Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

یہ شخص مسکرا کر اسے ویلکم کرتے ہوئے ہاتھ سے بھی اس کا رخ موڑ سکتا تھا لیکن نہیں اس نے ایک پردیسی کو ٹھڈے مار کر بتایا کہ تمھاری کیا اوقات ہے بہت افسوس ہے یار اس قسم کے روئیے پر یہ وہ لوگ جو اپنوں سے دور...

1,154,731 görüntüleme • 1 gün önce •via X (Twitter)

33 Yorum

Adnan Ghafoor profil fotoğrafı
Adnan Ghafoor1 gün önce

اسی پردیسی کے ٹیکس کے پیسے پہ یہ حرامی مسلح سور اپنی بیوی کے پیڈز کیتا ہو گا مادر چود کتے۔ آئین و قانون کے باغی سور

IndusBreeze profil fotoğrafı
IndusBreeze1 gün önce

1 hazar ka note is ke mounh pr marta to salute be kr deta

Waleed profil fotoğrafı
Waleed1 gün önce

اچھا یہ اپنے آپ کو بدمعاش صرف وردی کے بل بوتے پہ سمجھ رہا ہے۔ وردی اتر جائے تو پھر؟ پاکستانیوں کی یہ سوچ کیوں ہے؟ پولیس کی وردی، فوج کی وردی، اے ایس ایف کی وردی حتیٰ کہ کوئی بھی وردی پہن لیں تو فرعون کیوں بن جاتے ہیں؟

Saram Jutt🇵🇰 profil fotoğrafı
Saram Jutt🇵🇰1 gün önce

پاکستان میں وردی ایک لعنت بن چکی ہے۔ وردی ناپاک فوج کی ہو یا ان کے کسی ذیلی ادارے کی ناپاک غلیظ اور متعفن ہی ہو گی

NASEER KHAN profil fotoğrafı
NASEER KHAN1 gün önce

We have never seen such a shameless security guard and all the security agencies of Pakistan are certainly very shameless and because of these passengers your child is getting a salary and there is a limit to shamelessness.

Arshad Khan profil fotoğrafı
Arshad Khan1 gün önce

امریکہ کے نوکر ہیں نخرہ تو دکھائیں گے

Patriot profil fotoğrafı
Patriot1 gün önce

ان جیسوں کا غرور بہت جلد خاک میں ملنے والا ھے۔

Imranmanie pti.Bhakhar profil fotoğrafı
Imranmanie pti.Bhakhar1 gün önce

Yahie suwr Pakistani ki hadyan chus rhya hyn

❤️میری پہچان پاکستان ❤️ profil fotoğrafı
❤️میری پہچان پاکستان ❤️1 gün önce

یہ اس ملک پر مسلط فرعونوں کا ٹولہ ہے جو ملک اور عوام کو نوچ نوچ کر کھا رہا ہے جتنا جلدی ہو سکے اس سے جان چھڑوائیں

Aamir Ijaz profil fotoğrafı
Aamir Ijaz1 gün önce

پردیسی جب کئی سالوں کے بعد واپس اپنے ملک اتاہےتو اپنے وطن کی سرزمین اور ملک کے ہر فرد کو اپنایت کی نظر سے دیکھتا ہےاور بدلے میں بھی محبت کی توقع رکھتا ہے لیکن اس ملک میں گھٹن ذدہ ماحول صرف مخصوص لوگوں کی نوکر چاکر رہ گئے ہین

GM Sayyed profil fotoğrafı
GM Sayyed1 gün önce

لگتا ھے آج اس کم ظرف ملازم کی دھاڑی صحیح نہیں لگی ھے ۔ اس لیئے مسافر پہ غصہ نکال رہا ھے ۔۔۔۔

Great Khan profil fotoğrafı
Great Khan1 gün önce

Shukar karain ana dia hy..!

sAAD gE profil fotoğrafı
sAAD gE1 gün önce

@kharwa_such I met this Pakistani store owner who told me he no longer visits Pakistan. Instead, he takes his family on vacations to other countries simply because of issues like these. It’s heartbreaking that people feel discouraged from visiting their own homeland. So sad!

Agha Danish Ali Khan profil fotoğrafı
Agha Danish Ali Khan1 gün önce

Haan q k ye jahil k bachat darwazo se anadar ghus rhy hoty hn aur 1 ko receive krny 15 20 jaty hn. Receive kum aur lrkiyan ziyada daikhny aaty hn.

Humayoon Cheema profil fotoğrafı
Humayoon Cheema1 gün önce

In ki ghairat khatam ho gye hai. Hamain to bher bakrian samjhtay hain yeh uniform waly

Yasir Hussain profil fotoğrafı
Yasir Hussain1 gün önce

ناسور ہیں یہ لوگ۔ یہ نظام تیزاب کے ساتھ دھونے سے ہی ٹھیک ہوگا

M Imran profil fotoğrafı
M Imran1 gün önce

یہ ہمارے تمام سرکاری ملازمین اور دفاتر میں عام رویہ ہے۔۔۔لوگوں کو جانوروں سے برا سمجھا جاتا ہے

kami profil fotoğrafı
kami1 gün önce

O bhi is me kuch Bora nahe he q logon ko kha makha aesa dikha rahe ho trail ka neachy ka hissa pawn se hi asani se morta he bhi

M. Shahid profil fotoğrafı
M. Shahid1 gün önce

یہ وردی والے شیطان الباکستان ہیں

IMRAN KHANZZ profil fotoğrafı
IMRAN KHANZZ1 gün önce

😥😥😥

عوام اور طاقت profil fotoğrafı
عوام اور طاقت1 gün önce

کہتے ہیں۔اپنے گھر اور وردی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے ۔ لیکن وردی میں لگتا ہے اخلاقیات اور انسانیت ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔ قوم کی وردی قوم کی دی طاقت اور قوم پر ہی ظلم ۔۔۔۔۔ لکھ دی لعنت تواڈے اتے۔۔۔۔

Hakeem Bakhtiar 🇵🇰 (Fixit Karak) profil fotoğrafı
Hakeem Bakhtiar 🇵🇰 (Fixit Karak)1 gün önce

او بھائی گدھے لات ہی مارتے ہیں کیا اپ نہیں جانتے

Marshal Konstantine profil fotoğrafı
Marshal Konstantine1 gün önce

Is mulk main har koi firaun hai.

RAJA NOUMAN PTI profil fotoğrafı
RAJA NOUMAN PTI1 gün önce

Shameless some of department officers..

KingOfYapping Polo profil fotoğrafı
KingOfYapping Polo1 gün önce

Is dunya mai nahi toh akhrat Mai in sab se hisaab kitab kia jaye ga Inshallah. Tab dekhain gai Kon kitni faroniyat dikhata hai. Or us wakt sai darna chahiye bohat dur nahi hai woh wakt.

Shahid Ghani profil fotoğrafı
Shahid Ghani1 gün önce

Lant

riaz hussain profil fotoğrafı
riaz hussain1 gün önce

صحیح یا غلط کی بحث ہی نہیں۔ پاکستان دنیا کے کسی ملک کی جنگ کا شریک نہیں۔ یہ عاصم منیر اپنے قبضے کی حمایت کا تاوان ادا کررہا ہے۔ یہ پاکستان کی نہیں عاصم منیر کی جنگ ہے۔

🌻𝕊𝕒𝕟𝕒 𝕊𝕪𝕖𝕕🌊🏝(𝐹𝓊𝓈𝒾𝑜𝓃 𝒢𝒾𝓇𝓁)🌸 profil fotoğrafı
🌻𝕊𝕒𝕟𝕒 𝕊𝕪𝕖𝕕🌊🏝(𝐹𝓊𝓈𝒾𝑜𝓃 𝒢𝒾𝓇𝓁)🌸1 gün önce

اسمیں تنقید والی کیا بات ہے .... مجھے سمجھ نہیں آرہی تنقید والی خاص بات ...وہ جاب پر ہے ائیر ہوسٹس نہیں ہے .... باڈی لینگوچ سے تو نہیں لگ رہا کچھ انسلٹنگ کیا اسنے جان بوجھ کر ....بس پبلک ویلی بیٹھی ہے کام کوئی ہے ہور ..کاش پبلک دماغ کا استعمال بھی شروع کر دے ..

سرکاری کھاتہ profil fotoğrafı
سرکاری کھاتہ1 gün önce

یہ کونسا ائیرپورٹ ہے۔

alex profil fotoğrafı
alex1 gün önce

اس کتے کے بچے کی وردی اور تنخواہ ان ہی لوگوں کے جیب سے آتی ہے

Amal Khan profil fotoğrafı
Amal Khan1 gün önce

سب کو پتہ ہے کہ یہ انتشاری جنگلی ہے ۔ اس لیئے ٹھڈا مارا گیا ۔۔۔۔ بہرحال پاکستان زندہ باد 🇵🇰

Honest Caring profil fotoğrafı
Honest Caring1 gün önce

پردیسی یا پاکستان ذرمبادلہ بھیجنے والا محب وطن؟

Altaf Khan🫠 profil fotoğrafı
Altaf Khan🫠1 gün önce

Indian army ke samny shalwar utarny waly.

Benzer Videolar

یہ ارب پتی سردار تھا۔ اربوں روپیہ رائلٹی سوئی گیس کے نام پر یہ حکومت پاکستان سے لیتا تھا۔۔ اس کو پرائیویٹ جہاز دیے جاتے تھے۔۔ مگر اس کے اپنے علاقے میں سوئی گیس نہیں تھی کیونکہ نواب کو یہ پسند نہیں تھا کہ اس کے گھر میں گیس ہو اور سارے گاؤں کے گھروں میں بھی گیس ہو۔۔ اور یہ بات اس کو پروپگینڈا کرنے میں بھی مدد دیتی تھی کہ پاکستان ہمیں لوٹ رہا ہے دیکھیں پورے پاکستان کو سوئی گیس جاتی ہے اور سوئی میں گیس نہیں ہے ‌‌ ۔۔ یہ کمینہ یہ نہیں بتاتا تھا کہ اس نے خود منع کیا ہوا ہے کہ میرے گاؤں کو گیس نہیں دی جائے گی۔ اس نے اپنی ہی قوم کے لاکھوں لوگوں کو مار کر نکال دیا تھا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا تھا۔‌ سرفراز بگٹی جو اج وزیراعلی ہے اس کا پورا خاندان بلوچستان سے نکال کر پنجاب میں خوار ہوتا تھا۔ مشرف نے صرف یہ کیا تھا کہ ان دربدر بلوچوں کو واپس لے جا کر ڈیرہ بگٹی میں اباد کر دیا۔‌ اس بات پر ناراض ہو کر اکبر بگٹی نے بغاوت کر دی۔ اور خودکشی کر لی اور ہمارے کئی جوان شہید کر دیے۔‌ اب لوگ اس کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اپ خود بکٹی قبیلے سے پوچھیں کہ یہ کتنا کمینہ اور ح**** تھا۔۔ بلوچستان کو ان سرداروں نے لوٹا ہے اور پتھر کے دور میں رکھتے تھے۔۔ جیسے پیپلز پارٹی اندرون سندھ کو پتھر کے دور میں رکھتی ہے ۔ ان نوابوں اور وڈیروں کا ایک ہی طریقہ واردات ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

68,230 görüntüleme • 2 ay önce

ارب پتی جاگیردار مزاریوں کا یہ غریب چیلا اور اسد نام کا یہ چوٹھے درجے کا صحافی پھر اپنی اوقات بھول گیا ہے۔ یہ اب ایک ایسے آدمی کے بارے میں جھوٹی بک بک کر رہا ہے جسے پورا پاکستان اسکی شکل، آواز، نام اور اس کے گانوں کی وجہ سے جانتا ہے۔ Asad Ali Toor آج اسے سٹپٹایا ہئوا دیکھ کر مجھے یہ اچھی طرح سمجھ آ گئی ہےکہ اسے ریاست نے کیوں سبق سکھایا تھا اور کیوں لوگ اس غلیظ فطرت آدمی سے اتنی نفرت کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے جھوٹے اور منافق لوگ اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہی نقصان اٹھاتے ہیں۔ اپنے طبقے کا غدار یہ وہ بے غیرت ہے جو مڈل کلاس کا ایک صحافی ہو کر بھی مزاریوں جیسے جاگیرداروں کی چمچہ گیری کرتا ہے اور ان کی شہہ پرخود کو ایک گھٹیا سا باغی سمجھتا ہے۔ میں تو اس فراڈیے کو صرف ترس کے قابل سمجھتا ہوں جو میرے جیسے پاکستان کی تاریخ کے سب سے مقبول سنگرز میں سے ایک کے بارے میں مکمل غلط بکواس کر رہا ہے۔ اسے چاہیے کہ یہ سوشل میڈیا پر لائیو مائیک لے کر سب سے پہلے اپنے دادکے اور نانکے خاندان میں ہی چلا جائے اور ہر ایک سے یہ پوچھے کہ وہ جواد احمد کو جانتے ہیں یا نہیں۔ مگر یہ ایسا کبھی نہیں کرے گا کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے پر میں اس کے بارے میں یہ ضرور بتا سکتا ہوں کہ جس جگہ یہ رہتا ہے وہاں دو گلیاں چھوڑکر اس کے محلے والے بھی اسے نہیں جانتے۔ کم ظرفی اورجھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ میں نے اپنا کیریر 26 سال پہلے شروع کیا تھا مگر میں نے 2003 کے بعد سوشل ورک اور فلاحی کاموں اور پھر سیاست کی وجہ سے پاکستان میں کوئی البم نہیں نکالا پھر بھی میرے بہت سے طاقتور گانے اس وقت سے لے کر اب تک پوری دو نسلوں کو یاد ہیں۔ پھر بھی 2026 میں آج بھی جب پاکستان میں 18 سال بعد بسنت ہوئی تو میرا گانا "اچیاں مجاجاں والی" ہی انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک وغیرہ کی ٹرینڈنگ میں نمبر 1 پر تھا اور ہر چھت پر وہی بج رہا تھا۔ یہ تو میڈیا کا آدمی ہے مگر کیا اس جاہل کو اتنا بھی پتا نہیں؟ کیا اسے پتا نہیں کہ میں ایک نہیں بلکہ تین صدارتی ایوارڈز پانے والا پاکستان کا واحد آرٹسٹ ہوں؟ یہ یو ٹیوب پر پیسے بنانے کے لیے کس حد تک گر سکتا ہے وہ اس وڈیو میں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ میرے جیسے ایک سوشلسٹ انقلابی آدمی کی سیاست کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے جو اس ملک کے مڈل کلاس اور غریب لوگوں کو اس ملک کا حاکم بنانا چاہتا ہے اور اس کئے لیے ہر قسم کی ذاتی قربانی کر رہا ہے۔ میں اپنی ذات پر کچھ بھی برداشت کر لیتا ہوں مگر صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے تمام مڈل کلاس اور غریب عام لوگوں کے لیے اپنی صاف شفاف سوشلسٹ سیاست پر جھوٹ بول کر اسے نقصان پہنچانے کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جو بھی اس پر بات کرے گا وہ میرے سے اپنی اصل اوقات کے بارے میں سنے گا تاکہ آئندہ اسے ایسا جھوٹا گھٹیا پن کرنے کی ہمت نہ ہو۔ مگر مجھے پتا ہے کہ یہ بیچارہ مجبور ہے۔ اگر عمران کی طرفداری کرنے پر PTI والے اسے ویوز نہ دیں تو یوٹیوب پر اس کی روزی روٹی بند ہو جائے۔

Jawad Ahmad

28,743 görüntüleme • 7 ay önce

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔مولانا فضل الرحمن

Fahim Akhtar Malik

11,304 görüntüleme • 17 gün önce

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
6:46

Sensitive content

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

25,074 görüntüleme • 17 gün önce