Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ہمیں نہیں پتہ کہ 7مئی کو کیا ہوا ہر حقیقت آپ کے سامنےنہیں آتی بھارت کے 72 جہاز تھے اس دن اور ہر جہاز میں دو میزائل ہوتے ہیں اور وہ ایک میزائل تک فائر نہ کر سکے اس کی کیا وجہ ہے ؟ 72 جہازوں کو چار مختلف...

49,706 görüntüleme • 3 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

ایئر کموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی: ایران کے پاس 80 ہزار شاہد ڈرون ہیں، پچاس ہزار میزائل ہیں، دس ہزار بیلسٹک اور کروز میزائل ہیں۔۔ ایران نے روس کو بھی شاہد میزائل بیچے تھے۔ آپ کہہ سکتے ہیں ایران کے پاس لڑنے کے ہتھیار اس جنگ کے لیے کافی ہیں۔ یوکرین کے صدر نے شکوہ کیا ہے کہ انہیں امریکا نے 200 پیٹریاٹ میزائل بھی نہیں دیے جبکہ گلف ممالک اب ک دو ہزار پیٹریاٹ میزائل چلا چکے ہیں۔ ایک پیٹریاٹ میزائل ایک 30 سے 40 لاکھ ڈالر کا ہے۔۔ جب سے آبنائے ہرموز بند ہے دنیا امریکی صدر کی انشورنس کو بھی نہیں مان رہی اور وہ اس راستے سے گزرنے کو تیار نہیں، ہزاروں بحری جہاز اس وقت کھڑے ہیں اور انتظار کر رہے ہیں کہ گزرنے کی اجازت ملے۔۔ اس پوری جنگ میں سب سے سکون میں روس ہے، روس خوش ہے کہ امریکا کا پورا فوکس یوکرائن سے ہٹ کر مڈل ایسٹ پر ہے، اور ممالک دھڑادھڑ کیش پر تیل خرید رہے ہیں۔۔ چین بھی خاموش ہے اور تماشا دیکھ رہا ہے۔۔ جنگ جتنی طویل ہو گی اتنا امریکا اور اسرائیل کمزور اور ایران مظبوط ہو گا۔ #FaislaAapKa TEAM | Hum News

Asma Shirazi

153,781 görüntüleme • 5 ay önce

ایک ماہرنگ کو قید کیا ہے آج بلوچستان کا ہر فرد ہر عورت وہی بات کر رہی یے جو ماہرنگ کیا کرتی تھی ۔ آپ کیوں اتنے نااہل اور کمزور اور بذدل ریاست ہیں کہ ہر دوسرے دن آپکی عوام روڈوں پہ رل رہی ہوتی ہے لاشیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں وہ رو رہے ہوتے ہیں،انصاف کی بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں ۔ ان بچوں کو بچانا ریاست اور فوج کی ذمہ داری ہے ۔ اگر آپ ہمارے بچوں،ہمارے گھروں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو پھر آپ یہ وردی پہننے کے حقدار بھی نہیں ہیں۔ جب تک آپ عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے آپ کسی ٹائٹل حقدار نہیں ہیں یہ وردی اس بات کی گارنٹی ہے کہ آپکی عوام محفوظ ہے کیونکہ انکے پاس فوج ہے۔ اگر اس فوج اور ایف سی کے باوجود میرے جوان بچوں کے جنازے پڑے ہوئے ہیں تو یہ فوج یہ ایف سی کسی کام کے نہیں ۔ جب وہ چار تھے آپ نے انکو کیوں نہیں مارا؟ جب وہ چار سے بارہ ہوئی آپ نے انکو کیوں نہیں پکڑا؟ اب وہ بار سے چار سو ہو گئے ہیں ابھی بھی وہ بھاگ گئے ہیں۔ یہ آپشن کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے کہ آپ زمین چھوڑ کر چلے جاؤ۔اتنی ساری فوج ایف سی کس لیے ہے اگر وہ اس زمین کو محفوظ نہیں بنا سکتے۔ ہمارااپنی زمین پہ جینا حرام ہے۔ یہ ہجرت اور آپریشن والا آپشن ہی کیوں ہے ؟ آپکے پاس اس بات کی گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ نہیں آئیں گے ؟ اور وہ بول کے گئے ہیں کہ ہم دوبارہ آئیں گے انکی یہ اسٹمنٹ آپکی نااہلی ، نالائقی کے منہ پہ طمانچہ ہے ۔ اگر یہ آرمی جو ہمیں بلوچستان میں تحفظ نہیں دے سکتی وہ اس ملک میں کہیں بھی تحفظ نہیں دے سکتی ہم صرف آپ سے زندہ رہنے کا حق مانگ رہے ہیں ۔

Rodium-A

27,638 görüntüleme • 1 ay önce

بھارتی صحافی نے دو روز پہلے بھی سوال اٹھایا تھا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر اور ائیر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے انٹرنیشنل میڈیا کو بریفنگ میں مکمل ثبوت دکھائے ،ریڈار سگنیچر دکھائے اور بتایا کہ ہم نے بھارت کے پانچ جہاز گرائے ہیں(یاد رہے تب تک پانچ ہی گرائے تھے،چھٹا آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص نہیں ہوا تھا) بھارتی صحافی نے اپنی فوج،حکومت اور ائیر فورس سے کہا تھا کہ آپ خاموش کیوں ہیں؟آپ پاکستان کے اس دعویٰ کا جواب کیوں نہیں دے رہے؟؟؟؟ بھارتی صحافی نے اعتراف کیا کہ ان کی حکومت اور فوج کی جانب سے تردید نہ کرنے سے پوری دنیا میں پاکستان کا بیانیہ مانا جارہا ہے کہ ہم نے بھارت کے جہاز گرائے ہیں خیر اب تو کل بھارتی ائیر فورس کے ترجمان نے اعتراف کر لیا ہے کہ ان کے جہاز گرے ہیں لیکن وہ نقصان جنگ کا حصہ تھا بھارتی صحافی نے یہاں تک کہا کہ بھارت میں اس طرح کے سوالات اس لیے نہیں اٹھائے جارہے کہ کہیں سوال اٹھانے والے صحافی قتل ہی نہ کر دیے جائیں، بھارتی صحافی نے اپنے وی لاگ میں ٹیلی گراف کی خبر بھی دکھائی جس میں بھارتی جہاز گرنے کی خبر دی گئی تھی۔ بھارتی صحافی نے اعتراف کیا کہ پاکستان کی جانب سے رافیل گرانے کی وجہ سے رافیل بنانے والی کمپنی کے شئیرز گرے ہیں اور پاکستان نے جو جہاز اور میزائل استعمال کیے،ان کے شئیرز بڑھے ہیں، بھارتی صحافی نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بھارت نے 2019 میں اپنے ملک میں جھوٹا دعویٰ کیا اور منجن بیچا کہ انہوں نے پاکستان کا ایف سولہ جہاز گرایا ہے لیکن عالمی سطح پر کوئی ثبوت نہیں دکھا سکے تھے، بھارتی صحافی نے کہا کہ شاید اس بار بھی مودی سرکار کا یہی پلان ہے کہ جھوٹا بیانیہ بناو اور ووٹ بڑھاو لیکن اس بار یہ جھوٹ نہیں بک رہا اور نہ بکے گا۔۔۔۔۔کیونکہ دنیا بدل چکی ہے اور معلومات تک رسائی بہت آسان ہو چکی ہے۔ #ceasefire #IndiaPakistanWar2025 #OperationBunyanulMarsoos

Siddique Jan

100,475 görüntüleme • 1 yıl önce

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 görüntüleme • 6 gün önce