Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

یہ کہتے ہیں مسنگ پرسن کو تھوڑا کم کیا جاۓ یا مسنگ پرسن کے معاملات کو حل کیا جاۓ تو حالات اچھے ہو سکتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں دنیا کی کوئی فورس بھی خوشی سے لوگوں کو مسنگ پرسن تو نہیں کرتی کامران شاہد کا اسرائیل، بھارت اور...

14,308 görüntüleme • 6 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

مہرنگ غفار کوئٹہ اور بلوچستان کی سڑکوں پر احتجاج کے نام پر دہشتگردوں کو گھماتی رہی۔انہی احتجاجوں کی آڑ میں وہ اسلحہ و دہشتگردوں کی ترسیل کرتی رہی ہے!!! ◼️ آج ماہرنگ غفار کے گناہوں کا پردہ خود اس کی اپنی دہشتگرد تنظیم بی ایل اے نے چاک کر دیا ہے۔ ◼️جس صہیب لانگو کو ماہرنگ غفار اپنے دھرنوں اور جلوسوں میں گارڈ کے طور پر رکھتی تھی، وہی شخص پارٹ ٹائم دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کے لیے کام کرتا تھا۔ ◼️ اسی صہیب لانگو پر ماہرنگ غفار نے "مسنگ پرسن" کا کارڈ کھیلا تھا۔ ◼️ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی صہیب بلوچستان میں بدامنی پھیلانے اور بی ایل اے کی سہولت کاری میں سرگرم تھا۔ ◼️ اسی صہیب نے ایک نہیں بلکہ کئی بار معصوم شہریوں کو بے دردی سے قتل کیا۔ ◼️ شاہراہوں کی بندش سے لے کر عام عوام سے بھتہ لینے تک وہ ملوث رہا۔ افسوس کہ جب بھی ایسے عناصر کو سیکیورٹی فورسز گرفتار کرتی ہیں تو حامد میر اور ایمان مزاری جیسے لوگ انہیں "طالب علم" قرار دے کر مظلوم ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ مگر نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ یہی دہشتگرد دوبارہ آزادی کے ساتھ دہشتگردی شروع کر دیتے ہیں۔ پاکستانیو! اب بھی وقت ہے… جاگ جاؤ! ایسا نہ ہو کہ کل تمہارے اپنے گھر جل جائیں اور تم ان "مسنگ پرسن" کے ڈراموں میں بیوقوف بنتے رہو۔ #Balochistan #Kalat

Dukhtar-E-Balochistan🇵🇰

19,246 görüntüleme • 1 yıl önce

“یہ مناظر دیکھئے…” کچھ سیاح ایک وین میں خوشی سے جھوم رہے ہیں، ڈرائیور کو مذاق میں مار رہے ہیں، شور شرابہ، قہقہے، ناچ، مستی… لیکن کیا کوئی سوچ رہا ہے کہ یہ سب کہاں ہو رہا ہے؟ یہ کوئی میلہ نہیں، یہ گلگت بلتستان کی تنگ، پیچیدہ اور جان لیوا وادیاں ہیں، جہاں ایک لمحہ کی بے احتیاطی پورے قافلے کو موت کے منہ میں دھکیل سکتی ہے۔ ڈرائیور جو سب کی جانوں کا ذمہ دار ہے، اس کے ساتھ مذاق، اس کی توجہ ہٹانا، اسے اپنی جگہ سے ہلانا — یہ تفریح نہیں، غفلت کا وہ کھیل ہے جس کی قیمت زندگی سے چکانی پڑ سکتی ہے۔ جب حادثہ ہو گا… جب لاشیں ہوں گی… جب وادیوں میں سائرن گونجیں گے اور کفن بچھیں گے… تب الزام دیا جائے گا حکومت کو، علاقے کے لوگوں کو، انتظامیہ کو۔ لیکن کیا کوئی یہ پوچھے گا کہ انجان زمین پر آئے مہمان نے اپنی ذمہ داری کو کہاں دفن کر دیا تھا؟ سیاحت خوشی کا ذریعہ ہے، لیکن جب یہ خوشی پاگل پن میں بدل جائے تو وہ صرف تباہی لاتی ہے۔ گلگت بلتستان آپ کو خوش آمدید کہتا ہے… لیکن زندگی کی قیمت پر نہیں۔ خدارا، ہوش سے، شعور سے، احساس کے ساتھ سفر کریں

Gilgit Baltistan Tourism.

25,314 görüntüleme • 1 yıl önce

ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر کل رات ظلم کیا گیا لیکن کوئی نہیں پانی ہی تھا کیا ہوا لیکن جو ظلم ہماری خواتین کے ساتھ کیا گیا ان کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیئے نہ ممکن ہے جس دلیری کے ساتھ اب سب نے ان نامردوں کا مقابلہ کیا میں سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جتنے بھی ہمارے ورکرز موقع پر موجود ہوتے ہیں آخری وقت تک ان سب کا دفاع کروں اور خیریت سے گھروں کو پہنچاوں یہ ہم سب مل کر روز اول سے کر رہے ہیں جب سے انہوں نے اڈیالہ کے باہر ہم پہ ظلم کرنا شروع کیا ہے۔ ہر ہفتے منگل کے دن جس طرح اڈیالہ جیل ہماری خواتین سمیت ورکرز کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے اس کے بعد میں یہ ضروری سمجھتا ہونکہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز، ٹکٹ ہولڈرز اور پارلیمینٹیرنز اور وکلاء کو پیغام دینا چاہتا ہونکہ کم از کم ایسی صورتحال میں میدان نہ چھوڑا کریں ہم نہیں کہتے کہ آپ ان سے لڑیں کیونکہ ہم سب نہتے لوگ ہیں ہمارا ان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا اور نہ ہم ہم گولی کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ہم سب مل کر مزاحمت ضرور کر سکتے ہیں جس طرح رات ظلم کیا گیا اگر ہم 100 یا 200 کی تعداد میں ہوتے تو کم از کم ہم میدان میں کھڑے ہوکر بہترین مزاحمت کر سکتے تھے اور اپنی خواتین کو باحفاظت وہاں سے نکال سکتے تھے جس طرح اس بھائی نے واٹر کینین کا راستہ روکا حلانکہ میں ان کو جانتا بھی نہیں تھا بس اڈیالہ دیکھتا ہوں اور آخری میں ان کو میں زبردستی وہاں سے گھسیٹ کر لایا ورنہ یہ ابھی بھی آنےکو تیار نہیں تھے اس ویڈیو کو لگانے کا مقصد ہرگز اپنی تشہیر کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر رات کو کیا ہوتا ہے اسی طرح ہم بے بس ہوتے ہیں اور میری بے بسی کا اندازہ آپ اس ویڈیو سے لگا سکتے ہیں کہ ایک طرف خواتین تھی اور دوسری جانب یہ نواجون تھا سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کس طرف جایا جائے اور کس کو بچایا جائے میں کر کچھ نہیں سکتا تھا لیکن کوشش کر سکتا تھا جو میں نے کی اور سب کو گاڑیوں تک پہنچایا بتانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اگر ہم اگھٹے مل مزاحمت سے ان کا راستہ روکیں تو تو یہ مشکل نہیں کیونکہ انسان اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے کامیابی اللہ دیتا یے۔۔ ہم اس وقت فسطائیت کے ندترین دور سے گزر رہے ہیں اور جتنا جلدی ہوسکے ہم اپنا یہ دماغ بنا لیں کہ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے تو کامیابی ملی گی ورنہ یہ لوگ ہمیں ایسے ہی اکیلا اکیلا کر کہ ماریں گے اور اس میں ایک دن سب کی باری آئی گی اس لیئے سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہمیں ماریں گے یا جیل بھیج دیں گے اور آخری میں جان ہی رہ جاتی ہے انسان کے پاس لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے ساتھ دیتے ہوئے اگر آپ کی موت بھی آگئی تو اللہ کے ہاں سرخرو ہونگے۔ آخر میں یہ بتاتا چلو کہ عمران احمد خان نیازی کے خاندان کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے ان کی تضلیل ہماری تضلیل ہے میری بات اگر کسی کو بری لگی تو میں معزرت خواہ ہوں اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 🙏

Ch Awais Younas Adv

18,446 görüntüleme • 8 ay önce

میں ایک صحافی ہونے کے ناطے چند گزارشات رکھنا چاہتی ہوں۔ آپ سب اس تحریر کو پڑھ کر اپنی رائے ضرور دیں میری تمام ویڈیوز اور تصاویر میں میں نے ہمیشہ حجاب اور شلوار قمیض پہنی ہے، کبھی بھی غیر مہذب لباس استعمال نہیں کیا۔ پھر بھی کچھ لوگوں کو مجھ سے اعتراض ہے تو میں ان سے سوال کرتی ہوں: کیا یہی لباس آپ کی بہن یا بیٹی نہیں پہنتی؟ اگر وہ بھی شلوار قمیض ہی پہنتی ہیں تو پھر میرا قصور کیا ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ بڑے نیک اور مولوی بننے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت ان کے رویے اور کمنٹس میں نظر آ جاتی ہے۔ میں صرف اتنا کہتی ہوں کہ دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے خود کو بھی دیکھ لینا چاہیے۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ میں فیک ہوں یا ریئل، تو ان شاءاللہ میں اپنا ثبوت ضرور دوں گی کہ میں ایک لڑکی ہوں۔ لیکن جنہوں نے مجھے فیک کہا، اگر میں نے اپنی سچائی ثابت کر دی تو کیا ان پر بھی کوئی جرمانہ ہوگا؟ یہ سوال باقی سب کے لیے چھوڑتی ہوں۔ تحریر: نادیہ ملک، صحافی

Nadia Malik

67,265 görüntüleme • 9 ay önce