Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ہماری گاڑی چھین لی گئی پہلے ہمیں گرفتار کیا گیا پھر چھوڑ دیا گیا اور اب ہماری گاڑی لے کر چلے گئے ہیں مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ میں کیا کروں میں اس وقت بیچ سڑک کھڑی ہوں یہ پاکستان تحریک انصاف کی سرگرم اور جان نثار کارکن...

69,802 görüntüleme • 7 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

ابھی راشد یوسف صاحب کے اہل خانہ سے ملاقات ہوئی چاروں بیٹیاں اس وقت شدید صدمے کی حالت میں ہیں انہوں نے بتایا کہ اس وقت پولیس اہلکار اور ایف سی کے جوان ان کی گلی کے اطراف موجود ہیں اور آنے جانے والے تمام مہمانوں کی سخت نگرانی اور جانچ پڑتال کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ کیفیت ان کے لیے ناقابل برداشت اذیت بن چکی ہے اور پولیس ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ان پر نمک چھڑک رہی ہے اہل خانہ کے مطابق جب پولیس اہلکار گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے ان کے والد کو گھسیٹ کر حراست میں لیا حالانکہ ان کا پاکستان تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں تھا اس کے باوجود ان کے والد کو زبردستی پولیس گاڑی میں بٹھایا گیا وہ پورے ہوش و حواس میں تھے اور اہلکاروں کے ساتھ گئے مگر تھانے میں ان پر بدترین تشدد کیا گیا جس کی تاب نہ لا کر وہ جانبر نہ ہو سکے اور جان کی بازی ہار گئے بچیوں نے بتایا کہ پولیس مسلسل ان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ بیان دیں جبکہ وہ کسی بھی قسم کا بیان دینے کی ذہنی حالت میں نہیں ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا پاکستان تحریک انصاف کا کوئی رہنما ان کے پاس آیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ چند کارکن ضرور آئے ہیں مگر ابھی تک پارٹی کا کوئی ذمہ دار رہنما نہیں پہنچا یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ معصوم بچیاں یتیم ہو چکی ہیں اور اسی حالت میں ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اہل خانہ نے بتایا کہ والد کی تدفین کا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے اور انہیں سپرد خاک کر دیا گیا ہے مگر پولیس نے اس خبر کو بھی دبانے کی کوشش کی ہے اس وقت بچیاں شدید ذہنی دباؤ اور خوف میں مبتلا ہیں تحریک تحفظ آئین اس وقت لاہور میں موجود ہے اور اخلاقی طور پر سب سے پہلے ان یتیم بچیوں کے پاس جانا اور ان کے غم میں شریک ہونا لازم ہے جو اس وقت ایک ظالم ریاست کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں اللہ تعالیٰ ان بچیوں کو صبر عطا فرمائے اور ہم سب پر فرض ہے کہ اس کڑے وقت میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں

Agha Sheikh Sarwar

32,070 görüntüleme • 7 ay önce

پیپلز پارٹی جو کل تک خوش اسلوبی سے انتظامات کر رہی تھی اور بھرپور خیر مقدم بھی کیا جا رہا تھا آج جلسہ گاہ میں پولیس بھیج کر اس حقیقت کو خود عیاں کر دیا گیا کہ وہ کل کے عوامی جنون سے خائف ہو چکی ہے اس وقت پولیس نے ہمارے تمام راستے بند کر دیے ہیں سامان کو آگے لے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی پورے علاقے کو مکمل محاصرے میں لے لیا گیا ہے حتی کہ جلسہ گاہ کے دروازے بھی بند کر دیے گئے ہیں ایم این اے فہیم خان نے جب سامان منگوانے کے لیے گاڑی طلب کی تو ڈرائیور کو دھمکایا گیا کہ آگے بڑھنے کی صورت میں گرفتار کر لیا جائے گا اس پر ایم این اے فہیم خان نے ڈرائیور کو ہٹا کر خود گاڑی چلائی ڈرائیور نے خوف کے عالم میں گاڑی روک دی تو فہیم خان نے چابی لے کر گاڑی کو دھکا دیتے ہوئے آگے بڑھایا اس وقت پولیس کی بھاری نفری جلسہ گاہ میں موجود ہے مگر پاکستان تحریک انصاف کے تمام قائدین اور کارکن اس عزم پر قائم ہیں کہ ہر صورت جلسہ ہو کر رہے گا

Agha Sheikh Sarwar

38,250 görüntüleme • 7 ay önce

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 görüntüleme • 7 ay önce

ٹرمپ کون ہوتے ہیں کہ وہ کسی آزاد قوم اور ان کی سرزمین پر قبضہ کرنےکی بات کررہے ہیں ؟ ایک آزاد قوم کو دوسرے ملکوں میں مہاجر بنانے کی بات کررہے ہیں، ٹرمپ کا کا کٹھ پتلی پندرہ مہینے سے فلسطینیوں کا قتل عام کر کے انسانی جرم کا مرتکب ہوا ہے،اگر صرف دو تین شہروں میں فوجی کاروائی کے نتیجے میں قتل ہونے والوں کے پاداش میں صدام حسین کو لٹکایا جا سکتا ہے تو اس پاداش میں جہاں نیتن یاہو کو سرعام پھانسی ملنی چاہیے تھی اس کو آج امریکہ فلسطینیوں کے خون پر ان کو سپورٹ کر رہا ہے۔ جنگ عظیم اول کے بعد جب دنیا میں یہودی در بدر ہو گئے اور جرمنوں کے ہاتھوں پٹ گئے تو اس زمانے میں لیگ آف نیشنز اقوام متحدہ میں قرارداد پاس کی کہ ان دربدر شدہ یہود یوں کو جگہ دینا ان کو از سرِ نو بسانا یہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے، بین الاقوامی ذمہ داری قرار دے کر صرف فلسطین کی سرزمین کو اس کے لیے کیوں خاص کیا گیا؟ کسی ملک نے ان کو جگہ نہیں دی اور سب کو اکٹھا کر کے فلسطین کی سرزمین میں لایا گیا، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کسی شہری کو، کسی یہودی کو جبراً کہیں آباد نہیں کیا جائے گا، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کسی سرزمین پر سرزمین والوں سے پوچھے بغیر جبرا ان کو آباد نہیں کیا جا سکتا، یہودیوں کو بھی جبراً لا کر آباد کیا گیا، فلسطین سے بھی جبراً زمین لی گئی اور وہاں ان کو آباد کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فلسطین Over Populated Area ہے یہاں مزید کسی کو آباد کرنے کی گنجائش نہیں ہے، اس کے باوجود Over Populated Area پر ان کو آباد کیا گیا، قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطین معاشی لحاظ سے انتہائی کمزور ہے اس پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، اس معاشی لحاظ سے کمزور ترین ملک پر اتنی بڑی یہودی آبادی کا بوجھ ڈال دیا گیا، اور آج تک یہ صرف بوجھ ہی نہیں بلکہ ان کی پیٹھ میں گھونپا ہوا چھرا ہے، خنجر ہے جو آج بھی ہمارے جسم کو چھو رہا ہے اور ہمارے جسم سے لہو بہہ رہا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,921 görüntüleme • 1 yıl önce