Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

یہ پشاور کا درویشُ مسجد ہے جہاں مشہور عالم دین مرحوم شیخ حسن جان صاحب جمعہ کا خطبہ اور احادیث کا درس دیا کرتے تھے۔آج طلباء کیساتھ عشاء کا نماز اداکرکےبے حد مزہ آیا۔خوش قسمت ہونگے وہ لوگ جنکے بچے قرآن و احادیث کی تعلیم حاصل کرکے معاشرے کی...

12,773 views • 4 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اسلامیہ کالج پشاور میں طلباء کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن اسلامیہ کالج کے خلاف کالج کے ایچ او ڈی کی جانب سے ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایف آئی آر میں کسی فرد کا نام لکھنے کے بجائے "ISF Terrorists" لکھا گیا ہے، یعنی ایک باقاعدہ طلبہ تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔ انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن پاکستان کی ایک بڑی طلبہ تنظیم ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی، ہمارے پارلیمانی لیڈر اور وزیرِ تعلیم بھی اسی طلبہ تنظیم سے سیاسی سفر کا آغاز کر چکے ہیں۔ آج اپنی ہی حکومت میں ایک تعلیمی ادارے کا ذمہ دار شخص طلباء کو دبانے کے لیے سرعام انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کو دہشت گرد قرار دے رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایچ او ڈی صاحب کی جانب سے یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ وہ طاقت کے زور پر یہ سب کر رہے ہیں اور انہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ ہم اپنے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی صاحب اور مینا خان آفریدی صاحب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے آئی ایس ایف کے ان نوجوانوں کا ساتھ دیں، معاملے کا فوری نوٹس لیں اور طلباء کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی کا ازالہ کریں۔

Amir Khan Chamkani ISF

14,739 views • 25 days ago

"ہم نے نفرتوں کو ہوا دی۔ ان نفرتوں کے نتیجے میں، جن سیاسی رہنماؤں سے یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ عوام کی حقیقی نمائندگی کرتے ہیں، انہیں یا تو پھانسی دے دی جاتی ہے، جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، یا دیگر سزاؤں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آج یہ تمہید اس لیے باندھنی پڑی کہ ہم وہ لوگ ہیں جو اپنے بدترین سیاسی مخالفین کی ماؤں اور بہنوں کا بھی مکمل احترام کرتے ہیں۔ میں تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں—جس میں تمام جماعتیں بشمول پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول ترین پارٹی، عمران خان اور علامہ صاحب بھی شامل ہیں—کہ ہم اپنے کارکنان اور ذمہ داران کو واضح ہدایت کرتے ہیں کہ جو شخص بھی ہمارے کسی مخالف کی ماں، بہن یا بیٹی کے خلاف کوئی نازیبا بات لکھے گا، ہم اس سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کریں گے۔ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ گالی گلوچ کی سیاست نے اس ملک کو بربادی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، اور ہم دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی اسی مثبت رویے کی توقع رکھتے ہیں۔ آئیں، مل کر پاکستان کو چلائیں اور اسے بچائیں۔ پاکستان کو بچانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ طاقت کا سرچشمہ صرف پارلیمنٹ ہو، عدلیہ اپنے دائرہ کار میں مکمل آزاد ہو، اور صحافت پر کوئی پابندی نہ ہو (پیکا جیسے قوانین کا خاتمہ ہو)۔ جہاں تک افواجِ پاکستان کا تعلق ہے، اللہ انہیں دنیا کی بہترین فوج بنائے، لیکن انہیں بھی آئین کے دائرے میں رہ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ تبھی یہ ملک ترقی کرے گا اور پھلے پھولے گا۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Siddique Jan

51,654 views • 1 month ago

کہتے ہیں سب سے گندہ نشہ جنسی لذت کا ہوتا ہے اور اس نشے کیلے انسان کس حد تک گر سکتا ہے اس کی زندہ مثال اس ویڈیو میں دیکھیے ۔۔ یہ واقعہ کسی یورپ ملک کا نہی ہے یہ پاکستان کے حالات ہیں کلپ میں نظر انی والی عورت نانی دادی بن چکی ہے ۔۔ اپنی جنسی لذت کی تسکین کیلے اک نوجوان لڑکے سے تعلق بناتی ہے اور پانچ لاکھ دے کر اس لڑکے سے اپنے شوہر کا قتل کرواتی ہے ۔۔ اس کو کیا ضرورت پڑی تھی اس عمر میں کالک ملنے کیلے ۔۔ کیوں وہ اس حد تک چلی گی کہ شوہر کو ہی ماروا دیا ۔۔ یہ وہ سوالات ہیں جنکے جوابات ہمیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہی پڑی گی ۔۔ اس کلپ کو دیکھ کر کراچی کی آنٹی کینڈی کا سکینڈل یاد ا گیا ۔۔ وہ جسم فروشی کا دھندہ کرواتی تھی ۔۔ جب وہ پکڑی گی لوگ توبہ استغفار کر کے اس کا نام لیتے تھے ۔۔ مگر جب وہ سزا پا کر واپس ای اسی معاشرے نے اس کا ایسا سوشل بائیکاٹ کیا اس نے باقی زندگی گمنامی میں گزار دی ۔۔ یہ صرف پندرہ سال پہلے کی بات تھی ۔۔ اور آج دیکھ لیں ۔۔ اس ملک میں بے حیای کہاں کھڑی ہے ۔ نوجوان نسل کا صرف اک ہی مقصد ہے وہ راتوں رات سوشل میڈیا سٹار بن جائیں ۔۔ پاکستانی ڈراموں کا حال دیکھ لیں ۔۔ ان کا پچھلا ایوارڈ شو ہی دیکھ لیں ایسا لگتا تھا جیسے ننگ دھڑنگ جسم کون زیادہ دیکھاتا ہے اس کا مقابلہ ہو رہا ہے ۔۔ پھر تو حالات ایسے ہونگے ۔۔
3:54

Sensitive content

کہتے ہیں سب سے گندہ نشہ جنسی لذت کا ہوتا ہے اور اس نشے کیلے انسان کس حد تک گر سکتا ہے اس کی زندہ مثال اس ویڈیو میں دیکھیے ۔۔ یہ واقعہ کسی یورپ ملک کا نہی ہے یہ پاکستان کے حالات ہیں کلپ میں نظر انی والی عورت نانی دادی بن چکی ہے ۔۔ اپنی جنسی لذت کی تسکین کیلے اک نوجوان لڑکے سے تعلق بناتی ہے اور پانچ لاکھ دے کر اس لڑکے سے اپنے شوہر کا قتل کرواتی ہے ۔۔ اس کو کیا ضرورت پڑی تھی اس عمر میں کالک ملنے کیلے ۔۔ کیوں وہ اس حد تک چلی گی کہ شوہر کو ہی ماروا دیا ۔۔ یہ وہ سوالات ہیں جنکے جوابات ہمیں ڈھونڈنے کی ضرورت نہی پڑی گی ۔۔ اس کلپ کو دیکھ کر کراچی کی آنٹی کینڈی کا سکینڈل یاد ا گیا ۔۔ وہ جسم فروشی کا دھندہ کرواتی تھی ۔۔ جب وہ پکڑی گی لوگ توبہ استغفار کر کے اس کا نام لیتے تھے ۔۔ مگر جب وہ سزا پا کر واپس ای اسی معاشرے نے اس کا ایسا سوشل بائیکاٹ کیا اس نے باقی زندگی گمنامی میں گزار دی ۔۔ یہ صرف پندرہ سال پہلے کی بات تھی ۔۔ اور آج دیکھ لیں ۔۔ اس ملک میں بے حیای کہاں کھڑی ہے ۔ نوجوان نسل کا صرف اک ہی مقصد ہے وہ راتوں رات سوشل میڈیا سٹار بن جائیں ۔۔ پاکستانی ڈراموں کا حال دیکھ لیں ۔۔ ان کا پچھلا ایوارڈ شو ہی دیکھ لیں ایسا لگتا تھا جیسے ننگ دھڑنگ جسم کون زیادہ دیکھاتا ہے اس کا مقابلہ ہو رہا ہے ۔۔ پھر تو حالات ایسے ہونگے ۔۔

Saleem Speaks

216,647 views • 8 months ago

میں واپس آؤں گا" دیکھتے ہوئے ایک خیال بار بار ذہن میں آتا رہا۔ پارٹیشن کو کئی دہائیاں گزر گئیں، کردار بدل گئے، سرحدیں بدل گئیں، کہانیاں بدل گئیں، مگر بچھڑنے کا دکھ آج بھی وہی ہے۔کسی نے اپنا گھر چھوڑا، کسی نے اپنا شہر، کسی نے اپنی محبت اور کسی نے اپنے پیاروں کو۔ وقت گزرتا رہا، نسلیں بدلتی رہیں، مگر جدائی کے زخم شاید کبھی پرانے نہیں ہوتے۔یہ فلم دیکھ کر مجھے ہمارے ہاں افغانستان سے آنے والے اُن خاندانوں کا خیال آیا جنہوں نے اپنی زندگی کے کئی کئی عشرے پاکستان میں گزار دیے۔انکے کے بچے یہیں پیدا ہوئے، کسی نے یہیں تعلیم حاصل کی، کسی نے یہاں روزگار بنایا، اور کسی نے یہیں محبت کی شادی کر کے اپنا گھر بسایا۔پھر ایک دن واپس جانے کا وقت آیا۔وہ جدائیاں بھی عجیب تھیں۔ کسی کا دوست پیچھے رہ گیا، کسی کا گھر، کسی کی محبت، کسی کی وہ گلیاں جہاں اس کی پوری زندگی گزری تھی۔ہر خاندان کی اپنی ایک کہانی تھی، اور کئی کہانیاں ایسی تھیں جنہیں سن کر دل واقعی دہل جاتا تھا۔شاید یہی انسان کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ سرحدیں نقشوں پر بنتی ہیں، مگر رشتے دلوں میں بنتے ہیں۔پارٹیشن ہو یا آج کی ہجرت، وقت گزر جاتا ہے، کردار بدل جاتے ہیں، مگر بچھڑنے کا درد…شاید کبھی نہیں بدلتا۔۔💔

Harmeet Singh

26,321 views • 1 month ago

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں ایک ایسا انوکھا سکول بھی ہے جہاں داخلہ لینے کے لیے آپ کو امتحان میں ٹاپ کرنے کی نہیں بلکہ دو سے تین بار فیل ہونے کی ضرورت ہے۔ فلم تھری ایڈیٹس اسی شخص کے گرد گھومتی ہے۔ ان کا نام "سونم جی" ہے اور اس تعلیمی ادارے کا نام "Students Educational and Cultural Moments of #LADAKH" سونم نے سوچا کہ جو 25 فیصد بچے فیل ہو جاتے ہیں ان کے لیے ان کی ذہنی استعداد کے مطابق ہی کوئی تعلیمی نظام ہونا چاہیے۔ اس ادارے میں مختلف سکولوں سے " نالائق " کہہ کر دھتکار دیے جانے والے بچوں کو داخلہ دیا جاتا ہے۔ اس سکول کو یہ بچے خود ہی چلاتے ہیں۔ ہر دو مہینے بعد الیکشن ہوتے ہیں اور باقاعدہ ان بچوں میں سے ہی ایک کو منتخب کیا جاتا ہے پھر وہ اپنے ماتحت ایک ٹیم تشکیل دے کر ذمے داریاں سونپ کر " لیڈر" کا کردار ادا کرتا ہے۔ لداخ #India کا ایک ایسا علاقہ جہاں منفی پانچ درجہ حرارت ہوتا ہے وہیں اس سکول کے اندر 15 ڈگری درجہ حرارت ہوتا ہے۔ یہ پورا سکول سولر سسٹم پر چلتا ہے۔ کوئی بچہ سولر سسٹم کی لیڈر شپ قبول کرتا ہے کوئی جانوروں کی کوئی کھیتوں کی اس طرح ان کی دلچسپی کے مطابق انہیں کام سونپ دیے جاتے ہیں۔ یہاں ہر بچے کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ بچے نت نئی ایجادات کرتے ہیں مختلف میدانوں میں اپنا آپ منواتے ہیں اور پھر ملک کے مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ یہ شخص کہتا ہے لداخ جیسے علاقے میں جہاں منفی پانچ درجہ حرارت ہے وہاں ایک بچے کو "ایف" فار فین کیسے اور کیوں پڑھایا جائے ؟ اسے یہاں پہاڑی علاقے کی مناسبت سے یہاں کے ماحول کے مطابق ہی چیزیں سمجھ آسکتی ہیں۔ہم اپنے بچوں کو کیا پڑھا رہے ہیں ؟ روز مرہ زندگی میں کتنے موضوعات ہیں جن کا استعمال کیا جاتا ہے جو ہمارے نصاب میں شامل ہیں ؟ خود اندازہ لگا لیجیے ہم اتنے پیچھے کیوں ہیں ؟ نفسا نفسی کی اس دنیا میں جہاں ہر شخص اور ادارہ ٹاپ کرنے اور ٹاپر پیدا کرنے میں مصروف ہے وہیں ایسے عظیم لوگ بھی موجود ہیں جو کچھ ایسا کر رہے ہیں جسے عقل تسلیم نہیں کرتی۔ ایسا شخص جس کی توجہ کا مرکز وہ پچانوے فیصد بچے تھے جو سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اپنے نظریات اور انقلابی سوچ کے ساتھ اپنے حصے کی کوشش کرنے والےاس شخص نے #India کے سرکاری سکولوں میں بچوں کو وہی معیار وہی تعلیم پہنچا دی جو صرف پانچ فیصد #American طرز سکولوں میں مہیا کی جاتی تھی۔ اور ہمارے ہاں ؟ سرکاری سکولوں میں اگر نظام تعلیم کو بہتر بنایا گیا تو پرائیویٹ سکولوں میں اپنے اربوں روپے انویسٹ کرنے والے طاقت ور لوگوں کا دیوالیہ ہو جائے گا۔ ہر بچہ اپنے آپ میں ایک پوری کائنات ہے۔ اس کے اندر مختلف صلاحتیں موجود ہوتی ہیں ہر بچہ قدرتی طور پر کسی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس کی قابلیت ، صلاحیت اور ٹیلنٹ کو دریافت کرنے اور پالش کرنے اہم کردار والدین اور ٹیچرز کا ہوتا ہے یہ تبھی ممکن ہے جب تعلیمی ادارے تجارتی منڈیوں میں تبدیل نہ ہوں ۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ممکن ہے۔ ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں یہاں بھی امید زندہ ہے۔ ہم آج بھی اپنے بچوں کو " نوکری حاصل کر کے نوکر بننے کی سوچ سے آزاد کر دیں تو وہ مستقبل میں نوکریاں دینے والے بن سکتے ہیں۔ اپنا ٹیلنٹ دریافت کر سکتے ہیں۔ #ابو_عبيدة #Lahore #Cheating #ImranRiazKhan #Taliban #SheikhRasheed #Dubai #Cabada #Balochistan #AlShifaHospital #IsraelIsATerrorist #Islamabad

Sadia Khalid

28,839 views • 2 years ago