
Sammi Deen Baloch
@SammiBaluch • 175,136 subscribers
First award-winner @FrontLineHRD from Balochistan. Fighting against enforced disappearances & for the safe release of my father #DrDeenMohd & others
Shorts
Videos

میرے بیٹے کو سی ٹی ڈی نے اٹھایا، سات دن نامعلوم جگہ پر رکھا گیا، عدالت میں لایا گیا دو دفعہ پیش کیا گیا۔ ہم انکی تیسری عدالت میں پیشی کے لئے انتظار کررہے تھے کہ ہم نے سنا کہ میرے بیٹے کو جعلی مقابلے میں مارا گیا ہے۔ یہ کیسا مقابلہ ہے کہ اور کیوں مارا گیا ہے؟ جب میرے بیٹے کو عدالت میں لایا گیا تو دس دس پولیس کی گاڑیاں انکے پیچھے تھے، کسٹڈی سے مقابلہ کرنے گیا تو یہ پولیس والے کہاں مرگئے تھے۔ میرے بیٹے کا قتل فیک انکاوئٹر ہے۔ #JusticeForHamdan
Sammi Deen Baloch200,448 views • 3 months ago

بی وائی سی کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے کیسز کے لیے استعمال ہونے والے ٹیمپلیٹ میں ترمیم کرکے کوئٹہ ٹرین حملے میں ملوث خودکُش بمبار بلال شاہوانی کی تفصیلات شامل کرنا اور پھر اسے بی وائی سی سے جوڑ کر بڑے نام نہاد میڈیا اداروں کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلانا، نہ صرف صحافتی بددیانتی ہے بلکہ عوام کو دانستہ طور پر بی وائی سی کی پُرامن جہدوجُہد کے متعلق گمراہ کرنے کی کوشش بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلال شاہوانی کا پوسٹر نہ کبھی بی وائی سی کی جانب سے جاری کیا گیا، نہ اس حوالے سے کوئی مستند ثبوت موجود ہے اور نہ ہی بی وائی سی کے کسی آفیشل پلیٹ فارم پر اسے کبھی جبری گمشدہ قرار دیا گیا۔ مزید یہ کہ بلال کے والد نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک مسلح تنظیم کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کے باوجود جھوٹ کو بار بار دہرا کر اسے سچ ثابت کرنے کی پرانی روش آج بھی جاری ہے۔ جس معاشرے میں نام نہاد مین اسٹریم میڈیا اور خود کو صحافی کہلوانے والے افراد سچ اور جھوٹ میں تمیز کیے بغیر طاقتور حلقوں کے بیانیے کو آگے بڑھانے لگیں وہاں سب سے پہلے سچ کا قتل ہوتا ہے۔ صحافت کا بنیادی فریضہ سوال اٹھانا، تحقیق کرنا اور حقائق کو سامنے لانا ہے مگر افسوس کہ بعض میڈیا چینلز نے تحقیق، ثبوت اور صحافتی دیانت کو پسِ پشت ڈال کر محض وہی بیانیہ دہرانا شروع کردیا ہے جو انہیں فراہم کیا جاتا ہے۔ بغیر کسی آزادانہ تحقیق، بغیر تصدیق، اور بغیر اخلاقی ذمہ داری کے بی وائی سی کے خلاف منظم منفی پروپیگنڈہ چلانا صحافت نہیں بلکہ طاقتور حلقوں کی نمائندگی ہے۔ شاید اس طرزِ عمل سے چند ایوانوں میں داد وصول کی جاسکے مگر باشعور عوام بخوبی جانتے ہیں کہ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جارہا ہے تاکہ بی وائی سی جیسی عوامی، مزاحمتی اور پُرامن تحریک کو متنازع بنایا جاسکے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی آواز کو دلیل اور حقائق کے ذریعے دبایا نہیں جاسکتا تو پھر کردار کشی، جھوٹے الزامات اور میڈیا ٹرائل کا سہارا لیا جاتا ہے۔ بی وائی سی کی پُرامن جدوجہد سے اس قدر خوفزدگی ظاہر کرتی ہے کہ اسے کاؤنٹر کرنے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈہ استعمال کیا جارہا ہے۔ میڈیا ہاؤسز اگر اپنی ساکھ، صحافتی اصولوں اور عوامی اعتماد کو مسخ کرکے محض گھڑا ہوا پروپیگنڈہ آگے بڑھائیں گے تو اس سے وقتی طور پر سچ کو دھندلایا تو جاسکتا ہے مگر جھوٹ کو ہمیشہ کے لیے سچ ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ بی وائی سی ان تمام بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کو مسترد کرتی ہے اور اپنی پُرامن جدوجہد ایسے ہتھکنڈوں کے باوجود جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
Sammi Deen Baloch26,599 views • 15 days ago

عورت مارچ کراچی کی جانب سے ماہ جبین اور نسرینہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف آج کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس ہونا تھی، مگر اسے روکنے کے لیے ریاستی جبر کی پوری مشینری کو حرکت میں لایا گیا۔ پہلے پولیس نے رابطہ کر کے پریس کانفرنس منسوخ کرنے کا دباؤ ڈالا اور اس کے بعد، 3:30 پر پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے ہی کراچی پولیس نے پریس کلب کے تمام راستے سیل کر دیے، وہاں پہنچنے والے شرکاء کو روک کر ہراساں کیا، گرفتاریاں بھی کیں، اور عملاً پورے ایریا کو ایک گھیراؤ کی شکل دے دی۔ یہ کریک ڈاؤن اسی لیے کیا گیا کیونکہ یہ پریس کانفرنس دو بلوچ لڑکیوں، ایک پولیو سے متاثرہ ماہ جبین اور دوسری محض پندرہ سالہ بچی نسرینہ کی جبری گمشدگی کے خلاف تھی۔ اگر یہ معاملہ کسی اور کمیونٹی کا ہوتا تو شاید نہ پولیس کی یہ بےچینی دکھائی دیتی اور نہ انتظامیہ کی یہ جارحیت۔ مگر بلوچ اس ریاست میں آج بھی شہری تو دور، انسان سمجھنے کی حد تک بھی تسلیم نہیں کیے جاتے۔ اور جو ان کے دکھ، ان کے حق، اور ان کی آواز کے ساتھ کھڑا ہو، اسے بھی اسی جبر، اسی ہراسگی اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
Sammi Deen Baloch235,142 views • 6 months ago
1:00
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

“آپ نے انہیں کیمپ لگانے کی اجازت نہیں دی، وہ بارش میں بھیگتے اور جلتی دھوپ میں کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے۔ انہوں نے خود کو اذیت دی، مگر انتظامیہ کو ایک لمحے کے لیے بھی پریشان نہیں کیا۔” ہم دل کی گہرائیوں سے محترمہ ایمان مزاری Imaan Zainab Mazari-Hazir کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جو گزشتہ چار دنوں سے مسلسل مشکلات کے باوجود ان مظلوم لواحقین کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہیں ان کے اس بے لوث ساتھ نے امید اور مزاحمت کو طاقت دی ہے۔ ہم اسلام آباد کی باشعور اور حساس عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان سے آئے ان لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں، کیونکہ یہ صرف بلوچستان کا نہیں، انسانیت کا مسئلہ ہے۔
Sammi Deen Baloch194,433 views • 10 months ago

میر صاحب ! پندرہ سال گزرنے کے باوجود ہمیں سنا نہیں جاتا مزاکرات کے نام پر وزرا آتے ہیں اور ایسے بات کرتے ہیں جیسے جبری گمشدگیوں مسلہ ریاستی نہیں بلکہ ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے ہمیں سننے کے بجائے اپنا سنا کر چلے جاتے ہیں سچ مانیں ان پندرہ سالوں میں بہت کچھ دیکھا ہے بہت کچھ سہا ہے لوگوں کے لیے پندرہ شاہد ایک نمبر ہو مگر ہمارے لیے پندرہ صدیوں کے برابر ہے اپنے ہی وطن میں خانہ بدوشوں کی طرح زندگی کررہے ہیں کھبی کوئٹہ پریس کلب تو کھبی کراچی اسلام آباد #EndEnforcedDisappearances #MarchAgainstBalochGenocide
Sammi Deen Baloch347,992 views • 2 years ago

میری والدہ کہتی ہے کہ کاش میں پڑھی لکھی ہوتی اپنے شوہر ڈاکٹر دین محمد بلوچ کا مقدمہ خود لڑتی امی نے ہمیں مشکل حالات میں غربت کے باوجود ہم تین بچوں کو پالا بڑا کیا تعلیم دلوائی بہت سے لوگ امی سے سوال کرتے ہیں تم کیوں اپنے جوان بیٹیوں کو سڑکوں پر احتجاج کیلئے جانے دیتی ہو ؟ میری والدہ یہ جانتی ہے کہ ہمارے علاوہ انکااور کوئی نہیں ہے جب ہم احتجاج کیلئے گھر سے نکلتے ہیں تو پریشان و بے چین ہوتی ہے لیکن ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں ہے امی کی یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ شاید آپ میں بہت لوگوں کو سمجھ میں نہ ائیں لیکن انکی تکلیف لہجے اور آواز سے عیاں ہے میری والدہ کی زندگی کے وہ خوبصورت برس بغیر بابا کہ گزرئے ہیں پندرہ سال میری والدہ نہ بیوائوں میں شمار ہوتی ہے نہ شادی شدہ کی فہرست میں جگہ بنا سکتی ہے میری والدہ کا ازواجی اسٹیٹس کیا ہے یہ اس اسٹیٹ کو ہی پتا ہے
Sammi Deen Baloch320,464 views • 2 years ago

حمدان محمد علی کو 29 دسمبر 2025 کو کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ سے جبری حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان کی گرفتاری ظاہر کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کا مقدمہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا۔ آج ان کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونا تھا، مگر اس سے ایک دن قبل انہیں تین دیگر جبری طور پر لاپتہ افراد کے ہمراہ ایک جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔ بلوچستان میں جعلی مقابلوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اور اب ان افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہیں عدالتوں میں پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ امر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سی ٹی ڈی اور پولیس قانون اور عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ان غیرقانونی کارروائیوں کے خلاف ریاستی اداروں اور عدلیہ کی خاموشی انتہائی تشویشناک ہے۔ آج حمدان کے لواحقین نے اس سنگین ناانصافی کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ ریاستی جبر اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے تمام افراد، تنظیموں اور باشعور شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف بھرپور اور مؤثر آواز اٹھائیں، تاکہ جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کا یہ سلسلہ روکا جا سکے۔
Sammi Deen Baloch54,852 views • 3 months ago

وزیر اعظیم کے مطابق اسلام آباد میں جبری گمشدگیوں کے شکار لاپتہ افراد کے لواحقین کو دو ڈنڈے کیا پڑے تو دو ڈنڈوں سے سب کو تکلیف ہوئی کہ بلوچستان کا وزیر اعظم ہے اور لواحقین پر تشدد کیا گیا اس پر تکلیف نہیں ہونی چاہئے تھی وزیر اعظیم صاحب ! دو نہیں آپ ہمیں دس ڈنڈے ماریں ہماری زبان ہمارے حلق سے کھینچ لیں ہماری آنکھیں نکال لیں آپکا ہر ظلم سہہ لیں گے مگر تب بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کے مطالبہ سے دستبردار نہیں ہونگے #EndEnforcedDisappearances #MarchAgainstBalochGenocide
Sammi Deen Baloch215,101 views • 2 years ago

اس بزرگ خاتون کو کراچی پولیس، کراچی پریس کلب کے سامنے سے صرف اسلئے زبردستی اپنی گاڑی میں دھکیل کر اور گھسیٹ کر لے جارہی ہے، کیونکہ ان کا نوجوان بیٹا داد شاہ گزشتہ چار دنوں سے جبری طور پر لاپتہ کیا جاچکا ہے، اور اس ماں کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ آج اپنے بچوں کے ہمراہ پریس کلب کے باہر پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانا چاہتی تھی۔ اب بلوچ ماؤں کو اپنے گمشدہ بیٹوں کے لئے آواز اٹھانے پر بھی گرفتار کیا جاتا ہے۔ #شمیونکاراچیپولیس
Sammi Deen Baloch19,509 views • 1 month ago

پاکستان میں آج تک نہ وکیلوں اور ججز کو احترام دیا گیا ہے اور نہ کہ سیاستدانوں جرنلسٹوں اور استادوں کو عزت دی گئی ہے اور آج یہی رویہ ہمارے معزز ساتھیوں کے ساتھ بھی روا رکھا گیا اسلام آباد میں ہمارے کانفرنس میں شرکت کے لیے ائے ہوئے محترم استاد پروفیسر منظور بلوچ کے ساتھ پولیس نے نہ صرف بدتمیزی اور دھمکی آمیز لہجے میں بات کرتی رہی بلکہ انہیں زبردستی روک کر ہمارے پروگرام کیلئے انہیں آنے بھی نہیں دیا گیا معزز استاد ہمارے لیے سرمایہ کی حثیت رکھتے ہیں جنکے ساتھ کسی بھی قسم کی بے حرمتی ہم کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے #MarchAgainstBalochGenocide
Sammi Deen Baloch197,603 views • 2 years ago

لاہور : یہ وڈیو کلپ 27 اکتوبر 2023 کی ہے جب لاہور میں بھرے بازار میں ٹریفک کی روانی کے باوجود پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم فرید بلوچ کو پنجاب پولیس کی سہولت کاری میں سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار جبری طور پر لاپتہ کررہے ہیں یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو مجبورا فرید بلوچ کو منظر عام پر لایا گیا اور اس پر منشیات استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا ۔۔ ریاستی فورسز ایسے بلوچ نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں جب لاہور جیسے گنجان آبادی پر مشتمل شہر میں ایسا ہوسکتا ہے تو زرا سوچیں بلوچستان میں کیا کیا نہیں ہوتا ہوگا ۔۔ #MarchAgainstBalochGenoscide
Sammi Deen Baloch194,065 views • 2 years ago

I am honored to receive the Front Line Defenders Award for Human Rights Defenders at Risk. It has been a painful and hard journey; however, receiving this recognition makes my resolve stronger. I will continue to raise my voice for the voiceless and dedicate this award to the resilient people of Balochistan. Their unwavering courage in the face of all forms of suppression and human rights violations inspires me every day. This award is a testament to their strength and determination, and together, we will persist in our fight for justice. Front Line Defenders
Sammi Deen Baloch142,080 views • 2 years ago

بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے کو کبھی جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ لاپتہ نہیں بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کے وجود ہی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک ہفتے کے اندر اندر انہی حکومتی نمائندوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مختلف اور متضاد بیانات دئے گئے ہیں۔ دس دن قبل وزیراعلیٰ نے بیان دیا کہ 2 فروری کے بعد کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان بذاتِ خود اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ایک ہفتہ قبل وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سراسر فراڈ ہے اور اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جبکہ پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وفاقی حکومت جبری طور پر لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ کل آصمہ جہانگیر کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے نہ صرف اس سنگین مسئلے کو مرغی اور انڈے جیسی غیر سنجیدہ مثال سے جوڑ کر کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی بلکہ یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک بلوچستان میں دہشتگردی ہے، جبری گمشدگیاں ہوتی رہیں گی۔ یہ بیان خود اس بات کا اعتراف ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ یہ بات ایک اس بیٹی کے سامنے کہی گئی جس کے والد گزشتہ سترہ برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں اور وہ انکی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہیں اور اسی بیٹی کے ساتھ اور دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین سے ستمبر 2022 میں رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں لواحقین کے دکھ درد کو سمجھنے کا دعویٰ کیا گیا، ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا اور واضح الفاظ میں وعدہ کرکے یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ جبری گمشدگیاں نہیں ہوں گی، جس شخص پر بھی الزام ہے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کیا جائے گا۔ مگر کل میرے سامنے یہ کہا گیا کہ اگر کسی کو اٹھایا جائے گا تو اسے قانون کے مطابق ڈیل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، خود ایک وفاقی وزیر اس کی نفی کر رہا ہے۔ بطور ایک ایسی بیٹی جس کا والد جبری طور پر لاپتہ ہے، کیا میں یہ امید بھی نہ رکھوں کہ ہمارے پیاروں کو آئین اور قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے گا؟ جب ایک وزیر خود آئین کی عملداری پر سوال اٹھا دے تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟ اور آج انہی وعدوں کی نفی خود حکومتی بیانات سے ہو رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ریاست اور ریاست سرگردان ہے حکومتی نمائندے خود شدید تضاد اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کبھی اس مسئلے کو مکمل طور پر جھٹلایا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردی کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ جبری گمشدگیاں ریاست کے ماتھے پر سیاہ دھبہ بن چکی ہیں اور جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا ہے اس پر بات ہوتی رہے گی، حکومتی نمائندے اس مسئلے کو جیسے چاہیں جھٹلائیں یا جائز قرار دیں اس مسئلے کو حل کئے بغیر بری الزمہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ Rana Sana Ullah Khan Azam Nazeer Tarar
Sammi Deen Baloch31,553 views • 4 months ago

جبری طور پر گمشدہ افراد کے کمیشن میں ایک بار پھر میرے والد کے کیس کے ساتھ کئی دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین پیش ہوئے۔ مگر ہمیشہ کی طرح ہم سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ “آپ کے لوگوں کو کس نے اٹھایا؟” سولہ سال گزرنے کے باوجود آج بھی ہمیں جواب دینے کے بجائے سوالات کیے جاتے ہیں، یہی کمیشن کی سنجیدگی کا عالم ہے۔ کل کی پیشی میں ہمیں ایک نیا فارم دیا گیا، جس میں لکھا تھا کہ گمشدہ افراد کے لواحقین فارم بھر کر پچاس لاکھ روپے وصول کریں اور خاموش ہو جائیں۔ یہ حکومت کی جانب سے کمپنسینش کے نام پر ہمارے گمشدہ پیاروں کی قیمت لگانے کی ایک اور کوشش ہے۔ ہم نے ماضی کی طرح اس آفر کو بھی مسترد کیا ہے، کیونکہ کوئی رقم ہمارے درد، تکالیف یا ہمارے پیاروں کی زندگیوں کا مداوا نہیں ہو سکتی۔ ایسے آفر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے اور ہمارے جذبات کی توہین کے مترادف ہیں۔ اگر ریاست واقعی گمشدہ افراد کے لواحقین کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے، تو ہمارے سوالوں کے جواب دے کہ ہمارے لوگ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ کمیشن اپنی سنجیدگی کا ثبوت دے اور محض سوالات دہرانے کے بجائے حقائق پر مبنی پیشرفت دکھائے۔ ہم اپنے گمشدہ عزیزوں کی بازیابی اور سچائی کے مطالبے پر قائم ہیں، کوئی رقم یا وقتی آفر ہمیں خاموش نہیں کر سکتی۔ ہمیں صرف اپنے پیاروں کے بارے میں سچ چاہیے۔
Sammi Deen Baloch52,562 views • 8 months ago

جنھیں نامعلوم مسخ شدہ لاشوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے تو یہ رپورٹ BBC News اردو کے صحافی Riaz Sohail Janjhi, ریاض سہیل रियाज़ सुहैल کی 4 سال قبل کی ہے ضرور دیکھیں بلوچستان میں مسخ شدہ لاشوں کا قبرستان جو ناقابل شناخت ہوتے ہیں اور بغیر ڈی این اے ٹیسٹ کیے دفنا دیے جاتے ہیں #MarchAgainstBalochGenocide
Sammi Deen Baloch140,130 views • 2 years ago