Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

یہ جناب راشد نصر اللہ ہیں ان کو والدین نے کام کاج اور نوکری کے لیے لندن بھیجا وہاں ان کو میاں نواز شریف کا پی اے بنایا گیا، اب ما شاء اللہ یہ پاکستان واپس آ گئے ہیں اور وزیر لیول کا پروٹوکول لیے گھومتے ہیں، یہ والدین...

35,524 views • 1 month ago •via X (Twitter)

31 Comments

Noor Yaar's profile picture
Noor Yaar1 month ago

یہاں جس بندے کا کسی وزیر مشیر کے ساتھ تعلق بن جائے اس کے پورے خاندان کی زندگی بدل جاتی ہے..

Ehsan's profile picture
Ehsan1 month ago

بالکل

shoaib's profile picture
shoaib1 month ago

پاکستان میں رہ کر ماریں کھانے والے صابر ہاشمی بھائ جیسے ورکر اج بھی وہیں ہیں مجھے اج بھی وہ دن نہیں بھولتا جب ان کو اٹھایا گیا تھا اور ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو دیکھا تھا

danish mansha`'s profile picture
danish mansha`1 month ago

غریب بندے کو لوگ ترقی کرتا بھی نہیں دیکھ سکتے 😉

Ehsan's profile picture
Ehsan1 month ago

😁😁

Rana Amir's profile picture
Rana Amir1 month ago

اسکی واحد کوالیفیکیشن ایون فیلڈز اپارٹمنٹس کے باہر کھڑے یوتھیوں کے نعروں کا جواب دینا تھا۔نواز شریف کو مشرف نے گرفتار کیا اور پہلے کراچی جیل میں رکھا تو جو بندہ نواز شریف کے لئیے دہی بھلے جیل میں پہنچاتا تھا وہ مُلک کا صدر بنا دیا تھا شُکر کریں ابھی تک اسے صدر نہیں لگایا 😀

MS Khan's profile picture
MS Khan1 month ago

یہ ملٹی کلر لائٹس والی سرکاری گاڑیاں رات کو اسلام آباد میں سرکاری آفیسرز کے ڈرائیور بھی شو آف کر رہے ہوتے ہیں ۔۔ یہ اتنا مسئلہ نہیں ہے۔ پوری ویڈیو دیکھنے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ پروٹوکول میں کتنی گاڑیاں ہیں ۔ بظاہر ایک اور گاڑی پیچھے آرہی ہے جو شاید کسی مشیر کی ہو۔۔

Khizar Hayat Abbasi's profile picture
Khizar Hayat Abbasi1 month ago

ہاں سکوپ تو ہے، لیکن سب کے لئے نہیں جس کے پاس ہنر ہو

Ehsan's profile picture
Ehsan1 month ago

اٹھانے کا ہنر؟

Fatima Tu-Zahra's profile picture
Fatima Tu-Zahra1 month ago

بس جی یہ اقتدار کا نشہ

Johan Smith's profile picture
Johan Smith1 month ago

اللہ ھی حافظ ھے اس ملک کا۔

Azez Shaikh's profile picture
Azez Shaikh1 month ago

@GorayaAftab Only possible in beloved country like Pakistan 🇵🇰

Awan 🕊's profile picture
Awan 🕊1 month ago

بس شرط کے کہ مافیا جوائن کر لیں چاھے سیاسی ھو یا غیر سیاسی

محمد احمد's profile picture
محمد احمد1 month ago

@ch_saaim کھوتی دا پتر

🇵🇰's profile picture
🇵🇰1 month ago

موجیں لگی ہوئی ہیں اس کی بھی

Surgeon🔄's profile picture
Surgeon🔄1 month ago

@MaryamNSharif اس پروٹوکول والی نون لیگ کا تو ہمیں بھی پتہ نہی تھا۔۔🫪

Nazir Ahmed's profile picture
Nazir Ahmed1 month ago

یہ وائرل ہو جائیں اور یا پھر ٹوں ٹوں والا پروٹوکول مل جائے, یہی آج کل کا منترہ ہے!!!

Mian Abdulsattar's profile picture
Mian Abdulsattar1 month ago

کر لے انکوائے چار دن پھر بھاگے گا

Ibrar's profile picture
Ibrar1 month ago

@RashidNasrulah

Usman Tahir's profile picture
Usman Tahir1 month ago

Hahahahahahahahahaha just a tik toker has given such protocol.What a shame.

✧ 🎀 𝓚𝓲𝓷𝓰 𝓜𝓪𝓴𝓮𝓻 🎀 ✧'s profile picture
✧ 🎀 𝓚𝓲𝓷𝓰 𝓜𝓪𝓴𝓮𝓻 🎀 ✧1 month ago

بھائی یہ اچھا انسان ہے۔ میرا رابطہ رہا ہے اور میں اپنی ذاتی تجربے کی بنیاد پہ کہہ رہا ہوں کہ یہ بندہ بہت اچھا انسان ہے اور اچھے اخلاق کا مالک ہے

🍀's profile picture
🍀1 month ago

Kia BC Phuddo log hn

تحریم انور's profile picture
تحریم انور1 month ago

Jb tk tm jesy khoti k bchy inky supporter Hain inko koi msla nhi hoga

Adnan's profile picture
Adnan1 month ago

Jo tanqeed kr rhe he unka apna kya past he

Free.human's profile picture
Free.human1 month ago

Friends who supported and stood by them during exile and tough times are now in lime light. This is game of thrones.

Adel's profile picture
Adel1 month ago

بھئی اس طرح کے جھکے رہنے کی مہارت ہر پاکستانی میں نہیں ہے۔ اور نہ اس کی طرح چگنے کی صلاحیت ہر پاکستانی میں ںہے۔ اس ترقی کے لئے انتہائی اونچے لیول کا بے غیرت ہونا پڑتا ہے۔ پٹواریوں کا لیول ہی اور ہے۔

netdemon's profile picture
netdemon1 month ago

یہ ایک درباری شاعر تھا جو گندی اور سکیسی شاعری کیا کرتا تھا ۔یہ کیسے میاں صاحب کے قریب آیا یہ لندن والے بھائ اور پرانے بھائ لوگ زبیر گل وغیرہ ہی جانتے ہیں ۔بچہ ہے یہ انکا

DARK SILINCE's profile picture
DARK SILINCE1 month ago

Patwarion ko kese kese Gandoo mile🤣🤣

A Abbasi's profile picture
A Abbasi1 month ago

Ye london ma shareefo ka wafadar kutta ha. Unke lia sahi bhoonkta raha ha.

Shahzaib's profile picture
Shahzaib1 month ago

یہ پرٹوکول کا پیسہ پانی جیب سے دے رہے ہیں ؟ عوام کے پیسوں پر عیای کر رہے ہیں۔ عوام کے لئے کیا خدمات ہیں ان کی ؟؟؟؟ اور یہ اس قابل ہیں ان کو یہ پرٹوکول دیا جائے ؟؟؟؟

iqra Sajjad's profile picture
iqra Sajjad1 month ago

Jitna iss nay mon main rakahy Hain utha utha Kay Tou itna banta ha .....

Related Videos

آخری بادشاہ ہم ہیں 👇 اس ملک/قوم کی قسمت اس ایک کلپ میں دیکھیں۔ سب سمجھ آ جائے گا کہ انسانی تاریخ میں اقتدار کے لیے ترک اور مغل حکمران اپنے سگے بھائیوں تک کے گلے کیوں کاٹ دیتے تھے۔ شاہد خاقان عباسی اس ملک کا وزیراعظم تھا۔ شہباز شریف وزیراعظم بن بیٹھے اور انہیں دوبارہ وزیراعظم نہیں بنایا گیا تو وہ پی آئی اے کی یورپ پرواز شروع ہونے پر افسردہ اور غم زدہ ہے۔ سابق وزیراعظم شریفوں سے ناراضی کابدلہ ملک اور قوم سے لے رہا ہے۔ دوسرا سابق وزیراعظم عمران خان جیل میں ہے۔ ان سے مجھے پوری ہمدردی ہے لیکن وہ بھی اپنے اوورسیز حامیوں کو کہہ رہا ہے اس ملک میں ڈالر نہ بھیجیں تاکہ پورا ملک تباہ ہو۔ڈیفالٹ کرے۔ اس ملک میں خانہ جنگی ہو کیونکہ وہ جیل میں ہے۔ وہ بھی جنرل عاصم منیر سے پرانی لڑائی کا بدلہ اس ملک اور قوم کو تباہ کر کے لینا چاہتا ہے۔ یہ ہے اس ملک اور قوم اس کے سابق سیاستدان جو دوسری دفعہ وزیراعظم نہیں بنے تو ان کی بلا سے ریاست ملک عوام بچے یا تباہ ہو۔ ان کی جوتی کو بھی پرواہ نہیں۔ یہ ہوتی ہے نرگیست، اپنی ذات سے اندھا رومانس، محبت اور خود سے عاشقی۔ ان نرگیست کے مارے لوگوں کے لیے اپنی ذات اور اس سے جڑے ذاتی مفادات اہم ہیں، ان کے لیے وزیراعظم بننا اہم ہے ملک اور عوام نہیں۔ ان سے زیادہ داد اس عوام کو دیں یا ان فوجی جرنیلوں کو جنہوں نے ان لوگوں کو پاکستان کا بادشاہ بنایا۔ یہ سب تا عمر وزیراعظم بننے آئے تھے، نہیں بنے تو اب سب کچھ تباہ ہو جائے انہیں پرواہ نہیں۔ یہ وزیراعظم بننے کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔ اس سے کم عہدے پر یہ راضی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے عوام پر حکمران لگ کر زندہ رہنا ہے اس سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔ ان کی سوچ ہے اگر میں بادشاہ ہوں تو ملک اور ریاست بھی ہے، پھر سب ٹھیک ہے، سب اچھا ہے۔ اگر میں وزیراعظم نہیں رہا تو بھلا میری بلا سب کچھ ڈوب جائے۔ تباہ ہو جائے۔ آخری بادشاہ ہم ہیں۔ #RaufKlasra

Rauf Klasra

78,515 views • 1 year ago

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں... جب متحدہ مجلسِ عمل نے 2002 میں وزیراعظم کا الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا، تو جنرل مشرف صاحب نے مجھے بلایا اور مجھے کہا کہ آپ دستبردار ہو جائیں، آپ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ تو میں نے کہا کہ میں کیوں نہیں لڑوں گا؟ کیا میرا آئین رکاوٹ ہے؟ کیا کوئی قانون رکاوٹ ہے؟ کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں؟ انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا، صاف الفاظ میں کہ آپ کو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہے۔ آپ بتائیں! جب میرے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ یہ ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے عوام کا نمائندہ ہزار بار بننے کے قابل ہو، لیکن اگر وہ امریکہ اور یورپ کے لیے قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ اور پھر جب میں نے کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے؟ تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں ہم غلام ہیں، ہم غلام ہیں، ہم آزاد نہیں ہیں، تو آپ اس حقیقت کو تسلیم کر لیں نا کہ ہم غلام ہیں اور غلامی حقیقت ہے۔ نعرے مت لگاؤ ذرا صبر کرو، بات تو سن لو میری۔ جب مجھے کہا گیا کہ آپ اس کو تسلیم کر لیں کہ ہم غلام ہیں، تو میں نے کہا کہ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم غلام ہیں۔ لیکن اب آگے دو راستے ہیں: پہلا راستہ اس غلامی کو قبول کر لینا اور ان قوتوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر لینا۔ یہ آپ کے آباؤ اجداد کا درس ہے جو آپ کو پڑھایا گیا ہے۔ دوسرا راستہ ان قوتوں کے خلاف، اس غلامی کے خلاف آزادی کا علم بلند کرنا اور آزادی کے لیے میدان میں اترنا ہے۔ یہ میرے آباؤ اجداد اور اسلاف کا درس ہے جو مجھے پڑھایا گیا ہے۔ تجھے اپنے آباؤ اجداد اور اسلاف کا راستہ مبارک، مجھے اپنے اکابر اور اسلاف کا راستہ مبارک۔ میں اس غلامی کے خلاف لڑوں گا اور آخری دم تک لڑوں گا۔ #عوام_مولانا_کے_سنگ #حق_کی_آواز_جمعیت #نکے_دا_پروپیگنڈا #شہدابہانہ_خزانہ_نشانہ #ذخائر_کے_چور

Ihsan Ullah Khan 🇵🇰

29,045 views • 2 months ago

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,092 views • 2 months ago

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 views • 2 years ago

میں اس وقت ہمارے ایم پی اے عبدالکریم خان کے ڈیرے پر ہوں، کل رات یہاں اس ڈیرے پر حملہ ہوا ہے۔ چادر اور چار دیواری کی بے توقیری کی گئی، گھر کے اندر بھی توڑ پھوڑ کی گئی، خواتین اور بچوں کی بے حرمتی کی گئی اور یہاں جتنی گاڑیاں تھیں، ان کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ ملک اس طرح چلے گا؟ آپ نے عدالتیں بنائی ہیں، پولیس ہے، کئی ادارے ہیں، تو ان کا کیا کردار ہے؟ یہ ڈکلیئر کر دیں کہ یہ ملک نہیں، جنگل ہے، بنانا ریپبلک ہے۔ یہ آئین کس لیے بنایا ہے، یہ قانون کس لیے بنایا ہے۔ ہم بالکل واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا جمہوری حق ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ ہمارا جو جمہوری حق ہے، آئین ہمیں حق دیتا ہے، قانون ہمیں حق دیتا ہے، وہ کوئی ہم سے نہیں چھین سکتا۔ آپ جتنا جبر کر سکتے ہو، جتنے ظلم کر سکتے ہو، ان شاء اللہ ہم کھڑے رہیں گے اور آپ کے جبر اور آپ کے ظلم کا مقابلہ کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ گورنر صاحب نے کس قانون کے تحت سکیورٹی کی میٹنگ کی ہے؟ کیا آپ نے گورنر راج لگایا ہے، آپ نے ایمرجنسی لگائی ہے؟ کس قانون کے تحت گورنر سکیورٹی میٹنگ کر رہے ہیں۔ میں بلاول صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں، بلاول صاحب، آپ تو جمہوریت کے بڑے چیمپئن ہیں۔ بلاول بھٹو جمہوریت کا بہت راگ الاپتے ہیں۔ آپ بینظیر بھٹو کے فرزند اور ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے ہیں۔ بلاول صاحب، کیا یہ آپ کی جمہوریت ہے؟ آپ اس ظلم کے ساتھ باقاعدہ شریک ہیں، آپ باقاعدہ اس حکومت میں شامل ہیں اور آپ کا گورنر غیر قانونی کام کر رہا ہے۔ہمیں کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا ساتھ نہیں دے رہے۔ آپ نے بائیس آپریشن کیے، کیا ان بائیس آپریشنز کے بعد امن قائم ہوا؟ کیا ان بائیس آپریشنز کے بعد یہاں دہشت گردی کا خاتمہ ہوا۔ ہماری تو بالکل کلیر پالیسی ہے کہ ہم دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم امن کی بحالی چاہتے ہیں، ہر صورت میں اپنے لوگوں کو امن دینا چاہتے ہیں، لیکن آپ کو اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

Asad Qaiser

49,233 views • 1 day ago

اب نئی بحث چھڑ گئی کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے۔ میں نے کہا، کوئی عقل بھی ہے تمہارے اندر، کم بختو! سوچو تو سہی، ایک گھر ہے، اس کے ایک حصے میں آگ لگی ہوئی ہے، دوسرے حصے میں آگ لگی ہوئی ہے۔ کیا اس ماحول میں بھائی بیٹھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آئیے، ذرا مکان جو ہے، اس کو تقسیم کر لیں؟ ان شعلوں کے اندر آپ صوبوں کی بات کر رہے ہیں؟صوبے بنتے رہتے ہیں، دنیا میں بھی بنتے ہیں، انڈیا میں بھی بنتے ہیں، لیکن نہ ماحول اس وقت موجود ہے، نہ تیاری ہے۔ بس ایک ادارہ اور ایک ادارے کے سربراہ کی خواہش ہے اور وہ جبراً قوم پر مسلط کر رہا ہے۔ تو ہم نے اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ فاٹا انضمام پر ہم چیخ رہے تھے کہ وقت نہیں ہے، ابھی تم تیار نہیں ہو، ماحول نہیں ہے۔ آپ نے کہا، نہیں، بن کے رہے گا۔ تو مجھے تو اس وقت بھی پتا ہے کہ اس کے پیچھے امریکہ تھا۔ تو میں کیسے نہیں کہوں گا کہ آج صوبوں کی تقسیم اور ملک کے اندر یہ افراتفری، اس کے لیے بیرونی دباؤ نہیں ہوگا؟ اور تم خود اتنے تگڑے ہو کہ ملک کے اندر یہ رسک لے رہے ہو اور صوبوں کو کیوں توڑا جا رہا ہے!اس لیے نہیں کہ اصولی طور پر یونٹ بنتے ہیں اور پوری دنیا میں ہو رہے ہیں اور انڈیا میں بھی ہو رہا ہے، اس لیے کہ اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ آئینی طور پر طے ہوا کہ محصولات میں صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا جا سکے گا اور کمی نہیں کی جا سکے گی۔ اور اس وقت شاید انچاس فیصد محصولات کا صوبوں کے لیے تھا، بڑھتے بڑھتے شاید چھپن، ستاون فیصد تک ہو گیا ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کے لیے وہ صوبوں کو توڑنا چاہتے ہیں، تاکہ ازسرِنو ہم نیا این ایف سی ایوارڈ کریں گے۔ اور دوسرا یہ کہ جو صوبوں کے اندر معدنی ذخائر ہیں، ان پر صوبوں کے عوام کا حق ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت وہ صوبوں کی ملکیت ہے۔ ان معدنی ذخائر کے لیے وہ ہمارے قبائل کو، ہمارے صوبوں کے عوام کو، عام آدمی کو مالک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔ ان دو مقاصد کے لیے صوبوں کو تقسیم کرنا بڑا ناگزیر ہو گیا ہے، بڑا ناگزیر ہو گیا ہے۔ تو ہم نہ ہی ایسی چیز کی حمایت کر سکتے اور نہ ہی آپ کی بس میں ہے کہ آپ جبراً قوم کے اوپر فیصلے مسلط کریں گے اور ہم اس کو مانتے رہیں گے۔ یہ کیسے ہوگا؟ بلوچستان میں آپ کی گرفت نہیں ہے۔ ہنہ اوڑک اور اس کے پہاڑ یہ چھاؤنی کے بالکل اوپر ہے اور وہاں لوگ چڑھ گئے اور لوگوں کو شہید کیا۔ زیارت میں یہی ہوا۔ آج جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ عمومی کا جو اجلاس کراچی میں ہو رہا تھا، بلوچستان کی جماعت کی درخواست پر پشاور میں لایا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کراچی نہیں پہنچ سکتے، ہمارے راستے نہیں ہیں اس قابل۔ کبھی ہم نے، آج سے، کسی جماعت نے اس حوالے سے کوئی عذر نہیں پیش کیا۔ میں خود پورے بلوچستان میں پھرا ہوں، ایک گاڑی کے اندر پھرتا رہا ہوں، مکران تک گیا ہوں، تربت تک گیا ہوں، پنجگور تک گیا ہوں، پسنی تک گیا ہوں، گوادر تک گیا ہوں۔ آج وہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی، کوئٹہ شاہراہ غیر محفوظ ہے، ہمارے ہاں کی شاہراہوں پر گھنٹوں گھنٹوں کے ناکے لگے ہوتے ہیں۔ ہم کیا زندگی گزار رہے ہیں؟ ہمیں ٹھنڈی زمین تو دو، ہمیں امن تو دو۔ تو صوبوں کے حوالے سے بھی ہم ان کو خیرخواہانہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اس وقت صوبوں کو توڑنا، اس کو نئے صوبوں میں تبدیل کرنا، اور پھر لوگوں کو لالچ دیتے ہیں، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی۔ جیسے ہم حکومت کے بھوکے ہیں! تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں۔ بلوچ علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے۔ کشمیر میں، راولاکوٹ میں، تین مہینے ہو گئے ہیں لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا مقاصد ہیں؟ رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خودمختار کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,972 views • 1 month ago