Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

"ہم روئیں نہ تو کیا کریں" گل پلازہ جل کر خاکستر ہوگیا اسٹیبلشمنٹ کراچی کی سنتی نہیں وزیر اعظم پنجاب کے ہیں کراچی سے کوئی سروکار نہیں یہ گل پلازہ اکیلا شہروں سے ذیادہ ٹیکس دیتا تھا بربادی کے نشان میرے شہر کے ہائے ہمارا گل پلازہ شاپنگ کی...

37,481 просмотров • 7 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

کراچی کا معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ خوفناک آتشزدگی کی لپیٹ میں آ کر کھنڈر بن گیاپلازہ میں قائم ایک ہزار کے قریب دکانیں اور ان میں موجود کروڑوں روپے مالیت کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا۔ اس اندوہناک حادثے میں اب تک پانچ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ متعدد افراد کے پلازہ میں موجود ہونے کی اطلاعات نے تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے شدید آگ کے شعلے گھنٹوں تک بلند ہوتے رہے اور دنیا بھر کی نظریں جلتے ہوئے گل پلازہ پر جمی رہیں، مگر افسوس کہ اس سانحے کے دوران کراچی بے یارو مددگار نظر آیاسوائے گورنر سندھ کے، کوئی حکومتی نمائندہ جائے وقوعہ پر متاثرین کی داد رسی کے لیے نہ پہنچ سکا یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو ایک بار پھر بے نقاب کرتا ہے کہ کراچی جیسے عظیم شہر میں سانحات کے وقت صرف بیانات ہی رہ جاتے ہیں،عملی اقدامات اور فوری ریلیف کہیں دکھائی نہیں دیتا اب تو یہ احساس گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ اس شہر کا کوئی پرسانِ حال نہیں اللہ تعالیٰ کراچی پر رحم فرمائے ، آمین #Karachi #GulPlaza

Samar Abbas

35,036 просмотров • 7 месяцев назад

حکومت پاکستان کے خزانے کا پیٹ بھرنے والا کراچی ایک اور اندوہناک سانحے سے دوچار ہوا ہے ہزاروں خاندانوں کا کاروبار روزگار تمام اثاثہ جل کر راکھ ہوگیا اور اہل اقتدار حسب معمول بغلیں بجا رہے ہیں گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ نے صرف ایک عمارت نہیں جلائی بلکہ کراچی کے پورے گورننس سسٹم کو بے نقاب کر دیا۔ درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، سینکڑوں خاندان برباد ہو گئے اور اربوں روپے کی محنت چند گھنٹوں میں راکھ بن گئی۔ یہ حادثہ نہیں تھا، یہ برسوں کی غفلت، کرپشن اور جعلی کلیئرنس کا منطقی انجام تھا۔آج کے On My Radar میں ہم گل پلازہ سانحے کی اصل وجوہات پر بات کر رہے ہیں—جہاں نہ فائر سیفٹی تھی، نہ ایمرجنسی ایگزٹ، نہ ریاستی نگرانی۔ اس پروگرام میں ہمارے ساتھ موجود ہیں سینئر سیاستدان اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، جنہوں نے گل پلازہ جا کر تباہی کا خود مشاہدہ کیا اور ایک کھری، بے لاگ اور آنکھوں دیکھا حال ہمارے ساتھ شیئر کیا۔یہ صرف ایک آگ نہیں، یہ کراچی کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔مکمل OMR اور مفتاح اسماعیل کا تفصیلی اور چونکا دینے والا انٹرویو دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں

Kamran Khan

10,404 просмотров • 7 месяцев назад

اورنگی ٹاوّن میں عوام کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے ڈکیت ساجد زرین خان کے والد صاحب کا بیان سوشل میڈیا میں گردش کر رہا ہے کہ میرے بیٹے نے غلط کام کیا تو اسے اس کی سزا دینی چاہئے تھی مگر جلانا یا مارنا کسی کا حق نہیں تھا۔ ہم کراچی والے آپ کا دکھ سمجھ سکتے ہیں۔ اور محسوس کر سکتے ہیں کہ جوان بیٹا کھونے کے بعد والدین کس کرب اور تکلیف سے گزرتے ہیں۔ لیکن کبھی آپ نے یہ نہیں دیکھا آپ کا بیٹا کس شان سے ٹک ٹاک میں انگلیاں گھما گھما کر نچاتا تھا۔ کیا آپ نے کبھی نہیں دیکھا کہ نوکری نا ہونے کے باجود شادیوں اور محفلیوں میں نوٹوں کی برسات کی جاتی تھی۔ کیا آپ کا بیٹا دیگر سماجی اور قانونی جرائم میں ملوث نہیں تھا۔ کیا جن محنت کش اور نوکری پیشہ افراد کو لوٹا جاتا ہے کیا ان کے پاس حرام کی کمائی ہوتی ہے۔ کیا جن سے موبائل موٹرسائیکل چھینے اور مزاہمت کرنے پر ان کے گھر کا چراغ بجھا دیا جاتا ہے ان کے اہلخانہ کو کسی قسم کا دکھ نہیں ہوتا۔ ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ مگر آپ کا بیان بھی ان ڈمپرز مافیاز کے سرغنہ جیسا ہے کہ ہم روز کچلتے رہیں گے۔ اور دو چار لاکھ روپے معاوضہ دے کر لواحقین کو چپ کروا دیں گے۔ مگر ہمارے ڈمپرز نا جلاوّ وہ انسانی جانوں سے قیمتی ہے۔ کراچی ایسی جگہ ہے جہاں چاروں صوبوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہاں ہر رنگ، نسل اور بھانت بھانت کی زبانیں بولنے والے پائے جاتے ہیں نا تو کراچی اور کراچی والوں نے نفرت اور تعصب کی آگ لگائی نا ہی لسانیت کو فروغ دیا۔ اگر شہر میں قانون کی رٹ قائم اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایماندداری سے اپنا کام سرانجام دیں تو شہر میں چوری ، ڈکیتی اور لوٹ مار کو بہت حد تک کنٹرول کرنے میں معاون ہوسکتا ہے۔ (اس تحریر کو کاپی پیسٹ کیاگیاہے)

RahilaMujahid

44,711 просмотров • 8 месяцев назад

آج کراچی کے نوجوان علی جمیل شہید کے گھر جا کر ان کے والد جمیل صاحب، اہلِ خانہ اور اہلِ محلہ سے تعزیت کی، فاتحہ خوانی کی اور ان کے غم میں برابر کے شریک ہوئے۔ اس موقع پر میرے ہمراہ پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجا اظہر، سینئر نائب صدر فہیم خان، جنرل سیکرٹری ارسلان خالد اور پی ٹی آئی یوتھ ونگ کراچی کے سینئر نائب صدر ولید ہاشمی بھی موجود تھے۔ ایک باپ کے چہرے پر اپنے جوان بیٹے کی جدائی کا درد دیکھ کر دل انتہائی رنجیدہ ہوا۔ اس غم کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ علی جمیل اپنی اہلیہ اور معصوم بچوں کے ساتھ صرف سیر و تفریح کے لیے بلوچستان گئے تھے۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ راستہ بھٹک جانے کے بعد وہ اپنے ہی ملک میں غیر محفوظ ہو جائیں گے۔ گوگل میپس غلط راستہ دکھا سکتا ہے، مگر شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست، حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس سانحے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ یہ دہشت گرد انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں۔ یہ درندے اور وحشی ہیں۔ ہماری روایات، خصوصاً بلوچ روایات، یہ سکھاتی ہیں کہ اگر کوئی مسافر راستہ بھٹک جائے تو اسے منزل تک پہنچایا جاتا ہے، اس کی حفاظت کی جاتی ہے، نہ کہ اسے بے رحمی سے قتل کر دیا جاتا ہے۔ ان دہشت گردوں نے نہ انسانیت کا خیال رکھا، نہ بلوچ مہمان نوازی کی روایات کا، اور نہ ہی معصوم بچوں اور ایک زخمی خاتون پر رحم کیا، جو پوری رات خوف، تکلیف اور بے بسی کے عالم میں مدد کی منتظر رہے۔ یہ بھی انتہائی تشویشناک اور قابلِ تحقیقات امر ہے کہ واقعے کے بعد کئی گھنٹوں تک بروقت ریسکیو اور ریاستی مدد کیوں نہ پہنچ سکی۔ بلوچستان حکومت، متعلقہ انتظامیہ اور پولیس کو اس تاخیر کی مکمل تحقیقات کرنی چاہئیں، ذمہ دار اہلکاروں کا تعین کیا جائے اور غفلت یا کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی خاندان کو ایسی اذیت نہ سہنی پڑے۔ ہم اس سفاک دہشت گردی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ علی جمیل شہید کے قاتلوں، ان کے سہولت کاروں اور اس واقعے میں کسی بھی سطح پر غفلت برتنے والوں کو فوری طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اللہ تعالیٰ علی جمیل شہید کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، جمیل صاحب، اہلِ خانہ اور تمام لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ salman akram raja Sheikh Waqas Akram

Haleem Adil Sheikh

11,742 просмотров • 2 месяцев назад