Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

یہاں ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ حیدر آباد کا ہر وہ ایم پی اے اور ایم این اے جو تحریک انصاف سے نہیں ہے وہ چور ہے، ڈاکو ہے اور لٹیرا ہے۔ کل پنجاب کی جعلی وزیر اعلیٰ نے بیان دیا ہے تو حیدر آباد والو مجھے...

10,889 Aufrufe • vor 17 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

قتل کیے جانے والے مفتی منیر شاکر کی ایک حالیہ انٹرویو کا اردو ترجمہ۔ "بنوں اور اکوڑہ میں دھماکے پر مولوی طبقے کی خاموشی سوالیہ نشان بالکل نہیں ہے, کیونکہ یہ تو سرکار کی بی ٹیم ہے۔ جب سرکار روس میں جنگ چاہ رہی تھی تو ہر مسجد سے جہاد کی آوازیں گونجتی تھیں۔ جہاں سرکار جنگ کو جہاد نہیں کہتی تو ملا کی بولتی بند ہو جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر یہ ملا لوگ حق بات کرتے تو یہ دھماکے سرے سے نہ ہوتے۔ میں مذمت کرنے کی اس روایت کے خلاف ہوں کیونکہ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ ملا اپنی بیغرتی اور خاموشی پر نشانہ بنتے رہیں گے۔ ان کا کوئی نظم و ضبط کوئی اتحاد نہیں ہے۔ یہ قرآن میں جو ہے اس کو فالو ہی نہیں کرتے۔ یہ وہ جانور ہیں جو ایک دوسرے کو کھا جانے کو تیار بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ کبھی دیوبند، کبھی بریلوی تو کبھی پنجپیر پر لڑتے جھگڑتے ہیں، ان کے نام پر یہ اپنے مسلمان بھائیوں کو کافر کہتے ہیں، اور انہیں قتل کرتے ہیں۔ یہ شافعی، حنفی ، حنبلی کیا لگتے ہیں تمہارے؟ جب تم یہاں مردار ہو جاتے ہو تو دیوبند، بریل، امام مالک، امام حنفی، شافعی، اور دیگر آتے ہیں تمہارے جنازے پر؟ بلکہ یہی تمہارے قام قبیلے کے لوگ آتے ہیں۔ لہذا ان ہی کو اپنا بھائی بنا لو، ان کو اسلام سکھاو۔ مجھے ہر دھماکے اور ہر عالم پر کیے گئے حملے پر افسوس ہوتا ہے کہ آخر پشتون ہی کیوں قتل ہوتے ہیں۔ یہ دہشتگرد صرف میرے صوبے ہی کیوں آتے ہیں۔ اگر تم کہتے ہو کہ افغانستان سے آتے ہیں تو وہاں پڑوس میں انڈیا و دیگر ممالک کیوں نہیں جاتے۔ یہ کبھی پنجاب بھی نہیں جاتے۔ اول بات تو یہ کہ دہشتگرد تم صرف اس کو کہتے ہو جس سے "تمہیں" خطرہ ہو۔ اگر میرے جیسوں کو خطرہ لاحق ہو تو وہ دہشتگرد نہیں سمجھے جاتے۔ مجھے موبائل پر قتل کی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ میں نے سی ٹی ڈی، اور اپنے علاقے کے تھانے میں درخواست دی ہے۔ خود سرکار، ایم آئی نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، لیکن پھر بھی مجھے سیکیورٹی نہیں دے رہے۔ جہاں جاتا ہوں پولیس تنگ کرتی ہے۔ کہتی ہے کس کی اجازت پر اسلحہ لے کر آئے ہو۔ میں جس سے اجازت لیتا ہوں وہ اجازت دیتا نہیں ہے! ان کو جس سے خطرہ ہے اس کو یہ دہشتگرد کہتے ہیں اور مجھے جس سے خطرہ ہے یہ مجھے اس کے سامنے غیر مسلح کرتے ہیں۔ دراصل دہشتگرد تو وہ ہے جس سے سب کو خطرہ ہو، عوام کو خطرہ ہو۔ میں کہتا ہوں کہ پاکستان تباہ ہو رہا ہے اس کے لیے کچھ کرو۔ " #munirshakir

Aneela Khalid

33,447 Aufrufe • vor 1 Jahr

اگر جنرل صاحب کہتے ہیں آپ مجھے بھی کچھ نہ کہیں میں جو کچھ کروں میری مرضی ہے نہ میری عقل کسی کی پابند ہے نہ میری محنت کسی کی پابند ہے میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے اگر ہم سیاسی جماعتوں پر تنقید کر سکتے ہیں ہم صدر اور وزیراعظم پر تنقید کر سکتے ہیں یا تو پھر یہ کہیں کہ ہمارا ادارہ جو ہے وہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور جنرل آ کر ٹی وی پر کبھی کہتے بھی ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن اگر واقعتا ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں کرتے الیکشن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا تو پھر تو ہم بھی کہیں گے کہ ہم نے غلط کیا لیکن اگر وہ الیکشن میں بھی اپنی دھاندلیاں کرتے رہے یعنی عجیب بات یہ ہے کہ اس 24 کے الیکشن میری معلومات کے مطابق 70 ارب روپیہ ایک صوبے سے انہوں نے نکالا کہتے ہیں کہ کس طرح ہم ان کو کہیں ابھی کہتے ہیں کہ اپ حافظ جی یا نابینہ کو نابینا نہ کہیں وہ بتائیں کہ اگر نابینے کو نابینا نہیں دیں گے تو کیا کہیں گے۔ مولانا عطاء الرحمن صاحب #سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے #معافی_مائی_فٹ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

Sadaqat Khan

19,578 Aufrufe • vor 2 Monaten

ابھی اسلام آباد میں چند روز بعد کچھ جماعتوں نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے؟پورے اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا ہے،پاکستان کے دارالخلافہ کا تصور دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے؟ اور ہم ہیں کہ کسی کو بھی احتجاج کرنے کا حق نہیں دینا، اظہارِ رائے کا حق نہیں دینا۔ اور پھر جب لوگوں کی آواز بند کر دیتے ہیں اور وہ دیوار سے جا کر لگ جاتے ہیں تو پھر زبان کے بجائے ہاتھ استعمال کرتے ہیں، تو پھر ان کو باغی کہا جاتا ہے،ملک کے لیے باغی تو آپ خود بنا رہے ہیں۔ کشمیر کے اندر تو کسی کے پاس بندوق نہیں ہے، ان کو بھی لاشیں دی جا رہی ہیں،تین مہینے سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان کے ساتھ کیے گئے وعدے اور وہ مطالبات جو تسلیم کیے جا چکے ہیں، حکومت وہ واپس لے چکی ہے۔اور ہر ایک پر الزام ہے، کوئی را کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی افغانستان کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی ایران کا ایجنٹ بن جاتا ہے۔ کیا صرف یہی پاکستانی رہ گئے ہیں؟ جس طرح خوارج صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں،اسی طریقے سے ہمارے طاقتور لوگ بھی اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں اور اپنے علاوہ کسی کو پاکستانی نہیں سمجھتے ہیں۔ یہ رویے ناقابلِ برداشت ہوتے جا رہے ہیں، اور اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

29,151 Aufrufe • vor 2 Tagen