Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

یہ منظر دل کو گہرے دکھ میں مبتلا کرتا ہے، جب ایک بچہ اپنے بڑے بھائی کی بانہوں میں سر رکھ کر سسکیاں لے رہا ہے، کیونکہ اس نے اپنی ماں اور باپ کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا ہے۔ اس کا بڑا بھائی، جسکی خود کی بھی ننھنی...

81,571 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

10 Yorum

shazia profil fotoğrafı
shazia1 yıl önce

پر ہمیں کیا ؟ یہ چیزیں تو غیرت مندوں کے ضمیر جھنجھوڑتی ہیں، ہم نہ غیرت مند ہیں اور نہ باضمیر، لعنت ایسی ایٹمی طاقت پر 🖐

RedDeer.Games IR profil fotoğrafı
RedDeer.Games IR1 yıl önce

🎹 Master the Piano on Your Nintendo Switch with "Piano: Learn and Play"! 🎶 #RT🙏 🎹👉 Unlock the joy of music: Easy tutorials 📘 Songs for all levels 🎼 Fun for all ages 🎉 Start your musical journey today! 🌟 Play now! #Piano #NintendoSwitch #NS2

ڈیجیٹل دہشتگرد profil fotoğrafı
ڈیجیٹل دہشتگرد1 yıl önce

بحیثیت مسلمان سب سے پہلے میں باقی بعد میں ہم سب بغیرت ہیں منافق ہیں اس لیے اللّٰہ پاک نے دشمنوں کے دلوں سے ہمارا خوف نکال دِیا ہے-اِس دور میں جینے والے ہر مسلمان سے اللّٰہ پاک اسکا حساب لیگا-ہمارے دل کالے ہوچکے ہیں 💔💔💔😭😭😭😭

iram shahzadi(ارم رائے) profil fotoğrafı
iram shahzadi(ارم رائے)1 yıl önce

آمین یارب العالمین

Naheed Tariq profil fotoğrafı
Naheed Tariq1 yıl önce

اگر عرب ایران اور دیگر نام نہاد اسلامی ممالک نے اسرائیل کو بد دعائیں ہی دینی تھیں تو کھربوں ڈالر کا اسلحہ کیوں رکھا ہوا ہے

Umer.Gujjar profil fotoğrafı
Umer.Gujjar1 yıl önce

💔💔🥲🥲🥲🙏🙏🇵🇸🇵🇸🇵🇸🇵🇸🇵🇸

Nuzhat Sami profil fotoğrafı
Nuzhat Sami1 yıl önce

اللہ ہی کوئی حل نکالے۔ مسلمان مملک تو بے حس ہو چکے ہیں

Ch omer Manj profil fotoğrafı
Ch omer Manj1 yıl önce

اتنے معصوم بچے جانے کس قرب میں مبتلا ہیں دنیا کی یہ بے حسی افسوس ناک ہے،،،معصوم بچوں کا قتل عام فورا بند ہونا چاہیے

#ReleaseImranKhan تارا profil fotoğrafı
#ReleaseImranKhan تارا1 yıl önce

😭🥲💔 الفاظ نہیں ہیں اس دکھ پہ کس طرح اپنی حالت بیان کرو آہ اہل غزہ

Bakhtiar Afridi profil fotoğrafı
Bakhtiar Afridi1 yıl önce

😭😭😭😭😭😭

Benzer Videolar

عورت کا بانجھ ہونا اللہ کی طرف سے ہے، لیکن اس کی سزا معاشرہ دیتا ہے۔ شوہر جب اپنی بیوی کے فطری حسد کو گناہ بنا کر اس کی محبت کو نظرانداز کرتا ہے، تو ایک ادھوری عورت کی چاہت جنون میں بدل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت تو دی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایا کہ تم ان کے درمیان انصاف نہیں کرسکو گے، اس لئے ایک بیوی ہی کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیوی یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ شوہر کی زندگی میں کسی دوسری عورت کی شراکت داری ہو۔ ماہم جیسی نہ جانے کتنی عورتیں صرف بانجھ پن کے باعث نظرانداز کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ انہیں پاگل پن کے دہانے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ اولاد نہیں جن سکتیں، حالانکہ وہ اپنے شوہر سے جنون کی حد تک محبت کرتی ہیں۔ دنیا میں لاکھوں یتیم بچے ہیں جنہیں ماں باپ کی محبت اور پرورش کی ضرورت ہے۔ پھر کیوں نہ کسی عورت کو اذیت دینے کے بجائے ایک یتیم کو گود لیا جائے؟ اس طرح ایک معصوم بچے کو خاندان کا سہارا اور والدین کا پیار ملے گا، اور عورت کو تحفظ اور سکون۔ #sharakat
13:25

Sensitive content

عورت کا بانجھ ہونا اللہ کی طرف سے ہے، لیکن اس کی سزا معاشرہ دیتا ہے۔ شوہر جب اپنی بیوی کے فطری حسد کو گناہ بنا کر اس کی محبت کو نظرانداز کرتا ہے، تو ایک ادھوری عورت کی چاہت جنون میں بدل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو چار شادیوں کی اجازت تو دی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح فرمایا کہ تم ان کے درمیان انصاف نہیں کرسکو گے، اس لئے ایک بیوی ہی کافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیوی یہ کبھی برداشت نہیں کر سکتی کہ شوہر کی زندگی میں کسی دوسری عورت کی شراکت داری ہو۔ ماہم جیسی نہ جانے کتنی عورتیں صرف بانجھ پن کے باعث نظرانداز کی جاتی ہیں، یہاں تک کہ انہیں پاگل پن کے دہانے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ اولاد نہیں جن سکتیں، حالانکہ وہ اپنے شوہر سے جنون کی حد تک محبت کرتی ہیں۔ دنیا میں لاکھوں یتیم بچے ہیں جنہیں ماں باپ کی محبت اور پرورش کی ضرورت ہے۔ پھر کیوں نہ کسی عورت کو اذیت دینے کے بجائے ایک یتیم کو گود لیا جائے؟ اس طرح ایک معصوم بچے کو خاندان کا سہارا اور والدین کا پیار ملے گا، اور عورت کو تحفظ اور سکون۔ #sharakat

Najiba Faiz

88,130 görüntüleme • 1 yıl önce

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ایک ایسا انوکھا سکول بھی ہے جہاں داخلہ لینے کے لیے آپ کو امتحان میں ٹاپ کرنے کی نہیں بلکہ دو سے تین بار فیل ہونے کی ضرورت ہے۔ فلم تھری ایڈیٹس اسی شخص کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا نام "سونم جی" ہے اور اس تعلیمی ادارے کا نام "Students Educational and Cultural Moments of #LADAKH" سونم نے سوچا کہ جو 25 فیصد بچے فیل ہو جاتے ہیں ان کے لیے ان کی ذہنی استعداد کے مطابق ہی کوئی تعلیمی نظام ہونا چاہیے۔ اس ادارے میں مختلف سکولوں سے " نالائق " کہہ کر دھتکار دیے جانے والے بچوں کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ اس سکول کو یہ بچے خود ہی چلاتے ہیں۔ ہر دو مہینے بعد الیکشن ہوتے ہیں اور باقاعدہ ان بچوں میں سے ہی ایک کو منتخب کیا جاتا ہے پھر وہ اپنے ماتحت ایک ٹیم تشکیل دے کر ذمے داریاں سونپ کر " لیڈر" کا کردار ادا کرتا ہے۔ لداخ #India کا ایک ایسا علاقہ جہاں منفی پانچ درجہ حرارت ہوتا ہے وہیں اس سکول کے اندر 15 ڈگری درجہ حرارت ہوتا ہے۔ یہ پورا سکول سولر سسٹم پر چلتا ہے۔ کوئی بچہ سولر سسٹم کی لیڈر شپ قبول کرتا ہے کوئی جانوروں کی کوئی کھیتوں کی اس طرح ان کی دلچسپی کے مطابق انہیں کام سونپ دیے جاتے ہیں۔ یہاں ہر بچے کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ بچے نت نئی ایجادات کرتے ہیں مختلف میدانوں میں اپنا آپ منواتے ہیں اور پھر ملک کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ یہ شخص کہتا ہے لداخ جیسے علاقے میں جہاں منفی پانچ درجہ حرارت ہے وہاں ایک بچے کو "ایف" فار فین کیسے اور کیوں پڑھایا جائے ؟ اسے یہاں پہاڑی علاقے کی مناسبت سے یہاں کے ماحول کے مطابق ہی چیزیں سمجھ آسکتی ہیں۔ہم اپنے بچوں کو کیا پڑھا رہے ہیں ؟ روز مرہ زندگی میں کتنے موضوعات ہیں جن کا استعمال کیا جاتا ہے جو ہمارے نصاب میں شامل ہیں ؟ خود اندازہ لگا لیجیے ہم اتنے پیچھے کیوں ہیں ؟ نفسا نفسی کی اس دنیا میں جہاں ہر شخص اور ادارہ ٹاپ کرنے اور ٹاپر پیدا کرنے میں مصروف ہے وہیں ایسے عظیم لوگ بھی موجود ہیں جو کچھ ایسا کر رہے ہیں جسے عقل تسلیم نہیں کرتی۔ ایسا شخص جس کی توجہ کا مرکز وہ پچانوے فیصد بچے تھے جو سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اپنے نظریات اور انقلابی سوچ کے ساتھ اپنے حصے کی کوشش کرنے والےاس شخص نے #India کے سرکاری سکولوں میں بچوں کو وہی معیار وہی تعلیم پہنچا دی جو صرف پانچ فیصد #American طرز سکولوں میں مہیا کی جاتی تھی۔ اور ہمارے ہاں ؟ سرکاری سکولوں میں اگر نظام تعلیم کو بہتر بنایا گیا تو پرائیویٹ سکولوں میں اپنے اربوں روپے انویسٹ کرنے والے طاقت ور لوگوں کا دیوالیہ ہو جائے گا۔ ہر بچہ اپنے آپ میں ایک پوری کائنات ہے۔ اس کے اندر مختلف صلاحتیں موجود ہوتی ہیں ہر بچہ قدرتی طور پر کسی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس کی قابلیت ، صلاحیت اور ٹیلنٹ کو دریافت کرنے اور پالش کرنے اہم کردار والدین اور ٹیچرز کا ہوتا ہے یہ تبھی ممکن ہے جب تعلیمی ادارے تجارتی منڈیوں میں تبدیل نہ ہوں ۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ممکن ہے۔ ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں یہاں بھی امید زندہ ہے۔ ہم آج بھی اپنے بچوں کو " نوکری حاصل کر کے نوکر بننے کی سوچ سے آزاد کر دیں تو وہ مستقبل میں نوکریاں دینے والے بن سکتے ہیں۔ اپنا ٹیلنٹ دریافت کر سکتے ہیں۔ #ابو_عبيدة #Lahore #Cheating #ImranRiazKhan #Taliban #SheikhRasheed #Dubai #Cabada #Balochistan #AlShifaHospital #IsraelIsATerrorist #Islamabad

Sadia Khalid

28,839 görüntüleme • 2 yıl önce