Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

یہ بندوق اٹھائے نوجوان اور بوڑھے دیر کے غیرت مند غیور عوام ہیں، جنہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ دہشت گرد انہیں کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں؛ وہ اپنی دھرتی اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ اک ناقابلِ تسخیر چٹان بن کر کھڑے ہیں۔ دیر اپر کے انہی...

25,209 views • 13 days ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

یہ ویڈیو لکی مروت کے گاؤں نصرخیل کی ہے، جہاں آج ایک اسکول میں فوج کیمپ لگانے کے لیے آئی تھی۔ اس پر گاؤں کی امن کمیٹی کے لوگ نکل آئے اور انہوں نے فوج کو اسکول سے نکال دیا۔ امن کمیٹی کے لوگ اس ویڈیو میں نعرے لگا رہے ہیں کہ جب یہاں دہشت گرد موجود تھے، تب تم لوگ نہیں آ رہے تھے۔ پھر ہم نے خود امن کمیٹی بنائی، ان کا مقابلہ کیا اور اپنے علاقے سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا۔ اب یہاں فوج کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی یہاں فوج کو آنے کی اجازت ہوگی۔ جو لوگ غیرت مند ہوتے ہیں، جو کسی کے ٹاؤٹ یا سہولت کار نہیں ہوتے، جو اپنے وطن، اپنی مٹی اور اپنی سرزمین سے محبت کرتے ہیں، وہ اس طرح معلوم اور نامعلوم، دونوں قسم کے دہشت گردوں سے اپنی مٹی اور اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہیں۔ نہ وہ وزیرستان والوں کی طرح فوج سے نفرت کی وجہ سے دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں، نہ اپنے علاقے میں معلوم و نامعلوم دہشت گردوں کو گھسنے دیتے ہیں؛ بلکہ اپنی حریت اور آزادی کے لیے اگر ہتھیار اٹھانے کی ضرورت پڑے تو اسے سنت سمجھ کر اٹھاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ کسی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر نہیں ہوتے اور نہ ہی متاثرین بن کر زندگی گزارتے ہیں، بلکہ اپنے علاقے میں امن اور خوشحالی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ جب آپ اپنے علاقے میں دہشت گردوں کو گھسنے نہیں دیں گے اور ان کی سہولت کاری نہیں کریں گے، تو پھر آپ کو یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ وہاں فوج کو بھی گھسنے نہ دیں۔ یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ آپ دہشت گردوں کے سامنے خاموش رہیں یا پھر ان کی سہولت کاری کریں، اور جب فوج آپ پر بمباری کرے، آپ کو بے گھر کر دے، تو آپ مظلومیت کا رونا بھی روتے رہیں۔

Pakistan Walli

131,522 views • 22 days ago

یہ نجم الدین خان ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، سابق صوبائی صدر اور سابق وفاقی وزیر، 75 برس کی عمر میں، جہاں لوگ آرام اور گوشہ نشینی کو ترجیح دیتے ہیں، وہاں دیر بالا کے اس غیور فرزند کا جذبہ اور ہمت دیکھئے۔ انہوں نے اپنے علاقے میں امن و امان کے قیام، فتنہ الخوارج کے فتنے کو روکنے اور سیکیورٹی فورسز کی پشتیبانی کے لیے خود اپنے ہاتھوں میں بندوق اٹھا کر مورچہ سنبھال لیا ہے۔ دیر کی دھرتی اور اپنے عوام کے تحفظ کے لیے اس عمر میں فرنٹ لائن پر ایستادگی اور جرات کی ایسی مثال قائم کرنے پر تمغہِ امتیاز واقعی ان کا حق ہے۔ ان کا یہ عملی کردار اور بے باک جذبہ ان تمام مقامی منتخب نمائندوں، ایم این اے اور ایم پی ایز کے لیے اک آئینہ ہے جو اس مشکل وقت میں اپنے عوام کو تنہا چھوڑ کر میدان سے غائب ہو چکے ہیں۔ 75 سالہ نجم الدین خان کا یوں ہاتھ میں بندوق لیے اپنے قبائل اور فورسز کے ساتھ کھڑے ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ دیر کے حقیقی مشران کے لیے قوم اور ملک کی سلامتی سے بڑھ کر کچھ نہیں، اور یہی وہ غیور قیادت ہے جو کسی بھی اعزاز اور تمغے کی واقعی حقدار ہے۔

Khadim Ali khan Yousaf zai

82,046 views • 13 days ago

خاموشی جرم ہے! دہشت گردوں کو پناہ دینے والے بھی مجرم ہیں! جب بھی کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، سوال اٹھتا ہے کہ یہ قاتل کہاں سے آتے ہیں؟ انہیں پناہ کون دیتا ہے؟ ان کے لیے محفوظ راستے کون بناتا ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کے کچھ عناصر جان بوجھ کر یا خوف کی وجہ سے ان شدت پسندوں کی مدد کرتے ہیں۔ مگر یہ خاموشی اور چشم پوشی مزید خون بہانے کا سبب بنتی ہے۔ یہ دہشت گرد کہیں باہر سے نہیں آتے—یہ ہمارے ہی شہروں، دیہاتوں، اور محلوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ کوئی انہیں رہائش دیتا ہے، کوئی خوراک، اور کوئی ان کی نقل و حرکت پر خاموش رہ کر نادانستہ طور پر ان کے معاون بن جاتا ہے۔ مگر یاد رکھیں! جو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو محفوظ سمجھتے ہیں، وہی ایک دن انہی کے ہاتھوں تباہ ہو جاتے ہیں۔ دہشت گرد کسی کے خیرخواہ نہیں! یہ عناصر نہ مذہب کے وفادار ہیں، نہ ملک کے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہمارے بچوں کو یتیم، ماں کو بے سہارا، اور گھروں کو ویران کرتے ہیں۔ مگر ان کے خلاف بروقت اطلاع نہ دینا، ان کی پشت پناہی کرنا، یا خوف کے مارے خاموش رہنا—یہ سب مجرمانہ غفلت ہے۔ اپنی پولیس اور فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں! ہماری پولیس اور سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں تاکہ ہم محفوظ رہیں، مگر ان کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب عوام دہشت گردوں کے بارے میں بروقت اطلاع دیں۔ اگر کوئی مشکوک سرگرمی دیکھیں، اگر کوئی غیر متعلقہ شخص علاقے میں رہائش اختیار کرے، اگر کسی کی حرکات و سکنات مشکوک ہوں—تو فوراً پولیس یا متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔ اب فیصلہ کریں! آپ کس کے ساتھ ہیں؟ یہ جنگ صرف حکومت یا پولیس کی نہیں، بلکہ ہم سب کی ہے۔ اگر ہم نے آج آنکھیں بند رکھیں، تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ دہشت گردوں کی مدد نہ کریں، بلکہ ان کا راستہ روکیں! کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً دیں، کیونکہ خاموشی کا مطلب ہے کہ آپ خود اپنے شہر، اپنے ملک، اور اپنے بچوں کے مستقبل کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ “اب وقت آگیا ہے کہ ہم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہوں! خاموشی جرم ہے!

Defense Intelligence

20,096 views • 1 year ago

یہ ویڈیو 2009 کی ہے جب سوات میں آپریشن شروع ہوا، اور دیر کے علاقے اسبنڑ میں طالبان نے راج قائم کیا تھا۔ پھر ایک دن لوگ ان کی ظالمانہ حرکتوں سے تنگ آ گئے اور فیصلہ کیا کہ ہم ان وحشیوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ پولیس اور فوج موجود نہیں تھیں، تھانے خالی تھے؛ اور پھر جب عوام نے خود جواب دیا، تو علاقہ صاف ہو گیا۔ تب آرمی اور پولیس اس علاقے میں آ گئے۔ آج بھی وہاں امن قائم ہے کیونکہ دیر کے عوام نے پہلے دن سے پختہ یقین رکھا کہ اپنی مٹی پر کسی دہشت گرد یا سہولت کار کو جگہ نہیں دینی۔ یہ کمیونٹی اونیڑشپ کا وہ تاریخی ماڈل ہے جو ثابت کرتا ہے کہ امن کا قیام کسی مادی وسائل کے مرہونِ منت نہیں ہوتا، بلکہ اس کا تعلق انسانوں کے مزاج، سماجی رویے اور قومی مشران کے عزم سے ہوتا ہے۔ ہائبرڈ وارفیئر کے اس دور میں پختون دھرتی کا مستقبل دو متضاد ماڈلز کے سامنے کھڑا ہے: پہلا ماڈل: عوامی عزم اور قومی مشران کی جرات (امن کا راستہ) یہ دیر، سوات مردان چترال صوابی پشاور ، ہزارہ ڈویژن اور باجوڑ کی سلارزئی و اتمان خیل اقوام کا ماڈل ہے۔اپر دیر میں 2006 ہی سے عوام کا عزم تھا کہ کسی دہشت گرد کو نہیں چھوڑنا۔ مقامی مشران جیسے ملک جہانزیب خان، ملک بہرام خان اور ملک زرین نے روایتی لشکر کھڑے کیے، اجنبیوں کا بائیکاٹ کیا اور مٹی پاک کی۔ اسی طرح باجوڑ کی پانچ تحصیلوں (سلارزئی، اتمان خیل، خار وغیرہ) میں نامور قومی مشر شہاب الدین خان سلارزئی، بسم اللہ خان اور دیگر مشران نے ہزاروں کا قومی لشکر بنایا اور سہولت کاروں کے گھر مسمار کیے۔ سوات میں افضل خان لالا نے دھرتی چھوڑنے سے انکار کیا، بونیر میں فتح خان، اور خیبر تیراہ میں ملک خدو خیل نے لشکر سازی سے امن قائم کیا۔ مہمند میں ملک مصطفیٰ اور ملک یونس نے جانیں قربان کیں۔ یہ ماڈل ثابت کرتا ہے کہ جہاں قوم مشران کے پیچھے متحد ہو، وہاں دہشت گردی ناامید ہو جاتی ہے۔ دوسرا ماڈل: مسلط کردہ بدامنی اور فکری انتشار (تباہی کا راستہ) یہ وزیرستان، بنوں ، ٹانک ، لکی مروت ، کرم کے تحصیل صدہ خیبر کے تحصیل تیراہ اور باجوڑ کی تحصیلوں لوئے ماموند و وڑکے ماموند کا ماڈل ہے۔ ان سرحدی علاقوں میں تحریکِ طالبان نے منظم منصوبے کے تحت سب سے پہلے بااثر قبائلی مشران کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔ جب روایتی قبائلی ڈھانچہ ٹوٹ گیا، تو سماجی خلا پیدا ہوا اور مقامی سطح پر ملنے والی خاموش یا اعلانیہ سہولت کاری (Facilitation) کی وجہ سے بدامنی کا یہ سلسلہ طول پکڑتا گیا۔ جہاں بھی عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں اور ہمدردی میسر ہو، وہاں بڑے آپریشنز کے باوجود بدامنی کی چنگاریاں سلگتی رہتی ہیں، کیونکہ مستقل امن صرف مقامی برادری کے رویے اور اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ معدنیات کے جھوٹے بیانیے کی حقیقت اسی ہائبرڈ جنگ کے تحت یہ زہریلا پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ ریاست معدنیات پر قبضے کے لیے بدامنی پھیلاتی ہے، جبکہ معاشی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان میں زمرد، لعل اور گرینائٹ کے سب سے قیمتی ذخائر سوات، دیر، مانسہرہ اور چترال میں ہیں، جو مکمل پرامن اور سیاحت کے گڑھ ہیں۔ ملک کو سب سے زیادہ گیس اور تیل دینے والے اضلاع کوہاٹ اور کرک پرامن ہیں۔ دوسری طرف باجوڑ کے ماموند یا خیبر کی وادی تیراہ میں معدنیات کے ذخائر موجود ہی نہیں ہیں، لیکن وہاں حالات کا خراب ہونا وسائل کی لوٹ مار نہیں بلکہ بیرونی پراکسیز (جیسے 'را'، صیہونی پشت پناہی اور افغان عبوری حکومت کے مہرے) کو ملنے والی مقامی سہولت کاری ہے۔ یہ دشمن پاکستان کی ایٹمی صلاحیت، سی پیک اور گوادر پراجیکٹ کو سبوتاژ کرنے کے لیے پختون کا خون بطور ایندھن استعمال کرنا چاہتا ہے، پختونوں کو اب خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بیرونی پراکسیز کا تزویراتی اثاثہ بن کر تباہی کا وزیرستان ماڈل چاہتے ہیں، یا پھر بیداری، یکجہتی اور ترقی کا وہ دیر اور سلارزئی ماڈل اپنائیں گے جہاں عوام خود اٹھ کھڑے ہو کر بدامنی کے سوداگروں کا سماجی مقاطعہ کرتے ہیں اور اپنے امن کے خود ضامن بنتے ہیں۔ اب پختونوں کا فیصلہ بالکل واضح ہونا چاہیے: دیر و سلارزئی کا غیور پختون ماڈل نہ کہ کسی کی مسلط کردہ پراکسی وار

Khadim Ali khan Yousaf zai

40,044 views • 1 month ago

کاش! یہی پختون ولی ، جذبہ، غیرت اور حبّ وطنی اس وقت افغان قوم اور ان کے رہنماؤں میں بھی جاگتی۔ کاش وہ بھی کابل کے ہوائی اڈے پر جہازوں کے پروں سے لٹک کر بھاگنے کے بجائے اپنے وطن، اپنی مٹی، اپنی جمہوری آزادیوں اور اپنی آنے والی نسلوں کے تابناک مستقبل کے لیے اپنی فورسز کے ساتھ مل کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے۔افغانستان کی 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد باقاعدہ فوج (اردو ملی) اور 90 ہزار سے زائد پولیس کی اتنی بڑی نفری کاش ایک گولی چلائے بغیر یوں بے دلی سے ہتھیار نہ ڈالتی! کاش ان کی فوج کی صفوں میں بھی میجر جنرل ثناء اللہ نیازی، کرنل حسن، کرنل گلفراز اور میجر حمزہ جیسے وطن پر قربان ہونے والے بہادر اور جری سپاہ سالار ہوتے، اور کاش ان کی پولیس کی قیادت کے پاس بھی ملک سعد شہید، عابد علی شہید، صفت غیور شہید، ، خان رازق شہید، کلام خان اور دلدار خان جیسے بے باک، غیور اور نڈر افسران ہوتے جو آخری سانس اور آخری کارتوس تک دشمن کے سامنے ڈٹے رہتے اور اپنے خون سے تاریخ رقم کرتے، اگر اس وقت افغان قوم اور ان کے ادارے یوں ایک پیج پر آ کر اپنی مٹی کی حفاظت کے لیے ڈٹ جاتے، تو آج گزشتہ پانچ سالوں سے انہیں اپنے ہی ملک میں ظالمانہ پابندیاں، تاریکی، بے حسی اور معاشی جمود نہ دیکھنا پڑتا۔ نہ ان کے شہری پردیس کی کٹھن زندگی میں وطن کو یاد کر کے آہیں بھرتے، اور نہ ہی ان کی بیٹیاں، بہنیں سکول، کالج اور یونیورسٹیوں سے محروم ہو کر گھروں میں قید ہوتیں۔ یہ ویڈیو اپر دیر کے ان غیور اور جرات مند پختونوں کا روشن آئینہ ہے جو اپنے سیکیورٹی فورسز اور پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اپنے علاقے کے امن اور وقار کی حفاظت کر رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں اور تمام غفلت زدہ قوموں کے لیے اس میں ایک واضح اور سچا سبق موجود ہے؛ امن محض نعروں، تقریروں یا خالی باتوں سے نہیں آتا، بلکہ امن اپنے اداروں کا ہاتھ تھام کر اور دشمن کے سامنے جرات کے ساتھ کھڑے ہونے سے قائم ہوتا ہے

Khadim Ali khan Yousaf zai

17,272 views • 17 days ago

یہ نثار خان وردگ ہیں، مسلم لیگ (ن) ضلع اپر دیر کے صدر، سابق نائب ناظمِ اعلیٰ اور 2024 کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار برائے قومی اسمبلی، گزشتہ روز جب دیر بالا پولیس کے جوان دوبندو کے مقام پر خوارج اور طالبان کے محاصرے میں آئے، تو یہ وہ پہلا جرات مند شخص تھا جو بلا تاخیر اپنے ساتھیوں کو لے کر سیدھا میدانِ جنگ میں پہنچا۔ دہشت گردوں کے پاس جدید خودکار اسلحہ، ڈرون ٹیکنالوجی اور خود کش بمباروں کا خطرناک ہتھیار موجود تھا، لیکن اس نر کے بچے نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر شجاعت کی نئی تاریخ رقم کی، محاصرہ توڑ کر اپنے محصور پولیس افسران اور جوانوں کو بحفاظت نکال لایا اور دہشت گردوں کو دھول چٹا دی۔ آج جب وہ پولیس لائنز پہنچے تو دیر پولیس کے اعلیٰ افسران اور غیور جوانوں نے ان کا جس شاندار اور پرجوش انداز میں استقبال کیا، حقیقی ہیرو وہی ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ نثار خان وردگ کا یہ کارنامہ اور لازوال جرات کسی بھی اعزاز سے بلند ہے؛ تمغہِ امتیاز اور تمغہِ شجاعت بالکل انہی جیسے بہادر اور غیرت مند سپوتوں کے سینے پرسجنے چاہیے ۔ ویلڈن میرے شیر نثار خان وردگ

Khadim Ali khan Yousaf zai

14,416 views • 13 days ago

وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اس پاک فوج پر الزام لگایا ہے جو پاسبانِ حرم ہے،جو صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کی عزت و غیرت کی محافظ ہے۔یہ وہ فوج ہے جس نے بھارت کا غرور خاک میں ملایا،اور ان کو دھول چٹا دی، اور دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا۔یہ وہ فوج ہے جس کے سینوں میں کلمہ طیبہ کی حرارت ہے، جو پانچ وقت اپنے رب کے حضور سربسجود ہوتی ہے،اور جس کا مقصد اسلام کی سربلندی اور وطنِ عزیز کا دفاع ہے۔مساجد کی حفاظت کے لیے پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔سوات، لوئر دیر، بونیر، باجوڑ، مہمند، اورکزئی، وزیرستان، خیبر اور کرم میں جو امن قائم ہے،وہ کسی سیاسی نعرے کا ثمر نہیں بلکہ ہزاروں شہداء کے خون کی قیمت پر حاصل ہوا ہے۔یہ وہی بہادر بیٹے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جہاد میں اپنی جانیں قربان کر کے پاکستان کے پرچم کو سربلند رکھا۔ایسی مجاہد فوج پر الزام لگانا نہ صرف قوم کی توہین بلکہ شہداء کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔

Khadim Ali khan Yousaf zai

47,657 views • 9 months ago

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 views • 1 month ago

بازار میں کم آؤ - بال نہ کٹواؤ - عورتوں کو گھر میں بند رکھو - شیو نہ کرو - لڑکیوں کو سکول نہ بھیجو - سرخی پاؤڈر نہ لگاؤ - ہمیں پیسے دو یہ ہے فتنہ الخوارج کی سوچ - اگر آپ ان خوارجین کے خاتمے میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ نہیں ہوں گے تو ان کے خود ساختہ اسلام کی تشریح میں یہ خوارجی آپ کا مستقبل تباہ کر دیں گے بنوں کے علاقے ڈومیل میں کمانڈر نصیر عرف گیدڑ کے خوارجین نے دھمکی آمیز ویڈیوز جاری کی ہیں۔ یہ ویڈیوز لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ذہنی دباؤ میں مبتلا کرنے کے مقصد سے نشر کی گئی ہیں۔ عوام کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی کسی بھی قسم کی معاونت یا تعاون دراصل خود مقامی افراد کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر خوارج کو مکمل موقع ملا تو وہ نہ صرف عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کریں گے بلکہ ان کے تحفظ اور سلامتی کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ شہری خوارج کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دیں۔

Hawk's Eye

48,447 views • 6 months ago

"کیا زخموں کی شماری بتآئیگی ملک سے یاری ؟" آج کی پریس کانفرنس کا سب سے نرالہ اور خطرناک مطلب یہ تھا کہ آج ڈی جی ای ایس پی آر کی طرف سے حب الوطنی کا ایک نیا معیار سیٹ کیا گیا ہے - ماضی میں کسی لیڈر کو ایجنٹ کہ دینا یا کسی کو غدار یا دشمن کا آلہ کار کہ دینا تو سنا تھا پر یہ معیار کہ جس جماعت کے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہویے ہیں وہ زیادہ حب الوطن ہے جبکہ جس جماعت کے لوگ اس کا شکار نہیں ہوتے وہ دہشت گردوں کی سہولت کار اور ہمنوا ہے' بہت ہی خطرناک ہے - یہ بات نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس منصب اور ڈیوٹی کے بھی برعکس ہے جسکے تحت ملک کے اداروں کا کام یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے نہ کہ دہشت گردوں کو نیے نیے ٹارگٹ دکھانا - 1. کی پی کے صوبے کے اسی ہزار سے زیادہ عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پنجاب یا سندھ کے لوگ کم حب الوطن اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ؟ 2. پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر کو شہید کیا گیا پر آج تک مسلم لیگ نواز کے کسی بڑے لیڈر کو یوں قتل نہی کیا گیا ' تو کیا یہ پیپلز پارٹی کو "محب الوطن " اور نواز لیگ کو ملک دشمن ثابت کرتا ہے ؟ 3. جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بات حقائق کے ہی برعکس ہے کہ ان کے لوگوں کو کبھی دہشت گردوں نے نشانہ نہیں بنایا - 2024الیکشن کے دوران اکرام الله گنڈا پور کا قتل ہو یا بونیر میں کی پی کے کے چیف منسٹر کے مشیر خاص سردار سوران سنگھ کا قتل ہو جس کی ذمے داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی ' تحریک انصاف کے ممبر ملک لیاقت علی خان پر گولیاں چلنا ہو یا بلوچستان میں تحریک انصاف کی ریلی میں خود کش حملے کے نتیجے میں چار لوگوں کا ہلاک ہونا ہو ' یہ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ پر اپنے خون کی مہر ثبت کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہیں ؟ 4. نومبر 2022 میں عمران خان خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں - وزیر آباد میں ان پر جو گولیاں چلائی گئیں' کیا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی ؟ اور اگر نہیں آتی تو پھر اس کا یہ مطلب کیوں نہ لیا جائے کہ وہ ان کی طرف سے ہی تھا جو آج ایک ادارے سے ایک سیاسی جماعت بن چکے ہیں ؟ 5. جہاں تک یہ بات کہ بس ایک جماعت ہی ملٹری آپریشن کے خلاف ہے ' حقائق کے منافی ہے - دہشت گردی کے خلاف ملٹری آپریشن کا فیصلہ محض تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے صوبے کی تمام جماعتیں اور جرگے "امن جرگہ " میں اسی رایے کا اظہار کر چکے ہیں تو کیا اب ان سب کو بھی اپنے لاشے بچھانے پڑیں گے تب جا کر ان کی نیت پر اداروں کو یقین آئیگا ؟ 6. اور اگر اسی منطق پر چلنا ہے تو آج تک کسی تھری یا فور سٹار جرنیل کو بھی تحریک طالبان نے ڈائریکٹ ٹارگٹ نہی کیا ' تو کیا پھر ان کو بھی سہولت کار سمجھا جائے اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے یا یہ پیشکش بس سیاسی جماعتوں کیلئے ہی ہے ؟ اب عوام جب یہ نکتہ اٹھائیگی تو کہا جائیگا کہ دہشتگردوں کو راستہ دکھایا جارہا ہے ' تو پھر سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے آج ڈی جی آئ ایس پی آر کے اس بیان کو دہشت گردوں کو تحریک انصاف کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا راستہ دکھانا کیوں نہ سمجھا جائے ؟ 7. آج کی پریس کانفرنس میں کسی طلال چوہدری کسی فیصل واوڈا اور کسی رانا ثنا الله کی طرح اپنی مرضی کے کلپس دکھاے گیے جس میں فقط تحریک انصاف کے لیڈروں کی تقریریں دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ طالبان اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ' تو لگے ہاتھوں ایک کلپ اس جلسے کا بھی چلا دیتے جس میں مریم نواز کی موجودگی میں "یہ جو دہشت گردی ہے " والے نعرے لگا کر اداروں کو بھی ان کا سہولت کار کہا گیا تھا ' جس پر مریم نواز محض مسکراتی رہی تھیں ' تو پھر ہمیں لگتا کہ واقعی اداروں کا کسی سیاسی جماعت سے بغض یا تعلق نہی ہوتا بلکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں - لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا تھا کہ رانا ثنا الله وردی میں ملبوس چیخ چنگھاڑ رہے ہیں فیصل واوڈا جوش خطابت سے سرشار ہیں - 8. اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر طالبان کے خلاف آپریشن نہی کرنا تو کیا ان کے قدموں میں بیٹھ جانا ہے ' یہ ہیبت الله کو صوبے کا چیف منسٹر بنانا ہے ؟ یہ کہتے ہویے ہمارے ڈی جی آئ ایس پی آر ان طالبان کی ہسٹری ہی بھول گیے کہ آج سے پینتالیس سال قبل امریکا اور سی آئ اے کے ایماپر ان طالبان کو جنم دینے والی کوکھ بھی ہمارے اداروں کی ہی تھی - زیادہ دور نہیں جاتے 2022 میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کا حل ان سے بات چیت ہے - اگر فوجی آپریشن مسلے کا حل ہے تو پچھلے بائیس بڑے اور چودہ ہزار کے قریب انٹیلجنس آپریشنز ' جن کی تفصیل ہر مہینے یہی ادارے آ کر بتاتے رہے ہیں ' تو یہ سب فوجی آپریشن بھی آج تک ان کو کیوں نہیں ختم کرسکے ؟ اور جو اگلا ملٹری آپریشن ہوگا اس میں ایسا کیا نیا ہوگا جو پچھلے بائیس میں نہیں تھا ؟ 9. کیا کبھی اس ملک کے میڈیا اور اداروں نے ایک عام پشتون بن کر بھی ان آپریشنز کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں سوچا ہے ؟ ان فوجی آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج جو ہوتا ہے وہ بھی اسی صوبے کے عوام کا ہوتا ہے جن کی حب الوطنی پر آج سوال اٹھاے گیے ہیں - طالبان کا جو ردعمل آتا ہے وہ بھی ان کے شہروں اور بستیوں میں آتا ہے کسی ڈی ایچ اے میں نہی - ڈرون سے لے کر فضائی حملوں میں بم کبھی بچوں اور مقامی پشتونوں اور طالبانوں میں فرق نہی کرتے اور اس بات کی ہسٹری گواہ رہی ہے - 10.لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملٹری آپریشن کی اجازت دینے کا مینڈیٹ کس کا ہے ؟ اگر اس ملک میں تھوڑا سا بھی آئین ' قانون اور ضابطہ بچ گیا ہے تو پھر ڈی جی آئ ایس پی آر کو یہ پڑھنا چاہیے کہ کسی بھی صوبے میں ملٹری آپریشن کا اختیار کسی ادارے کے گریڈ بائیس کے کسی افسر یا ملازم کے پاس نہی بلکہ اس صوبے کے چیف ایکزیکٹو کے پاس ہوتا ہے جس کو اس صوبے کے عوام نے منتخب کیا ہوتا ہے اور جو اس صوبے کی باقی جماعتوں ' جرگوں اور عوامی حلقوں کے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہاں کیا کرنا ہے اور یہ مینڈیٹ کسی بھی عسکری ادارے کے پاس نہی ہے - یہ بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ ملکہ کے دفاعی ادارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈروں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں سے ہی اس جماعت کی ملک دوستی اور دہشت گردوں کے خلاف ان کی سنجیدگی کے بارے میں مطمین ہوں - پاسبانی والے اداروں کا مقتولین کی تعداد اور وکٹم کے زخموں کی بنیاد پر ان کے وفاداری کو جج کرنا میرے نزدیک ایسے ہی ہے کہ آپ ایک غازی اور ایک شہید فوجی میں آپس میں مقابلہ کروادیں کہ جو شہید ہوا ہے وہ زیادہ وفادار اور بہادر تھا اور جو جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ہے ' اس کی بہادری اور جانثاری قابل سوال اور قابل اعتراض ہے - آپ کا کام زخموں کی گنتی سے وفاداری کی جانچ کرنا نہی بلکہ ان زخموں پر مرہم رکھنا ہے - باقی آپ ضرور ہر پریس کانفرنس میں عمران خان کے خلاف زہر اگلیں ' کیوں کہ اس سے آپ کا اپنا ہی بیانیہ کہ "آپ کا سیاست سے تعلق نہیں ہے " غلط اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے لیکن جس بہادری اور جرات کا نشان آپ نے اپنے جسم پر ملبوس کیا ہوا ہے اس کا تو یہی تقاضہ ہے کہ ہر دوہفتے بعد ایک جیل میں بند انسان کے خلاف تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرنے کے بعد آپ کم سے کم دو مہینے میں ایک دفعہ ضرور اس کو جواب دینے کا موقع دیں کہ وہ اپنی فیملی سے مل کر آپ کے ان دعووں اور الزامات کا پوسٹ مارٹم تو کرسکے- شکریہ "قلم کی جسارت وقاص نواز " ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

24,674 views • 7 months ago

اس وقت میں پشاور میں ہوں، ہر طرف جشن کا سماں ہے، اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر پاکستان کا جشن منا رہے ہیں، خیبر پختونخوا کے غیرتمند پختونوں نے ان تمام منفی بیانیوں، انتشار پسند سوچ اور تقسیم کی سازشوں کا دندان شکن جواب ہے جو اس دھرتی کی وحدت کو تار تار کرنے کے خواب دیکھتے تھے۔خیبر کی تاریخی گھاٹیوں سے لے کر وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے بلند و بالا پہاڑوں تک، پشتون قوم نے اپنے لہو، اپنی غیرت اور اپنے نسل در نسل مستقبل کا رشتہ ہمیشہ اس پاک دھرتی کے ساتھ جوڑا ہے۔ جو مٹھی بھر عناصر عسکریت پسندوں کے دباؤ یا مخصوص سیاسی بیانیوں کی آڑ میں پشتونوں کی ریاست سے وفاداری پر سوال اٹھاتے تھے، آج پشاور کی سڑکوں پر یہ تاریخی عوامی سمندر ان کے تمام نظریات کو یکسر مسترد کر چکا ہے۔ جن قبائلی علاقوں، وزیرستان کے غیور عوام اور سوات کے عوام نے فتنے، بارود اور نقل مکانی کے ہولناک عذاب جھیلے، آج وہی غیور عوام ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم تھامے یہ حتمی فیصلہ سنا رہے ہیں کہ پشتون کا مان، شان، پہچان اور واحد وطن صرف اور صرف پاکستان ہے! یہ ملک ہمارا ہے، اس کی اینٹ سے اینٹ ہماری ہے، اور اس کے آئین و بقا کی خاطر ہمارے آباؤ اجداد، مسلح افواج کے جوانوں، پولیس اہلکاروں اور معصوم شہریوں نے جو بے مثال قربانیاں دی ہیں، وہ اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ہیں کہ پاکستان اور پشتون لازم و ملزوم ہیں۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں، اور پختون قوم کا مقدر، عزت اور بقا صرف اور صرف پاکستان میں ہے! پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰

Khadim Ali khan Yousaf zai

21,987 views • 17 days ago

تمام لبرل حضرات کو میں ایک ہی جواب دینا چاہتا ہوں🚨 سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنے خیالات اور لبرل ازم کا پرچار خیبرپختونخوا کے لوگوں پر مسلط نہ کریں، محترم۔ یہ نہ خیبرپختونخوا کا کلچر ہے اور نہ ہی یہاں بیٹیوں کو اس مقصد کے لیے کالجز بھیجا جاتا ہے۔ آپ پختونخوا کو امریکہ نہ بنائیں، اور نہ ہی صرف اپنی مرضی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں !! دوسری بات یہ کہ میں نے یہ ٹویٹ خیبرپختونخوا سے لکھ کر پوسٹ کیا ہے۔ ہم نے اپنے معاشرے کی حیا اور عزت کے مطابق بات کی ہے۔ مذہب اور کلچر کا لفظ استعمال کیے بغیر بھی میں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ کوئی بھی والدین اپنی بیٹی کو ایسے تعلیمی ادارے میں نہیں بھیجے گا !! ہمارے خیبرپختونخوا کے مشران نہ لڑکوں کو غیر اخلاقی ہونے کی اجازت دیتے ہیں اور نہ لڑکیوں کو۔ اور خاص طور پر یہ حقیقت کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت، احترام اور وقار اسلام نے دیا ہے۔ مرد اور عورت کا مقام الگ ہے — عورت عزت، احترام اور وقار کا نام ہے !! ایک مرد جب تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کی تعلیم اس کی ذات تک محدود رہتی ہے، لیکن جب عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو اس کی تعلیم نسلوں کی تعلیم بنتی ہے، معاشرے کی تربیت بنتی ہے۔ یہ عورت کا وقار ہے — اور آپ جیسے لبرل لوگ اسی وقار کو چھیننا چاہتے ہیں !! ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں تعلیم یافتہ ہوں، علم حاصل کریں، خوشیاں پائیں۔ مگر ہمارے ہاں پختونخوا میں جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں، ان میں لڑکیوں کا سرعام رقص کرنا اور اس کو سراہنا معاشرتی گندگی پھیلانے اور عورت کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے !! اگر کسی کو اپنی بیٹی کو نچوانے کا اتنا ہی شوق ہے تو برائے مہربانی اپنی ذاتی پرائیویسی میں رکھ کر نچوائے — نہ کہ تعلیمی اداروں میں بیٹیوں کا ڈانس کروا کر اس پر تالیاں بجوائے۔ کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹی ناچنے کے لیے تعلیمی ادارے میں داخلہ لے !! ہر والدین اپنے بیٹے اور بیٹی کو باحیا اور باعزت دیکھنا چاہتا ہے، ایسا کہ ان کی عزت پر کوئی انگلی نہ اٹھے۔ اور اگر کوئی بندہ مرد اور عورت کو ایک جیسا درجہ دینا چاہتا ہے کہ عورت اور مرد برابر ہیں، تو وہ سرعام اعلان کرے کہ وہ اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے، کیونکہ اللہ رب العالمین کے قوانین کے مطابق عورت کی اپنی عزت ہے اور مرد کی اپنی عزت !! لہٰذا یہ لبرل ازم اور یہ بے حیائی خیبرپختونخوا سے باہر رکھیں۔ یہ بات ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کے احکامات کو مانتے ہیں۔ جو نہیں مانتے، ان کے لیے تو سڑکوں پر ناچنا بھی کوئی بڑی بات نہیں !! اور یہی وہ لوگ ہیں جو "میرا جسم میری مرضی" کو ان ڈائریکٹلی ڈیفینڈ کر رہے ہیں، ورنہ اگر غور کیا جائے تو مقصد ایک ہی ہے صرف طریقہ بدل ہے !!

Mohammad Shehzad Khan

41,533 views • 8 months ago

ذرا سوچیے!! شہناز کے اپنے گھر والے ہی اس کی سوچ اور راستے کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ ایک ماں کی آواز، ایک دادا کے لرزتے الفاظ اور خاندان کی بے بسی یہ بتا رہی ہے کہ وہ راستہ کبھی درست نہیں ہو سکتا جو اپنے ہی گھر کو دکھ، خوف اور شرمندگی میں مبتلا کر دے۔ جو اپنی سوچ اپنے گھر میں قبول نہ کرا سکی اُسے فتنہ الہندوستان نے بلوچ خواتین کو مسلح جدوجہد کی طرف اکسانے کے لیے لاونچ کیا۔ شہناز بلوچ کی والدہ، دادا اور خاندان کے دیگر افراد نے بلوچی زبان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کے وفادار ہیں اور ہر حال میں اپنے وطن کی تحفظ کےلیے ہمیشہ ساتھ کھڑے ہونگے۔ ہمیں نہ اس غلط قدم کا علم تھا اور نہ ہی اب ہمارا شہناز سے کوئی تعلق ہے۔ ان کے چہروں کی اداسی اور لہجے کا کرب بہت کچھ بیان کر رہا تھا۔۔۔۔۔ مگر افسوس عورتوں کو اپنی مزموم مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے ان دہشتگردوں کو اس درد کا احساس نہیں۔ روز باپردہ بے گناہ بلوچ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں کیمرے کے سامنے آکر اپنے ٹوٹے دلوں کی کہانیاں قوم کو سنا رہیں ہیں ۔انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ،انہیں نہ ماں کے آنسو دکھائی دیتے ہیں، نہ خاندانوں کی بکھرتی زندگیاں… بس اپنے بیرونی آقا انڈیا کو خوش رکھنا ہی انکا اصل مقصد ہے۔

Meena Majeed Baloch, MPA

17,476 views • 3 months ago