Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

یہ NUST University کے سٹوڈنٹس ہے!! اس پر جرنیلوں کو مسلط کیا گیا ہے, جہاں پوری دنیا میں سٹوڈنٹس انقلاب لاتے ہیں, وہاں پر NUST University میں سٹوڈنٹس ناچ رہےہیں, وہ بھی انڈین گانوں پر!! اخے پاکستانی Gen Z

25,697 Aufrufe • vor 22 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

آج خیبرپختونخوا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے حوالے سے محکمۂ اعلیٰ تعلیم کے حکام اور مختلف طلبہ تنظیموں کے ساتھ اہم اجلاس کا انعقاد کیا!! اسلامی جمعیت طلبہ، انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن، پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن، پختونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت دیگر سٹوڈنٹس یونینز سے اپنا مؤقف پیش کیا۔ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر مشرف آفریدی کی سربراہی میں کمیٹی کے قیام کی منظوری دی گئی، جس میں محکمۂ اعلیٰ تعلیم اور طلبہ یونینز کے نمائندگان شامل ہوں گے۔ کمیٹی اپنی سفارشات 15 دن میں پیش کرے گی۔ میری کوشش ہے کہ سٹوڈنٹس یونینز کو جلد از جلد بحال کیا جائے۔ سٹوڈنٹس یونین کی بحالی سے ملکی و صوبائی سطح پر بہترین قیادت سامنے آئے گی۔ ایک ڈکٹیٹر نے اپنی حکومت بچانے کے لیے لیڈرشپ کی نرسری پر کاری ضرب لگائی، مگر اب یہ سلسلہ دوبارہ بحال ہوگا۔ یونین کی بحالی سے خان، نواب، وڈیروں اور چوہدریوں کی اجارہ داری کا خاتمہ ہوگا۔ بدقسمتی سے کچھ نامعلوم قوتیں آج بھی حقیقی جمہوری قیادت کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ہم یہ رکاوٹیں ختم کریں گے۔

Meena Khan Afridi

14,808 Aufrufe • vor 8 Monaten

کرنل کی بیوی کے بارے میں معلومات جو فوجی حلقوں سے مل رہی ہیں سرحد یونیورسٹی کے ڈاکٹر جدون ہیلتھ سائنسز ڈیپارٹمنٹ میں سٹوڈنٹس افئیر کے انچارج ہیں وہ سٹوڈنٹس کو فیس میں انسٹالمنٹ کی سہولت اور انٹرنشپ کے لئے ہسپتال جانے والے سٹوڈنٹس کو فری ٹرانسپورٹ سروس دیتے ہیں کرنل کی بیوی ڈاکٹر اعینہ نے آتے ہی فیس انسٹالمنٹ اور ہسپتال کے لئے فری ٹرانسپورٹ سروس کی سہولت ختم کردی اس پر ڈاکٹر جدون نے اعتراض کیا کروڑوں روپے کمانے والے ادارے کو ساڑھے سات لاکھ روپے سے خسارہ نہیں ہوگا لیکن سٹوڈنٹس کو بہت ریلیف ملے گا اس پر خاتون غصہ ہوئی یہ خیراتی ادارہ نہیں ہے نہ آپ کے باپ کا ہے جو اپنی مرضی سے چلاؤ ڈاکٹر جدون نے کہا تمھارے باپ کا بھی نہیں ہے اس پر خاتون نے مزید برا بھلا کہا ڈاکٹر جدون خاموش رہا پہلے اپنے بھائی کو فون کیا پھر پولیس کو فون کیا پولیس نے دونوں کو تھانے بلایا خاتون نے ہراسگی کا الزام لگایا دوستوں نے ڈاکٹر جدون کو سمجھایا کے شکایت کنندہ کی زیادہ سنی جاتی ہے تو ڈاکٹر جدون نے معافی مانگ لی اگلے دن ڈاکٹر اعینہ نے یونیورسٹی انتظامیہ پر پریشر ڈالا اس ڈاکٹر کو نوکری سے نکالو اگلے دن خبر پھیل گئی ڈاکٹر جدون کو طلبہ سے بھلائی کرنے پر استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا ہے سٹوڈنٹس نے کیمپس کا گیٹ اندر سے بند کردیا اور ڈاکٹر صاحب کی بحالی کا مطالبہ کرنے لگے اس دوران محترمہ تشریف لائیں اور غصہ کرنے لگی لیکن طلبہ نہ مانے پھر خاتون نے کرنل صاحب کو بلایا اور یہ واقعہ رونما ہوا عادل راجہ

Waqar khan

331,819 Aufrufe • vor 1 Monat