
Khalid Yousaf Chaudry
@KhalidYChaudry • 79,494 subscribers
Representing @ImranKhanPTI in Courts as Lawyer | Member Core Committee @PTIOfficial | Ex Civil Servant |
Shorts
Videos

الحمداللہ۔ عمران خان صاحب اور بشری بیگم صاحبہ کی قید تنہائی کا فیصلہ جاری۔ عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان کو اپنے بچوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے رابطے کی سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم اگر ان کالز کو سیاسی مقاصد یا کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ سہولت معطل کی جا سکتی ہے۔ عمران خان صاحب کو فیملی اور اپنی اہلیہ سے ملاقات جیل قوانین اور فیملی میٹنگ کے قواعد کے مطابق کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہیں روزانہ ایک گھنٹے ایسی واک کی اجازت ہوگی، جس کے دوران باقاعدہ انسانی میل جول کا انتظام کیا جائے گا اور جن افراد سے ملاقات یا میل جول ہوگا، ان کا ریکارڈ بھی مرتب کیا جائے گا۔ عدالت نے عمران خان کو تاریخ کی کتابوں سمیت تمام قابلِ اجازت مطالعے کا مواد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے، البتہ ممنوعہ کتب اس میں شامل نہیں ہوں گی۔ یہی سہولیات بشریٰ عمران خان کو بھی فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور انہیں اپنے خاندان سے ملاقات کی سہولت بھی قانون کے مطابق حاصل ہوگی۔ عدالت نے واضح کیا کہ جیل میں موجود تمام افراد کو آئین، قانون اور جیل قوانین کے تحت حاصل حقوق و سہولیات فراہم کی جائیں۔ عدالتی حکم پر عملدرآمد کے حوالے سے جیل حکام کو 15 روز کے اندر عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فیصلے کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اگر جیل حکام عمران خان کو قانون، آئین یا عدالتی حکم کے تحت حاصل کسی سہولت یا ریلیف سے محروم کرتے ہیں تو انہیں اس محرومی کی وجوہات تحریری طور پر فراہم کرنا ہوں گی۔ خالد یوسف چوہدری لیگل کونسل سابق وزیراعظم عمران خان
Khalid Yousaf Chaudry56,660 views • 1 day ago

ہم ہر حال میں توہین عدالت کی درخواست دائر کر کہ رہیں گے۔ میں توہین عدالت درخواست و وکالت ناموں ہر عمران خان سے دستخط کے لئے اڈیالہ جیل آیا ہوں۔ عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر حکومت عدالتی حکم کی خلاف ورزی کر رہی ہے، ۔حکومت دو روز کے اندر عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کی پابند ہے، عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ ہوا تو سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کریں گے، حکومت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے توہینِ عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے۔
Khalid Yousaf Chaudry58,099 views • 13 days ago

جیل حکام نے عمران خان صاحب سے توہینِ عدالت کی درخواست اور وکالت ناموں پر دستخط کروا کر یہ دستاویزات فراہم نہیں کیں، بلکہ جان بوجھ کر قانونی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ یہ عمل سراسر غیر قانونی اور قابلِ مذمت ہے۔ ہم ہر حال میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کریں گے اور اس غیر قانونی اقدام کو عدالت کے سامنے اٹھائیں گے۔
Khalid Yousaf Chaudry32,446 views • 13 days ago

کل شام مجھے سپرنٹنڈنٹ جیل اڈیالہ کی آفس سے کال آئی کہ عمران خان صاحب کے وکالت نامے دستخط ہو گئے ہیں آج دفتری اوقات کار میں اڈیالہ جیل سے وصول کر لوں۔ آج میں اڈیالہ جیل گیا تو مجھے 6 اپریل کو میڈیکل پٹیشن کے لئے بھیجوایا گیا عزیر کرامت بھنڈاری سینئیر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کا وکالت نامہ میرے حوالے کیا گیا جبکہ القادر کیس میں سپریم کورٹ کے لئے وکالت نامے بھی آج دن 01:30 بجے اڈیالہ جیل میں موصول ہو چکے ہیں جن کے لئے عید کے بعد آنے کا کہا گیا ہے۔ میڈیکل پٹیشن سپریم کورٹ میں وکالت نامہ نہ ہونے کے اعتراضات کے ساتھ دائر ہے اب اس کے ساتھ وکالت نامہ منسلک کر دیا جائے گا جبکہ القادر کیس میں وکالت نامے آنے کے بعد اپیلز دائر کی جائیں گی۔
Khalid Yousaf Chaudry94,398 views • 3 months ago

سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لئے عمران خان صاحب کے اپیل دستاویزات و وکالت ناموں پر جیل حکام نے دستخط کروا کہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ عمران خان صاحب کو حق انصاف سے محروم رکھنے کی دانستہ کوشش ہے کیونکہ جب بھی مقدمات سماعت کے لئے مقرر ہوں نا انصافی کھل کہ سامنے آتی ہے۔
Khalid Yousaf Chaudry68,662 views • 5 months ago

عمران خان صاحب پر توشہ خانہ ٹو کیس میں نا حق سزا کے بعد اب عدالت میں سزا کے خلاف اپیل کا دروازہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اڈیالہ جیل میں سیاسی انتقام کی بدترین مثال قائم کی جا رہی ہے۔ عمران خان صاحب اور بشریٰ بی بی صاحبہ کو توشہ خانہ ٹو کیس میں دی گئی ناحق سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے سے دانستہ روکا جا رہا ہے تاکہ حقِ اپیل بھی چھین لیا جائے۔ اپیل کے لیے لازم و ملزوم وکالت ناموں پر دستخط اور انگوٹھے درکار ہیں جس کے بغیر اپیل دائر ہی نہیں کی جا سکتی، مگر جیل حکام نے مجھے کل تین گھنٹے انتظار کروایا اور آج 11 بجے بلانے کے باوجود چار گھنٹے انتظار کروا کر ملاقاتی شیڈ اور لیگل ڈیسک برائے وکالت نامہ اندرون جیل سے باہر نکال دیا اور انکار کر دیا۔ یہ محض انتظامی رکاوٹ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد انصاف تک رسائی بند کرنا ہے۔ یہ طرزِ عمل آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل)، آرٹیکل 4 (قانون کے مطابق سلوک)، آرٹیکل 9 (آزادیِ شخصی) اور آرٹیکل 25 (برابری) کے ساتھ ساتھ قیدیوں کے مسلمہ قانونی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ وکالت نامہ ہر قیدی کا بنیادی حق ہے۔ اپیل کے دروازے بند کرنا صرف عمران خان نہیں بلکہ عدالتی نظام اور جمہوری اقدار پر حملہ ہے۔
Khalid Yousaf Chaudry70,703 views • 8 months ago

میں، بطور ممبر لیگل ٹیم سابق وزیراعظم عمران خان ، یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے عمران خان صاحب کی جانب سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں متعدد آئینی و قانونی درخواستیں دائر کرنی ہیں۔ اسی سلسلے میں کل دوسری مرتبہ اڈیالہ جیل پہنچا تاکہ عمران خان صاحب کے قانونی دستاویزات ، وکالت نامہ اور پاور آف اٹارنی پر دستخط حاصل کیے جا سکیں، جو کسی بھی پٹیشن کے دائر کرنے کے لیے ناگزیر قانونی تقاضا ہے اور اس کے بغیر کوئی بھی درخواست اپیل برائے سماعت مقرر نہیں کی جاتی۔ مگر جیل انتظامیہ کی جانب سے ان قانونی دستاویزات پر عمران خان صاحب سے دستخط کروانے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے نہ صرف قانونی عمل میں رکاوٹ پیدا کی جا رہی ہے بلکہ عمران خان صاحب کے بنیادی حقِ رسائی برائے انصاف (Access to Justice) کو بھی سلب کیا جا رہا ہے۔ یہ قابلِ تشویش ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کے خلاف ہمیں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے بھی ضروری قانونی تقاضے پورے کرنے سے روکا جا رہا ہے تا کہ نہ کیس کی سماعت ہو گی اور نہ عمران خان صاحب کے ساتھ ہونے والی نا انصافی سامنے آئے گی۔ یہ طرزِ عمل دانستہ طور پر پٹیشنز کو مؤخر اور غیر مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مقررہ مدت گزر جانے کے بعد انہیں زائد المیعاد (time-barred) قرار دے کر سماعت سے ہی محروم کر دیا جائے۔ کل جیل حکام نے پہلے نام نوٹ کر کے انتظار کروایا اور بعد ازاں وقت گزارنے کے بعد صاف انکار کر دیا، جو بدنیتی پر مبنی تاخیری حربہ ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی عمران خان صاحب کے مقدمات کو میرٹ پر اپیلٹ فورم پر سنا گیا، جیسے کہ سائفر کیس، عدت کیس اور توشہ خانہ کیس، ان میں عدالتی نا انصافی عیاں ہوئی اور سزائیں ختم ہوئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ نئی پٹیشنز دائر ہی نہ ہونے دی جائیں۔ ہم نے سپریم کورٹ میں میڈیکل بنیادوں پر بھی رجوع کرنا تھا، تاہم اس ضمن میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ بحیثیت وکیل، میں عمران خان صاحب کے تمام قانونی امور کی کوآرڈینیشن، مینجمنٹ اور فالو اپ کا ذمہ دار ہوں اور لیڈنگ کونسلز کو سہولت فراہم کرنا میری پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں یہ تمام امور غیر معمولی رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ قانونی دستاویزات پر دستخط نہ کروانے کا واحد مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی اپیل یا آئینی درخواست بروقت دائر نہ ہو سکے اور یوں عمران خان صاحب کو انصاف تک مؤثر رسائی سے محروم رکھا جائے، جو کہ نہ صرف آئین بلکہ قانون کی روح کے بھی منافی ہے
Khalid Yousaf Chaudry42,620 views • 5 months ago

توشہ خانہ کیس میں آج عمران خان کو 17 سال سزا سنانے کے بعد انھیں انسانی عمر کے برابر 65 سال کی قید کی سزا پوری سنا دی گئی ہے۔ جج ہمایوں دلاور نے 5 اگست 2023 کو تین سال کی سزا سنائی ، سائفر کیس میں 10 دس قید کی سزا سنائی گئی اور ہھر جج بشیر احتساب جج نے30 جنوری 2024 کو 14 سال کی سزا جبکہ جج عدت کیس ٹرائل کورٹ نے 7 سال کی سزا 3 فروری 2024 کو سنائی۔ سلسلہ جاری رہا 17 جنوری 2025 کو القادر کیس میں 14 سال اور اب 17 سال کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عمران خان کو کل 65 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔
Khalid Yousaf Chaudry60,188 views • 8 months ago

عمران خان نے 26 سال جن کے بڑے ہونے کا انتظار کیا اب وہ میدان میں مقابلہ کر رہے ہیں۔
Khalid Yousaf Chaudry55,653 views • 10 months ago

نو مئی 2023 سے نو مئی 2026 — وقت نے اپنے کئی رنگ بدلے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت G-10 سے شاہراہِ دستور منتقل ہو گئی۔ راہداریاں بدل گئیں، کمرۂ عدالت بدل گئے، جج بدل گئے، تاریخیں اور سال بدل گئے۔ مگر اگر کچھ نہ بدلا تو وہ عمران خان کا اپنے مؤقف پر فولادی استقامت کے ساتھ کھڑا رہنا ہے۔ وہی عزم، وہی حوصلہ، وہی نظریے پر غیر متزلزل یقین۔ اور ایک چیز اور بھی ہے جو ان تین برسوں میں کبھی نہیں بدلی… وہ ہے میرا اپنے قائد عمران خان کے ساتھ کھڑے رہنے کا عہد۔ نو مئی 2023 کو بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود تھا، اور آج نو مئی 2026 کو بھی انہی کے مقدمات کے سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں حاضر تھا۔ وقت گزر جاتا ہے، عمارتیں بدل جاتی ہیں، چہرے بدل جاتے ہیں، مگر سچ کے ساتھ کھڑے رہنے والے اپنے راستے نہیں بدلا کرتے۔
Khalid Yousaf Chaudry22,228 views • 3 months ago

میں آج اڈیالہ جیل سابق وزیراعظم عمران خان صاحب اور بشریٰ بیگم صاحبہ سے القادر ٹرسٹ کیس میں درخواست ضمانت بارےسپریم کورٹ اپیل کے لیے وکالت ناموں پر دستخط کروانے کی غرض سے گیا تھا۔ میں تقریباً چار گھنٹے انتظار کرتا رہا، مگر جیل حکام کی جانب سے وکالت ناموں پر دستخط نہ کروائے گئے ۔ القادر ٹرسٹ کیس سے متعلق وکالت نامے 25 مئی کو جیل حکام کو فراہم کر دیے گئے تھے، لیکن تاحال ان پر دستخط نہیں کروائے جا رہے۔ مجھے عید کے بعد دوبارہ آنے کا کہا گیا تھا۔ وکالت ناموں پر دستخط نہ کروانا سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بیگم صاحبہ کی انصاف تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ہم القادر ٹرسٹ کیس میں درخواستِ ضمانت بغیر فیصلہ نمٹائے جانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں، لیکن وکالت ناموں پر دستخط نہ ہونے کی وجہ سے قانونی کارروائی آگے نہیں بڑھ پا رہی۔ سابق وزیراعظم عمران خان صاحب اور بشریٰ بیگم صاحبہ کے عدالتوں تک رسائی کے آئینی اور قانونی حق کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ 25 مئی کو ایک وکالت نامہ میڈیکل پٹیشن کے سلسلے میں بھی دیا گیا تھا، جبکہ القادر ٹرسٹ کیس کے وکالت نامے اب تک دستخط کے لیے پیش نہیں کیے جا رہے۔ خالد یوسف چوہدری
Khalid Yousaf Chaudry15,753 views • 3 months ago

آزاد کشمیر: راولپنڈی مظفر آباد شاہراہ کوہالہ انٹری پوائنٹس بند ۔۔
Khalid Yousaf Chaudry26,925 views • 6 months ago

آج میں عمران خان صاحب اور بشری بیگم صاحبہ کے القادر کیس میں ضمانت کو بغیر فیصلہ نمٹائے جانے کے خلاف اپیل سے متعلق قانونی دستاویزات کی تکمیل کے لیے جیل پہنچا، تاہم جیل حکام نے نہ تو وکالت ناموں پر دستخط کروانے میں تعاون کیا اور نہ ہی متعلقہ دستاویزات وصول کیے، جس کے باعث سپریم کورٹ سے رجوع کا عمل متاثر کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود بشریٰ بی بی صاحبہ کی صاحبزادی کی درخواست پر نہ ذاتی سماعت کی گئی اور نہ ہی ملاقات و میڈیکل سے متعلق کوئی حکم جاری کیا گیا۔ یہ تمام صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عمران خان صاحب اور ان کی اہلیہ کو انصاف اور عدالت تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے، جو کہ آئینی و قانونی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
Khalid Yousaf Chaudry17,200 views • 4 months ago