیوں پے۔ چیٹ جی پی ٹی مجھے بتاتا ہے کہ آپ تقریبا 2300 درہم بھیجتے ہیں واپس گھر۔ آپ نے بھیجنے ہیں۲۳۰ درہم کم۔ 10 فیصد کم۔ 🔶اگر 2300 بھیجتے ہیں تو 2070 بھیجنے ہیں۔ کر لیں گے؟ ماں سر پیٹ کے کہے گی میری ہی غلطی تھی تمہارے ابو کی بات ٹائم پے نہیں مانی، یہ عمران خان کی بکواس بند نہیں کی۔ آج شرمندہ ہوں شرمندہ ہوں شرمندہ ہوں۔ 🔶تو کیا کہو گے؟ 🔴آجاتے ہیں ہمارے کنسٹرکشن ورکرز، پرسنل ڈرائورز، گھر میں کام کرنے والوں پے۔ ایسی تمام جابز والے بھائیو، بہنو۔ چیٹ جی پی ٹی کہتا ہے کہ آپ تقریبا825 درہم بھیجتے ہو مہینے کا گھر۔ آپ نے بھیجنے ہیں 80درہم کم۔ 🔶مطلب اگر825 بھیجتے ہو تو 740 بھیجنا ہے۔ یہ مشکل ترین کام، کر لو گے؟ 🔴یہ جو آخری کیٹگری کے ورکر ہیں، ان کے درد کا ہمیں خاص احساس کرنا چاہیے۔ یہ اپنی 80 فیصد کمائی پاکستان بھیج دیتے ہیں۔ خود اپنے لیے بس کرائے کے اور کھانے کے پیسے رکھتے ہیں۔ 🔶رہتے بھی دس دس بیس بیس لوگ ایک کمرے میں ہیں۔ ظاہر ہے اتنی مشکل میں بھی سارے پیسے گھر بھیجتے ہیں کیونکہ گھر میں ضرورت اتنی بڑی ہے۔ قرضے کی قسط دینی ہے، بہن کی فیس، بھائی کی دکان کا خرچ، امی کی دوائی۔ 🔶میں کس منہ سے آپ سے قربانی مانگ رہا ہوں، مجھے خود نہیں پتہ۔ مگر عمران خان کا مسیج ہے۔ پہنچانا ضروری سمجھتا ہوں۔ اگر ہوسکے، تو پیسے کم بھیجیں۔ اگر نہ ہوسکے، تو برا فیل نہ کریں۔ آپ کیسے زندگی گزار رہے ہیں، ہمیں احساس ہے۔ 🔶عمران خان آئے گا۔ آپ کو عزت، سیکیورٹی، ہیلتھ انشورنس، فخر دلائے گا۔ زیادہ دیر نہیں۔ 🔴🔴اس زبردست مہم کی کامیابی کا ہمیں کیسے پتہ چلے گا؟ ایسے پتہ چلے گا کہ اگر جنوری کے آخر میں۴۰۰ ملین ڈالر کے بجائے ۳۶۰ ملین ڈالر ہم نے واپس بھیجے ہوں۔ 🔴اور یہ نمبر ہم چیک کریں گے۔ جنوری کے اینڈ پہ۔ اگر آپ نے میں نے، ہم سب نے مل کے کامیاب ہونا ہے تو اس نمبر کو۴۰۰ ملین ڈالر سے ۳۶۰ ملین ڈالر پر لے کے آنا ہے۔ کیا آپ اور میں مل کے یہ کام کر سکتے ہیں؟ تاریخ میں پہلی دفعہ، کسی بھی کام میں، پاکستانی متحد ہوسکتے ہیں؟ 🔶یا نہیں؟ 🔶خان صاحب ہمارے لیے جیل میں ڈیڑھ سال سے سڑ رہے ہیں۔ بجلی بند، گرم کپڑے بند، دو دفعہ فوڈ پائزنگ۔ ہم سے ہماری فیملی کی ایک طرح سے قربانی مانگ رہے ہیں۔ اور یہ دل پے پتھر رکھ کے مانگی ہے۔ ورنہ عمران خان نیازی نے آج تک اپنی ذات کی خاطر کسی سے پھوٹی کوڑی نہیں مانگی۔ یہ بھی ذات کے لیے نہیں مانگ رہا۔ ہم اپنی اور اپنی فیملی کی آج قربانی دے رہے ہیں، تاکہ کل اور پرسوں ہمارے حالات بہتر ہوں۔ ہم یہ ذمہ داری، قربانی کی یہ ذمہ داری، اپنی اگلی نسل پے نہیں چھوڑ سکتے۔ اللّٰہ نے موقع دیا ہے، لیڈر دیا ہے۔ میچ جیت کے جائیں اب۔ 🔴بھروسہ رکھیں۔ آپ اور میں، مل کے یہ کریں گے۔ ہم کامیاب ہوں گے۔ہمیں عمران خان نے آگ میں پچھلے چند سالوں میں ٹرین کیا ہے۔ آگ میں ٹرین ہوئے لڑ مر جاتے ہیں۔ ہارتے نہیں۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین اللہ تیری عبادت کرتے ہیں تجھ سے ڈرتے ہیں کسی آئس پیار، چیف سے نہیں۔

Bilal Ansar Khan

137,411 views • 1 year ago

میں کل شادی والے گھر کیوں گیا۔ مجھے پتا چلا بچی کا باپ پریشان ہے ایک زمیندار کی وجہ سے اس نے دو سال پہلے اس کی بیٹی کا رشتہ مانگا تھا جس کو باپ نے انکار کر دیا۔ وجہ وہی 85 سال کا بزرگ 18 سال کی لڑکی سے ہمارے معاشرے میں شادی کرتا ہے تو صرف عیاشی کے لئے کرنا چاہتا ہے ۔ اس نے پیغام بھیجا تھا کے مین دیکھ لونگا شادی کیسے ہوتی ہے۔ پھر شادی ہو بھی گئی اور وہاں چڑیا نے پر نہین مارا۔ ۔۔ اس ملاح باپ کی بڑی بیٹی کے ساتھ ایسا ہی حادثہ ہو چکا ہے دو سال پہلے اس پر الگ سے پوسٹ لکھوں گا کے لوگ کیسے درندے ہین غریب انسان کو بیٹی کی بربادی کے بعد بھی کیسے کیسے لوٹنے کے رستے نکال لیتے ہین۔ مین اس شخص کی زندگی کے بہت سارے پہلو سامنے نہین لا رہا ورنہ معاشرہ اپنے گریبان مین جھانکنے کے قابل نہین رہ جائے گا۔ ۔۔ دوسری وجہ دلہن کے باپ کا کوئی قریبی رشتے دار موجود حیات نہین ہے ۔ تو ہر انسان ایسے موقع پر بار بار ہمت ہارتا ہے۔ میری موجودگی مین دو بار باپ نے منہ پر کپڑا رکھا اس کی آنکھیں نم ہو رہی تھیں بار بار۔ پھر مین وہاں 3 لوگ چھوڑ کر ایا۔ ایک واجد کو جس نے دیگوں کا تمام کام ٹینٹ اور تمام گھر سے باہر کے کام سنبھال رکھے تھے۔ جو وڈیو مین بول رہا ہے۔ دوسرا اختر ماچھی اس کے ذمہ کھانا تقسیم کرنا اور روٹی کم نہ ہو جائے وہ سب انتظام تھا۔ پھر وہاں مین بندا جعفر موجود رہا بچی کی رخصتی تک ۔ تاکہ وہاں وہ دھمکی دینے والا کوئی آئے تو میری غیر موجودگی مین وہ خود اس کو سیدھا کرے اس کے دو بندے سائیڈ پر بیٹھے تھے تیار اگر کوئی آئے تو طبعیت فریش کرنے واسطے موقع پر۔ مین بول کر ایا تھا تھانہ کچہری مین دیکھ لوں گا تم لوگوں نے 17 کلومیٹر دور چنیوٹ روڈ تک بارات کو واپس پہنچا کر آنا ہے چاے جو ہو جائے۔ لوگ برے لوگوں سے برا سلوک رکھتے ہین لیکن مین ان سے پیار اس لئے کرتا ہون کے۔ جہاں یہ کسی کی مشکل مین مدد کرتے ہین اور کسی مئن اتنی ہمت نہین ہوتی۔ ۔۔ تندور دیگیں اور تنبو کناتین صبح 6 بجے بندے چنگچئ 4 تھین جن پر لوڈ کر کے نکلے تھے ۔ رستے کی وجہ سے 9 بجے کے قریب 17 کلومیٹر کا رستہ طے ہوا جگہ جگہ چنگچی پھنسے ۔ ہر جگہ اردگرد موجود علاقے کے لوگ کام آئے۔ ۔۔ ایک چیز کھانے مئن بڑھا دی۔ زردے کی دیگ۔ اس کی وجہ تھی دلہن کےباپ نے مجھ سے صبح سویرے بس اتنا بولا مہر علیانہ میرے جوڑے ہاتھ دیکھ لے کچھ میٹھا بھی کر دو میرا تیرے سوا کوئی نہیں ہے۔ مین مجبور ہر گیا تھا اپنے سارے اصول اس ایک شادی کے لئے توڑ دئیے۔ ۔۔ باپ نے ہمارا دیا سامان اپنے پاس واحد پڑی چیز جو سیلاب مین بچ گئی تھی 6 سال پرانی پیٹی ۔ مین سامان رکھ کر دے دیا۔ ۔۔ کیسا باپ ہے۔ اب بیٹی کے رخصت ہو جانے کے بعد اس بندے کی جھونپڑی میں بس دو چارپائیان چند کھانے پکانے کے برتن 4 چائے والے کپ ایک نلکا پانی والا بچے ہین۔ ۔۔ بارات آنے سے کچھ دیر پہلے شدید اندھیری شروع ہو گئی۔ بارات کے لوگ ویگن مین سے اتر کر ساتھ دھکے لگاتے رہے پھر بھی گھر سے ادھا کلومیٹر دور ویگن والا ڈرائیور جواب دے گیا اس سے آگے گاڑی لے جانا ممکن نہین۔ ۔۔ پھر آندھی اور طوفان شروع ہوا ۔ کھانا کھانے کو جگہ نہ۔ بچئ نکاح ہوتے ہی لڑکی کو ویگن مین بیٹھا دیا گیا۔ دلہا دلہن نے کھانا وہاں بیٹھ کر کھایا۔ تنبو کناتین گر گئیں تیز بارش اور آندھی سے۔ باقی ماندہ لوگ جو جھونپڑی مین بیٹھے تھے خواتین بھی انہوں نے برستی بارش میں وہاں اوپر شاپر اور ٹینٹ اوپر ڈال کر جیسے تیسے بارش والا وقت نکالا۔ کھانا وہیں کھایا۔ ۔۔ 8 بجے بارات رخصت ہوئی ۔ کل اندھی اس قدر تیز تھی کے ہم خود کئی بار واپسی پر موٹر سائیکل سے گرتے گرتے بچے ۔ واجد کا رکشہ کی سیٹیں دور جا گرین ۔ شیشے ٹوٹ گئے ۔ اسکا نقصان آج پورا ہو جائے گا۔ ۔۔ اس شادی نے باقی 153 شادیاں جو آج تک مین کروا چکا ہون سے بلکل الگ احساسات دئیے۔ گھر پہنچ کر دو نفل ادا کئے جب رخصتی ہو گئی مجھے فون ا گیا۔ نصیب رب لکھتا ہے ہم صرف محنت کر سکتے ہین ۔ نتائج کسی انسان کے ہاتھوں میں نہین ہین۔ ۔۔ رخصتی کے وقت سے پہلے دلہن کے پانچ ہزار اس کو پہنچا دئیے اور دلہا کے واجد ہمارے بعد جب بارات آئی تک دے اس نے دلہا کے ہاتھ مین۔ لڑکا بھی ایک مستری کے ساتھ مزدوری کرتا ہے۔ کتنا کماتا ہو گا بس زندگی گزرنی ہے اس بچاروں نے۔ یہ دس ہزار ان کو کم سے کم 15 دن گھر پر رہنے کی ہمت دین گے ساتھ ۔ مزدوری پر جانے تک سہارا رہے گا ان کا۔ روٹی پانی کا۔ ۔۔ کھانا بہت اچھا پکا ہوا تھا۔ اور میٹھا مین کھاتا نہیں مجھے شروع سے پسند نہین آج تک مین نے میٹھا دودھ تک نہین پیا تو وہ دوسرے ساتھیوں۔ مبشر اور خان نے بتایا کے اچھا بنا ہوا ہے۔ ۔۔ دعا مین یاد رکھئیے گا جو ہمت تھی جو اوقات تھی وہ کیا ہے اس بندے کے واسطے #SaqibAllyana

Saqib Allyana

10,548 views • 2 months ago

علی محمد خان سے سوال تھا کیا 2024 کے برعکس پی ٹی آئی نے اسپیس کھو دی تب عمران خان رہائی آج علاج ملاقاتیں مطالبات کے ٹاپ پر ہیں جواب میں انہون نے 25 نومبر 2024 اڈیالہ جیل اس وقت کھلنے کی کہانی دلچسپ سنا دی جب پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کے پی سے شروع ہو چکا تھا " میں اس سے اختلاف نہیں کروں گا جب وقت پے فیصلہ نا ہو یا آپ چیزوں کو طریقے سے ڈیل نا کریں (تو یہی ہوتا ہے) 25 نومبر کو اڈیالہ کے باہر کھڑا تھا مجھے گوہر صاحب نے کہا آپ آئیے اور یہ وہ وقت تھا جب مارچ شروع ہو چکا تھا میں بڑی مشکل سے گیا تھا رستے آپ کو پتہ ہے بند تھے میں جب اندر پہنچا تو پنجاب پولیس میرے پیچھے اندر آگئی انہوں نے پھر چلو احترام کیا کہ یہ آیا ہے وہاں بتایا گیا کہ بیرسٹر گوہر ، بیرسٹر سیف اور علی جو ہیں انہوں نے اندر (اڈیالہ جیل) آنا ہے وہ دونوں (بیرسٹر سیف اور گوہر) اندر چلے گئے مجھے اگر اس وقت پتہ چل جاتا جو بعد میں گوہر صاحب نے بتایا کہ خان صاحب کی طرف سے اتنی اجازت مل گئی تھی کہ آپ سنگجانی میں بیٹھ جائیں اور اس کے بعد مزاکرات آگے چلتے میں نے ادھر ہی پریس کانفرنس کر دینی تھی یہ لاشیں نہیں گرنی تھیں اگر ہم سنگجانی بیٹھے جاتے (اسلام آباد)اندر نا آتے تو ان کو موقع ہی نا ملتا کہ یہ گولی چلاتے اب میں کبھی نہیں چاؤں گا 24 نومبر دوبارہ ہو"

Saqib Bashir

30,247 views • 18 hours ago

وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نے ''مریم کی دستک ایپ'' لانچ کر دی وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کی مقامی ہوٹل میں منعقدہ خصوصی تقریب میں شرکت وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نے وزراء کے ہمراہ بٹن دبا کر دستک ایپ کا افتتاح کیا۔ نسٹ کے سٹال پر روبوٹ نے وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف کو خوش آمدید کہا، دستک ایپ سے متعلق بریفنگ دی وزیرِاعلیٰ مریم نواز کا آئی ٹی یو سٹال پر میٹا ورس ٹیکنالوجی سے ارفع کریم ٹاور میں دستک آفس کا ورچوئل معائنہ وزیرِاعلیٰ مریم نواز نے دستک کے نمائندوں کو سٹیج پر بلا لیا، گروپ فوٹو بھی بنوایا مریم کی دستک ایپ سے دس سروسز فراہم کی جائیں گی۔ ڈومیسائل، ای سٹیمپنگ، برتھ سرٹیفکیٹ، ڈیتھ سرٹیفکیٹ، میرج سرٹیفکیٹ، طلاق سرٹیفکیٹ، موٹر وہیکل ٹرانسفر، کی خدمات میسر ہونگی۔ مریم کی دستک ایپ سے پراپرٹی ٹیکس، ٹوکن ٹیکس اور نئی گاڑی کی رجسٹریشن شہر کی خدمات شہریوں کو دہلیز پر مہیا کی جائیں گی۔ بزرگ شہری، خواتین، بیمار اور معذور افراد سمیت تمام شہری سرکاری دفتر کی بجائے گھر بیٹھے 10 سروسز حاصل کریں گے۔ بریفنگ سروسز کے حصول کے لیے شہریوں کو مخصوص نمبر، موبائل ایپ اور عوامی پورٹل فراہم کیا جا رہا ہے۔ بریفنگ مریم کی دستک ایپ کی لانچنگ تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک اور قومی ترانے سے کیا گیا۔ بریفنگ شہری ٹریکنگ ID سے اپنی درخواستوں کو ٹریک بھی کرسکتے ہیں۔ بریفنگ شہری دستک نمائندوں کی اپوائنٹمنٹ ویب پورٹل، موبائل ایپ یا کال سینٹر 1202 کے زریعے سروسز آڈر کر سکتے ہیں۔ بریفنگ دستک ایپ سے شہری کو مطلوبہ سروس دینے کے لیے حکومت سے منظور شدہ دستک نمائندہ بھیجا جائے گا۔ بریفنگ دستک نمائندہ درخواست فارم سے لیکر دستاویزات دہلیز پر پہنچانا یقینی بنانے گا۔ بریفنگ سینیٹر پرویز رشید، سینیئر صوبائی وزیر مریم اورنگ زیب، صوبائی وزراء عظمیٰ زاہد بخاری، مجتبیٰ شجاع الرحمٰن، چوہدری شافع حسین، صہیب احمد بھرت، رانا سکندر حیات، بلال اکبر، معاونِ خصوصی راشد نصر اللّٰہ، ذیشان ملک، ارکانِ اسمبلی، چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان، آئی جی، سیکرٹریز اور دیگر کی شرکت

PMLN Digital

14,927 views • 2 years ago

مولانا فضل الرحمن کی خوفناک باتیں۔۔۔ ہمارا صوبہ ، حضرت، آپ لوگ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ شاید آپ حضرات کو یہاں پر ادراک نہ ہو یا لاہور میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اتنا ادراک نہ ہو کہ دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر اس وقت کوئی رِٹ نہیں ہے۔ لکی مروت ہو، بنوں ہو، ٹانک ہو، وہاں پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ وہاں پولیس نے کمیٹیاں بنا دی ہیں۔ پولیس نے ناکہ بندیاں کی ہوئی ہیں، راستے روکے ہوئے ہیں۔ وہ نہ DPO کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں، نہ DIG کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں، نہ IG کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں اور مکمل طور پر انہوں نے خود اپنا کمانڈ بنا لیا ہے۔ اور کمیٹی کا سربراہ جو کہتا ہے، اسی طرح ہوتا ہے۔ تو اس طریقے سے ابھی جو ہنگو میں واقعات ہوئے ہیں، پورا کمپاؤنڈ، جتنا بھی تھا پولیس کا، وہ طالبان نے گھیرے میں لے لیا۔ پھر انہوں نے علماء کرام سے درخواست کی کہ آپ سے کچھ ہو سکے تو آپ ان لوگوں سے بات کریں۔ پھر علاقے کے علماء کرام گئے وہاں پر اور انہوں نے ان سے بات کی اور ان سے کہا کہ ہم ان سپاہیوں، پولیس والوں کو آزاد کریں گے، لیکن ان کو اسلحہ چھوڑنا پڑے گا اور ہم اس کی ویڈیو بھی بنائیں گے۔ اور DPO نے کہا، ٹھیک ہے، ہمیں دونوں باتیں منظور ہیں۔ پھر اگلے روز پتا چلا کہ چھ بندے ابھی بھی ان کے پاس ہیں۔ پھر علماء کرام سے درخواست کی کہ اب ان کو بھی چھڑوائیں۔ پھر علماء کرام اس کے پیچھے گئے اور انہوں نے چھ بندوں کو چھوڑا۔ اس طرح چھوڑا کہ ایک ایک پولیس والے کو گلے بھی ملے اور دس دس ہزار روپے بھی دیتے رہے وہ۔ وہ دس دس ہزار روپے بھی دیتے رہے۔ یہ تو آپ کی پولیس کی حالت ہو گئی وہاں پر ۔ اس وقت کرم، اورکزئی کے علاقے، وہاں پر تو اب کچھ بھی نہیں رہا جی۔ تو یہ سارا پشتون علاقہ ہے اور اس پشتون علاقے میں اور خیبر پختونخوا میں تو بالکل ہی رِٹ ختم ہو چکی ہے۔ حضرت، آپ ہماری بات مانیں، یا تو یہ ہے کہ ہم عمداً اس کی اجازت دے رہے ہیں ، یا کوئی ڈیپ ایسی انڈر اسٹینڈنگ ہے کہیں جو پبلک کو نظر نہیں آ رہی ہے۔ اور یہ سارا کچھ کیوں ہو رہا ہے جی؟ بلوچ علاقوں میں، حضرت، آپ چلتن کو عبور کریں تو اس سے آگے چاغی تک ہو یا آپ مستونگ اور خضدار تک جائیں، آج صرف شہروں کو بچانے کے لیے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، صرف شہروں کو بچانے کے لیے شہروں کے گرد کھدائی کی گئی ہے اور اس کے اندر فوج نے مورچے سنبھال لیے ہیں اور وہاں پر ایکوئپمنٹس لے جا رہے ہیں، تاکہ صرف شہر بچ سکے، ضلعی ہیڈکوارٹر بچ سکے، تحصیل ہیڈکوارٹر بچ سکے، باقی میدان، دیہات وغیرہ وہ ان کے حوالے ہیں۔ تو اس سنگینی کو آخر کیوں ایڈریس نہیں کیا جا رہا؟ اور اگر میں یہ بات کرتا ہوں تو مجھے کیوں مجرم کہا جا رہا ہے؟ صحافی چلے جائیں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں آ جائیں، باہر سے وہ چلے جائیں ان علاقوں میں، دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اس صورتِ حال میں جبکہ آپ کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور بھائی جو ہیں وہ آپس میں بیٹھ کر اس گھر میں، جس میں آگ لگی ہے، آؤ ذرا اس گھر کو کیسے تقسیم کریں۔ یہ کوئی معقول بات ہے؟ آپ نے آگ بجھانی ہے یا آپ نے گھروں کو تقسیم کرنا ہے؟ تو صوبے بنانے کے بعد بھی ایسی ہی صورتِ حال تقریباً ہے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پارلیمنٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو

Fahim Akhtar Malik

103,850 views • 1 month ago

آج سے بچیوں کے جہیز کے سامان میں چند چیزوں کو ایڈ کیا ہے ۔ قرآن جائے نماز تسبیح رئیل دو گھروں میں مانگا گیا ہم سے کل ۔ تو اس پر تو سوچنے کی بھی ضرورت نہیں تھی کے یہ کیوں دیں۔ یہ قرآن کو رب کی رحمت اور نعمت دونون ہے۔ اس سے انکار کیسے ممکن ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ گھر جہان کل جہیز دیا ہے ماں دائی ہے گھر کے اندر تندور لگا کر بچون کا پیٹ پال رہی ہے ۔ میاں کبھی مستری تھا پھر جسمانی کمزوری اور بیماری کے ہاتھون مجبور ہو کر اب تھوڑا بہت کام کر لیتا ہے۔ لیکن جسم ساتھ نہین دیتا اس کا۔ سارا گھر چار انچی دیوارون پر کھڑا ہے ۔ اچھے دور میں کم خرچ میں خود بنا لیا تھا لیکن اب تو 7 سال سے برے حالات ہیں ۔ ہم جس وقت گئے تندور پر بچوں کی ماں محنت کر رہی تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ جہیز کا سامان دے آئے ہین ۔ بچی کو اس کے کپڑے شادی کے اور جوتی میک اپ کے لئے پیسے بھی دے دئیے ہیں ۔ آپ لوگ اکثر سوال کرتے ہیں مین بچی کو کیون روکتا ہون کے میرے دئیے پیسے مان باپ کو مت دینا ۔ یہ انتہائی غریب لوگ ہین جن کی روزی روٹی ہی پوری نہیں ہوتی۔ ان کے لئے دس ہزار بہت بڑی رقم ہے ۔ وہ اپنی مجبوریون کو دیکھتے ہوئے یہ اپنی ضروریات زندگی مین لگا دیتے ہین ۔ آپ سوچ بھی نہین سکتے کے شادی والے دن دلہن کے پاون مین اس کا پرانا جوتا ہو اور اس کا رنگ کپڑون سے میچ بھی نہ کرتا ہو۔ کیسا لگے گا ۔ ان بیٹیون کی چند خواہشات ان کی شادی پر تو پوری ہونا چائین ۔ ۔۔۔۔۔۔۔ جہیز کے سامان مین بھی کچھ بدلاو کرنے لگا ہون ۔ لیکن اس سے پہلے چند ریٹس چیک کر رہا ہون علاقے میں ۔ اگر فیزیبل ہوا تو لازمی بدلوں گا وہ 3 اشیاء۔ 1 ۔ پیٹی بستر رکھنے واسطے 2۔ صندوق ٹرنک 3 ۔ چارپائیان لکڑی والی اس پر بہت ساری خواتین نے سوال اٹھایا تھا کے یہ بھی ضروری ہین ۔ ہر دوسری پوسٹ پر۔ لیکن میں نے جو بجٹ رکھا ہوا ہے ایک شادی کا اس سے ایکسیڈ نہیں کرنا چاہتا۔ میں نکاح کو معاشرے مین آسان بنانے کرنے نکلا ہون۔ مجھے مشکلات کم کرنی ہین ان کی جو حلال رشتہ بنانا چاہتے ہین ۔ ۔۔۔۔۔۔ یہان ہر دوسرے گھر مین صرف اس ایک لاکھ سے بھی کم پیسون مین آئے سامان کی غیر موجودگی مین ہمت نہ ہونے کی وجہ سے اپنی جواب بیٹی کے سر کو سفید کر رہے ہین ۔ ۔۔۔۔۔۔ اب تک 31 گھر تو ایسے ملے جنہون نے ہمارے چکر لگا لینے کے بعد بچی کے دن رکھے ۔ اسی ہفتے اور ہمارے سامان دیتے ہی اگلے دو دن میں شادی ہو گئی ۔ شام کو ہمین کال آتی ہے جی کل شادی رکھ دی ہے۔ یا پرسوں کی آپ کھانا پہنچا دیں ۔ ان لوگون کے ہان کون سی تیاری جہان گھر میں کچھ ہے ہی نہیں۔ سونے والی چارپائیوں کے سوا۔ ۔۔۔۔۔۔ رب کعبہ کا شکر ادا کیا کریں اس سے پہلے کے وہ اپنی عطا کی ہوئی نعمت اور رحمت کو اپ سے دور کر دے۔ #SaqibAllyana #Punjab

Saqib Allyana

176,107 views • 1 month ago

60 امریکی اراکین پارلیمنٹ نے امریکا کے وزیرخارجہ کو خط لکھا ہے کہ پاکستان میں عمران خان کے خلاف ہونے والے اقدامات پر عمران خان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔کل تک جو خط لہرا رہا تھا کہ مجھے امریکا نے اقتدار سے اتارا ہے آج اس کے لابسٹ کام کر رہے ہیں اور جو وہاں کے اراکین پارلیمنٹ کی اتنی بڑی تعداد اس کے حق میں خط لکھ رہی ہے، وہ پاکستان کے معاملات میں براہ راست مداخلت کر رہی ہے، اس سے وضاحت ہو رہی ہے کہ یہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو ایک خاص منصوبے کے تحت ریاست کو تباہ کرنے کا ایک بین الاقوامی ایجنڈا ہے اور اس کے مظاہر گزشتہ 9 اور 10 مئی کو ملک کے طول و عرض میں دیکھے گئے۔ اداروں پر حملے کیے گئے اور بلوائیوں نے جی ایچ کیو لاہور کور کمانڈر کا گھر ہو، قلعہ بالا حصار ہو، چکدرہ کا فوجی قلعہ ہو ہر جگہ حملے کیئے یہ کس سے بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ جس عمران خان کو امریکی لابی تحفظ دینے کے لیے پگھل رہی ہے، اسی مجرم کو ہماری عدالتیں کیوں تحفظ فراہم کر رہی ہیں، ان کے دہشت گردوں کو ہماری عدالتوں سے کیوں سہولت کاری مہیا کی جا رہی ہے۔ بیک وقت تمام مقدمات میں ضمانت، فلاں تاریخ تک اگر کوئی مقدمہ درج ہوا تب بھی گرفتاری نہیں ہوسکے گی یعنی ہماری عدالت سے ان کو سرٹیفیکیٹ مل گیا کہ اگر اس دوران وہ کسی کو قتل کرے گا اور اس کے خلاف 302 کا مقدمہ ہوگا تب بھی اس کو گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔ یہ باتیں سامنے آئیں گی کہ کون سا جج کس لابی سے براہ راست وابستہ ہے، کون سا جج مجرم کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے، آج ابھی ہم ان کے نام نہیں لے رہے ہیں لیکن تنگ آمد بجنگ آمد، پھر ہمیں ساری چیزیں عوام کے سامنے لانا پڑیں گی۔ اگر خواجہ طارق رحیم کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان کو ضمانت دینے والا جج معلوم تھا تو کیا دوسرے لوگوں کو معلوم نہیں ہوگا، آنے والے فیصلے کے بارے میں جج کا نام بھی لیا جاتا ہے اور اس کا فیصلہ بھی بتایا جاتا ہے تو دنیا اتنی غافل نہیں ہے۔جو بلوے اور نقصانات ہوئے ہیں اس کے بارے میں کہتے ہیں وہ ہمارے لوگ نہیں ہیں، اگر یہ آپ کے لوگ نہیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے لیے لوگ نکلے نہیں ہیں۔ ہمارے اور عوام کے صبر و تحمل کا امتحان نہ لیا جائے، یہ صورت حال عوامی غیض و غضب کی طرف لے جا رہے ہیں، ہماری عدالتیں عمران خان کی محبت میں پگھل رہی ہیں، اپنے ملک کے مستقبل کی فکر بھی کرنی چاہیے، عوام کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے، ہم اس کو نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں، ہم صورت حال کا مقابلہ کریں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

303,412 views • 3 years ago

عمران خان نے جو سوچ کر محمود خان اچکزائی کو اپوزیشن لیڈر بنوایا تھا کہ وہ پاکستانی فوج کو اپنی دھواں دھار تقریروں سے شدید ہرٹ کریں گے اور انہیں تکلیف ہوگی، وہ کام انہوں نے خان کی توقعات کے مطابق بڑی خوبصورتی سے ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ فوجی قیادت یقینی طور پر اچکزائی کے حملوں سے اپ سیٹ ہوگی جس کا اندازہ خواجہ آصف کی دفاعی انداز میں کی گئی تقریر سے لگایا جاسکتا ہے۔ اچکزائی اپوزیشن لیڈر ہو کر پارلیمنٹ میں پاکستان سے زیادہ افغانستان کی وکالت کرتے ہیں۔ وہ افغانوں /طالبان کے موقف کو زیادہ مضبوط سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی تقریروں میں سابقہ یا موجودہ آرمی قیادت اور پاکستانیوں کو زیادہ قصور وار اور افغانوں کو مکمل طور پر معصوم سمجھتے ہیں۔ پی پی پی اور نواز لیگ بھی فوج کا دفاع اس سطح پر جا کر کرنے کو تیار نہیں جس کی ان حالات میں فوج توقع رکھتی ہے۔ دونوں پارٹیاں سمجھتی ہیں کہ فوج نے سسٹم کو کنٹرول کر رکھا ہے تو جواب بھی وہی دے یا ان کا پاور فل وزیرداخلہ محسن نقوی ایوان میں آ کر دے۔ جبکہ محسن نقوی ایوان کا رخ ہی نہیں کرتا۔ وزیراعظم شہباز شریف شاید اس لیے اسمبلی یا سینٹ نہیں جاتے کہ اچکزائی کی تقریروں کا جواب دینا پڑے گا۔ وہ چاہتے ہیں یہ بھاری پتھر خواجہ آصف اٹھائیں تاکہ ان کے اپنے تعلقات اچکزائی سے بھی ٹھیک رہیں۔ اچکزائی بھی ہر تقریر میں “شہباز بھائی” کہنا نہیں بھولتا۔ پھر ایک اور مشکل ہے کہ جب وزیر دفاع خواجہ آصف فوج کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو پی ٹی آئی ایم این ایز انہیں ان کی فوج کے خلاف ماضی میں کی گئی تقریریں یاد دلاتے ہیں اور یوں ان کا دفاع کمزور پڑ جاتا ہے۔ باقی کوئی حکمران جماعت کا ممبر فوج کے حق میں تقریر نہیں کرتا اور اوپر سے خواجہ آصف محمود خان اچکزائی سے اپنے تعلق کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں لہذا وہ اچکزائی سے اس لیول پر انگیج نہیں ہوتے جس لیول کے اٹیک اچکزائی کرتا ہے۔ دونوں اپنی تقریروں میں بار بار اپنے بزرگوں ( صمد خان اچکزائی/خواجہ صفدر) کے پرانے تعلقات اور اپنی پرانی دوستی کے حوالے دیتے رہتے ہیں۔ ہر سخت حملہ کرنے کے فورا بعد اچکزائی بڑی سمجھداری سے “خواجہ بھائی” یا “شہباز بھائی” کا تڑکہ بھی لگا دے گا تاکہ وزیراعظم اور وزیردفاع ان تعلقات کو اہمیت دیں نہ کہ ان کے سخت حملوں کا جواب دینے کا سوچیں۔ یوں اچکزائی دراصل عمران خان کے چوائس کو درست ثابت کررہا ہے کہ وہ اکیلا فوج کو پارلیمنٹ میں ٹف ٹائم دے سکتا ہے اور وہ دھیرے دھیرے ان سب کو خوب سنا رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پارلیمنٹ بھی ایک مذاق ہی بن کر رہ گئی ہے۔ نہ وہاں وزیراعظم آتا ہے نہ وزیرداخلہ نہ ہی ساٹھ رکنی کابینہ ماسوائے دو تین وزیروں کے۔ جب یہ سب نہیں آتے تو بھلا باقی ایم این ایز کیوں آئیں لیکن تنخواہ/الاونسنز سب پورے لیتے ہیں۔ شہباز شریف دور میں پارلیمنٹ اتنی کیوں فارغ ہوچکی ہے۔۔ کسی کو ٹکے کی دلچسپی نہیں رہی؟ مکمل پروگرام لنک 👇 via YouTube Neo News Fawad Ahmed Nasrullah Malik Khawaja M. Asif Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi Sardar Ayaz Sadiq Dr. Tariq Fazal Ch. Barrister Gohar Khan Junaid Akbar Ishaq Dar Sher Afzal Khan Marwat

Rauf Klasra

18,538 views • 7 months ago