
Afzal Butt
@Afzalbutt01 • 11,916 subscribers
President Pakistan Federal Union of Journalists (PFUJ )
Videos
2:20
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

بلاول بھٹو نے بجٹ بحث کا میلہ لوٹ لیا، مدلل اور پر مغز خطاب کے دوران قومی اسمبلی ہال اور گیلریوں میں سکوت طاری۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے خطاب نے نہ صرف بجٹ بحث کا رخ تبدیل کر دیا بلکہ آزاد کشمیر، کشمیر کاز، مہاجرین کی نمائندگی اور پارلیمانی اصلاحات جیسے اہم موضوعات کو قومی مباحثے کا حصہ بنا دیا۔ بلاول بھٹو نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ میں آزاد کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتا ہوں، میں آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر کی طرح نہیں دیکھنا چاہتا، یہ نہیں ہوسکتا کہ 1947 سے 2027 تک آزاد کشمیر کو ایک ہی انداز میں چلایا جائے، آزاد کشمیر میں ایک نئی نسل جوان ہوچکی ہے، جو اپنے حقوق کی جدوجہد کررہی ہے اور ہم نے ان کو حقوق کی جدوجہد سکھائی ہے، وقت آگیا ہے کہ ہم آزاد کشمیر کو نیا منشور اور نیا پروگرام دیں، یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کو ووٹ کا حق، بولنے کا حق، آئین اور قانون بنانے کا حق اور اپنا مستقبل طے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئیے، ہمیں ان کو دکھانا ہوگا کہ پاکستان کے پاس ان کے تمام مسائل کا حل ہے، ہم کب تک آزاد کشمیر کو پرانی تنخواہ پر چلائیں گے! چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام کو ہمیں یہ اطمینان دلانا ہوگا کہ ان کے فیصلے کوئی ایک وفاقی وزیر یا دوسرے صوبے نہیں کریں گے بلکہ وہ خود کریں گے، یہ بھی کہا کہ میں را کا ایجنٹ نہیں ہوں، میں اس پاکستان پیپلزپارٹی کا نمائندہ ہوں جس کی بنیاد مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی، اس موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم مہاجرین کی نمائندگی اور ان کے ووٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے لیکن آزاد کشمیر کے عوام کے جائز تحفظات کو دور کیا جائے اور یقینی بنایا جائے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری ہی کرے گا، اس سلسلے میں انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی جو نشستیں ہیں، ان کا فیصلہ تناسب کے حساب سے مخصوص نشستوں کے حوالے سے کیا جائے، آزاد کشمیر کی مخصوص نشستیں مہاجرین کو دی جائیں، مہاجرین کے ووٹ کے اختیار کے لئے ان کو یہ حق دیا جائے کہ وہ آزاد کشمیر جاکر اپنا ووٹ دے سکتے ہوں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ رائے شماری کا حق ملنے تک کشمیر کو ایسے ہی چلایا جائے گا، آزاد کشمیر کو رائے شماری کا حق ملنے تک ہمیں عبوری طور پر آزاد کشمیر کے نمائندوں کو قومی اسمبلی میں نمائندگی دینا ہوگی، میں وہ دن دیکھنا چاہتا ہوں کہ مظفرآباد کا عوامی نمائندہ میرے ساتھ قومی اسمبلی میں بیٹھے، اگر آزاد کشمیر کو سبسڈی اور بجلی سے متعلق کوئی مدعا اٹھانا پڑے، اگر میرپور کو ائیرپورٹ چاہئیے تو ایسا کیوں ہوتا ہے کہ لاڑکانہ کا رکن قومی اسمبلی اس کے لئے آواز بلند کرے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ آزاد کشمیر میں آج جو کچھ ہورہا ہے، اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچ رہا ہے، انہوں نے اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ میں آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والوں سے کہتا ہوں کہ بس اب بہت ہوگیا، اب اٹھ جائیں، جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا، ان کے ساتھ نرمی برتی جائے تاہم جنہوں نے جرم کیا ہے، ان کے خلاف قانون کو ایکشن لینا ہوگا، انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ آپ خود ان لوگوں کو قانون کے حوالے کریں جنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے، مظاہرین خود کو قانون ہاتھ میں لینے والے انتہاپسند عناصر سے الگ کریں، احتجاج کے غیرمشروط خاتمے کے بعد مطالبات کی تکمیل کا سیاسی راستہ نکل سکتا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ ہم آپ کو کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے، جس انداز میں احتجاج ہورہا ہے، ایسی صورت میں مطالبات کیسے پورے ہوسکتے ہیں، احتجاج کی وجہ سے غذائی اجناس اور پیٹرول تک آزاد کشمیر نہیں پہنچ پارہا، ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم بات نہیں کریں گے یا کسی وعدے پر عمل درآمد نہیں کریں گے، آپ سیاسی انداز میں جدوجہد کریں تو آپ کو سیاسی کامیابی بھی ملے گی۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظاہرین سے کہا کہ یہ یاد رکھیں کہ بندوق کے زور پر آئینی ترامیم نہیں ہوسکتیں، مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے ہمیں مسلم کانفرنس اور مسلم لیگ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اس حوالے سے قائل کرنا ہوگا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سوال کیا کہ جب آزاد کشمیر کے تمام مسائل کا حل نکل سکتا ہے تو اس کے لئے انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے ٹرتھ اینڈ ریکنسیلشن فورم بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ایسا فورم بنایا جائے اور ایک ہی بار میں تمام مطالبات پورے ہوجائیں تاکہ بار بار احتجاج کی نوبت نہ آئے، اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ان انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔
Afzal Butt19,147 görüntüleme • 2 ay önce

اسلام آباد۔ پیکا ایکٹ کے تحت گرفتار سینئر صحافی فخرالرحمان کو اڈیالہ جیل سے رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد صدر پی ایف یو جے افضل بٹ، آر آئی یو جے کے صدر آصف بشیر چودھری کے فرزند حبیب حنظلہ ایڈووکیٹ اور فخرالرحمان کے صاحبزدگان اڈیالہ جیل کے باہر ان کے ساتھ موجود ہیں۔ Fakhar Ur Rehman PFUJ Official pfujpakistan @PEACAAct Committee to Protect Journalists Media Matters for Democracy
Afzal Butt13,147 görüntüleme • 4 ay önce
Daha fazla içerik yok.