Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

یہی پنجابی کا ماہیا(ٹپّہ) جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ نے بھی 80 کی دہائی میں گایا تھا. سن کر بتائیے کہ کیا اس جوڑے نے اس کے ساتھ انصاف کیا اور کیا یہ جگجیت اور چترا کی کلاس کو پہنچے ہیں؟ 👇

14,165 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

10 Yorum

faiza Sadiq profil fotoğrafı
faiza Sadiq1 yıl önce

ان دونوں نے بھی اچھا گایا ہے لیکن جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کی کلاس کو یہ لوگ نہیں چھو سکتے

پانچواں درویش profil fotoğrafı
پانچواں درویش1 yıl önce

کمال۔۔۔۔ خاص کر "مچھ "

𝓝𝓮𝓮𝓷𝓪♥️🇨🇦🇵🇸 profil fotoğrafı
𝓝𝓮𝓮𝓷𝓪♥️🇨🇦🇵🇸1 yıl önce

وہ تو نہیں سنا۔ یہ اچھا ھے 😊 اس میل سنگر کا انسٹا پر اکاؤنٹ ھے “سادگی “ غزل بہت اچھی گائی ھے انہوں نے۔

عام آدمی profil fotoğrafı
عام آدمی1 yıl önce

واہ بہت خوب

Tamoor Zafar profil fotoğrafı
Tamoor Zafar1 yıl önce

سر میرے خیال میں نہیں۰ حالانکہ انہوں نے بھی انصاف کیا ہے۰

@S.MH profil fotoğrafı
@S.MH1 yıl önce

Buhat door hen un sey

A N A I Z A 🎀 profil fotoğrafı
A N A I Z A 🎀1 yıl önce

Achaaa hy

Seerat Fatima profil fotoğrafı
Seerat Fatima1 yıl önce

جدت کے حساب سے دیکھا جائے تو انصاف ہی ہوا ہے۔

🖤سحر🖤 profil fotoğrafı
🖤سحر🖤1 yıl önce

خوبصورت ھے

🎀🧚🏻‍♀️ profil fotoğrafı
🎀🧚🏻‍♀️1 yıl önce

واہ بہت خوب

Benzer Videolar

یہ پچھلے سال کی اس کی ویڈیو ہے تب یہ ٹک ٹاکر کافی زیادہ وائرل ہو رہا تھا اور یہ لائیو میچ کھیلا کرتا تھا ٹک ٹاک پہ لوگوں کے ساتھ اور اس کی ویڈیو کافی وائرل ہوتی تھی اور یہ خود کو عمران خان سے بڑا لیڈر سمجھنے لگا ایک دن اس کے ساتھ ہم باتیں کر رہے تھے تو اس نے عمران خان کے اوپر وہ باتیں کی جو میں سوچ نہیں سکتی تھی مدہ بہت لمبا تھا لیکن اس کی زبانی خود سنیں کہ یہ عمران خان کو کیا کہہ رہا ہے مطلب اس کو عمران خان سے زیادہ پتہ ہے۔۔ میں نے دوبارہ اس بندے کو کبھی اہمیت نہیں دی پھر یہ کافی چالاک بھی تھا اس نے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا جس میں اس نے مجھے بھی ایڈ کیا اور اس نے ہم سب کو کہا اب میری ٹیم ہیں ٹیم الادین میں نے کہا ہم کسی کی ٹیم نہیں ہم صرف عمران خان کی ٹیم ہے ہم عمران خان کی بات کیا کریں گے اور اس پر میرے ساتھ سب لوگوں نے اتفاق کیا لیکن اس نے نہ کیا اور پھر بہت سارے لوگ وہ واٹس ایپ گروپ چھوڑ کے چلے گئے جس میں میں بھی شامل تھی اور میں نے اس کو ہمیشہ دیکھا یہ کرتا کیا ہے اس نے بہت جھوٹ بولے اس کو ہر وہ کام کرنے اور ہر ایک وہ چیز بولنے کی اجازت تھی جو ہر نئے انے والے بندے کو ہوتی ہے جس کو ہیرو بنایا جاتا ہے پھر اس کو پتہ چلا کہ ٹویٹر بھی کوئی چیز ہوتی ہے پھر یہ پچھلے سال ٹویٹر پہ پہنچا اور دیکھتے ہی دیکھتے کوئی شخص جب اتنا وائرل ہو جاتا ہے تو اپ خود سمجھیں کہ اس کے پیچھے کیا ہوتا ہے اور ہماری قوم ٹھہری معصوم جس کے فالور زیادہ ہوئے نہیں بس اسی کے ساتھ تصویریں لینے نکل پڑے وہ پتلو ہو یا وہ پھر کوئی جنت مرزا ا یا کوئی ڈکی بھائی ہو یا کوئی اور شروع میں یہ بھی ٹوٹے دل اور عاشقی والی ویڈیو ہی بناتا تھا۔۔جو کے اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ اس نے بہت سارے ایسے لوگوں کو سپورٹ کی جس کو نہیں کرنا چاہیے تھا اس کو سمجھ اگئی تھی کہ ٹک ٹاک کا الگوریدم وہی چیزیں اٹھاتا ہے جو ٹاپ ٹرینڈنگ ہو اسے ان چیزوں سے کبھی مقصد نہیں ہوا تھا کہ کیا ضروری ہے کیا اہم اور پھر اہستہ اہستہ اس کو ہمارے ہی پی ٹی ائی افیشلز کے کچھ لوگوں نے انٹروڈکشن دیا اس کو عزت دی پھر اچانک سے اس کے ابو کو اٹھا لیا گیا جو کہ مجھے سچ نہیں لگتا کیونکہ پھر اگلے ہی دن یہ ائی ایس ائی کو للکار رہا تھا اور پھر ان کا ابو چھوٹ بھی گیا جو کہ اچھی بات ہوئی اس کے بعد یہ پی ٹی ائی افیشل میں بیٹھے ہوئے چند لوگوں کی مدد سے زیادہ ہی وائرل ہوگیا۔۔ اب اس نے یہ جتنے بھی پروگرام کیے ہیں اس نے بہت سنگین جرم کیا عمران خان کی تصویر نہ لگا کر پی ٹی ائی کے جھنڈے نہ لہرا کر اب یہ اس مدے پر پہنچ چکا ہے کہ یہ اپنی کوئی ہیومن رائٹس کے ارگنائز شن بنا رہا ہے یہ سب کرنے کے لیے اس نے عمران خان کا نام استعمال کیا اس نے پی ٹی ائی کے لوگوں کے جذبات سے کھیلا اور یہ تمام اس کے فالورز جو اس کو ملے ہیں وہ عمران خان کے نام پر ملے ہیں لیکن اس کا ایجنڈا کچھ زیادہ ہی بڑا ہے یاد رہے یہ اس کے الفاظ اس وقت کے ہیں جب خان صاحب جیل میں تھے یہ اس وقت بھی لوگوں کو یہ کہتا تھا کہ ہمیں عمران خان پر ٹرسٹ نہیں کرنا چاہیے تھا جو ہم نے کیا

Sara Mir

33,141 görüntüleme • 9 ay önce

علینہ عامر نے اپنے لیکیڈ ویڈیو کو اے ای قرار دیااور مریم نواز سے انصاف کی اپیل کر دی ہے ۔ کیا سچ ہے کیا جھوٹ ہے یہ تو اس کی کہانی اس کی زبانی سن لجیے ۔ مگر یہ بات حقیقت ہے جب تک اس ملک میں ٹک ٹاک کا کت خانہ کھولا رہے گا یہ سب ہوتا رہے گا ۔۔ لگتا ہے عشق محبت سچے جذبے اور سچے لوگ وصال کر گے ہیں ۔اخلاقی دیوالیہ پن کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔ ورنہ تو ہیرا سنگھ کی منڈی کے شور میں دبے وہ سچے حرفِ وفا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عشق کی تڑپ آج بھی دیواروں سے لپٹی سسکیاں بھرتی محسوس ہوتی ہے جب مکان کچے تھے تب محبتیں اتنی کھری تھیں کہ شاہی درباروں کی رونقیں ایک طوائف کی سچی پکار پر قربان ہو جاتی تھیں تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عشق جسموں کا سودا نہیں بلکہ دو روحوں کے اس ملاپ کا نام تھا جس نے تخت و تاج کو بھی خاک کر دیا تھا کیا آپ اس عشق کی وہ چھپی ہوئی داستان سننا چاہیں گے جس نے رنجیت سنگھ کو بے بس کر دیا تھا؟ اک طوائف جو تخت لاہور کی ملکہ بنی ۔۔ اس ویڈیو کے نیچے ارٹیکل موجود ہے ۔۔

Saleem Speaks

21,149 görüntüleme • 6 ay önce

گلگت بلتستان انتخابات میں بھی پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے گلگت بلتستان ڈیموکریٹک الائنس کے ساتھ اتحاد کیا۔ اس الائنس کو الیکشن کمیشن نے رجسٹر کیا اور باقاعدہ انتخابی نشان الاٹ کیا، لیکن جیسے ہی پی ٹی آئی نے اس الائنس کے ساتھ اتحاد کیا تو الیکشن کمیشن نے اس سے انتخابی نشان بھی واپس لے لیا اور اس پر پابندی بھی عائد کر دی۔ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ پی ٹی آئی قومی اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے، گو کہ عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا تھا، مگر ہم سے ہمارا مینڈیٹ چھین لیا گیا۔ سینیٹ اور پنجاب اسمبلی میں بھی ہم بڑی اپوزیشن جماعت ہیں، جبکہ ایک صوبے میں ہماری حکومت ہے، لیکن قانون کے تحت ہم سے ہمارا آئینی حق چھینا گیا۔ میں الیکشن کمیشن کے اس اقدام کی مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ اس نوٹیفکیشن کو واپس لے کر گلگت بلتستان ڈیموکریٹک الائنس کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کی جائے۔

Asad Qaiser

27,500 görüntüleme • 3 ay önce