Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

یہ اسلام آباد کے مین بلیو ایریا کی ڈی چوک والی سڑک ہے جس پر گذشتہ دس منٹ سے عام گاڑیوں اور شہریوں کا داخلہ پولیس نے بند کیا ہے . آٹھ بجکر پانچ منٹ پر میں پولیس والے سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے تو جواب ملا کہ...

174,304 görüntüleme • 3 yıl önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

چلیے ذرا ادھر متوجہ ہوں! یہ ڈی چوک ہے؟ جی ہاں، یہ وہی ڈی چوک ہے جو سارا سال "سیکیورٹی" کے مقدس نام پر عام شہریوں کے لیے بند پڑا رہتا ہے۔ لیکن کمال دیکھیے، آج سیکیورٹی کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے بھائی! یہ وہی ڈی چوک ہے جہاں جب پاکستان کا کوئی عام شہری اپنے جائز حقوق کے لیے، پرامن احتجاج کے لیے اکٹھا ہو، تو اس پر 'لا اینڈ آرڈر'، غداری اور دہشت گردی کی دفعات لگا دی جاتی ہیں۔ اور یہ وہی اسلام آباد ہے جہاں بجلی بچانے کے نام پر رات نو بجے ایک غریب مزدور کی دکان زبردستی بند کروا دی جاتی ہے، اور اگر وہ ہٹ دھرمی دکھائے تو بیچارے کا ٹھیلا تک الٹ دیا جاتا ہے۔ جی ہاں! بالکل ٹھیک پہچانا آپ نے، یہ وہی ڈی چوک ہے! لیکن آج چونکہ خود اشرافیہ نے ناچ گانے، ڈانس اور فیفا (FIFA) کا میچ دیکھنا تھا، اپنی عالی شان انٹرٹینمنٹ کرنی تھی، تو جناب! یہ ڈی چوک اچانک آباد بھی ہو گیا اور کھل بھی گیا۔ سرکار کے پیسوں سے لاکھوں روپے کے وی آئی پی (VIP) انتظامات کیے گئے، سارے بڑے صاحب لوگ اکٹھے ہوئے، اور حد تو یہ ہے کہ یہ تماشہ ابھی تک جاری ہے اور شاید رات بھر ایسے ہی چلتا رہے گا۔ موسیقی کا شور اس قدر ہے کہ میرے کمرے تک آوازیں گونج رہی ہیں... واہ صاحب واہ، غریب کے لیے قانون اور اشرافیہ کے لیے جشنِ آزادی! رابعہ ملک Rabia Malik

Rabia Malik

45,615 görüntüleme • 2 ay önce

"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

12,319 görüntüleme • 1 yıl önce