
RAShahzaddk
@RShahzaddk • 128,949 subscribers
Psychologist |Researcher|well-being consultant | Backup (@TheRAShahzad)
Shorts
Videos

اگر یہ رسم چل پڑی جلد پنجاب کے سب تھانوں کے ایس ایچ او اندر ہوں گے شاید یہ بہت اچھی بات ہو گی
RAShahzaddk124,433 views • 12 days ago

یہ سندھ کا ایک سرکاری سکول ہے مرسوں مرسوں سندھ نا دیسوں سندھ ہماری ماں ہے 👇👇
RAShahzaddk119,423 views • 13 days ago

🚨🚨انتہائی افسوسناک واقعہ آج راولپنڈی کے تمام بڑے واٹس ایپ گروپس فیملی گروپس میں یہ وائس میسج گھوم رہا ایک تین چار سال کی بچی کے ساتھ سکول میں مبینہ طور پر سپورٹ سٹاف کی طرف سے زیادتی ہوئی یہ اس کی ماں تفصیل بتا رہی ہے سکول کا نام مبینہ طور پر ویسٹ منسٹر بتایا جا رہا جو بحریہ فیز 7/8میں ہےجو ایک مشہور سیاستدان جو سٹنگ ایم این اے ہے اس کا ہے اب سکول انتظامیہ معاملہ دبا رہی ہے سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کر دی ہے والدین نے کل سکول کے سامنے احتجاج بھی کیا ہے پرنسپل نے اس تین سال کی بچی پر الزام رکھ دیا ہے اپنے بچوں کا خیال رکھیں ان کے بارے میں کسی پر کبھی بھروسہ نا کریں
RAShahzaddk52,828 views • 6 days ago

🚨🚨پی ٹی آئی کا جنرل فیصل نصیر سے مسئلہ کیا ہے؟ کچھ ایسے واقعات جو شاید کبھی پوری طرح لکھے ہی نہیں گئے۔ اس کہانی کو سمجھنے کے لیے ذرا پیچھے جانا پی ٹی آئی کے لیے جنرل فیصل نصیر کا مسئلہ دراصل صرف جنرل فیصل نصیر نہیں تھا۔ مسئلہ اس پس منظر کا تھا جس میں جنرل فیض حمید کا کردار موجود تھا۔ جنرل فیض نے DG-C اور بعد میں DG-ISI کی حیثیت سے جس طرح سیاسی معاملات میں اثر و رسوخ قائم کیا، عمران خان اس پورے نظام کے براہِ راست سیاسی beneficiary رہے۔ یہی وہ پس منظر تھا جس نے بعد میں آنے والے ہر فوجی افسر کو عمران خان کی نظر میں ایک خاص lens سے دیکھنے کی بنیاد فراہم کی۔ جولائی 2022 میں فیصل نصیر میجر جنرل کے عہدے پر ترقی پاتے ہیں اور اسی عرصے میں ISI کے Counter-Intelligence یعنی DG-C کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب عمران خان کی حکومت ختم ہوئے صرف چند ماہ گزرے تھے، تحریک انصاف سڑکوں پر تھی اور سیاسی کشمکش تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ جنرل سرفراز علی یکم اگست 2022 کو ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہوئے اور اسی زمانے میں فوج کے اندر اہم تقرریاں بھی ہو رہی تھیں۔ اگست 2022 میں شہباز گل گرفتار ہوئے۔ اسی دوران بنی گالہ میں عمران خان کی بہنیں، سلمان احمد اور خرم حمید روکھڑی موجود تھے۔ خرم روکھڑی اس وقت تحریک انصاف سے وابستہ تھے، میانوالی کی سیاست میں فعال تھے اور عمران خان کے قریبی حلقے میں شمار ہوتے تھے۔ یہیں وہ بات ہوئی جو بعد کی پوری کہانی کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ عمران خان کی بہنوں، خصوصاً علیمہ خان نے خرم روکھڑی سے کہا: “روکھڑی، تم فیصل کو جانتے ہو۔” یعنی جس جنرل فیصل نصیر کو بعد میں تحریک انصاف کے بیانیے میں ایک خوفناک کردار بنا کر پیش کیا گیا، اسی وقت عمران خان کے گھر کے اندر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ خرم روکھڑی انہیں جانتے ہیں اور شاید ان کے ذریعے بات ہو سکتی ہے۔ روکھڑی کے مطابق اسی دوران سلمان احمد نے بتایا کہ عمران خان کا خیال ہے کہ جنرل فیصل نصیر DG-C بن کر آئے ہیں اور وہ تحریک انصاف کو تباہ کر دیں گے۔ یہاں ایک بات سمجھنے کی ہے: اس وقت عمران خان کے ذہن میں جنرل فیصل نصیر کا جو تصور بن رہا تھا، اس کے پیچھے جنرل فیض حمید کے دور کی بریفنگز اور سیاسی ماحول کا بھی اثر تھا۔ فیض حمید کے زمانے میں عمران خان نے ریاستی طاقت کے اندر ایک ایسا سیاسی mechanism دیکھا تھا جس میں intelligence apparatus اور سیاست ایک دوسرے سے بالکل الگ نہیں رہے تھے۔ اس لیے نئے DG-C کو بھی اسی سیاسی lens سے دیکھا جانے لگا۔ چند دن بعد سلمان احمد نے خرم روکھڑی سے کہا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ وہ جنرل فیصل نصیر کو engage کریں۔ خرم روکھڑی نے جنرل فیصل نصیر سے رابطہ کیا۔ عجیب بات ہے کہ باہر جلسوں میں فوج کے خلاف سخت تقاریر ہو رہی تھیں، “Dirty Harry” جیسے القابات استعمال ہو رہے تھے، لیکن اندرونِ خانہ ایک back-channel communication بھی چل رہی تھی۔ اور اس وقت جنرل عاصم منیر ابھی آرمی چیف نہیں بنے تھے۔ روکھڑی کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان کو جانتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ اگر بعد میں کوئی بات سیاسی طور پر inconvenient ہو جائے تو عمران خان اس سے لاتعلقی اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے عمران خان سے کہا کہ جب بھی وہ کوئی پیغام لے کر جائیں گے، عمران کی طرف سے ایک نمائندہ بھی ساتھ ہونا چاہیے۔ عمران خان نے سلمان احمد کو اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ سلمان احمد جنرل فیصل نصیر سے ملے۔ اس کے بعد بات یہاں تک پہنچی کہ عمران خان اور فوجی قیادت کے درمیان براہِ راست ملاقات ہونی چاہیے۔ ملاقات کے لیے یہ سوچا گیا کہ عمران خان کی طرف سے ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی سی سے ملاقات ہو اور مقام کوئی neutral venue ہو۔ روکھڑی کے مطابق عمران خان کی طرف سے کچھ شرائط بھی سامنے آئیں اور دوسری طرف سے بھی یہ واضح کیا گیا کہ سیاسی سرگرمی اور سیاسی مہم چلانے پر اعتراض نہیں، لیکن فوج اور شہداء کے خلاف مہم اور گالم گلوچ بند ہونی چاہیے۔ یعنی عجیب بات یہ تھی کہ ایک طرف عمران خان جلسوں میں فوج کو نشانہ بنا رہے تھے اور دوسری طرف اسی فوجی قیادت سے ملاقات کا راستہ تلاش کیا جا رہا تھا۔ یہاں کہانی میں جنرل فیض حمید دوبارہ داخل ہوتے ہیں۔ روکھڑی کے مطابق جنرل فیض حمید نے عمران خان کو اس ملاقات سے روک دیا۔ اس وقت فیض حمید کی اپنی سیاسی اور عسکری positioning بھی اہم تھی۔ وہ آرمی چیف بننے کے امیدواروں میں سمجھے جا رہے تھے اور عمران خان کے ساتھ ان کی قربت کسی سے پوشیدہ نہیں تھی۔ چنانچہ یہ تاثر پیدا ہوا کہ عمران خان کو جنرل فیصل سے براہِ راست بات کرنے دینے کے بجائے فیض حمید چاہتے تھے کہ سیاسی صورتحال ان کے اپنے مستقبل کے حساب سے آگے بڑھے 1/3
RAShahzaddk66,033 views • 11 days ago

محمد عرفان پڑھا لکھا نہی ہے کچی بستی کی جھونپڑی میں رہتا مگر اللہ پاک نے اسے سیاسی شعور دیا بات کرنے کا ڈھنگ دیا اس دھرنے میں سب سے وائرل ہو گیا آج انڈیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل نیٹ ورک Lallantop Top نے اسے اپنے سٹوڈیو بلایا مسکین آدمی ہے کہنے لگا چپل اتار دوں ؟ پہلی بار کسی اے سی والی جگہ گیا تو کہتا مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے اسے جیکٹ دی پہننے کو ساری ٹیم نے کھڑے ہو کر ایک منٹ اس کے لیے تالیاں بجائیں عرفان پڑھا لکھا نہی ہے ہندی تک نہی پڑھ سکتا اس نے سن سن کر سیکھا ہےاللہ جب کسی کو عزت دینا چاہے تو اسباب خود پیدا کر دیتا ہے محمد عرفان کے گھر راہول گاندھی بھی گیا وہ آج پسماندہ طبقات کی آواز بن گیا ہے اس کی مکمل ویڈیو یوٹیوب پر ہے لازمی دیکھیں
RAShahzaddk137,673 views • 1 month ago

پاکستان میں اکثریت بے ایمان ہے اور غلاظت کو غلط نہی سمجھتی ہے یہ مبینہ طور پر شان اچار بنایا جا رہا ہے شان مصالحے بھی ایسے ہی غلیظ ہوں گے میری والدہ کہتی تھیں کہ ڈبے والے مصالحے پھوہڑ عورتوں کا جگاڑ ہے ہمارے گھر پاکستان میں بھی اور یہاں ڈنمارک میں بھی ڈبے کا ہر مصالحہ مکمل بند ہے ہر مصالحہ ثابت آتا اور بوقت ضرورت گھر پر پیس لیتے ہیں چیک کریں آپ کیا کھا رہے ہیں بازار سے کھانے سے مکمل پرھیز کیجئے اپنی جان پر صحت پر رحم کیجیے
RAShahzaddk61,877 views • 27 days ago

یہ ایمان مزاری کی ویڈیو ہے نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کے لئے سکیورٹی روٹ لگا تھا پاکستان میں سری لنکن ٹیم پر حملہ ہو چکا حساس معاملہ تھا ایمان مزاری نے پولیس کو تھپڑ مارا ناکہ توڑا بدتمیزی کی تو اعزازی سید اور ساری قوم یوتھ نے اسے ہیرو بنا دیا جبکہ اپنی یونیورسٹی میں بدمعاش سٹوڈنٹ کی طرف سے غیر قانونی رکاوٹ ہٹانے والی خاتون پروفیسر ان کے نزدیک غنڈی ہے ایک استاد کو حق نہی وہ بدتمیز سٹوڈنٹ سے راستہ صاف کروا سکے جبکہ ان کی لاڈلی ایمان مزاری پولیس پر حملے کر سکتی ہے کہاں سے آتے ایسے لوگ ؟
RAShahzaddk47,708 views • 21 days ago

یہ جو فائلیں اٹھا کر عطا تارڑ صاحب کے پیچھے جا رہے یہ تصور عرفات وڑائچ صاحب ہیں یہ سرکار ی ملازم اور عطا تارڑ کے سٹاف میں ہیں ان کو صحافت کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ تمغہ امتیاز دیا گیا ہے آپ ان کے ٹک ٹاک پر جائیں آپ کو ان کی ساری صحافت انڈین گانوں پر ایسی ویڈیوز کی صورت ملے گی ان کو آوٹ آف ٹرن اور ایکس کیڈر کم ترین وقت میں گریڈ پانچ سے نو تک ( گریڈ سولہ سے بیس تک ) ترقی بھی دی گئی ہے
RAShahzaddk52,893 views • 29 days ago

جنرل فیصل نصیر کی ڈی جی نیکٹا بننے پر حرم حمید روکڑی کا بہت اہم بیان 👇
RAShahzaddk20,704 views • 11 days ago
