Video yükleniyor...
Video Yüklenemedi
یہ شخص مسکرا کر اسے ویلکم کرتے ہوئے ہاتھ سے بھی اس کا رخ موڑ سکتا تھا لیکن نہیں اس نے ایک پردیسی کو ٹھڈے مار کر بتایا کہ تمھاری کیا اوقات ہے بہت افسوس ہے یار اس قسم کے روئیے پر یہ وہ لوگ جو اپنوں سے دور... show more
1,154,731 görüntüleme • 1 gün önce •via X (Twitter)
33 Yorum

اسی پردیسی کے ٹیکس کے پیسے پہ یہ حرامی مسلح سور اپنی بیوی کے پیڈز کیتا ہو گا مادر چود کتے۔ آئین و قانون کے باغی سور

1 hazar ka note is ke mounh pr marta to salute be kr deta

اچھا یہ اپنے آپ کو بدمعاش صرف وردی کے بل بوتے پہ سمجھ رہا ہے۔ وردی اتر جائے تو پھر؟ پاکستانیوں کی یہ سوچ کیوں ہے؟ پولیس کی وردی، فوج کی وردی، اے ایس ایف کی وردی حتیٰ کہ کوئی بھی وردی پہن لیں تو فرعون کیوں بن جاتے ہیں؟

پاکستان میں وردی ایک لعنت بن چکی ہے۔ وردی ناپاک فوج کی ہو یا ان کے کسی ذیلی ادارے کی ناپاک غلیظ اور متعفن ہی ہو گی

We have never seen such a shameless security guard and all the security agencies of Pakistan are certainly very shameless and because of these passengers your child is getting a salary and there is a limit to shamelessness.

امریکہ کے نوکر ہیں نخرہ تو دکھائیں گے

ان جیسوں کا غرور بہت جلد خاک میں ملنے والا ھے۔

Yahie suwr Pakistani ki hadyan chus rhya hyn

یہ اس ملک پر مسلط فرعونوں کا ٹولہ ہے جو ملک اور عوام کو نوچ نوچ کر کھا رہا ہے جتنا جلدی ہو سکے اس سے جان چھڑوائیں

پردیسی جب کئی سالوں کے بعد واپس اپنے ملک اتاہےتو اپنے وطن کی سرزمین اور ملک کے ہر فرد کو اپنایت کی نظر سے دیکھتا ہےاور بدلے میں بھی محبت کی توقع رکھتا ہے لیکن اس ملک میں گھٹن ذدہ ماحول صرف مخصوص لوگوں کی نوکر چاکر رہ گئے ہین

لگتا ھے آج اس کم ظرف ملازم کی دھاڑی صحیح نہیں لگی ھے ۔ اس لیئے مسافر پہ غصہ نکال رہا ھے ۔۔۔۔

Shukar karain ana dia hy..!

@kharwa_such I met this Pakistani store owner who told me he no longer visits Pakistan. Instead, he takes his family on vacations to other countries simply because of issues like these. It’s heartbreaking that people feel discouraged from visiting their own homeland. So sad!

Haan q k ye jahil k bachat darwazo se anadar ghus rhy hoty hn aur 1 ko receive krny 15 20 jaty hn. Receive kum aur lrkiyan ziyada daikhny aaty hn.

In ki ghairat khatam ho gye hai. Hamain to bher bakrian samjhtay hain yeh uniform waly

ناسور ہیں یہ لوگ۔ یہ نظام تیزاب کے ساتھ دھونے سے ہی ٹھیک ہوگا

یہ ہمارے تمام سرکاری ملازمین اور دفاتر میں عام رویہ ہے۔۔۔لوگوں کو جانوروں سے برا سمجھا جاتا ہے

O bhi is me kuch Bora nahe he q logon ko kha makha aesa dikha rahe ho trail ka neachy ka hissa pawn se hi asani se morta he bhi

یہ وردی والے شیطان الباکستان ہیں

😥😥😥

کہتے ہیں۔اپنے گھر اور وردی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے ۔ لیکن وردی میں لگتا ہے اخلاقیات اور انسانیت ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔ قوم کی وردی قوم کی دی طاقت اور قوم پر ہی ظلم ۔۔۔۔۔ لکھ دی لعنت تواڈے اتے۔۔۔۔

او بھائی گدھے لات ہی مارتے ہیں کیا اپ نہیں جانتے

Is mulk main har koi firaun hai.

Shameless some of department officers..

Is dunya mai nahi toh akhrat Mai in sab se hisaab kitab kia jaye ga Inshallah. Tab dekhain gai Kon kitni faroniyat dikhata hai. Or us wakt sai darna chahiye bohat dur nahi hai woh wakt.

Lant

صحیح یا غلط کی بحث ہی نہیں۔ پاکستان دنیا کے کسی ملک کی جنگ کا شریک نہیں۔ یہ عاصم منیر اپنے قبضے کی حمایت کا تاوان ادا کررہا ہے۔ یہ پاکستان کی نہیں عاصم منیر کی جنگ ہے۔

اسمیں تنقید والی کیا بات ہے .... مجھے سمجھ نہیں آرہی تنقید والی خاص بات ...وہ جاب پر ہے ائیر ہوسٹس نہیں ہے .... باڈی لینگوچ سے تو نہیں لگ رہا کچھ انسلٹنگ کیا اسنے جان بوجھ کر ....بس پبلک ویلی بیٹھی ہے کام کوئی ہے ہور ..کاش پبلک دماغ کا استعمال بھی شروع کر دے ..

یہ کونسا ائیرپورٹ ہے۔

اس کتے کے بچے کی وردی اور تنخواہ ان ہی لوگوں کے جیب سے آتی ہے

سب کو پتہ ہے کہ یہ انتشاری جنگلی ہے ۔ اس لیئے ٹھڈا مارا گیا ۔۔۔۔ بہرحال پاکستان زندہ باد 🇵🇰

پردیسی یا پاکستان ذرمبادلہ بھیجنے والا محب وطن؟

Indian army ke samny shalwar utarny waly.
Benzer Videolar
Sensitive content
آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
Maulana Fazl-ur-Rehman
25,074 görüntüleme • 17 gün önce
