Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

🚨 ہنگامی الرٹ پوسٹ گریجویٹ نرسنگ کالج حیات آباد یہاں صورتحال بگڑتی جا رہی ہے۔ پشاور پولیس سے درخواست ہے کہ فوری طور پر سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں۔ طلبہ کے مطابق سویلین کپڑوں میں ملبوس بعض افراد یہاں آتے ہیں، مبینہ طور پر طلبہ پر پستول تان کر...

15,194 views • 20 days ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

#گولی_کیوں_چلائی ؟ اسلام آباد - سرحد یونیورسٹی : طالبات کے بیانات کے مطابق یہ خاتون اس یونیورسٹی کی فیکلٹی ممبر ہیں ، سٹوڈنٹس کا مینیجمنٹ کے خلاف ایک احتجاج چل رہا تھا جس میں خاتون نے اپنے شوہر جو کہ ملٹری افسر ہیں، کو بلا لیا ۔ جنہوں نے آتے ہی طلبہ سے بدتمیزی شروع کر دی ، پہلے پستول نکال کر طلبہ کی طرف کردی، بعد ازاں ہوائی فائرنگ شروع کر دی ۔ طالبات کے بیانات: ”فوجی نے ہم پر فائرنگ کی ہے اور الٹا ہمارے HOD پر مقدمہ درج کر دیا ہے، ہم اس فوجی کو تب تک یونیورسٹی سے جانے نہیں دیں گے جب تک کوئی بڑا فوجی افسر یہاں نہیں آتا“ ”پولیس والے کہہ رہے ہیں کہ وہ فوجی افسر کو ہتھکڑیاں نہیں پہنا سکتے ، آپ کیوں ہتھکڑیاں نہیں پہنا سکتے ؟ یہاں کسی لڑکی کی عزت محفوظ نہیں ہے کہ " کوئی بھی آرمی افسر آکر اس کا دوپٹہ کھینچے "آج اگر آپ نے آواز نا اٹھائی تو کل کسی کی عزت محفوظ نا ہوگی“ ”ہم سے ہمارے فون مانگے جا رہے ہیں تاکہ ثبوت مٹائے جا سکیں اور ساتھ ہمیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ، ہم تمھارے ساتھ اور تمھارے گھر والوں کے ساتھ یہ اور وہ کر دیں گے " طلبہ نے بڑے فوجی افسران کو طلب کر لیا کب تک اپنی عوام پر گولی چلاؤ گے؟ #AsimLaw #جعلی_حکومت_کی_توہین_عدالت .

PTI Punjab

10,256 views • 1 month ago

پی ایم ڈی سی نے افغانستان کے زیرِ تعلیم طلبہ کو پاکستان سے نکالنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ حکومتی پالیسی کے تحت ان طلبہ نے پاکستان کے میڈیکل کالجز میں داخلہ لیا تھا، لیکن ابھی ان کی تعلیم مکمل نہیں ہوئی اور انہیں نکالا جا رہا ہے۔ افغان زیرِ تعلیم طلبہ کو اس طرح نکالنا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ آپ طلبہ کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ حکومتوں کے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کبھی اچھے اور کبھی خراب ہوتے رہتے ہیں، لیکن عوام کے دلوں میں پیدا ہونے والی نفرت طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے۔ پالیسی بنانے والوں کے اندر کیا کوئی دل اور کوئی اخلاقی ذمہ داری نہیں ہے۔ پی ایم ڈی سی کے اس نوٹیفکیشن کی پرزور مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔ زیرِ تعلیم طلبہ کو اپنی ڈگری مکمل کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس مسئلے پر قومی اسمبلی میں بھی بات کروں گا اور پشاور ہائی کورٹ میں اس کے خلاف کیس بھی دائر کیا ہے۔ طلبہ کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ان کے لیے ہم ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔

Asad Qaiser

46,550 views • 19 days ago

اختر سعید میڈیکل کالج (بحریہ ٹاؤن لاہور) میں طالبات کی حرمت، طلبہ کی تذلیل اور انتظامیہ کے رویّے پر سوالیہ نشان- کالج کے گرلز ہوسٹل میں خفیہ ویڈیو گرافی کر کے طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانے کا معاملہ نہ صرف انتہائی سنگین جرم ہے اور کالج کے اندر نظم و ضبط کے شدید فقدان کی نشاندھی کرتا ہے نہی بلکہ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یونیورسٹی کے سربراہ کا مبینہ رویّہ ہے- اطلاعات کے مطابق جب طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانے کا معاملہ سامنے آیا تو سربراہ نے مبینہ طور پر چیخ چیخ کر اسے معمولی بات قرار دیا اور کہا کہ ایسا ہو ہی جاتا ہے- شاید ان کے خاندان میں یہ عام سی بات ہو- اس کے بعد طلبہ کو دھمکایا گیا کہ انتظامیہ صرف ہاسٹل میں رہنے والی طالبات سے بات کرے گی- طلبہ کے احتجاج کے بعد ڈے اسکالرز کو بھی بلا لیا گیا- لیکن سوالات اٹھنے پر مبینہ طور پر طلبہ کی تصاویر بنانا شروع کر دی گئیں اور انہیں ایک ایک کرکے دیکھ لینے اور یونیورسٹی سے نکال دینے کی دھمکیاں دی گئیں- سوال یہ ہے کہ آخر ایک تعلیمی ادارے کے سربراہ کا اپنے ہی طلبہ کے ساتھ یہ کیسا رویّہ ہے؟ اگر طالبات کی نہاتے ہوئے ویڈیوز بنانا کوئی بڑی بات نہیں, جیسا کہ مبینہ طور پر کہا گیا, تو پھر طالبات کی عزت، تحفظ اور نجی زندگی کی اہمیت کہاں گئی؟ یونیورسٹی کے سربراہ طلبہ کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے الٹا انہیں دھمکیاں دے رہے ہیں- کیا اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں طلبہ کو تحفظ، اعتماد اور عزت ملنے کے بجائے خوف کے ماحول میں رہنا چاہیئے؟ یہ صرف ویڈیوز بنانے کا معاملہ نہیں بلکہ اس ذہنیت اور انتظامی رویّئے پر بھی سوال ہے- کیا ہماری بچیاں کہیں بھی محفوظ نہیں؟ خوش آئند بات یہ ہے کہ احتجاج میں طالبات کے حق میں لڑکے بھی شامل ہیں- واقعے کا فوری نوٹس لیکر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گزارش کرتا ہوں-

Amir H. Qureshi

65,708 views • 23 hours ago

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 views • 9 months ago

گلگت بلتستان اپڈیٹ ۔۔۔ چیف کوآرڈینیٹر کے پی زبیر احمد قریشی اور چیف ماسٹر ٹرینر اور صدر شاہ زیب خان کی جانب سے نہایت افسوس اور شدید تشویش کے ساتھ یہ بیان جاری کیا جاتا ہے کہ ہمیں مختلف پولنگ اسٹیشنز سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ ہمارے پولنگ ایجنٹس کو مبینہ طور پر پولنگ اسٹیشنز کے اندر سے باہر نکالا جا رہا ہے اور انہیں فارم 45 اور فارم 46 فراہم نہیں کیے جا رہے۔ یہ صورتحال نہایت سنجیدہ اور قابلِ تشویش ہے، کیونکہ شفاف اور منصفانہ انتخابی عمل کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ تمام پولنگ ایجنٹس کو اپنے قانونی اختیارات کے مطابق مکمل رسائی اور ضروری دستاویزات فراہم کی جائیں۔ ہم الیکشن کمیشن اور متعلقہ حکام سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیا جائے، تمام پولنگ ایجنٹس کو ان کے حقوق کے مطابق فارم 45 اور 46 کی کاپیاں فراہم کی جائیں، اور انتخابی عمل کو شفاف اور پرامن بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا سکتی ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ بصورتِ دیگر احتجاج پر مجبور ہونگے

PTI Gilgit Baltistan

14,286 views • 3 months ago