Sammi Deen Baloch's banner
Sammi Deen Baloch's profile picture

Sammi Deen Baloch

@SammiBaluch176,899 subscribers

First award-winner @FrontLineHRD from Balochistan. Fighting against enforced disappearances & for the safe release of my father #DrDeenMohd & others

Shorts

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔

44,863 views

کل رات پہلےنصب کئےگئےکیمرےبندکرنا پھرپولیس کی موجودگی میں 2گاڑیوں سے3افرادکااترکرپہلےساتھیوں کوپستول دکھاکرخوفزدہ کرناہمارےکیمپ میں داخل ہوکرخواتین کوہراساں کرناجہاں ہم سب خواتین بچیاں سوئےہوئےتھےوہاں سےساؤنڈاسپیکرکواٹھاکرساتھ لےجاکرفرارہونےنےآپکےLow standardہونےمیں مزیداضافہ کیا

کل رات پہلےنصب کئےگئےکیمرےبندکرنا پھرپولیس کی موجودگی میں 2گاڑیوں سے3افرادکااترکرپہلےساتھیوں کوپستول دکھاکرخوفزدہ کرناہمارےکیمپ میں داخل ہوکرخواتین کوہراساں کرناجہاں ہم سب خواتین بچیاں سوئےہوئےتھےوہاں سےساؤنڈاسپیکرکواٹھاکرساتھ لےجاکرفرارہونےنےآپکےLow standardہونےمیں مزیداضافہ کیا

666,861 views

میری چھوٹی بہن مہلب دین، جس کا پورا بچپن اپنے جبری گمشدہ والد کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے گزر گیا۔ آج جو ریاست میرے والد کی جبری گمشدگی سے انکاری ہے، کیا وہ کبھی مہلب کی اس اذیت، اس محرومی اور اس درد کو محسوس کر سکتی ہے؟ کیا وہ جان سکتی ہے کہ ایک بچی اپنے والد کی جدائی کے ساتھ کیسے بڑی ہوتی ہے، اور اپنے بچپن کے سب سے خوبصورت سال انصاف کی تلاش میں کیسے گزار دیتی ہے؟ #ReleaseDrDeenMohammad

میری چھوٹی بہن مہلب دین، جس کا پورا بچپن اپنے جبری گمشدہ والد کی بازیابی کے لیے سڑکوں پر احتجاج کرتے ہوئے گزر گیا۔ آج جو ریاست میرے والد کی جبری گمشدگی سے انکاری ہے، کیا وہ کبھی مہلب کی اس اذیت، اس محرومی اور اس درد کو محسوس کر سکتی ہے؟ کیا وہ جان سکتی ہے کہ ایک بچی اپنے والد کی جدائی کے ساتھ کیسے بڑی ہوتی ہے، اور اپنے بچپن کے سب سے خوبصورت سال انصاف کی تلاش میں کیسے گزار دیتی ہے؟ #ReleaseDrDeenMohammad

27,594 views

اسلام آباد پولیس نے ہمارے لیے اپنے قیدی وین کے دروازے کھول دیے ہیں اور ہمارے خلاف کریک ڈاؤن کی فضا پیدا کردی گئی ہے مگر یاد رکھیں ہم نہتے تھے اپنا درد دکھ اور تکلیف لے کر شہر اقتدار میں سنانا چاہتے تھے ہمیں سننے سے پہلے خاموش کرنے کی کوشش کی جاری ہے۔

اسلام آباد پولیس نے ہمارے لیے اپنے قیدی وین کے دروازے کھول دیے ہیں اور ہمارے خلاف کریک ڈاؤن کی فضا پیدا کردی گئی ہے مگر یاد رکھیں ہم نہتے تھے اپنا درد دکھ اور تکلیف لے کر شہر اقتدار میں سنانا چاہتے تھے ہمیں سننے سے پہلے خاموش کرنے کی کوشش کی جاری ہے۔

464,006 views

اسلام آباد انتظامیہ کی بے حسی اور جبر کا عالم یہ ہے کہ بلوچ مظاہرین، جو صرف اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے پُرامن احتجاج کے لیے آئے ہیں، انہیں نہ پریس کلب کی حدود میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے، نہ ٹینٹ لگانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس، انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے، حالانکہ وہ شدید بارش اور خراب موسم میں بھی سڑک پر بیٹھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ یہ کسی بھی مہذب ریاست کا بنیادی اخلاقی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو پُرامن احتجاج کا حق دے، خاص طور پر ان خاندانوں کو جو صرف اپنے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں مگر یہاں معاملہ اُلٹا ہے، چونکہ یہ بلوچستان کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں، اس لیے ان سے اس قدر بے رحمی سے پیش آ کر گویا ان کی مظلومیت کو مزید گہرا کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ ریاستی تعصب اور عدم برداشت کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ کی بے حسی اور جبر کا عالم یہ ہے کہ بلوچ مظاہرین، جو صرف اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے پُرامن احتجاج کے لیے آئے ہیں، انہیں نہ پریس کلب کی حدود میں داخل ہونے دیا جا رہا ہے، نہ ٹینٹ لگانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس، انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے، حالانکہ وہ شدید بارش اور خراب موسم میں بھی سڑک پر بیٹھ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ یہ کسی بھی مہذب ریاست کا بنیادی اخلاقی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو پُرامن احتجاج کا حق دے، خاص طور پر ان خاندانوں کو جو صرف اپنے لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں مگر یہاں معاملہ اُلٹا ہے، چونکہ یہ بلوچستان کی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں، اس لیے ان سے اس قدر بے رحمی سے پیش آ کر گویا ان کی مظلومیت کو مزید گہرا کیا جا رہا ہے۔ یہ عمل نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ ریاستی تعصب اور عدم برداشت کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

190,996 views

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

اسلام آباد کی تیز بارشوں اور سیلابی ریلوں کے بیچ، شہرِ اقتدار کی سڑکوں پر بلوچ مائیں اور جبری گمشدہ افراد کے لواحقین مسلسل دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ نہ انہیں خیمہ لگانے کی اجازت ہے، نہ سر پر کوئی چھت یا سائبان۔ اسلام آباد پریس کلب کی دیوار سے محض چند قدم کے فاصلے پر یہ احتجاج جاری ہے، مگر صحافیوں کو بھی قریب آنے اور ان کے درد کو دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ سب کچھ صرف امید اور حوصلے کے سہارے جاری ہے۔ تعداد میں یہ لواحقین چاہے کم ہیں، مگر ان کا وجود اور استقامت ہزاروں آوازوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ گزشتہ48 دنوں سے وہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دھمکیوں، رکاوٹوں اور ہر طرح کی مشکلات کے باوجود ان کا احتجاج جاری ہے۔ ان ماؤں اور بہنوں کے حوصلے اس ریاست اور اس کے حکمرانوں کے لیے کھلا چیلنج اور شرم کا مقام ہیں۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہیں کہ طاقت، دھوپ، بارش اور ظلم بھی ان کے عزم کو شکست نہیں دے سکے۔ یہ وہ زوردار طمانچہ ہیں جو اس گمان کو توڑ دیتا ہے کہ ان ماؤں کے حوصلے جھکائے جا سکتے ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

145,048 views

اسلام آباد :کھلا آسمان موسم کی سختی چاروں طرف Fog اور ہم بلوچستان سے اپنا درد لے کر انے والے لواحقین ۔۔ مقتدرہ کا victim blaming کا پرانا رویہ ۔۔ بوڑھے ضیف والدین چھوٹے چھوٹے بچے ریاستی جبر کے ساتھ ساتھ موسم کی سختی سے لڑھ رہے ہیں بلوچستان والوں دیکھ رہے ہو ؟ شہر اقتدار میں ہم کس ازیت سے گزر رہے ہیں ؟ اگر ہمیں کچھ ہوا تو یہ لڑائی آپکی ہے ہم سب کی ہے ہم بار بار پیچھے موڈ کر ضرور دیکھیں گے آپ عوام ہی ہماری طاقت ہو ہمیں مایوس ہونے مت دینا

اسلام آباد :کھلا آسمان موسم کی سختی چاروں طرف Fog اور ہم بلوچستان سے اپنا درد لے کر انے والے لواحقین ۔۔ مقتدرہ کا victim blaming کا پرانا رویہ ۔۔ بوڑھے ضیف والدین چھوٹے چھوٹے بچے ریاستی جبر کے ساتھ ساتھ موسم کی سختی سے لڑھ رہے ہیں بلوچستان والوں دیکھ رہے ہو ؟ شہر اقتدار میں ہم کس ازیت سے گزر رہے ہیں ؟ اگر ہمیں کچھ ہوا تو یہ لڑائی آپکی ہے ہم سب کی ہے ہم بار بار پیچھے موڈ کر ضرور دیکھیں گے آپ عوام ہی ہماری طاقت ہو ہمیں مایوس ہونے مت دینا

174,972 views

آج ناکو معیار کی خوشی اور غم کی ملی جلی سسکیاں، ان میں لپٹا ہوا ایسا درد ہے جسے شاید ہی کوئی سمجھ سکے۔ یہ لرزتی ہوئی دہائیاں، یہ چیختا ہوا بغل گیر ہونا، یہ فلک شگاف رونا، کون جانے کہ ناکو معیار اپنے اکلوتے بیٹے کے گزرے لمحوں کے داغ اور صدیوں جیسی طویل جدائی کے بعد کی رہ رہائی کی کس کربناک درد و اذیت کو بیان کر رہی ہے۔ دو برسوں سے بیٹے کی جبری گمشدگی کا زہر اپنے وجود میں اتارنے کے بعد، ناکو معیار نے یہ دن کس عذاب، کس اذیت کے ساتھ کاٹا ہوگا، یہ صرف وہی جان سکتا ہے جس کی آنکھیں بھی برسوں سے اپنے گمشدہ پیاروں کی واپسی کی راہ تک رہی ہیں۔ یہ دکھ لفظوں میں ڈھلنے والا نہیں، یہ بس ان دلوں پر کھلتا ہے جو انتظار کے اسی جہنم میں جل رہے ہیں۔

آج ناکو معیار کی خوشی اور غم کی ملی جلی سسکیاں، ان میں لپٹا ہوا ایسا درد ہے جسے شاید ہی کوئی سمجھ سکے۔ یہ لرزتی ہوئی دہائیاں، یہ چیختا ہوا بغل گیر ہونا، یہ فلک شگاف رونا، کون جانے کہ ناکو معیار اپنے اکلوتے بیٹے کے گزرے لمحوں کے داغ اور صدیوں جیسی طویل جدائی کے بعد کی رہ رہائی کی کس کربناک درد و اذیت کو بیان کر رہی ہے۔ دو برسوں سے بیٹے کی جبری گمشدگی کا زہر اپنے وجود میں اتارنے کے بعد، ناکو معیار نے یہ دن کس عذاب، کس اذیت کے ساتھ کاٹا ہوگا، یہ صرف وہی جان سکتا ہے جس کی آنکھیں بھی برسوں سے اپنے گمشدہ پیاروں کی واپسی کی راہ تک رہی ہیں۔ یہ دکھ لفظوں میں ڈھلنے والا نہیں، یہ بس ان دلوں پر کھلتا ہے جو انتظار کے اسی جہنم میں جل رہے ہیں۔

69,084 views

خاران : جبری گمشدگیوں فیک انکاؤنٹر ریاستی تشدد کے خلاف اور لاپتہ افراد کی بازیابی اسلام آباد دھرنے کی حمایت میں لوگوں کی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلنا ہمارے موقف کی تائید اور سچائی کا ثبوت ہے شکریہ خاران 🙏 #MarchAgainstBalochGenocide #IStandWithBalochMarch

خاران : جبری گمشدگیوں فیک انکاؤنٹر ریاستی تشدد کے خلاف اور لاپتہ افراد کی بازیابی اسلام آباد دھرنے کی حمایت میں لوگوں کی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلنا ہمارے موقف کی تائید اور سچائی کا ثبوت ہے شکریہ خاران 🙏 #MarchAgainstBalochGenocide #IStandWithBalochMarch

95,571 views

مجھے اور ہمارے وکیل کو اسلام آباد پولیس نے بلایا اور ہم سے کہا گیا کہ گرفتار مظاہرین کو حوالے کریں گے ساتھ میں دو شرط ہمارے سامنے رکھ دی گئی پہلا اسلام آباد بدری دوسرا پرامن احتجاج جب ہم نے لکھ کر پرامن احتجاج کی گارنٹی دی 1/2

مجھے اور ہمارے وکیل کو اسلام آباد پولیس نے بلایا اور ہم سے کہا گیا کہ گرفتار مظاہرین کو حوالے کریں گے ساتھ میں دو شرط ہمارے سامنے رکھ دی گئی پہلا اسلام آباد بدری دوسرا پرامن احتجاج جب ہم نے لکھ کر پرامن احتجاج کی گارنٹی دی 1/2

71,739 views

نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے اس وقت ہمارا احتجاجی دھرنا جاری ہے تمام اقوام سے اپیل ہے آگے آئیں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں فیک انکاؤنٹر ظلم اور تشدد کے خلاف ہماری اس جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالیں بلوچ ماؤں بہنوں کی نگاہیں آپکی منتظر رہیں گی #MarchAgainstBalochGenocide

نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے اس وقت ہمارا احتجاجی دھرنا جاری ہے تمام اقوام سے اپیل ہے آگے آئیں بلوچستان میں جبری گمشدگیوں فیک انکاؤنٹر ظلم اور تشدد کے خلاف ہماری اس جدوجہد میں اپنا حصہ ڈالیں بلوچ ماؤں بہنوں کی نگاہیں آپکی منتظر رہیں گی #MarchAgainstBalochGenocide

66,706 views

گزشتہ روز کراچی کے فقیر کالونی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر احتجاج ہوا۔ احتجاج کے فوراً بعد جب مظاہرین بس کے ذریعے واپس ملیر جا رہے تھے، تو کراچی پولیس نے فقیر کالونی کے قریب بس کو روک کر تمام مظاہرین کو بس سمیت اپنی تحویل میں لے لیا۔ وقار احمد ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا، بی وائی سی کے مظاہرین کی رہائی کے لیے محمود آباد تھانے پہنچے۔ ابتدا میں پولیس نے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر دینے سے انکار کر دیا اور بعد میں کہا کہ رات بارہ بجے آئیں، تب ایف آئی آر دی جائے گی۔ جب رات بارہ بجے وقار احمد ایڈووکیٹ سمیت چھ وکلا تھانے پہنچے تو پولیس نے انہیں اندر بند کر کے ایک ایک کر کے بدترین تشدد اور گالم گلوچ کا نشانہ بنایا۔ ان پر انسانیت سوز سلوک کیا گیا اور کئی گھنٹوں تک مسلسل جسمانی تشدد کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کے تشدد کے بعد، وکلا کو ایک ایک کر کے رہا کر دیا گیا۔ یہ صرف اسی ملک میں ممکن ہے جہاں وکلا، جو اپنے مؤکلوں کے قانونی حقوق کے بارے میں پوچھنے آتے ہیں، خود پولیس کی تحویل میں لے کر بدترین تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ ریاست اپنی عقل و شعور کھو چکی ہے اور صحیح و غلط، انصاف و ناانصافی کا فرق مٹ چکا ہے۔

گزشتہ روز کراچی کے فقیر کالونی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر احتجاج ہوا۔ احتجاج کے فوراً بعد جب مظاہرین بس کے ذریعے واپس ملیر جا رہے تھے، تو کراچی پولیس نے فقیر کالونی کے قریب بس کو روک کر تمام مظاہرین کو بس سمیت اپنی تحویل میں لے لیا۔ وقار احمد ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا، بی وائی سی کے مظاہرین کی رہائی کے لیے محمود آباد تھانے پہنچے۔ ابتدا میں پولیس نے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر دینے سے انکار کر دیا اور بعد میں کہا کہ رات بارہ بجے آئیں، تب ایف آئی آر دی جائے گی۔ جب رات بارہ بجے وقار احمد ایڈووکیٹ سمیت چھ وکلا تھانے پہنچے تو پولیس نے انہیں اندر بند کر کے ایک ایک کر کے بدترین تشدد اور گالم گلوچ کا نشانہ بنایا۔ ان پر انسانیت سوز سلوک کیا گیا اور کئی گھنٹوں تک مسلسل جسمانی تشدد کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کے تشدد کے بعد، وکلا کو ایک ایک کر کے رہا کر دیا گیا۔ یہ صرف اسی ملک میں ممکن ہے جہاں وکلا، جو اپنے مؤکلوں کے قانونی حقوق کے بارے میں پوچھنے آتے ہیں، خود پولیس کی تحویل میں لے کر بدترین تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ ریاست اپنی عقل و شعور کھو چکی ہے اور صحیح و غلط، انصاف و ناانصافی کا فرق مٹ چکا ہے۔

36,504 views

بلوچستان نیشنل پارٹی کی کال پر وڈھ، بلوچستان میں ایک پُرامن احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کے دوران ایف سی اہلکاروں نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد گولیوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہو گئے۔ پُرامن مظاہرین پر ایف سی کی فائرنگ ریاستی جبر کی بدترین مثال ہے۔ انصاف مانگنے والی آوازوں کو گولیوں سے خاموش کرنا زخموں کو اور گہرا کرتا ہے۔ ریاست کب تک امن کی پکار کا جواب بارود سے دے گی؟

بلوچستان نیشنل پارٹی کی کال پر وڈھ، بلوچستان میں ایک پُرامن احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کے دوران ایف سی اہلکاروں نے مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد گولیوں کا نشانہ بنے اور زخمی ہو گئے۔ پُرامن مظاہرین پر ایف سی کی فائرنگ ریاستی جبر کی بدترین مثال ہے۔ انصاف مانگنے والی آوازوں کو گولیوں سے خاموش کرنا زخموں کو اور گہرا کرتا ہے۔ ریاست کب تک امن کی پکار کا جواب بارود سے دے گی؟

28,252 views

اسلام آباد :حکمران مقتدرہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جبری گمشدگیوں کے مسلے پر آنکھیں موند کر شتر مرغ کی طرح سر ریت میں ڈالے اس اہم انسانی المیے سے انکاری ہیں لواحقین اپنے پیاروں کی تصویر اٹھائے اس وقت نیشنل پریس کلب کے سامنے شب و روز کیمپ لگائے دھرنے پر بیٹھے ہیں بجائے ان سے بات کرتے انکے دکھوں کا مداوا کرتے انکی میڈیا پر ٹرائل کی جاری ہے وزیر اعظیم میڈیا ٹاک میں غلط بیانی کررہے ہیں اور انھیں یقین دلایا جارہا ہے جبری گمشدگیوں کے جرائم میں نہ صرف فورسز بلکہ یہ پارلیمان اور دیگر ادارے بھی ملوث ہیں اب بھی وقت ہے انکے پیاروں کو عقوبت خانوں سے بازیاب کریں وگرنہ یہ خالی ہاتھ لوٹ کر جائیں گے تو اسکے نتائج بہت خوفناک ہونگے #MarchAgainstBalochGenocide

اسلام آباد :حکمران مقتدرہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جبری گمشدگیوں کے مسلے پر آنکھیں موند کر شتر مرغ کی طرح سر ریت میں ڈالے اس اہم انسانی المیے سے انکاری ہیں لواحقین اپنے پیاروں کی تصویر اٹھائے اس وقت نیشنل پریس کلب کے سامنے شب و روز کیمپ لگائے دھرنے پر بیٹھے ہیں بجائے ان سے بات کرتے انکے دکھوں کا مداوا کرتے انکی میڈیا پر ٹرائل کی جاری ہے وزیر اعظیم میڈیا ٹاک میں غلط بیانی کررہے ہیں اور انھیں یقین دلایا جارہا ہے جبری گمشدگیوں کے جرائم میں نہ صرف فورسز بلکہ یہ پارلیمان اور دیگر ادارے بھی ملوث ہیں اب بھی وقت ہے انکے پیاروں کو عقوبت خانوں سے بازیاب کریں وگرنہ یہ خالی ہاتھ لوٹ کر جائیں گے تو اسکے نتائج بہت خوفناک ہونگے #MarchAgainstBalochGenocide

45,351 views

یہ صرف بے جان تصوریں نہیں ہیں ان میں بہت سے خاندانوں کی زندگیاں قید ہیں ماؤں کے کلیجے کے ٹکڑے بہنوں کی شہزادے جیسے بھائی کسی نھنی جان کا بابا بوڑھے باپ کے بڑھاپے کا سارا کسی کے لیے سارا جہان ہیں جنھیں بغیر مقدمات بغیر جرم جبرا لاپتا کردیا گیا ہے #MarchAgainstBalochGenocid

یہ صرف بے جان تصوریں نہیں ہیں ان میں بہت سے خاندانوں کی زندگیاں قید ہیں ماؤں کے کلیجے کے ٹکڑے بہنوں کی شہزادے جیسے بھائی کسی نھنی جان کا بابا بوڑھے باپ کے بڑھاپے کا سارا کسی کے لیے سارا جہان ہیں جنھیں بغیر مقدمات بغیر جرم جبرا لاپتا کردیا گیا ہے #MarchAgainstBalochGenocid

44,589 views

آج اسلام آباد میں بلوچ خاندانوں کے احتجاجی دھرنے کو دو مہینے مکمل ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر اور طویل احتجاجوں کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ چاہے وہ 2010 میں جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا کوئٹہ سے اسلام آباد تک مارچ ہو، 2013 کا پیدل لانگ مارچ جو کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد تک تین مہینے اور آٹھ دن میں مکمل ہوا، 2021 میں اسلام آباد کا ڈی چوک دھرنا، 2022 میں کوئٹہ ریڈ زون کا 55 دن طویل دھرنا، یا 2023 کی لانگ مارچ جو ایک مہینے سے زائد عرصہ اسلام آباد میں جاری رہی یا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا بھوک ہڑتالی کیمپ بھی ہے جسے آج5938 دن مکمل ہوچکے ہیں۔ بلوچوں نے پرامن احتجاج اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے مطالبات اٹھائے ہیں۔ شاید ہی پاکستان کی کسی اور قوم نے اتنی مسلسل اور وسیع پیمانے پر اپنے احتجاجات کو ریکارڈ کرایا ہو۔اس کے باوجود ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم سیاسی لوگ نہیں، ہمارے مسائل حقیقی نہیں، یا ہم بات چیت اور مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے۔ ان احتجاجوں کے دوران مظاہرین نے رکاوٹیں، اذیتیں، بارشیں، سردیاں، گرمیاں، کھلے آسمان تلے دن رات بیٹھنے کی مشقت، کریک ڈاؤن، شیلنگ اور گرفتاریوں سمیت ہر طرح کی مشکلات برداشت کیں، لیکن اپنے مطالبات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کئی بار چند حکومتی نمائندے بھیج کر جھوٹے مذاکرات اور وعدے کیے گئے جو کبھی پورے نہ ہوئے، اور کبھی کریک ڈاؤن کیا یا پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ہمارے احتجاج اور مطالبات کسی کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ مظاہرین کو سنا ہی نہ جائے تاکہ وہ تھک کر مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں، گویا اس رویے سے اس احساس کو مزید گہرا کیا جائے کہ بلوچ کا ریاست پاکستان سے انصاف کا مطالبہ کرنا محض فضول ہے۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مظاہرین، جن میں لاپتہ افراد کی مائیں اور عزیز شامل ہیں، آخرکار تھک جائیں گے مایوس ہونگے ، وہ جہالت اور denial دونوں میں مبتلا ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ وہ لواحقین ہیں جو پچھلے بیس پچیس برس سے اپنے گمشدہ پیاروں کی جبری گمشدگی انتہائی اذیت ناک درد کو جھیل رہے ہیں، وہ قوم جو مستقل ریاستی جبر کا سامنا کررہی ہے، جو روزانہ اس کرب کو اس جبر کو محسوس کرتے ہیں۔وہ کیسے تھکیں گے مایوس ہونگے یا احتجاج کرنا چھوڑ دینگے؟ یہ احتجاج صرف سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ اُس مسلسل درد کا زندہ ثبوت ہیں جو بلوچ قوم اور گمشدہ افراد کے خاندان ہر روز سہتے ہیں۔ اسلام آباد میں دو مہینے سے جاری موجودہ احتجاج کے بارے میں بھی ریاست نے یہی حکمت عملی اپنائی ہے کہ یہ خاندان تھک جائیں گے، مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں گے، یا ان کے وجود کو نظرانداز کر کے انہیں Invisible اور Non existent بنا دیا جائے گا، لیکن یہ سوچ خام خیالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومتی رویہ ہر دور میں ہمیشہ سے انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ اگر ریاست کے بار بار مایوس کرانے کی پاکیسیوں کے باوجود ہر بار یہ خاندان احتجاج پر ڈٹے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریاست سے پرامید ہیں بلکہ یہ احتجاج اُس درد، اُس ناانصافی اور اُس جبر کو دنیا کے سامنے لانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ احتجاج دکھ و تکلیف کے اظہار کا وسیلہ ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے یہ احتجاج امید کا نہیں بلکہ مزاحمت کا عمل ہے، ریاستی جبر کے انکار کا عمل، اس جبر کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان ہیں کہ جب تک ریاستی جبر جاری رہے گا، یہ مزاحمت احتجاجوں کی شکل میں بھی جاری رہیں گے۔ یہ احتجاج صرف مظاہرے نہیں ہیں یہ مزاحمت ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

آج اسلام آباد میں بلوچ خاندانوں کے احتجاجی دھرنے کو دو مہینے مکمل ہوگئے ہیں۔ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر اور طویل احتجاجوں کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ چاہے وہ 2010 میں جبری گمشدہ افراد کے لواحقین کا کوئٹہ سے اسلام آباد تک مارچ ہو، 2013 کا پیدل لانگ مارچ جو کوئٹہ سے کراچی اور اسلام آباد تک تین مہینے اور آٹھ دن میں مکمل ہوا، 2021 میں اسلام آباد کا ڈی چوک دھرنا، 2022 میں کوئٹہ ریڈ زون کا 55 دن طویل دھرنا، یا 2023 کی لانگ مارچ جو ایک مہینے سے زائد عرصہ اسلام آباد میں جاری رہی یا وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا بھوک ہڑتالی کیمپ بھی ہے جسے آج5938 دن مکمل ہوچکے ہیں۔ بلوچوں نے پرامن احتجاج اور سیاسی جدوجہد کے ذریعے اپنے مطالبات اٹھائے ہیں۔ شاید ہی پاکستان کی کسی اور قوم نے اتنی مسلسل اور وسیع پیمانے پر اپنے احتجاجات کو ریکارڈ کرایا ہو۔اس کے باوجود ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم سیاسی لوگ نہیں، ہمارے مسائل حقیقی نہیں، یا ہم بات چیت اور مذاکرات پر یقین نہیں رکھتے۔ ان احتجاجوں کے دوران مظاہرین نے رکاوٹیں، اذیتیں، بارشیں، سردیاں، گرمیاں، کھلے آسمان تلے دن رات بیٹھنے کی مشقت، کریک ڈاؤن، شیلنگ اور گرفتاریوں سمیت ہر طرح کی مشکلات برداشت کیں، لیکن اپنے مطالبات پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ کئی بار چند حکومتی نمائندے بھیج کر جھوٹے مذاکرات اور وعدے کیے گئے جو کبھی پورے نہ ہوئے، اور کبھی کریک ڈاؤن کیا یا پھر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ہمارے احتجاج اور مطالبات کسی کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ مظاہرین کو سنا ہی نہ جائے تاکہ وہ تھک کر مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں، گویا اس رویے سے اس احساس کو مزید گہرا کیا جائے کہ بلوچ کا ریاست پاکستان سے انصاف کا مطالبہ کرنا محض فضول ہے۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مظاہرین، جن میں لاپتہ افراد کی مائیں اور عزیز شامل ہیں، آخرکار تھک جائیں گے مایوس ہونگے ، وہ جہالت اور denial دونوں میں مبتلا ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ وہ لواحقین ہیں جو پچھلے بیس پچیس برس سے اپنے گمشدہ پیاروں کی جبری گمشدگی انتہائی اذیت ناک درد کو جھیل رہے ہیں، وہ قوم جو مستقل ریاستی جبر کا سامنا کررہی ہے، جو روزانہ اس کرب کو اس جبر کو محسوس کرتے ہیں۔وہ کیسے تھکیں گے مایوس ہونگے یا احتجاج کرنا چھوڑ دینگے؟ یہ احتجاج صرف سیاسی مطالبہ نہیں بلکہ اُس مسلسل درد کا زندہ ثبوت ہیں جو بلوچ قوم اور گمشدہ افراد کے خاندان ہر روز سہتے ہیں۔ اسلام آباد میں دو مہینے سے جاری موجودہ احتجاج کے بارے میں بھی ریاست نے یہی حکمت عملی اپنائی ہے کہ یہ خاندان تھک جائیں گے، مایوس ہو کر واپس لوٹ جائیں گے، یا ان کے وجود کو نظرانداز کر کے انہیں Invisible اور Non existent بنا دیا جائے گا، لیکن یہ سوچ خام خیالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومتی رویہ ہر دور میں ہمیشہ سے انتہائی مایوس کن رہا ہے۔ اگر ریاست کے بار بار مایوس کرانے کی پاکیسیوں کے باوجود ہر بار یہ خاندان احتجاج پر ڈٹے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ریاست سے پرامید ہیں بلکہ یہ احتجاج اُس درد، اُس ناانصافی اور اُس جبر کو دنیا کے سامنے لانے کا ذریعہ ہیں۔ یہ احتجاج دکھ و تکلیف کے اظہار کا وسیلہ ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے یہ احتجاج امید کا نہیں بلکہ مزاحمت کا عمل ہے، ریاستی جبر کے انکار کا عمل، اس جبر کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان ہیں کہ جب تک ریاستی جبر جاری رہے گا، یہ مزاحمت احتجاجوں کی شکل میں بھی جاری رہیں گے۔ یہ احتجاج صرف مظاہرے نہیں ہیں یہ مزاحمت ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

17,667 views

آج اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی، بیبگر اور دیگر اسیر کارکنان کی بازیابی کے لیے ان کے لواحقین کی جانب سے احتجاجی کیمپ لگایا گیا، جس میں ان کی باحفاظت رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ بلوچستان کی عدالتوں، حکومت، اور میڈیا سے مایوس ہو کر، خواتین، بزرگ مائیں، اور معصوم بچے سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے اسلام آباد پہنچے اس امید کے ساتھ کہ شاید ریاست کے دارالحکومت میں، جہاں اعلیٰ عدلیہ، حکمران، اور میڈیا سب موجود ہیں، ان کی آواز سنی جائے گی۔ مگر ایک بار پھر نہ صرف ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا، بلکہ ان کا آئینی حقِ احتجاج بھی چھین لیا جارہا ہے۔ پہلے پولیس اہلکاروں نے احتجاجی کیمپ کے ٹینٹ اور اسپیکر تک ضبط کر لیے۔ بزرگ خواتین اور بچے بارش اور خراب موسم کے باوجود کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے، اب جبکہ پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی نے مظاہرین کو گرفتاری اور ممکنہ کریک ڈاؤن کے خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔ ریاست کی یہی طاقت پر مبنی پالیسیاں آج بلوچستان کو جلا رہی ہیں۔ انصاف کے مطالبے پر سنجیدہ ردعمل دینے کے بجائے، اگر ریاست بزرگ ماؤں اور بہنوں کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹے گی، تو یہ نہ صرف ظلم ہوگا بلکہ ایک اور شرمناک باب رقم کیا جائے گا۔ #ReleaseBYCLeaders

آج اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی، بیبگر اور دیگر اسیر کارکنان کی بازیابی کے لیے ان کے لواحقین کی جانب سے احتجاجی کیمپ لگایا گیا، جس میں ان کی باحفاظت رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ بلوچستان کی عدالتوں، حکومت، اور میڈیا سے مایوس ہو کر، خواتین، بزرگ مائیں، اور معصوم بچے سینکڑوں میل کا سفر طے کر کے اسلام آباد پہنچے اس امید کے ساتھ کہ شاید ریاست کے دارالحکومت میں، جہاں اعلیٰ عدلیہ، حکمران، اور میڈیا سب موجود ہیں، ان کی آواز سنی جائے گی۔ مگر ایک بار پھر نہ صرف ان کے مطالبات کو نظرانداز کیا گیا، بلکہ ان کا آئینی حقِ احتجاج بھی چھین لیا جارہا ہے۔ پہلے پولیس اہلکاروں نے احتجاجی کیمپ کے ٹینٹ اور اسپیکر تک ضبط کر لیے۔ بزرگ خواتین اور بچے بارش اور خراب موسم کے باوجود کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے، اب جبکہ پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی نے مظاہرین کو گرفتاری اور ممکنہ کریک ڈاؤن کے خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔ ریاست کی یہی طاقت پر مبنی پالیسیاں آج بلوچستان کو جلا رہی ہیں۔ انصاف کے مطالبے پر سنجیدہ ردعمل دینے کے بجائے، اگر ریاست بزرگ ماؤں اور بہنوں کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹے گی، تو یہ نہ صرف ظلم ہوگا بلکہ ایک اور شرمناک باب رقم کیا جائے گا۔ #ReleaseBYCLeaders

18,209 views

اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بلوچ یکجہتی کمیٹی اور جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں کا احتجاجی دھرنا آج 42 ویں روز بھی جاری رہا۔ یہ دھرنا اُن اہلِ خانہ کی اُس طویل اور صبر آزما جدوجہد کا تسلسل ہے جو برسوں سے اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی، بلوچستان میں جاری ریاستی نسل کشی کے خاتمے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار رہنماؤں کی رہائی کے مطالبے کے لیے پرعزم ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

اسلام آباد پریس کلب کے سامنے بلوچ یکجہتی کمیٹی اور جبری گمشدگیوں کے متاثرہ خاندانوں کا احتجاجی دھرنا آج 42 ویں روز بھی جاری رہا۔ یہ دھرنا اُن اہلِ خانہ کی اُس طویل اور صبر آزما جدوجہد کا تسلسل ہے جو برسوں سے اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی، بلوچستان میں جاری ریاستی نسل کشی کے خاتمے اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار رہنماؤں کی رہائی کے مطالبے کے لیے پرعزم ہیں۔ #ReleaseBYCLeaders

16,175 views

Videos

SammiBaluch's profile picture

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔

Sammi Deen Baloch

44,863 views • 28 days ago

SammiBaluch's profile picture

عورت مارچ کراچی کی جانب سے ماہ جبین اور نسرینہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف آج کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس ہونا تھی، مگر اسے روکنے کے لیے ریاستی جبر کی پوری مشینری کو حرکت میں لایا گیا۔ پہلے پولیس نے رابطہ کر کے پریس کانفرنس منسوخ کرنے کا دباؤ ڈالا اور اس کے بعد، 3:30 پر پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے ہی کراچی پولیس نے پریس کلب کے تمام راستے سیل کر دیے، وہاں پہنچنے والے شرکاء کو روک کر ہراساں کیا، گرفتاریاں بھی کیں، اور عملاً پورے ایریا کو ایک گھیراؤ کی شکل دے دی۔ یہ کریک ڈاؤن اسی لیے کیا گیا کیونکہ یہ پریس کانفرنس دو بلوچ لڑکیوں، ایک پولیو سے متاثرہ ماہ جبین اور دوسری محض پندرہ سالہ بچی نسرینہ کی جبری گمشدگی کے خلاف تھی۔ اگر یہ معاملہ کسی اور کمیونٹی کا ہوتا تو شاید نہ پولیس کی یہ بےچینی دکھائی دیتی اور نہ انتظامیہ کی یہ جارحیت۔ مگر بلوچ اس ریاست میں آج بھی شہری تو دور، انسان سمجھنے کی حد تک بھی تسلیم نہیں کیے جاتے۔ اور جو ان کے دکھ، ان کے حق، اور ان کی آواز کے ساتھ کھڑا ہو، اسے بھی اسی جبر، اسی ہراسگی اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Sammi Deen Baloch

235,142 views • 7 months ago

SammiBaluch's profile picture

بی وائی سی کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے کیسز کے لیے استعمال ہونے والے ٹیمپلیٹ میں ترمیم کرکے کوئٹہ ٹرین حملے میں ملوث خودکُش بمبار بلال شاہوانی کی تفصیلات شامل کرنا اور پھر اسے بی وائی سی سے جوڑ کر بڑے نام نہاد میڈیا اداروں کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلانا، نہ صرف صحافتی بددیانتی ہے بلکہ عوام کو دانستہ طور پر بی وائی سی کی پُرامن جہدوجُہد کے متعلق گمراہ کرنے کی کوشش بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلال شاہوانی کا پوسٹر نہ کبھی بی وائی سی کی جانب سے جاری کیا گیا، نہ اس حوالے سے کوئی مستند ثبوت موجود ہے اور نہ ہی بی وائی سی کے کسی آفیشل پلیٹ فارم پر اسے کبھی جبری گمشدہ قرار دیا گیا۔ مزید یہ کہ بلال کے والد نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک مسلح تنظیم کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کے باوجود جھوٹ کو بار بار دہرا کر اسے سچ ثابت کرنے کی پرانی روش آج بھی جاری ہے۔ جس معاشرے میں نام نہاد مین اسٹریم میڈیا اور خود کو صحافی کہلوانے والے افراد سچ اور جھوٹ میں تمیز کیے بغیر طاقتور حلقوں کے بیانیے کو آگے بڑھانے لگیں وہاں سب سے پہلے سچ کا قتل ہوتا ہے۔ صحافت کا بنیادی فریضہ سوال اٹھانا، تحقیق کرنا اور حقائق کو سامنے لانا ہے مگر افسوس کہ بعض میڈیا چینلز نے تحقیق، ثبوت اور صحافتی دیانت کو پسِ پشت ڈال کر محض وہی بیانیہ دہرانا شروع کردیا ہے جو انہیں فراہم کیا جاتا ہے۔ بغیر کسی آزادانہ تحقیق، بغیر تصدیق، اور بغیر اخلاقی ذمہ داری کے بی وائی سی کے خلاف منظم منفی پروپیگنڈہ چلانا صحافت نہیں بلکہ طاقتور حلقوں کی نمائندگی ہے۔ شاید اس طرزِ عمل سے چند ایوانوں میں داد وصول کی جاسکے مگر باشعور عوام بخوبی جانتے ہیں کہ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جارہا ہے تاکہ بی وائی سی جیسی عوامی، مزاحمتی اور پُرامن تحریک کو متنازع بنایا جاسکے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی آواز کو دلیل اور حقائق کے ذریعے دبایا نہیں جاسکتا تو پھر کردار کشی، جھوٹے الزامات اور میڈیا ٹرائل کا سہارا لیا جاتا ہے۔ بی وائی سی کی پُرامن جدوجہد سے اس قدر خوفزدگی ظاہر کرتی ہے کہ اسے کاؤنٹر کرنے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈہ استعمال کیا جارہا ہے۔ میڈیا ہاؤسز اگر اپنی ساکھ، صحافتی اصولوں اور عوامی اعتماد کو مسخ کرکے محض گھڑا ہوا پروپیگنڈہ آگے بڑھائیں گے تو اس سے وقتی طور پر سچ کو دھندلایا تو جاسکتا ہے مگر جھوٹ کو ہمیشہ کے لیے سچ ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ بی وائی سی ان تمام بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کو مسترد کرتی ہے اور اپنی پُرامن جدوجہد ایسے ہتھکنڈوں کے باوجود جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

Sammi Deen Baloch

26,974 views • 1 month ago

SammiBaluch's profile picture

حمدان محمد علی کو 29 دسمبر 2025 کو کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ سے جبری حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان کی گرفتاری ظاہر کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کا مقدمہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا۔ آج ان کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونا تھا، مگر اس سے ایک دن قبل انہیں تین دیگر جبری طور پر لاپتہ افراد کے ہمراہ ایک جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔ بلوچستان میں جعلی مقابلوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اور اب ان افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہیں عدالتوں میں پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ امر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سی ٹی ڈی اور پولیس قانون اور عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ان غیرقانونی کارروائیوں کے خلاف ریاستی اداروں اور عدلیہ کی خاموشی انتہائی تشویشناک ہے۔ آج حمدان کے لواحقین نے اس سنگین ناانصافی کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ ریاستی جبر اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے تمام افراد، تنظیموں اور باشعور شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف بھرپور اور مؤثر آواز اٹھائیں، تاکہ جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کا یہ سلسلہ روکا جا سکے۔

Sammi Deen Baloch

54,869 views • 5 months ago