Qaimkhani's banner
Qaimkhani's profile picture

Qaimkhani

@QaimKhanisays9,052 subscribers

Peaceful Combatant. International Relations - Soft Power. Public Administration UoS. Enlightened Fundamentalist. وطن دوست.

Shorts

پہلی وڈیو اس فوجی جوان کے والد کی ہے جو زہری میں BLA کے 5دہشتگردوں کو جہنم واصل کرکے شہید ہوا دوسری وڈیو شفیق مینگل کی ہے جو اپنے شہید ہونے والوں کو کندھا دے رہے ہیں جبکہ BLA کے مرداروں کا چہرہ انکی مائیں بھی دیکھنا پسند نہیں کرتیں. انکی حالت پہلے کمنٹ میں👇

پہلی وڈیو اس فوجی جوان کے والد کی ہے جو زہری میں BLA کے 5دہشتگردوں کو جہنم واصل کرکے شہید ہوا دوسری وڈیو شفیق مینگل کی ہے جو اپنے شہید ہونے والوں کو کندھا دے رہے ہیں جبکہ BLA کے مرداروں کا چہرہ انکی مائیں بھی دیکھنا پسند نہیں کرتیں. انکی حالت پہلے کمنٹ میں👇

72,388 次观看

نیا مطالبہ جمائما گولڈ اسمتھ کی والدہ اور ابلیس کی ساس انتقال کرگئی ہے ، خان کو تدفین میں شرکت کیلئے پیرول پر رہا کرو

نیا مطالبہ جمائما گولڈ اسمتھ کی والدہ اور ابلیس کی ساس انتقال کرگئی ہے ، خان کو تدفین میں شرکت کیلئے پیرول پر رہا کرو

66,603 次观看

محترمینِ صدر پاکستان، وزیراعظم، وزیر داخلہ، آرمی چیف، کور کمانڈر بلوچستان، انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان اور انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور کو معلوم ہو کہ عوام بتانا چاہتی ہے 👇 اس جوان کے ایک بوند پسینے پر BLA کے سینکڑوں نقاب پوشوں کا خون قربان. اس جوان کی بیٹی کے اس ایک آنسو پر جو وہ اپنے باپ کے لئے سینکڑوں میل دور بیٹھ کر بہاتی ہے ماہ رنگ اور اسکی سہیلیوں کا دھاڑے مار کر رونا قربان. اس جوان کی ماں کی آنکھوں کی نمی اور بیوی کے دل کے قرار پر غفار لانگو، بشیر زیب اور اللہ نذر کی میتوں پر ہونے والا ماتم قربان. اسکی ایک ماہ کی تنخواہ پر اختر مینگل کی معدنیات کی لیز اور محمود خان اچکزئی کا اسمگلنگ کا پورا دھندا قربان.

محترمینِ صدر پاکستان، وزیراعظم، وزیر داخلہ، آرمی چیف، کور کمانڈر بلوچستان، انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان اور انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور کو معلوم ہو کہ عوام بتانا چاہتی ہے 👇 اس جوان کے ایک بوند پسینے پر BLA کے سینکڑوں نقاب پوشوں کا خون قربان. اس جوان کی بیٹی کے اس ایک آنسو پر جو وہ اپنے باپ کے لئے سینکڑوں میل دور بیٹھ کر بہاتی ہے ماہ رنگ اور اسکی سہیلیوں کا دھاڑے مار کر رونا قربان. اس جوان کی ماں کی آنکھوں کی نمی اور بیوی کے دل کے قرار پر غفار لانگو، بشیر زیب اور اللہ نذر کی میتوں پر ہونے والا ماتم قربان. اسکی ایک ماہ کی تنخواہ پر اختر مینگل کی معدنیات کی لیز اور محمود خان اچکزئی کا اسمگلنگ کا پورا دھندا قربان.

57,651 次观看

بلوچستان میں بی وائی سی اور بی ایل اے حسن بن صباح طرز پر دہشتگرد نیٹورک چلارہی ہے ۔ حسن بن صباح کا یہ ماڈل اپنے دور میں بھی اتنا کامیاب تھا کہ طاقتور بادشاہ ملک شاہ سلجوقی اور سلطان احمد سنجر جیسے جنگجو اس پر قابو نہ پاسکے ۔ حالانکہ سلطان سنجر وہ شخص ہے جس نے منگولوں کو میدان جنگ میں اولین شکست دی تھی حسن بن صباح اپنے پیروکاروں کے زہنوں پر قبضہ کرتا تھا ۔ اس نے ایک جعلی جنت بنائی ۔ اس میں خوبصورت ترین خواتین جمع کیں ۔ یہ اپنے ہر پیروکار کو نشے کا عادی بنادیتا تھا ۔ پھر جن پیروکاروں کو فدائی بنانا ہوتا تھا ۔ ان کو نشہ آور محلول پلا کر ایک دن کیلئے جنت میں بھیجا جاتا ۔ پھر حسن بن صباح اپنے اس پیروکار سے کہتا کہ اگر وہ اس کیلئے جان دے گا تو ہمیشہ کیلئے اس جنت میں رہے گا ۔ کیوں کہ شیخ مرنے کے بعد اس کو زندہ کرے گا ۔ حسن بن صباح کا نیٹورک کرائے پر دستیاب تھا اس کے فدائیوں کو کرائے کا قاتل کہا جاتا تھا جو پیسے لیکر مسلمانوں پر حملے کرتے تھے اور بی ایل اے بھی کرائے پر دستیاب ہے ۔ بی ایل اے نے بھی خواتین کو اپنے کیمپس میں جمع کر رکھا ہے ۔ اکثریت خواتین کو بی وائی سی جیسی تنظیموں کے زریعے ٹریپ یا ریکروٹ کیا جاتا ہے ۔ ان خواتین کے زریعے پھر نوجوان کم عمر لڑکوں کو ٹریپ کیا جاتا ہے ۔ لڑکیوں اور لڑکوں کو پہلے دن سے نشہ آور اشیاء کا عادی بنایا جاتا ہے ۔ ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کردی جاتی ہے (کچھ غیر اخلاقی معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتا ) پھر بی ایل اے نوجوانوں کو یہ باور کراتی ہے کہ بندوق اٹھانا بہادری ہے، خودکش حملہ قربانی ہے، ریاست سے نفرت شعور ہے، اور عام بلوچ و پشتون عوام کو نشانہ بنانا انقلاب ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ انقلاب نہیں، دہشتگردی ہے۔ یہ آزادی نہیں، غلامی ہے۔ یہ جدوجہد نہیں، نوجوان نسل کی شعوری ہائی جیکنگ ہے۔ جو تنظیم بلوچ نوجوان کو کتاب، روزگار، تعلیم اور کاروبار کے بجائے بندوق، پہاڑ، بارود اور موت دیتی ہے، وہ بلوچ قوم کی خیر خواہ کیسے ہوسکتی ہے؟ بی ایل اے کا سب سے خطرناک ہتھیار صرف بندوق نہیں، بلکہ نفسیاتی جال ہے۔ پہلے نوجوان کو ریاست سے کاٹنا، پھر خاندان سے کاٹنا، پھر معاشرے سے کاٹنا، پھر اسے یہ یقین دلانا کہ مرنا ہی مقصد ہے۔ بلوچ عورت عزت کی علامت ہے، اسے کسی دہشتگرد نیٹ ورک کی ڈھال نہیں بننے دیا جاسکتا۔ بلوچ نوجوان مستقبل ہے، اسے کسی بیرونی ایجنڈے کا ایندھن نہیں بننے دیا جاسکتا۔ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، اسے دہشتگردوں کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جاسکتا۔ ہم صاف صاف کہتے ہیں بی ایل اے بلوچوں کی نمائندہ نہیں، بلوچوں کی دشمن ہے۔ یہ تنظیم بلوچستان کو ترقی سے، نوجوانوں کو زندگی سے، اور عوام کو امن سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ ریاست، عوام اور سیکیورٹی فورسز کی جنگ کسی قوم کے خلاف نہیں، بلکہ اس دہشتگرد نیٹ ورک کے خلاف ہے جو بلوچستان کے نام پر بلوچستان ہی کو لہولہان کررہا ہے۔ جعلی جنت کے خواب دکھانے والے ہر دور میں بے نقاب ہوئے ہیں۔ بی ایل اے کا فریب بھی بے نقاب ہورہا ہے۔ بلوچستان امن، ترقی اور پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں ہم جواب دینے کے لئے تیار ہیں

بلوچستان میں بی وائی سی اور بی ایل اے حسن بن صباح طرز پر دہشتگرد نیٹورک چلارہی ہے ۔ حسن بن صباح کا یہ ماڈل اپنے دور میں بھی اتنا کامیاب تھا کہ طاقتور بادشاہ ملک شاہ سلجوقی اور سلطان احمد سنجر جیسے جنگجو اس پر قابو نہ پاسکے ۔ حالانکہ سلطان سنجر وہ شخص ہے جس نے منگولوں کو میدان جنگ میں اولین شکست دی تھی حسن بن صباح اپنے پیروکاروں کے زہنوں پر قبضہ کرتا تھا ۔ اس نے ایک جعلی جنت بنائی ۔ اس میں خوبصورت ترین خواتین جمع کیں ۔ یہ اپنے ہر پیروکار کو نشے کا عادی بنادیتا تھا ۔ پھر جن پیروکاروں کو فدائی بنانا ہوتا تھا ۔ ان کو نشہ آور محلول پلا کر ایک دن کیلئے جنت میں بھیجا جاتا ۔ پھر حسن بن صباح اپنے اس پیروکار سے کہتا کہ اگر وہ اس کیلئے جان دے گا تو ہمیشہ کیلئے اس جنت میں رہے گا ۔ کیوں کہ شیخ مرنے کے بعد اس کو زندہ کرے گا ۔ حسن بن صباح کا نیٹورک کرائے پر دستیاب تھا اس کے فدائیوں کو کرائے کا قاتل کہا جاتا تھا جو پیسے لیکر مسلمانوں پر حملے کرتے تھے اور بی ایل اے بھی کرائے پر دستیاب ہے ۔ بی ایل اے نے بھی خواتین کو اپنے کیمپس میں جمع کر رکھا ہے ۔ اکثریت خواتین کو بی وائی سی جیسی تنظیموں کے زریعے ٹریپ یا ریکروٹ کیا جاتا ہے ۔ ان خواتین کے زریعے پھر نوجوان کم عمر لڑکوں کو ٹریپ کیا جاتا ہے ۔ لڑکیوں اور لڑکوں کو پہلے دن سے نشہ آور اشیاء کا عادی بنایا جاتا ہے ۔ ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کردی جاتی ہے (کچھ غیر اخلاقی معاملات پر بات نہیں کرنا چاہتا ) پھر بی ایل اے نوجوانوں کو یہ باور کراتی ہے کہ بندوق اٹھانا بہادری ہے، خودکش حملہ قربانی ہے، ریاست سے نفرت شعور ہے، اور عام بلوچ و پشتون عوام کو نشانہ بنانا انقلاب ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ انقلاب نہیں، دہشتگردی ہے۔ یہ آزادی نہیں، غلامی ہے۔ یہ جدوجہد نہیں، نوجوان نسل کی شعوری ہائی جیکنگ ہے۔ جو تنظیم بلوچ نوجوان کو کتاب، روزگار، تعلیم اور کاروبار کے بجائے بندوق، پہاڑ، بارود اور موت دیتی ہے، وہ بلوچ قوم کی خیر خواہ کیسے ہوسکتی ہے؟ بی ایل اے کا سب سے خطرناک ہتھیار صرف بندوق نہیں، بلکہ نفسیاتی جال ہے۔ پہلے نوجوان کو ریاست سے کاٹنا، پھر خاندان سے کاٹنا، پھر معاشرے سے کاٹنا، پھر اسے یہ یقین دلانا کہ مرنا ہی مقصد ہے۔ بلوچ عورت عزت کی علامت ہے، اسے کسی دہشتگرد نیٹ ورک کی ڈھال نہیں بننے دیا جاسکتا۔ بلوچ نوجوان مستقبل ہے، اسے کسی بیرونی ایجنڈے کا ایندھن نہیں بننے دیا جاسکتا۔ بلوچستان پاکستان کا دل ہے، اسے دہشتگردوں کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جاسکتا۔ ہم صاف صاف کہتے ہیں بی ایل اے بلوچوں کی نمائندہ نہیں، بلوچوں کی دشمن ہے۔ یہ تنظیم بلوچستان کو ترقی سے، نوجوانوں کو زندگی سے، اور عوام کو امن سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ ریاست، عوام اور سیکیورٹی فورسز کی جنگ کسی قوم کے خلاف نہیں، بلکہ اس دہشتگرد نیٹ ورک کے خلاف ہے جو بلوچستان کے نام پر بلوچستان ہی کو لہولہان کررہا ہے۔ جعلی جنت کے خواب دکھانے والے ہر دور میں بے نقاب ہوئے ہیں۔ بی ایل اے کا فریب بھی بے نقاب ہورہا ہے۔ بلوچستان امن، ترقی اور پاکستان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ ہم دیکھ رہے ہیں ہم جواب دینے کے لئے تیار ہیں

14,611 次观看

پاکستان کو پہلے بھارت کے ذریعے سبق سکھانے کی کوشش کی گئی، مگر وہاں کھیل الٹا پڑ گیا۔ مودی جی مار کھانے کے بعد تلملا اٹھے اور شور مچا دیا کہ پاکستان نے تو ہم پر ہی حملہ کر دیا۔ حالانکہ انہیں یہی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حملہ صرف آپ کریں گے اور پاکستان خاموشی سے مار کھاتا رہے گا۔ پاکستان نے اللہ کی مدد سے وہ کر دکھایا جو عالمی صہیونی طاقتوں کے طے شدہ اسکرپٹ میں شامل ہی نہیں تھا۔ پاکستان کو مغربی سرحد پر افغانستان کے ذریعے کمزور کرنا انہی طاقتوں کا پرانا منصوبہ ہے، جس پر اب تک مسلسل محنت جاری ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی فنڈنگ اور محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ کام جاری رکھنے کے لئے بھول کر یا “غلطی سے” چھوڑا جانے والا اربوں ڈالر مالیت کا جدید اسلحہ، اور ملینز آف ڈالرز کی فنڈنگ، اسی پلاننگ کا حصہ ہے۔ اپنے بندوں کے ذریعے ہزاروں مسلح اور تربیت یافتہ دہشت گردوں کو افغانستان سے پاکستان میں لا کر دوبارہ بسایا گیا۔ لیکن اس سب کے باوجود اس محاذ پر بھی انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور بارڈر کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے مکمل طور پر سیل کرنا پاکستان کی جانب سے ایک بہترین چال تھی، جو کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ افغانستان میں خوارج پر براہِ راست حملوں کے ذریعے بھی واضح اور مضبوط پیغام دے دیا گیا کہ یہاں بھی آپ کی دال نہیں گلنے والی۔ ایران بھی سمجھ چکا ہے کہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات زیادہ بہتر ہیں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایران نے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے (بدقسمتی سے پہلے ایسا نہیں تھا)۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ ایران میں ہونے والے تازہ فسادات دراصل رجیم چینج کی سازش ہے اور یہ بھی انہی مہربانوں کی مہربانی ہے جو موجودہ ایرانی قیادت کی جگہ رضا شاہ پہلوی جیسے اسرائیل کے کسی وفادار کو آگے لانا چاہتے ہیں. اسرائیل اس مقصد کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔ پاکستان سنجیدگی سے یہ سمجھتا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے ذریعے پاکستان کو قابو کرنے میں ناکامی کے بعد اب پاکستان کو ایران کے راستے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یاد رہے کہ اس پورے خطے میں اسرائیل کے کھل کر آگے بڑھنے میں واحد بڑی رکاوٹ ایٹمی پاکستان ہے اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ سارا کھیل پاکستان کو ایٹمی طاقت سے محروم کرنے کا ہے۔ کبھی اسے اندرونی فتنہ و فساد میں الجھایا جاتا ہے اور کبھی بیرونی دباؤ اور سازشوں کے ذریعے قابو میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر اللہ کے کرم سے اب تک کسی محاذ پر انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ عالمی سازشوں کے خلاف کامیابی سے دفاع کر رہی ہے۔ اب حالات اس طرف بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان کھل کر کھیلنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔ اپنے خطے میں نئی صف بندیاں کر رہا ہے، اپنے مفادات کے خلاف جانے والے طاقتور اسلامی ممالک کو واضح اشارے دے رہا ہے، اور مضبوط دفاعی معاہدے کر رہا ہے۔ پہلے سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی تعاون کم نہیں تھا کہ اب ترکی کے ساتھ دونوں ممالک کی دفاعی ڈیل مخالفین کے لئے ایک پریشان کن خبر بن چکی ہے۔ عمران تو باقاعدہ یہ بیان دے چکا تھا کہ اگر پاکستان کے مسائل بھارت کے ساتھ حل ہو جائیں تو پھر پاکستان کو ایٹمی صلاحیت رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ عمران اتنا سادہ یا ناسمجھ نہیں کہ اتنی بڑی اور حساس بات یوں ہی زبان سے نکال دیں۔ عمران نے پورے ہوش و حواس میں، اچھی طرح سمجھ کر یہ الفاظ ادا کئے تھے، ایسے الفاظ جو اسے سوچ سمجھ کر فیڈ کئے گئے تھے۔ اور پھر اس کے بعد سب نے دیکھا کہ عمران نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر عملاً سودے بازی کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ حالات درست کرنے کی کوشش بھی کی۔ پلان بھی یہی تھا کہ بھارت سے حالات بہتر کرنے کا تاثر بنایا جائے تاکہ ایٹمی طاقت رکھنے کا جواز بنایا جائے۔ بظاہر ہر چیز ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہی تھی، ہر کردار اپنی لکیر کے مطابق چل رہا تھا۔ لیکن اللہ رب العزت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کے دشمن کرداروں کو بے نقاب کیا بلکہ انہیں ذلیل و رسوا بھی کیا، اور یہ ثابت کر دیا کہ سازشیں چاہے کتنی ہی گہری کیوں نہ ہوں، جب اللہ کی مدد شامل حال ہو تو بڑے سے بڑا منصوبہ بھی زمین بوس ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ نقب ہمیشہ اسی گھر میں لگائی جاتی ہے جہاں قیمتی مال ہو۔ اور اس دور میں ایٹمی طاقت سے زیادہ قیمتی کوئی شے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سازشوں، دباؤ اور حملوں کا رخ ہمیشہ اسی طرف ہوتا ہے جہاں اصل طاقت موجود ہو، کمزور گھروں پر کوئی محنت نہیں کرتا۔ اللہ کرے ہمارے قریبی ہمسایہ مسلمان ممالک کو بھی یہ بات سمجھ آ جائے جو سعودیہ اور ترکی وغیرہ سمجھ چکے ہیں۔

پاکستان کو پہلے بھارت کے ذریعے سبق سکھانے کی کوشش کی گئی، مگر وہاں کھیل الٹا پڑ گیا۔ مودی جی مار کھانے کے بعد تلملا اٹھے اور شور مچا دیا کہ پاکستان نے تو ہم پر ہی حملہ کر دیا۔ حالانکہ انہیں یہی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ حملہ صرف آپ کریں گے اور پاکستان خاموشی سے مار کھاتا رہے گا۔ پاکستان نے اللہ کی مدد سے وہ کر دکھایا جو عالمی صہیونی طاقتوں کے طے شدہ اسکرپٹ میں شامل ہی نہیں تھا۔ پاکستان کو مغربی سرحد پر افغانستان کے ذریعے کمزور کرنا انہی طاقتوں کا پرانا منصوبہ ہے، جس پر اب تک مسلسل محنت جاری ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی فنڈنگ اور محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ کام جاری رکھنے کے لئے بھول کر یا “غلطی سے” چھوڑا جانے والا اربوں ڈالر مالیت کا جدید اسلحہ، اور ملینز آف ڈالرز کی فنڈنگ، اسی پلاننگ کا حصہ ہے۔ اپنے بندوں کے ذریعے ہزاروں مسلح اور تربیت یافتہ دہشت گردوں کو افغانستان سے پاکستان میں لا کر دوبارہ بسایا گیا۔ لیکن اس سب کے باوجود اس محاذ پر بھی انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ مل سکی۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور بارڈر کو ہر قسم کی آمدورفت کے لئے مکمل طور پر سیل کرنا پاکستان کی جانب سے ایک بہترین چال تھی، جو کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ افغانستان میں خوارج پر براہِ راست حملوں کے ذریعے بھی واضح اور مضبوط پیغام دے دیا گیا کہ یہاں بھی آپ کی دال نہیں گلنے والی۔ ایران بھی سمجھ چکا ہے کہ پاکستان سے دوستانہ تعلقات زیادہ بہتر ہیں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ایران نے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے (بدقسمتی سے پہلے ایسا نہیں تھا)۔ اب یہ بات ظاہر ہے کہ ایران میں ہونے والے تازہ فسادات دراصل رجیم چینج کی سازش ہے اور یہ بھی انہی مہربانوں کی مہربانی ہے جو موجودہ ایرانی قیادت کی جگہ رضا شاہ پہلوی جیسے اسرائیل کے کسی وفادار کو آگے لانا چاہتے ہیں. اسرائیل اس مقصد کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔ پاکستان سنجیدگی سے یہ سمجھتا ہے کہ بھارت اور افغانستان کے ذریعے پاکستان کو قابو کرنے میں ناکامی کے بعد اب پاکستان کو ایران کے راستے کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یاد رہے کہ اس پورے خطے میں اسرائیل کے کھل کر آگے بڑھنے میں واحد بڑی رکاوٹ ایٹمی پاکستان ہے اور یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ سارا کھیل پاکستان کو ایٹمی طاقت سے محروم کرنے کا ہے۔ کبھی اسے اندرونی فتنہ و فساد میں الجھایا جاتا ہے اور کبھی بیرونی دباؤ اور سازشوں کے ذریعے قابو میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر اللہ کے کرم سے اب تک کسی محاذ پر انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ عالمی سازشوں کے خلاف کامیابی سے دفاع کر رہی ہے۔ اب حالات اس طرف بڑھ رہے ہیں کہ پاکستان کھل کر کھیلنے کی پوزیشن میں آ رہا ہے۔ اپنے خطے میں نئی صف بندیاں کر رہا ہے، اپنے مفادات کے خلاف جانے والے طاقتور اسلامی ممالک کو واضح اشارے دے رہا ہے، اور مضبوط دفاعی معاہدے کر رہا ہے۔ پہلے سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی تعاون کم نہیں تھا کہ اب ترکی کے ساتھ دونوں ممالک کی دفاعی ڈیل مخالفین کے لئے ایک پریشان کن خبر بن چکی ہے۔ عمران تو باقاعدہ یہ بیان دے چکا تھا کہ اگر پاکستان کے مسائل بھارت کے ساتھ حل ہو جائیں تو پھر پاکستان کو ایٹمی صلاحیت رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ عمران اتنا سادہ یا ناسمجھ نہیں کہ اتنی بڑی اور حساس بات یوں ہی زبان سے نکال دیں۔ عمران نے پورے ہوش و حواس میں، اچھی طرح سمجھ کر یہ الفاظ ادا کئے تھے، ایسے الفاظ جو اسے سوچ سمجھ کر فیڈ کئے گئے تھے۔ اور پھر اس کے بعد سب نے دیکھا کہ عمران نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر عملاً سودے بازی کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ حالات درست کرنے کی کوشش بھی کی۔ پلان بھی یہی تھا کہ بھارت سے حالات بہتر کرنے کا تاثر بنایا جائے تاکہ ایٹمی طاقت رکھنے کا جواز بنایا جائے۔ بظاہر ہر چیز ایک طے شدہ منصوبے کے مطابق آگے بڑھ رہی تھی، ہر کردار اپنی لکیر کے مطابق چل رہا تھا۔ لیکن اللہ رب العزت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کے دشمن کرداروں کو بے نقاب کیا بلکہ انہیں ذلیل و رسوا بھی کیا، اور یہ ثابت کر دیا کہ سازشیں چاہے کتنی ہی گہری کیوں نہ ہوں، جب اللہ کی مدد شامل حال ہو تو بڑے سے بڑا منصوبہ بھی زمین بوس ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ نقب ہمیشہ اسی گھر میں لگائی جاتی ہے جہاں قیمتی مال ہو۔ اور اس دور میں ایٹمی طاقت سے زیادہ قیمتی کوئی شے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سازشوں، دباؤ اور حملوں کا رخ ہمیشہ اسی طرف ہوتا ہے جہاں اصل طاقت موجود ہو، کمزور گھروں پر کوئی محنت نہیں کرتا۔ اللہ کرے ہمارے قریبی ہمسایہ مسلمان ممالک کو بھی یہ بات سمجھ آ جائے جو سعودیہ اور ترکی وغیرہ سمجھ چکے ہیں۔

23,562 次观看

Videos

QaimKhanisays's profile picture

Conspiracy Against Pakistan: Imran Khan Saga اپنے ہی ملک کے خلاف کی گئی سازشیں بیرونی مسلط کردہ جنگوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ فاشسٹ مزاج، خود پسند و خود غرض شخص megalomania اور messiah syndrome جیسے نفسیاتی مسائل کے شکار انسان کی پارٹی پاکستان میں اس وقت طاغوت کی نمائندہ جماعت بنی ہوئی ہے۔ عالمی استعمار، مافیاز اور اقتصادی غارت گروں کے ان Agents of Chaos کے پاس صرف ایک ہی ہتھیار ہے اور وہ ہے ابلاغی چالاکیاں یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ گولڈ سمتھ اور روتھ چائلڈز کا پروجیکٹ عمران خان دراصل پروجیکٹ Undo-Pakistan ہے۔ دائیں بائیں اور سرخ و سبز والا جو بھی جاننا چاہتا ہے وہ جان لے کہ عمران خان اور اسکی تحریک انقلاب نہیں بلکہ ردِ انقلاب ہے۔ یہ شخص اور اسکا Cult کوئی سیاسی اور سماجی تبدیلی نہیں لاسکتے بلکہ Persistent Chaos کے زریعے ہی خود کو متعلق (relevant) رکھنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ یہ دستاویزی فلم دیکھنے کے بعد سمجھنے والی یہ بات یہ ہے کہ بغیر کسی شرمندگی کے، تعداد میں کم ہونے کی فکر سے آزاد ہوکر، بغیر کسی رکھ رکھاؤ کے، جو گالی ملے قبول کریں لیکن پیچھے نہ ہٹیں، اس پاگل پن اور خبطِ عظمت میں مبتلاء بیانئے کو جواب دیں۔ زبان کی تیزی، الفاظ کی ہیر پیر، اور پروپیگنڈہ و انتشار، کے علاوہ انکے پاس کچھ نہیں.۔۔۔۔۔ سمجھ آنے کے بعد یقین رکھنے والی بات یہ ہے کہ جو پاگل پن مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی تھی پاکستان اس سے نکل چکا ہے. پاکستان رہے گا لیکن ججوں اور اشرافیہ کا راسپوٹین نہیں ہوگا، ہٹلر مزاج اور مسولینی فطرت پیچھے رہ جائیں گے اور پاکستان آگے بڑھے گا انشاء اللہ، اپنے آپ کو مسیحا بتانے والا عمران خان دجل کے علاوہ کچھ نہیں ثابت ہوگا.

Qaimkhani

611,685 次观看 • 1 年前

QaimKhanisays's profile picture

حدیقہ کیانی کے ایوارڈ پہ اتنی ستائش یا شور وغوغا مچا ہوا ہے کہ باقی کسی کی طرف نظر بھی نہیں گئی! اس دفعہ ایس ایم صادق کو بھی پرائڈ آف پرفامینس سے نوازا گیا ہے، شیخ محمد صادق فوک شاعر ہیں، 90 کی دہائی میں پاکستان کے اندر جتنا بھی فوک کلام گایا گیا ہے اکثر ایس ایم صادق کا لکھا ہوا ہے، مجھے علم نہیں کہ ان کی شاعری اوزان پہ پورا اترتی ہے یا نہیں لیکن ان کی شاعری ہر صنف میں مقبول رہی ہے۔ استاد نصرت فتح علی خاں نے ان کے کئی کلام قوالی کی شکل میں گائے ہیں، اوتھے عملاں دے ہونے نیں نبیڑے، میری توبہ، ہنجو اکھیاں دے ویہڑے وچ وغیرہ وغیرہ عطاء اللہ ، عارف لوہار، شوکت علی، نور جہاں، راحت فتح علی خاں، جواد احمد سمیت ہندوستان پاکستان کا کوئی مشہور گلوکار ایسا نہیں ہوگا جس نے صادق کا کلام نہیں گایا ستر ہزار گیت لکھنا کوئی معمولی بات نہیں! آپ موسیقی سنتے ہیں یا نہیں سنتے آپ کے کانوں تک ایس ایم صادق کا کلام ضرور پہنچا ہوگا، اک خواب سناواں نعت بیٹھے بیٹھے اچانک لکھ کر دی تھی جو دن میں ہزاروں جگہ چلتی ہوگی! اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ صادق صاحب کی روایتی تعلیم پانچ جماعتیں ہے، کسی اسکول سے نہیں پڑھے،کوئی استاد نہیں لیکن کلام کے بول خالص ادبی ہوتے ہیں. بہرحال میں ان کے کلام لکھنے کے فن سے بہت متاثر ہوں، پاکستان کے دس سال پہلے جتنے سنگرز کا جو جو مشہور گانا ہے، وہ یقینا صادق صاحب کا لکھا ہوگا، کیا یہ عجوبہ نہیں کہ ہر گلوکار کا سگنیچر کلام ایک ہی بظاہر ان پڑھ بندے کا لکھا ہوا ہے؟ ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں! اگر ستر ہزار گیت والی بات کو درست مان لیا جائے اور پچاس سال ان کی مدت سمجھیں تو گویا ہر مہینے 116 گیت لکھے ہیں، ہے نا حیرت ناک!

Qaimkhani

34,508 次观看 • 2 个月前

QaimKhanisays's profile picture

تحریک انتشار کیطرف سے چلائے جانے والے ٹرینڈ #رہائی_کا_واحد_راستہ_مزاحمت لاکھوں ٹوئٹس مکمل جعلی نکلے. لاکھوں ٹوئٹس کروانے کے لئے ٹوئٹر اکاؤنٹس فارمز اور فی ٹوئٹ 100 روپے دیکر پینل پر اپنا ہیش ٹیگ اوپر رکھنے کی پی ٹی آئی کی ابلاغی جعل سازی بے نقاب. اس ویڈیو میں وہ ثبوت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ٹرینڈز عام سوشل میڈیا صارفين اور عوامی جذبات یا تحریک انتشار کے بیانیہ کی حقیقی حمایت کا نتیجہ نہیں بلکہ منظم computational propaganda تھا۔ تحقیق کے دوران مختلف واٹس ایپ گروپس کے اسکرین شاٹس سامنے آئے جن میں فی ٹویٹ 100 روپے تک کی آفر دی جا رہی تھی۔ ان گروپس میں واضح ہدایات دی جاتی ہیں کہ کون سا ہیش ٹیگ چلانا ہے، کتنی بار ٹویٹ کرنا ہے، اور کتنے اکاؤنٹس استعمال کرنے ہیں۔ یہ عمل مکمل طور پر ایک انجینئرڈ شدہ اور پیسے کہ عیوض چلایا جانے والا بیانیہ ہے، نہ کہ عوامی حمایت۔ مزید یہ کہ ٹرینڈز کو چلانے والے اکاؤنٹس میں سے بڑی تعداد پاکستان سے باہر کے ہیں جو تحریک انتشار کے کئی Twitter Accounts Farms میں سے ایک فارمنگ سیٹ اپ ہے. اس سیٹ اپ کا نام Team Insafians Power یا ٹیم ipains ہے. اس کا مرکزی اکاؤنٹ یورپ سے چل رہا یے اور اس اکاؤنٹ کا پرانا نام Pakhtoonkp@ اور Team KPK™ رہا ہے. یہ اکاؤنٹ خود اور اس منسلک اکاؤنٹس ہزاروں اکاؤنٹس جن کا کام صرف ٹرینڈ پر کام کرنا یے چند سیکنڈز میں تین سے چار ٹویٹ کرتے ہیں جنہیں واٹس ایپ پر ملنے والی ہدایات کے مطابق کاپی کرکے ڈرافٹس میں رکھا جاتا ہے اور بتائے گئے وقت پر ایکشن منٹ کے اندر اندر تین انہیں ٹویٹ کرنا ہوتا ہے، جس سے چند منٹس میں ہزاروں ٹویٹس ہوتے ہیں اور پینل پر ہیش ٹیگ اوپر چلا جاتا ہے. ان کا اصل کام صرف یہی ہوتا ہے کہ ہر دن دیے گئے ہیش ٹیگز کو ٹویٹ اور ری ٹویٹ کریں تاکہ مصنوعی طور پر ٹرینڈ کو اوپر لایا جا سکے۔ ان اکاؤنٹس کو ریپوسٹ کو چند منٹوں میں ہزاروں اکاؤنٹس سے ریپوسٹ کیا جاتا ہے. جھوٹی شہرت اور بیانیہ سازی کی یہ تمام کاروائی بوٹس، اکاؤنٹ فارمز اور پیڈ ٹیمز کے استعمال کی مرہون منت ہے. اس طریقے کو ابلاغیات میں Computational Propaganda کہا جاتا ہے، یعنی الگورتھمز، بوٹس اور پیسے سے چلنے والی ٹیموں کے ذریعے عوامی رائے کا تاثر بدلنا۔ یہی طریقہ تحریک مسلسل خاص طور پر 2022 سے استعمال کر رہی ہے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ اس کا بیانیہ عوام میں بہت مقبول ہے، حالانکہ حقیقت بالکل مختلف ہے۔ ویڈیو میں شامل شواہد سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ ٹوئٹر/X پر پی ٹی آئی کے زیادہ تر ٹرینڈز مصنوعی طور پر چلائے جاتے ہیں۔ یہ ٹرینڈ نہ تو عوامی رائے کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں حقیقی سیاسی حمایت کہا جا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر رائے سازی کو کرائے کے اکاؤنٹس، بوٹس اور جعلی سرگرمیوں کے ذریعے کنٹرول کرنا جمہوری عمل اور رائے سازی اور ابلاغی آزادی کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم اصل اور مصنوعی شہرت، بیانیہ سازی اور ابلاغی دہشت گردی میں فرق پہچانیں

Qaimkhani

48,728 次观看 • 7 个月前