
Rebel Pulse
@R__Pulse • 33,490 subscribers
Driven by passion, fueled by defiance. Not here to fit in, here to stand out.
Shorts
Videos

راولاکوٹ “شہرِ مزاحمت” ہے، اور اسے ہتھیاروں سے نہیں جیتا جا سکتا۔یہاں کے لوگوں کی روایت خوف پر نہیں بلکہ اپنے مؤقف، اپنے دکھ اور اپنی امید پر قائم ہے۔ اس شہر میں اگر کوئی “فتح” ممکن ہے تو وہ طاقت کے زور پر نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
Rebel Pulse75,666 Aufrufe • vor 1 Monat

مسلح فرسزز کشمیر گھروں کے اندر گھس کر چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کر رہی ہیں قانون نافذ کرنے والے ادارے خود قانون شکن بن گئے۔ رات کے اندھیرے میں بغیر وارنٹ اور بغیر لیڈی کانسٹیبلز کے گھروں میں زبردستی گھسنا،اور خواتین کو ہراساں کرنا بدترین فاشزم اور اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
Rebel Pulse49,651 Aufrufe • vor 1 Monat

مظفرآباد جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی مذاکراتی کمیٹی نے حکومتی ضیافت کا بائیکاٹ کیا ویسے بھی ہم عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں کا کھانا کھانے یہاں نہیں آئے، نہ ہی عیش و عشرت کے دلدادہ ہیں۔ ہماری ترجیح صرف اور صرف عوامی مطالبات ہیں۔اور جب یہ حل نہیں کیا جاتے_انشاء اللہ ہم اور کشمیری عوام سکون سے نہیں بیٹھے گے
Rebel Pulse28,539 Aufrufe • vor 2 Monaten

یہ وہی کشمیری ہیں جنہوں نے ہمیشہ آگے بڑھ کر بھارتی فوج کی بربریت، ظلم اور جبر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کے حق میں آواز بلند کی اور اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر اپنی وابستگی کا ثبوت دیا۔مگر آج افسوس کے ساتھ سوال اٹھتا ہے کہ کیا انہی کشمیریوں کو غدار اور دہشت گرد قرار دے کر گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ کیا انہی سینوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں جو ہمیشہ محبت، وفاداری اور قربانی کی علامت رہے ہیں؟ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زور پر آوازوں کو دبایا جا سکتا ہے، مگر حقائق کو مٹایا نہیں جا سکتا۔ قربانیوں کا حساب وقت ضرور مانگتا ہے اور قومیں اپنے محسنوں اور وفاداروں کے ساتھ ہونے والے سلوک کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔
Rebel Pulse15,893 Aufrufe • vor 1 Monat

کشمیر کی حالیہ تحریک کے دوران پاکستانی میڈیا کا کردار عوام کے سامنے ہے، لیکن ایسے ماحول میں جہاں بہت سے آوازیں مختلف مفادات کے زیرِ اثر محسوس ہوتی ہیں، جناب حامد میر صاحب نے صحافت کے بنیادی اصولوں، سچائی اور حق گوئی کا دامن نہیں چھوڑا۔انہوں نے اپنے قلم اور آواز کے ذریعے کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور صحافتی ذمہ داری کا حق ادا کیا۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر جہاں حق بات کہی جائے وہاں اعترافِ حقیقت بھی ضروری ہے۔ایسے صحافی قابلِ ستائش ہیں جو دباؤ، مصلحت اور مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے پیشے کے وقار کو برقرار رکھتے ہیں۔
Rebel Pulse10,729 Aufrufe • vor 1 Monat
Keine weiteren Inhalte verfügbar