Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

گھٹن کا لاوا 2025 میں ہی پھٹے گا۔۔۔ ندیم افضل چن کی پیشگوئی۔۔!! مریم نواز صاحبہ پارٹی کے سربراہ کی بیٹی بھی ہیں سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلی بھی ہیں President of Pakistan جاتے ہیں وہ نہ انکا استقبال کرتی ہیں ، horse and cattle show کیا...

137,184 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

10 Kommentare

Profilbild von Gulshan
Gulshanvor 1 Jahr

جسکو بلانا چائیے تھا اسے بلا لیا تھا اور آپ سمیت سب کو بتا دیا کہ یہ میرا بندہ ہے اور میں مستقبل کی وزیراعظم ہوں

Profilbild von WE News English
WE News Englishvor 1 Jahr

🏏 Pakistan’s rising star Saim Ayub earns global recognition in 2024 Saim becomes the only player with two entries in Wisden's Best Innings of 2024 Complete list of the top 10 ODI innings of the year 2024:

Profilbild von وٙینْس
وٙینْسvor 1 Jahr

نہ چن نہ، اینج نئیں۔ گورنر اور صدر کا عوامی اجتماعات سے کیا واسطہ۔ ویسے پی پی پی میں آپ کی اپنی حیثیت کیا ہے؟

Profilbild von Abdul Manan Khan
Abdul Manan Khanvor 1 Jahr

انشاء الله تم لوگوں کی ویسی ہی بربادی ہوگی جیسی تم لوگوں نے سندھ میں کی ہے

Profilbild von khan
khanvor 1 Jahr

چن سانپ زمجتنے آپ جمہوری ہیں عوامنکو سب معلوم ہے گھٹن تو 90 فیصد عوام کے لئیے ہے، پیپلز پارٹی کے 5 فیصد لوگوں کی تو موجیں ہیں، ہر چیز، اور لوٹ مار میں نون لیگ کے برابر پیپلز پارٹی حصہ دیا جاتا ہے جہاں بھی تھوڑا سا کم حصہ ملتا ہے وہاں شوراور بلیک میل کر کے وصول کر لیتے ہو۔ ایسے؟

Profilbild von میری پہچان میرا پاکستان
میری پہچان میرا پاکستانvor 1 Jahr

چن صاحب آپ وہ اتحادی ہیں جن کے پچھواڑے پر روز صبح اٹھ کر آپ کے اتحادی چھتر مارتے ہیں اور آپ چھتر کھانے کے بعد کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ مجبوری ہے کیونکہ اتحاد ضروری ہے لکھ دی لعنت

Profilbild von Ahmed
Ahmedvor 1 Jahr

@Sony_810 پیپلزپارٹی منافقت کر رہی ہے، ن لیگ کے ہر جرم میں برابر شریک ہے، کون سا بل ہے یا قانون سازی ہے جس میں پیپلزپارٹی کا ووٹ اور رائے شامل نہیں، کون سا غیر آئینی، غیر انسانی غیر قانونی کام ہے جس کو پیپلزپارٹی نے اپنا کندھا نہیں دیا؟

Profilbild von Saeed Rajpoot
Saeed Rajpootvor 1 Jahr

ان سب باتوں کے باوجود یہ لٹکے ہوئے ہیں 😂

Profilbild von Haseeb choudry
Haseeb choudryvor 1 Jahr

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا روتے رہو چن

Profilbild von Muhammad Haidar Ali
Muhammad Haidar Alivor 1 Jahr

جنازے اٹھانے سے بہتر ہے آواز اٹھاؤ۔

Ähnliche Videos

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,807 Aufrufe • vor 4 Tagen

مریم نواز کی ترقی کا اصل چہرہ مریم نواز شریف صاحبہ کل ترقی کی بات کر رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ ایک صوبے میں سترہ سال حکومت کرنے والے بھی کچھ نہیں کر سکے۔ تو آئیے، ہم آپ کو بھی مریم نواز شریف صاحبہ کی ترقی کا اصل چہرہ دکھاتے ہیں۔ لاہور کے تھانوں میں خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعات اور قتل کے کیسز—کیا یہ مریم نواز کی پنجاب میں ترقی ہے؟ لاہور میں چند منٹ کی بارش کے بعد انڈر پاسز پانی سے بھر جاتے ہیں۔ پورے پنجاب کا بجٹ خرچ کرکے سڑکیں تو بنائی جا رہی ہیں، لیکن نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام کیوں نہیں بنایا گیا؟ یہ کیسی ترقی ہے کہ بارش ہوتے ہی لاہور کے شہری مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں؟ اب ذرا جنوبی پنجاب کی طرف چلتے ہیں، جس کی حکمران مریم نواز شریف ہیں۔ ہر سال بڑی تعداد میں جنوبی پنجاب کے لوگ بہتر اور مفت علاج کی سہولت کے لیے پنجاب سے باہر سندھ کا رخ کرتے ہیں، جہاں سکھر، گمبٹ اور دیگر شہروں میں NICVD، SIUT اور گمبٹ انسٹیٹیوٹ جیسے ادارے دل، گردوں اور جگر کے علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو اپنے ہی صوبے میں ایسی معیاری اور مفت طبی سہولیات کیوں میسر نہیں؟ اگر ایک مریض کو علاج کے لیے پنجاب چھوڑ کر سندھ جانا پڑے تو یہ پنجاب کی ترقی کا ثبوت ہے یا ناکامی کا؟ سندھ میں عوام کو دل، گردوں اور جگر کے علاج کی مفت سہولیات فراہم کرنے والے ادارے موجود ہیں، جبکہ پنجاب کے عوام آج بھی ان بنیادی سہولیات کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ، صرف سڑکیں اور دعوے ترقی نہیں ہوتے۔ ترقی وہ ہے جس میں شہری محفوظ ہوں، خواتین کو انصاف ملے، لاہور بارش میں ڈوبے نہیں اور جنوبی پنجاب کے عوام کو علاج کے لیے سندھ کا رخ نہ کرنا پڑے۔ یہ ہے وہ ترقی جس کا جواب پنجاب کے عوام مانگ رہے ہیں۔ احمد رحمان گھمن ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی، لاہور Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Azma Zahid Bokhari Marriyum Aurangzeb Faisal Mir

Ahmad Ghuman

56,467 Aufrufe • vor 12 Tagen

شیری رحمن صاحبہ خود ایک بڑی صحافی رہی ہیں۔ مشہور زمانہ انگریزی جریدے ہیرالڈ کی ایگزیکٹو ایڈیٹر رہی ہیں۔ اب وہ senate committee on climate changes کی چیرپرسن ہیں۔ حیران ہوتا ہوں انہیں اسلام آباد کی بربادی نظر کیوں نہیں آتی۔۔ کیا اس شہر کو وہ اپنا شہر نہیں سمجھتیں جہاں وہ 2002 سے رہتی ہیں لہذا اس شہر کے درخت، جنگل، سبزے، گرین بیلٹس سب کچھ تباہ کررہا ہو وہ چپ رہیں گی؟ ان کی کمیٹی کے سب ممبران بھی خاموش رہیں گے۔ وزیرداخلہ محسن نقوی اور چیرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کا ہاتھ نہیں روکیں گے جو اسلام آباد کی خوبصورتی کے دشمن بن چکے ہیں ؟ آپ کی کمیٹی کا کس نے اچار ڈالنا ہے اگر آپ لوگوں کو اسلام آباد کی بربادی نظر نہیں آرہی۔ جو بربادی ہورہی ہے اور پراجیکٹ بن رہے ہیں ان منصوبوں کو EPA کیسے کلیرنس دے رہا ہے؟ زرا احتساب اس EPA کا بھی کریں جنہیں آپ نے آج اجلاس میں بلایا ہے کہ یہ کیا کررہے ہیں۔ صرف تنخواہیں، مراعات اور گاڑیاں اور فنڈز لے رہے ہیں ؟ کیا چیرمیں سی ڈی اے سب اداروں پر اکیلا بھاری پڑ گیا ہے؟ آپ کو ایکٹو سینٹر سمجھا جاتا ہے اور آپ کے کام کی ہم عزت کرتے ہیں۔ لیکن آپ کی اسلام آباد کی بربادی پر خاموشی ہم سب کو ڈسٹرب کررہی ہے۔ یہ شہر مررہا ہے اور آپ سب خاموش ہیں۔ کبھی سی ڈی اے آپ کو شتہوت کٹائی کے نام پر جھوٹ بولتا ہے تو کبھی فلاں جگہ فوجی یادگار بنانے کا بہانہ بنا کر پورا جنگل اجاڑ دیتا ہے تاکہ آپ سب چپ ہو جائیں اور آپ بھی چپ ہو جاتے ہیں۔ افسوس ہے آپ اس بڑے جنگل کی بربادی پر بھی خاموش ہیں جو سی ڈی اے نے قتل عام کیا ہے۔ SenatorSherryRehman Capital Development Authority - CDA, Islamabad Shehbaz Sharif Pakistan Environmental Protection Agency, GoP Muhammad Ali Randhawa Dr. Musadik Malik Mohsin Naqvi DG ISPR

Rauf Klasra

10,888 Aufrufe • vor 8 Monaten

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,437 Aufrufe • vor 2 Monaten

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,157 Aufrufe • vor 2 Monaten

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 Aufrufe • vor 10 Tagen

پتہ نہیں میں بزدل ہوں، کمزور ہوں، یا ایمان ضعیف ہے، یہ تو اللہ کو بہتر پتا ہے۔ مطلب، جب بھائی آپ کا شہید کیا جائے، والد آپ کا شہید کیا جائے، کزن آپ کا اٹھا کر چھ مہینے غائب رکھا جائے اور پھر مسخ شدہ لاش آپ کے ہاتھ میں تھما دی جائے، اور جیتا ہوا الیکشن آپ سے چھین لیا جائے، تو پھر آپ کیا کریں گے؟ یہ تو پتہ نہیں، میں نے آپ کو کہا تھا کہ میں دوسروں کا نام نہیں لیتا، اپنی بات تو کر سکتا ہوں۔ آپ کی نظر میں پتہ نہیں میں بزدل ہوں، میں کمزور ہوں، یا میں کس سوچ اور فکر کا مالک ہوں، پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ نہیں، خدا را! آپ ملازم کو نہیں بخش رہے۔ ایک ملازم کی کیا سزا ہو سکتی ہے؟ ایک سادہ سی ڈیمانڈ ہے، ڈی آر اے ہے اور یکساں نظامِ تنخواہ (Salary System) ہے۔ آپ کی نظر میں وہ بھی بد ہے۔ اب تو دروازے بند کر رہے ہو، عدالتوں سے انصاف کی توقعات آپ نے ختم کر دی ہیں، پارلیمنٹ کی خودمختاری آپ نے پاؤں تلے روند دی ہے۔ مطلب، وہ کیا کریں؟ وسائل ہمارے لوٹے جا رہے ہیں، اور ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ میرے گھر کے سامنے سے گیس نکل رہی ہے، مگر میں اس سے مستفید نہیں ہوں؛ لوگوں کے کارخانے اس سے چل رہے ہیں۔ میرے گھر سے سونا نکالا جا رہا ہے، کوئلہ نکالا جا رہا ہے، لیکن میں دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہوں۔ یعنی میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں: کیا اس وقت پاکستان کی اہمیت پنجاب کے کیلے اور مالٹے ہیں، یا بلوچستان اور پشتونخوا کے ساحل اور وسائل؟ اصغر خان اچکزئی (صدر، اے این پی بلوچستان)

Asghar khan Achakzai

54,628 Aufrufe • vor 6 Monaten