Khalid Yousaf Chaudry's banner
Khalid Yousaf Chaudry's profile picture

Khalid Yousaf Chaudry

@KhalidYChaudry78,606 subscribers

Representing @ImranKhanPTI in Courts as Lawyer | Member Core Committee @PTIOfficial | Ex Civil Servant |

Shorts

ہری پور الیکشن میں دھاندلی کے ثبوت آج میڈیا کو جاری کر دیئے گئے ہیں۔

ہری پور الیکشن میں دھاندلی کے ثبوت آج میڈیا کو جاری کر دیئے گئے ہیں۔

36,658 Aufrufe

الجزیرہ ٹی وی کی وساطت سے عمران خان کی اجتجاج پالیسی بارے بطور وکیل عمران خان عالمی دنیا کو آگاہ کیا۔ #میں_بھی_عمران_خان_ہوں

الجزیرہ ٹی وی کی وساطت سے عمران خان کی اجتجاج پالیسی بارے بطور وکیل عمران خان عالمی دنیا کو آگاہ کیا۔ #میں_بھی_عمران_خان_ہوں

72,162 Aufrufe

اینکر خالد جمیل کو ان کے گھر سے بغیر کسی وارنٹ شام 06:36 بجے اُٹھا کہ لے گئے ہیں اور اس وقت تک کوئی بھی ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی اور نہ وارنٹ دکھایا گیا ہے۔ پاکستان لاقانونیت کے بد ترین دور سے گزر رہا ہے جہاں منہ میں زبان ، ذہن میں سوچ رکھنا جرم بنا دیا گیا ہے۔

اینکر خالد جمیل کو ان کے گھر سے بغیر کسی وارنٹ شام 06:36 بجے اُٹھا کہ لے گئے ہیں اور اس وقت تک کوئی بھی ایف آئی آر تک درج نہیں ہوئی اور نہ وارنٹ دکھایا گیا ہے۔ پاکستان لاقانونیت کے بد ترین دور سے گزر رہا ہے جہاں منہ میں زبان ، ذہن میں سوچ رکھنا جرم بنا دیا گیا ہے۔

22,240 Aufrufe

Videos

KhalidYChaudry's profile picture

میں، بطور ممبر لیگل ٹیم سابق وزیراعظم عمران خان ، یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے عمران خان صاحب کی جانب سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں متعدد آئینی و قانونی درخواستیں دائر کرنی ہیں۔ اسی سلسلے میں کل دوسری مرتبہ اڈیالہ جیل پہنچا تاکہ عمران خان صاحب کے قانونی دستاویزات ، وکالت نامہ اور پاور آف اٹارنی پر دستخط حاصل کیے جا سکیں، جو کسی بھی پٹیشن کے دائر کرنے کے لیے ناگزیر قانونی تقاضا ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی درخواست اپیل برائے سماعت مقرر نہیں کی جاتی۔ مگر جیل انتظامیہ کی جانب سے ان قانونی دستاویزات پر عمران خان صاحب سے دستخط کروانے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے نہ صرف قانونی عمل میں رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے بلکہ عمران خان صاحب کے بنیادی حقِ رسائی برائے انصاف (Access to Justice) کو بھی سلب کیا جا رہا ہے۔ یہ قابلِ تشویش ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کے خلاف ہمیں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے بھی ضروری قانونی تقاضے پورے کرنے سے روکا جا رہا ہے تا کہ نہ کیس کی سماعت ہو گی اور نہ عمران خان صاحب کے ساتھ ہونے والی نا انصافی سامنے آئے گی۔ یہ طرزِ عمل دانستہ طور پر پٹیشنز کو مؤخر اور غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مقررہ مدت گزر جانے کے بعد انہیں زائد المیعاد (time-barred) قرار دے کر سماعت سے ہی محروم کر دیا جائے۔ کل جیل حکام نے پہلے نام نوٹ کر کے انتظار کروایا اور بعد ازاں وقت گزارنے کے بعد صاف انکار کر دیا، جو بدنیتی پر مبنی تاخیری حربہ ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی عمران خان صاحب کے مقدمات کو میرٹ پر اپیلٹ فورم پر سنا گیا، جیسے کہ سائفر کیس، عدت کیس اور توشہ خانہ کیس، ان میں عدالتی نا انصافی عیاں ہوئی اور سزائیں ختم ہوئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ نئی پٹیشنز دائر ہی نہ ہونے دی جائیں۔ ہم نے سپریم کورٹ میں میڈیکل بنیادوں پر بھی رجوع کرنا تھا، تاہم اس ضمن میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ بحیثیت وکیل، میں عمران خان صاحب کے تمام قانونی امور کی کوآرڈینیشن، مینجمنٹ اور فالو اپ کا ذمہ دار ہوں اور لیڈنگ کونسلز کو سہولت فراہم کرنا میری پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں یہ تمام امور غیر معمولی رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ قانونی دستاویزات پر دستخط نہ کروانے کا واحد مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی اپیل یا آئینی درخواست بروقت دائر نہ ہو سکے اور یوں عمران خان صاحب کو انصاف تک مؤثر رسائی سے محروم رکھا جائے، جو کہ نہ صرف آئین بلکہ قانون کی روح کے بھی منافی ہے

Khalid Yousaf Chaudry

42,620 Aufrufe • vor 3 Monaten

KhalidYChaudry's profile picture

میں آج اڈیالہ جیل سابق وزیراعظم عمران خان صاحب اور بشریٰ بیگم صاحبہ سے القادر ٹرسٹ کیس میں درخواست ضمانت بارےسپریم کورٹ اپیل کے لیے وکالت ناموں پر دستخط کروانے کی غرض سے گیا تھا۔ میں تقریباً چار گھنٹے انتظار کرتا رہا، مگر جیل حکام کی جانب سے وکالت ناموں پر دستخط نہ کروائے گئے ۔ القادر ٹرسٹ کیس سے متعلق وکالت نامے 25 مئی کو جیل حکام کو فراہم کر دیے گئے تھے، لیکن تاحال ان پر دستخط نہیں کروائے جا رہے۔ مجھے عید کے بعد دوبارہ آنے کا کہا گیا تھا۔ وکالت ناموں پر دستخط نہ کروانا سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بیگم صاحبہ کی انصاف تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ہم القادر ٹرسٹ کیس میں درخواستِ ضمانت بغیر فیصلہ نمٹائے جانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں، لیکن وکالت ناموں پر دستخط نہ ہونے کی وجہ سے قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ سابق وزیراعظم عمران خان صاحب اور بشریٰ بیگم صاحبہ کے عدالتوں تک رسائی کے آئینی اور قانونی حق کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ 25 مئی کو ایک وکالت نامہ میڈیکل پٹیشن کے سلسلے میں بھی دیا گیا تھا، جبکہ القادر ٹرسٹ کیس کے وکالت نامے اب تک دستخط کے لیے پیش نہیں کیے جا رہے۔ خالد یوسف چوہدری

Khalid Yousaf Chaudry

15,753 Aufrufe • vor 1 Monat

KhalidYChaudry's profile picture

عمران خان صاحب پر توشہ خانہ ٹو کیس میں نا حق سزا کے بعد اب عدالت میں سزا کے خلاف اپیل کا دروازہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اڈیالہ جیل میں سیاسی انتقام کی بدترین مثال قائم کی جا رہی ہے۔ عمران خان صاحب اور بشریٰ بی بی صاحبہ کو توشہ خانہ ٹو کیس میں دی گئی ناحق سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے سے دانستہ روکا جا رہا ہے تاکہ حقِ اپیل بھی چھین لیا جائے۔ اپیل کے لیے لازم و ملزوم وکالت ناموں پر دستخط اور انگوٹھے درکار ہیں جس کے بغیر اپیل دائر ہی نہیں کی جا سکتی، مگر جیل حکام نے مجھے کل تین گھنٹے انتظار کروایا اور آج 11 بجے بلانے کے باوجود چار گھنٹے انتظار کروا کر ملاقاتی شیڈ اور لیگل ڈیسک برائے وکالت نامہ اندرون جیل سے باہر نکال دیا اور انکار کر دیا۔ یہ محض انتظامی رکاوٹ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد انصاف تک رسائی بند کرنا ہے۔ یہ طرزِ عمل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل)، آرٹیکل 4 (قانون کے مطابق سلوک)، آرٹیکل 9 (آزادیِ شخصی) اور آرٹیکل 25 (برابری) کے ساتھ ساتھ قیدیوں کے مسلمہ قانونی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وکالت نامہ ہر قیدی کا بنیادی حق ہے۔ اپیل کے دروازے بند کرنا صرف عمران خان نہیں بلکہ عدالتی نظام اور جمہوری اقدار پر حملہ ہے۔

Khalid Yousaf Chaudry

70,614 Aufrufe • vor 6 Monaten