DTE PUNJAB DSD's banner
DTE PUNJAB DSD's profile picture

DTE PUNJAB DSD

@DsdDte97,031 subscribers

Work For Education

Shorts

بائیں طرف ڈھائی سال کے بچے کے ہاتھ کا ایکسرے ہے، اور دائیں طرف چھ سال کے بچے کا۔ صرف چند سالوں کا فرق ہے، مگر کلائی کی ہڈیوں کی نشوونما میں کتنا بڑا فرق صاف نظر آ رہا ہے۔ اب خود سے ایک سوال پوچھیے... اگر ان دونوں بچوں کے ہاتھ میں ایک جیسی پنسل دے کر کہا جائے کہ "صاف لکھو، لائن کے اندر لکھو، شکل درست بناؤ"... تو کیا دونوں ایک جیسا لکھ سکیں گے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ لکھنا صرف ذہانت کا نہیں، جسمانی نشوونما کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ جب تک کلائی، انگلیوں کی باریک حرکتوں (Fine Motor Skills) اور پٹھوں کی مناسب نشوونما نہ ہو، بچہ چاہ کر بھی وہ گرفت پیدا نہیں کر سکتا جو خوبصورت لکھائی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ لیکن افسوس... ہم میں سے بہت سے والدین روز یہی ظلم کرتے ہیں۔ دو، ڈھائی یا تین سال کے ننھے بچوں کے ہاتھ میں پنسل تھما دیتے ہیں، پھر کہتے ہیں: "سیدھا لکھو!" "لائن سے باہر کیوں نکل گئے؟" "شکل خراب کیوں بنائی؟" "دوسرے بچے تو کتنا اچھا لکھ لیتے ہیں!" اور جب بچہ نہ کر سکے تو اسے ڈانٹ، ڈپٹ، شرمندگی، بلکہ بعض اوقات مار تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذرا سوچیے... جس معصوم کی کلائی کی ہڈیاں ابھی مکمل بنی ہی نہیں، جس کے ہاتھ کے ننھے ننھے پٹھے ابھی مضبوط ہی نہیں ہوئے، اس سے آپ وہ کام کیوں چاہتے ہیں جس کے لیے اس کا جسم ابھی تیار ہی نہیں؟ دنیا کے کئی کامیاب تعلیمی نظام اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ مثلاً فن لینڈ میں بچے عام طور پر سات سال کی عمر سے پہلے باقاعدہ اسکول شروع نہیں کرتے، اور ابتدائی برسوں میں کھیل، تخلیقی سرگرمیوں اور جسمانی و ذہنی نشوونما پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ فن لینڈ کا تعلیمی نظام طویل عرصے سے دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے. یاد رکھیے... اگر آپ کا بچہ چھ یا سات سال کی عمر تک بھی لکھنے میں دوسروں سے پیچھے ہے، تو ضروری نہیں کہ اس میں کوئی خرابی ہو۔ انکے جِسم نے ابھی وہ مسل ہی نہیں بنائے ہوتے جو پنسل پکڑ سکیں .. اگر آپ کا بچہ چھ سات سال تک صحیح نہیں لکھ پاتا تو وہ غلط نہیں آپ غلط ہو ...شیئر کرو تاکہ سب آنکھیں کھول کر پڑھ لیں منقول

بائیں طرف ڈھائی سال کے بچے کے ہاتھ کا ایکسرے ہے، اور دائیں طرف چھ سال کے بچے کا۔ صرف چند سالوں کا فرق ہے، مگر کلائی کی ہڈیوں کی نشوونما میں کتنا بڑا فرق صاف نظر آ رہا ہے۔ اب خود سے ایک سوال پوچھیے... اگر ان دونوں بچوں کے ہاتھ میں ایک جیسی پنسل دے کر کہا جائے کہ "صاف لکھو، لائن کے اندر لکھو، شکل درست بناؤ"... تو کیا دونوں ایک جیسا لکھ سکیں گے؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ لکھنا صرف ذہانت کا نہیں، جسمانی نشوونما کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ جب تک کلائی، انگلیوں کی باریک حرکتوں (Fine Motor Skills) اور پٹھوں کی مناسب نشوونما نہ ہو، بچہ چاہ کر بھی وہ گرفت پیدا نہیں کر سکتا جو خوبصورت لکھائی کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ لیکن افسوس... ہم میں سے بہت سے والدین روز یہی ظلم کرتے ہیں۔ دو، ڈھائی یا تین سال کے ننھے بچوں کے ہاتھ میں پنسل تھما دیتے ہیں، پھر کہتے ہیں: "سیدھا لکھو!" "لائن سے باہر کیوں نکل گئے؟" "شکل خراب کیوں بنائی؟" "دوسرے بچے تو کتنا اچھا لکھ لیتے ہیں!" اور جب بچہ نہ کر سکے تو اسے ڈانٹ، ڈپٹ، شرمندگی، بلکہ بعض اوقات مار تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذرا سوچیے... جس معصوم کی کلائی کی ہڈیاں ابھی مکمل بنی ہی نہیں، جس کے ہاتھ کے ننھے ننھے پٹھے ابھی مضبوط ہی نہیں ہوئے، اس سے آپ وہ کام کیوں چاہتے ہیں جس کے لیے اس کا جسم ابھی تیار ہی نہیں؟ دنیا کے کئی کامیاب تعلیمی نظام اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ مثلاً فن لینڈ میں بچے عام طور پر سات سال کی عمر سے پہلے باقاعدہ اسکول شروع نہیں کرتے، اور ابتدائی برسوں میں کھیل، تخلیقی سرگرمیوں اور جسمانی و ذہنی نشوونما پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ فن لینڈ کا تعلیمی نظام طویل عرصے سے دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے. یاد رکھیے... اگر آپ کا بچہ چھ یا سات سال کی عمر تک بھی لکھنے میں دوسروں سے پیچھے ہے، تو ضروری نہیں کہ اس میں کوئی خرابی ہو۔ انکے جِسم نے ابھی وہ مسل ہی نہیں بنائے ہوتے جو پنسل پکڑ سکیں .. اگر آپ کا بچہ چھ سات سال تک صحیح نہیں لکھ پاتا تو وہ غلط نہیں آپ غلط ہو ...شیئر کرو تاکہ سب آنکھیں کھول کر پڑھ لیں منقول

42,242 views

عزیز ھوٹل چوک ملتان سڑک جہاں پر ابھی آسمانی بجلی گری ھے روڈ سارا پھٹ گیا ھے 👏

عزیز ھوٹل چوک ملتان سڑک جہاں پر ابھی آسمانی بجلی گری ھے روڈ سارا پھٹ گیا ھے 👏

38,178 views

Videos