正在加载视频...

视频加载失败

ہمیں راستوں پر وحشی جنونیوں کا پاگل پن اور فساد نہیں دیکھنا، دین کے نام پر لوگوں پر حملے، کفر کے فتوے، قتل کے نعرے نہیں دیکھنے۔ ہمیں امن دیکھنا ہے، ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی ہے اور ایسی ہر کوشش کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

17,282 次观看 • 11 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

جمعیت علماء اسلام واضح طور پر عوام کے ساتھ ہے،عوام امن کے تلاش میں ہے، ہم امن کے جدوجھد کر رہے ہیں، ہماری جدوجھد کو فساد سے تعبیر نہ کیا جائے، اگر ہمارے امن کے قافلہ ایسا کوئی عنصر ہے تو ہمیں سوچنا پڑے گا کہ اسکو کون فیڈ کر رہا ہے، ہم حالات کے ہر رخ کو جانتے ہیں، عوام کو ہمدردی کے الفاظ کی بنیاد پر مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اپنی فوج کو بھی مضبوط دیکھنا چاہتی ہیں، لیکن صحیح راستے پر مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، جبر کا راستہ درست نہیں جس میں اپنی عوام پر گولیاں برسائی جائیں، آپریشن کے نام پر ماؤں کے دوپٹے کے تقدس کو پامال کیا جائے،الیکشن میں اپنی مرضی کے نتائج مرتب کریں، اپنی پسندیدہ پارلیمان بنائیں اور جبری حکومت کریں، اپنی مرضی کی سیاسی جماعتیں بنائیں، یہ ان کا حق نہیں، ایسی صورتحال میں ہم عوام کے ساتھ مل کر جدوجھد کریں گے اور آئینی طریقے سے غیر آئینی طریقوں کا راستہ روکیں گے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان مدظلہ

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,261 次观看 • 2 年前

افغان طالبان کے مابین پالیسیوں پر پیدا اختلافات سنگین ہمیں مذہب پر اجارہ داری نہیں کرنی چاہیے، سراج الدین حقانی کی ملا ہیبت اللہ پر تنقید ایک جلسہ عام میں طالبان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے اس گروپ کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا: ’’آپ کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ چونکہ میں حکمران ہوں، اس لیے سب کو میری بات مان لینی چاہیئے، "آپ خدا کے سامنے ذمہ دار ہیں اور خدا آپ سے پوچھے گا۔" کسی مخصوص شخص یا گروہ کا ذکر کئے بغیر انہوں نےکہا: "ملا اور طالب کے اس لقب کو بدنام نہیں کیا جانا چاہیے۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ علماء پر اس حد تک بہتان تراشی کی جاتی ہے کہ لوگ ان کے دین کو نقصان پہنچنے سے ڈرتے ہیں۔ انہوں نے طالبان کے بعض اندرونی رویوں پر بھی تنقید کی: "مذہب کی نمائندگی ایسی نہیں ہونی چاہیے کہ ہم صرف اپنے لیے حق محفوظ رکھیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم لوگوں کو دین کی طرف دعوت دیں اور ان کو قریب کریں، جس طرح نبیﷺ نے عفو و درگزر سے لوگوں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔ طالبان کے ماضی اور حال کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے حقانی نے کہا: ’’ہماری قوم نے مشکل آزمائشوں کا سامنا کیا ہے اور یہ مذہب لوگوں کی قربانیوں اور قربانیوں سے اس مقام تک پہنچا ہے۔ ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ اگر لوگ ہماری پیروی نہ کریں تو آسمان زمین پر آجائے گا۔ حقانی نے مزید کہا: "ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ لوگ کرپٹ ہیں اور ہمیں ان کی اصلاح کرنی چاہیے اور انھیں ارتداد سے بچانا چاہیے، کیونکہ ہم حکمران ہیں۔" طالبان کے وزیر داخلہ نے زور دے کر کہا کہ اگر لوگ کفر اور بدعنوانی کے قریب آتے ہیں تو یہ حکمرانوں کی کمزوری اور کوتاہی کو ظاہر کرتا ہے۔

The Khyber Chronicles

11,453 次观看 • 1 年前