Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ہم نے مل کر پنجاب سے بوٹی مافیا اور چیٹنگ کلچر کا خاتمہ کیا ہے۔ نویں جماعت کا رزلٹ پچھلے سال 44 فیصد تھا اور اس سال 43 فیصد رہا، جس کی بنیادی وجہ رٹہ سسٹم کا خاتمہ، کانسپٹ و ایکٹیویٹی بیسڈ نیا سلیبس اور امتحانات میں 100 فیصد...

22,688 görüntüleme • 16 gün önce •via X (Twitter)

8 Yorum

Saddam Hussain profil fotoğrafı
Saddam Hussain15 gün önce

آٹھویں کا بورڈز کا امتحان لیا جائے

🔻 Shahzad Ahmad 🔻 profil fotoğrafı
🔻 Shahzad Ahmad 🔻15 gün önce

🤣😂

meharkhan profil fotoğrafı
meharkhan16 gün önce

Minister sb apki kawish lkn AP recount se recheck paper ka option ku bachon ko ni dete , Mera beta islamiat paper k Q 7 Jo k 20 number ka, Sirf 6 die, answer bilkul correct beta baht disturb result se.

Nadeem shahid profil fotoğrafı
Nadeem shahid15 gün önce

سب جھوٹ۔ ۔بوٹی مافیا نے آپ کو کھلی شکست دی۔۔۔لوگوں نے وائٹ بورڈ پر کمرہ امتحان میں پرچے حل کروائے

Asad Khan profil fotoğrafı
Asad Khan16 gün önce

بہتری تو آئی ہے لیکن نقل 100 فیصد ختم نہیں ہو سکی اس بار بھی میٹرک اور انٹر کے امتحانات میں اساتذہ اور نگران عملے کی ملی بھگت سے بہت نقل لگی۔ @RanaSikandarH @AmjadHafeez19 @GovtofPunjabPK

ہاسییاں کھیڈیاں profil fotoğrafı
ہاسییاں کھیڈیاں15 gün önce

بکواس جتنی مرضی کروا لو۔ تین ہفتے ہو گئے سکولز کھلے ہوۓ، ٹیچرز کی کمی کی وجہ سے تھوڑے بہت STIs رکھے۔ ابھی تک ان کا کانٹریکٹ ایکسٹنشن کا نوٹیفکیشن نہیں ہوا۔ وہ سکولز نہیں آ رہے۔ ان کے پیریڈز اور سبجیکٹ کوئی نہیں لے رہا۔۔ پھر کہتے نوویں کا رزلٹ اچھا نہیں آیا۔

Devil's Advocate profil fotoğrafı
Devil's Advocate15 gün önce

بس کردے بکواس

M Hamza profil fotoğrafı
M Hamza15 gün önce

ناکام حکومت 🖐🏻🖐🏻🖐🏻

Benzer Videolar

آج اس تاریخی اور فقید المثال اجتماع کا انعقاد کر کے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ سرزمین فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور اس سرزمین پر صہیونیت کا کوئی حق نہیں ہے، چند مہینے قبل یہاں اسی اجتماع میں جس اجتماع کو ہم نے طوفان اقصیٰ کا نام دیا تھا اور ہم نے اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا ہم آج بھی ان کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم ایک مضبوط موقف پہ قائم ہیں اور جس طرح آپ میدان جنگ میں ہیں ہم بھی پاکستان کی سرزمین پر آپ کے شانہ بشانہ اور قدم بقدم آپ کے جہاد میں شریک ہیں۔ امریکہ ہو یا مغربی دنیا انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں مجھے ان کی تاریخ بھی معلوم ہے مجھے ان کا کل بھی معلوم ہے اور آج بھی معلوم ہے۔ جنگ عظیم اول میں اسی مغربی دنیا نے کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا، جنگ عظیم دوم میں اسی مغربی دنیا میں کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا تھا اور آج 20 سال تک افغانستان میں افغانوں کا قتل عام ہوتا رہا، عرب دنیا میں عرب مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا، آج غزہ کے مسلمانوں پر بمباریاں ہو رہی ہیں، 50 ہزار کے قریب وہ اپنے شہداء دے چکے ہیں، اسرائیل مجاہدین کی مقابلے میں میدان میں نہیں ٹھہر پا رہا وہ معصوموں اور بے بس مسلمانوں پر بمباری کر رہے ہیں، اس وقت بھی اگر 50 ہزار شہدا ہیں جو 15 مہینوں میں دے چکے ہیں 75 فیصد اس میں چھوٹے بچے اور خواتین ہیں، آپ بتائیں کہ اس ظلم اور فلسطینیوں کی اس نسل کشی پر اگر امریکہ انہیں سپورٹ کر رہا ہے، اگر برطانیہ ان کو سپورٹ کر رہا ہے، اگر نیٹو ممالک ان کو سپورٹ کر رہے ہیں تو کیا ان کو آج کے بعد انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ جن کے ہاتھوں انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، جن کے ہاتھوں انسان کی جان محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسان کا مال محفوظ نہیں، جن کے ہاتھوں انسانوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں اور چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچے آج وہاں پر یہ نہیں سمجھ پائیں گے کل کہ ہم کس کی اولاد ہیں میرے باپ کا نام کیا تھا اور میری ماں کا نام کیا تھا۔ کیا ان کو بھی انسانی حقوق کی بات کرنے کا حق حاصل ہے؟ تمہارے ہاتھوں سے انسانوں کا خون ٹپک رہا ہے، انسانیت کا خون ٹپک رہا ہے، انسانی حقوق کا قتل عام ہو رہا ہے، تم انسانیت کے قاتل ہو۔ اگر صدام حسین کو اس بنیاد پر پھانسی دی جاتی ہے کہ آپ نے ایک شہر میں آپریشن کیا اور اتنے لوگ آپ نے قتل کیے تھے تو اتنی انسانیت کے قتل عام پر کیا نیتن یاہو کو پھانسی پہ چڑھانا ان کا حق نہیں بنتا؟ یہ انسانیت کا دشمن ہے۔ امریکہ اور مغربی دنیا انسانیت کے قاتل ہیں اور ان شاءاللہ ہم نے یہاں پر حق و انصاف کی آواز بلند کی ہے، ہم نے اس خطے میں انسانیت کو شعور عطا کیا ہے پتہ چل جائے کہ دنیا میں مظلوم کون ہے اور ظالم کون ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

30,555 görüntüleme • 1 yıl önce

الحمدللہ، 2017 اور 2018 میں میاں نواز شریف صاحب کی جماعت میں جب مجھے ایک سال کے لیے وزیر رکھا گیا، تو میں نے اپنی وزارت کے دوران نیٹ میٹرنگ کا میکانزم کابینہ سے منظور کروایا اور اس ریولوشن کا آغاز کیا۔ کلین انرجی کے حوالے سے ہماری انٹرنیشنل کمیٹمنٹس بھی ہیں۔ ہم نے بین الاقوامی کمیونٹی کے سامنے وعدہ کیا کہ 2030 تک بجلی پیداوار کا 60 فیصد حصہ کلین انرجی ہوگا۔ اس سال 2024–25 کے اندر ہم پہلے ہی 55 فیصد کلین انرجی حاصل کر چکے ہیں، اور 2034–35 تک یہ 90 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ یہ کلین انرجی سولر، ونڈ، ہائیڈل اور نیوکلیئر توانائی کی شکل میں ہوگی۔ ہم فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کلین انرجی ریولوشن کے اس پورے خطے میں لیڈر ہے۔ حالانکہ کلائمیٹ چینج کی وجہ سے، بیرونی انڈسٹریل ممالک کی غلطیوں کے باعث ہمارے ہاں فلڈز آتے ہیں، اس کے باوجود پاکستان ایک ذمہ دار اور ایڈوانسڈ ملک کی طرح عمل کر رہا ہے۔ جیسا کہ سینیٹر صاحب نے کہا، کلین انرجی والے ملک زیادہ ایڈوانسڈ سمجھے جاتے ہیں، اور ہمیں فخر ہے کہ پاکستان اس معاملے میں بھی ایڈوانسڈ اور کلین انرجی والا ملک ہے۔

Awais Leghari

11,595 görüntüleme • 7 ay önce

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,641 görüntüleme • 3 yıl önce

جب میرے والد صاحب ہم کا انتقال ہوا تو میں بارہویں جماعت میں پڑھتا تھا اور اپنے گھر میں سب سے بڑا تھا۔ ہمارا تعلق کسی جاگیردارانہ یا صنعتی پس منظر سے نہیں بلکہ ایک عام درمیانے طبقے سے تھا۔ محنت اور یکسوئی کے ساتھ میں نے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے ملک کی خدمت کے لیے واپس لوٹ آیا۔ میں نے عوامی خدمت کے میدان میں آنے کے لیے دس سال کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور محنت سے میں نے وہ منزل سات سال میں ہی حاصل کر لی۔ آج اگر میں کابینہ کے اس اہم مقام پر پہنچ کر ملک و قوم کی خدمت کر رہا ہوں تو یہ صرف اور صرف محنت، لگن اور اللہ کے کرم کا نتیجہ ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو بھی صرف اپنے اہداف اور منزل پر نظر رکھنی ہے اور محنت کرنی ہے۔ جب میں ایک عام درمیانے طبقے سے نکل کر اس مقام تک پہنچ سکتا ہوں، تو ہمارے ملک کا کوئی بھی باصلاحیت نوجوان اپنی منزل حاصل کر سکتا ہے! #YouthPower #HardWork #Inspiration #SelfBelief #UraanPakistan #PakistanZindabad

Ahsan Iqbal

64,460 görüntüleme • 1 ay önce