Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ہم مرد ہیں گرنا بھی ہمارا حصہ ہے، اور پھر اٹھ کھڑا ہونا بھی۔ زندگی ہر روز امتحان لیتی ہے، مگر ہم شکایت کم، ذمہ داریاں زیادہ اٹھاتے ہیں۔ گھر کی دہلیز سے لے کر دنیا کی بھیڑ تک، کئی جنگیں ہیں جو ہم خاموشی سے لڑتے ہیں۔ کبھی...

45,507 просмотров • 3 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

Sammi Deen Baloch

145,183 просмотров • 1 год назад

یہ سوات کا رہنے والا ایک کم عمر خواجہ سرا شایان ہے۔ چند روز قبل اسے چند ظالموں نے زیادتی کا نشانہ بنا کر ایک اونچی پہاڑی سے نیچے پھینک دیا جس کی وجہ سے اسکی کمر ٹوٹ گئی۔ آج شایان ہسپتال میں بنا کسی ماں، باپ اور رشتے دار کے اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ وہ جو ہم ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ ہمارے بخت سیاہ ہوگئے ہیں۔ ہماری کمائی زہر بن گئی ہے۔ ہمارے رستے بند ہوگئے ہیں۔ ہم پے قحط اتر آیا ہے۔ ہمارے دریا سوکھ گئے ہیں۔ ہمارا جون اور جنوری ایک سا ہوگیا ہے۔ ہم سے چھاؤں چھین لی گئی ہے۔ ہماری خوش بختی مٹا دی گئی ہے۔ ہمیں مہلک بیماریاں لگ گئی ہیں۔ ہمارے بڑھاپے رسوا ہوگئے ہیں اور ہمیں دکھائی دینا بند ہوگیا ہے۔ دراصل یہ سب ہمارے ہی پیدا کردہ اسباب ہیں جس میں ہم نے زندگی اور درندگی کا فرق مٹا کر خود سے انسان ہونے کا ٹائٹل چھین لیا ہے۔ ہم آج بھی شاید سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال پیچھے ہیں اور انسان کی کھال پہنے عقل اور شعور سے عاری منافق الفطرت غلیظ جاندار ہیں جنہیں واقعی گریبانوں سے گھسیٹ کر قیامت تک کے لیے کسی جہنم نما قید خانوں میں مقید کر دینا چاہئیے۔ رضا اختر کی وال سے

Yousaf Saeed

151,706 просмотров • 11 месяцев назад

شبر زیدی صاحب! اگر آپ کے منطقی پیمانے کو ہی ترازو مانا جائے، تو پھر میرا اور آپ کا بھی نہ کھانا ملتا ہے، نہ گانا ملتا ہے اور نہ ہی زبان ملتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم دونوں کے درمیان 'آئین' کے ایک قانونی رشتے کے علاوہ کوئی چیز سانجھی نہیں ہے۔ آپ کو احمد آباد کی زبان اور کھانا مبارک ہو، لیکن اس حقیقت سے نظریں نہ چرائیں کہ اس سرزمین کا ایک بڑا حصہ یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بیلٹ، تاریخی، جغرافیائی، لسانی اور خون کے رشتے سے افغانستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ڈیورنڈ لائن ایک سیاسی لکیر ہو سکتی ہے، لیکن وہ ہزاروں سال کی تاریخ، ثقافت اور اس 'پشتون ولی' کو ختم نہیں کر سکتی جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ آپ کی زبان اور کپڑا نہیں ملتا؟ تو صاحب، ہماری زبان بھی ایک ہے، ہمارا لباس (پشتون لباس) بھی ایک ہے اور ہماری غیرت کے کوڈز بھی ایک ہیں۔ اگر آپ کو اپنی جڑیں گجرات میں نظر آتی ہیں، تو ہمیں اپنی جڑیں قندھار، جلال آباد اور کابل میں نظر آتی ہیں۔ آپ اپنے احمد آباد کے قصے سنائیں، لیکن ہمیں ہمارے بھائیوں سے دور کرنے کی کوشش نہ کریں۔ SyedShabbarZaidi

Hashim Khan

16,927 просмотров • 5 месяцев назад