Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

یہ منظر انتہائی خوفناک ہے، ریاست کو اس کا نوٹس لینا چاہیے،، میلاد کے جلوس کوروکنا قابل مذمت ہے، آج آپ جو نفرت کا بیچ بو رہے پیں اس کے نتائج بہت بھیانک ہوسکتے ہیں، خدارا پہلے ہی ملک میں آگ لگی ہوئی ہے اسکو مزید ہوا دینے سے...

86,479 views • 6 days ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,163 views • 2 months ago

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 views • 2 months ago

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 views • 2 years ago

ڈوب کے مر جانا چاہیے کہ انڈونیشیا کا صدر کہتا ہے کہ ہم اپنی بورڈ آف پیس کی ممبرشپ کو سسپینڈ کر رہے ہیں، لیکن پاکستان ابھی تک اس بورڈ آف پیس میں بیٹھا ہوا ہے، کیوں بیٹھے ہوئے ہو؟ ​کیونکہ وہی بورڈ آف پیس تو ہم لا رہے ہیں ایران کے اوپر، وہی بورڈ آف پیس تو ایرانیوں کا، ہمارے مسلمان بھائیوں کا خون بہا رہے ہیں، لیکن ہم ادھر بے شرمی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، شہباز شریف صاحب پتا نہیں کس کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ​اس طرح مزید نہیں چلے گا، اپنی فارن پالیسی، اور میں آپ کو یہ بھی بتاؤں کہ جب ایران کے اندر یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور پارلیمنٹ میں اس پہ ڈیبیٹ ہو رہی تھی تو پچاس بندے پارلیمنٹ کے اندر نہیں بیٹھے ہوئے تھے، پچاس بندے، اقبال آفریدی نے کل کورم پوائنٹ آؤٹ کیا، بندہ ہی نہیں تھا کوئی، لیکن مزے کی بات یہ ہے زبیر بھائی کہ اس سے ایک دن پہلے یہی ہاؤس ایک میسٹیریس (mysterious) طریقے سے ممبران آ جاتے ہیں۔ ​ہاؤس کے ایجنڈے کے اوپر کوئی چیز نہیں ہے، پھر ایک ممبر حکومت کا کھڑا ہو جاتا ہے، وہ کہتا ہے یہ ہم نیب ترمیمی بل لے کے آ رہے ہیں، اور پھر سارے اس کو دو منٹ میں اس طرح وہ پاس ہو جاتا ہے، اور وہ نیب کے چیئرمین کا آخری دن تھا ایز اے ٹینیور (tenure) اس کو مزید ایکسٹینشن (extension)، پورے ملک کو انہوں نے ایکسٹینشنز پہ ڈالا ہوا ہے، پورے ملک کو، اس ملک میں کون ہے جس کو ایکسٹینشن نہیں ملی ہوئی؟ ​ہر ایک ملک میں، میں کہتا ہوں یہ حکومت، یہ ریاست، عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سے لے کر افغانستان سے لے کر ایران کے ساتھ، ہر ایک چیز کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

15,765 views • 5 months ago