
Sammi Deen Baloch
@SammiBaluch • 176,899 subscribers
First award-winner @FrontLineHRD from Balochistan. Fighting against enforced disappearances & for the safe release of my father #DrDeenMohd & others
Shorts
Videos

This video should have been recorded tomorrow, on the seventeenth year of my Father’s enforced disappearance. Instead, I am recording it today because for the last month and as recently as yesterday, I am being threatened with imprisonment. Seventeen years after they disappeared my father, I am still being forced to live in the shadow of the repression that stole him from us.
Sammi Deen Baloch92,211 次观看 • 1 个月前

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔
Sammi Deen Baloch44,863 次观看 • 28 天前

میرے بیٹے کو سی ٹی ڈی نے اٹھایا، سات دن نامعلوم جگہ پر رکھا گیا، عدالت میں لایا گیا دو دفعہ پیش کیا گیا۔ ہم انکی تیسری عدالت میں پیشی کے لئے انتظار کررہے تھے کہ ہم نے سنا کہ میرے بیٹے کو جعلی مقابلے میں مارا گیا ہے۔ یہ کیسا مقابلہ ہے کہ اور کیوں مارا گیا ہے؟ جب میرے بیٹے کو عدالت میں لایا گیا تو دس دس پولیس کی گاڑیاں انکے پیچھے تھے، کسٹڈی سے مقابلہ کرنے گیا تو یہ پولیس والے کہاں مرگئے تھے۔ میرے بیٹے کا قتل فیک انکاوئٹر ہے۔ #JusticeForHamdan
Sammi Deen Baloch200,633 次观看 • 5 个月前

عورت مارچ کراچی کی جانب سے ماہ جبین اور نسرینہ بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف آج کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس ہونا تھی، مگر اسے روکنے کے لیے ریاستی جبر کی پوری مشینری کو حرکت میں لایا گیا۔ پہلے پولیس نے رابطہ کر کے پریس کانفرنس منسوخ کرنے کا دباؤ ڈالا اور اس کے بعد، 3:30 پر پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے ہی کراچی پولیس نے پریس کلب کے تمام راستے سیل کر دیے، وہاں پہنچنے والے شرکاء کو روک کر ہراساں کیا، گرفتاریاں بھی کیں، اور عملاً پورے ایریا کو ایک گھیراؤ کی شکل دے دی۔ یہ کریک ڈاؤن اسی لیے کیا گیا کیونکہ یہ پریس کانفرنس دو بلوچ لڑکیوں، ایک پولیو سے متاثرہ ماہ جبین اور دوسری محض پندرہ سالہ بچی نسرینہ کی جبری گمشدگی کے خلاف تھی۔ اگر یہ معاملہ کسی اور کمیونٹی کا ہوتا تو شاید نہ پولیس کی یہ بےچینی دکھائی دیتی اور نہ انتظامیہ کی یہ جارحیت۔ مگر بلوچ اس ریاست میں آج بھی شہری تو دور، انسان سمجھنے کی حد تک بھی تسلیم نہیں کیے جاتے۔ اور جو ان کے دکھ، ان کے حق، اور ان کی آواز کے ساتھ کھڑا ہو، اسے بھی اسی جبر، اسی ہراسگی اور گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
Sammi Deen Baloch235,142 次观看 • 7 个月前
1:00
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

“آپ نے انہیں کیمپ لگانے کی اجازت نہیں دی، وہ بارش میں بھیگتے اور جلتی دھوپ میں کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے۔ انہوں نے خود کو اذیت دی، مگر انتظامیہ کو ایک لمحے کے لیے بھی پریشان نہیں کیا۔” ہم دل کی گہرائیوں سے محترمہ ایمان مزاری Imaan Zainab Mazari-Hazir کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جو گزشتہ چار دنوں سے مسلسل مشکلات کے باوجود ان مظلوم لواحقین کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہیں ان کے اس بے لوث ساتھ نے امید اور مزاحمت کو طاقت دی ہے۔ ہم اسلام آباد کی باشعور اور حساس عوام سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان سے آئے ان لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں، کیونکہ یہ صرف بلوچستان کا نہیں، انسانیت کا مسئلہ ہے۔
Sammi Deen Baloch194,490 次观看 • 1 年前

“اگر میرے شوہر کو مار دیا گیا ہے یا وہ زندہ ہیں، جب تک مجھے انکے متعلق کوئی خبر نہیں ملتی، میں انکے لئے انتظار میں بیٹھی ہوئی ہوں مجھے اور کوئی خوشی نہیں چاہئے، میں نے اپنی زندگی اپنے شوہر کے لئے قربان کیا ہے، مجھے انکے بغیر کوئی زندگی عزیز نہیں” سترہ سالوں سے ایک نیم بیوہ کی زندگی بسر کرنے والی میری والدہ نازاتون۔۔ #ReleaseDrDeenMohammad
Sammi Deen Baloch20,419 次观看 • 29 天前

میر صاحب ! پندرہ سال گزرنے کے باوجود ہمیں سنا نہیں جاتا مزاکرات کے نام پر وزرا آتے ہیں اور ایسے بات کرتے ہیں جیسے جبری گمشدگیوں مسلہ ریاستی نہیں بلکہ ہمارا اپنا پیدا کردہ ہے ہمیں سننے کے بجائے اپنا سنا کر چلے جاتے ہیں سچ مانیں ان پندرہ سالوں میں بہت کچھ دیکھا ہے بہت کچھ سہا ہے لوگوں کے لیے پندرہ شاہد ایک نمبر ہو مگر ہمارے لیے پندرہ صدیوں کے برابر ہے اپنے ہی وطن میں خانہ بدوشوں کی طرح زندگی کررہے ہیں کھبی کوئٹہ پریس کلب تو کھبی کراچی اسلام آباد #EndEnforcedDisappearances #MarchAgainstBalochGenocide
Sammi Deen Baloch348,044 次观看 • 2 年前

وزیر اعظیم پاکستان انوار الحق یہاں کہنا کیا چاہتے ہیں ہمیں کوئی تشریح کرکے بتا سکتا ہے ؟ جبری گمشدگیوں کے شکار جتنے بھی لوگ جبری لاپتہ کیے گئے ہیں ہیں انکا یا تعلق سیاسی تنظیموں سے رہا ہے یا طلبا تنظیموں سے یا عام غریب لوگ جنکو بلوچ سمجھ کر اٹھایا گیا ہے وزیر اعظیم جتنی چرپ زبانی کرئے جتنا logical بننے کی کوشش کرئے تب بھی جبری گمشدگیوں کو justified نہیں کرسکتے اور اب تو حد یہ ہے ہم لواحقین کے ساتھ یکجہتی کرنے والوں کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں #EndEnforcedDisappearances #MarchAgainstBalochGenocide
Sammi Deen Baloch319,678 次观看 • 2 年前

میری والدہ کہتی ہے کہ کاش میں پڑھی لکھی ہوتی اپنے شوہر ڈاکٹر دین محمد بلوچ کا مقدمہ خود لڑتی امی نے ہمیں مشکل حالات میں غربت کے باوجود ہم تین بچوں کو پالا بڑا کیا تعلیم دلوائی بہت سے لوگ امی سے سوال کرتے ہیں تم کیوں اپنے جوان بیٹیوں کو سڑکوں پر احتجاج کیلئے جانے دیتی ہو ؟ میری والدہ یہ جانتی ہے کہ ہمارے علاوہ انکااور کوئی نہیں ہے جب ہم احتجاج کیلئے گھر سے نکلتے ہیں تو پریشان و بے چین ہوتی ہے لیکن ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں ہے امی کی یہ ٹوٹے پھوٹے الفاظ شاید آپ میں بہت لوگوں کو سمجھ میں نہ ائیں لیکن انکی تکلیف لہجے اور آواز سے عیاں ہے میری والدہ کی زندگی کے وہ خوبصورت برس بغیر بابا کہ گزرئے ہیں پندرہ سال میری والدہ نہ بیوائوں میں شمار ہوتی ہے نہ شادی شدہ کی فہرست میں جگہ بنا سکتی ہے میری والدہ کا ازواجی اسٹیٹس کیا ہے یہ اس اسٹیٹ کو ہی پتا ہے
Sammi Deen Baloch320,476 次观看 • 2 年前

بی وائی سی کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے کیسز کے لیے استعمال ہونے والے ٹیمپلیٹ میں ترمیم کرکے کوئٹہ ٹرین حملے میں ملوث خودکُش بمبار بلال شاہوانی کی تفصیلات شامل کرنا اور پھر اسے بی وائی سی سے جوڑ کر بڑے نام نہاد میڈیا اداروں کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلانا، نہ صرف صحافتی بددیانتی ہے بلکہ عوام کو دانستہ طور پر بی وائی سی کی پُرامن جہدوجُہد کے متعلق گمراہ کرنے کی کوشش بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلال شاہوانی کا پوسٹر نہ کبھی بی وائی سی کی جانب سے جاری کیا گیا، نہ اس حوالے سے کوئی مستند ثبوت موجود ہے اور نہ ہی بی وائی سی کے کسی آفیشل پلیٹ فارم پر اسے کبھی جبری گمشدہ قرار دیا گیا۔ مزید یہ کہ بلال کے والد نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس میں ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک مسلح تنظیم کا حصہ بن چکا ہے۔ اس کے باوجود جھوٹ کو بار بار دہرا کر اسے سچ ثابت کرنے کی پرانی روش آج بھی جاری ہے۔ جس معاشرے میں نام نہاد مین اسٹریم میڈیا اور خود کو صحافی کہلوانے والے افراد سچ اور جھوٹ میں تمیز کیے بغیر طاقتور حلقوں کے بیانیے کو آگے بڑھانے لگیں وہاں سب سے پہلے سچ کا قتل ہوتا ہے۔ صحافت کا بنیادی فریضہ سوال اٹھانا، تحقیق کرنا اور حقائق کو سامنے لانا ہے مگر افسوس کہ بعض میڈیا چینلز نے تحقیق، ثبوت اور صحافتی دیانت کو پسِ پشت ڈال کر محض وہی بیانیہ دہرانا شروع کردیا ہے جو انہیں فراہم کیا جاتا ہے۔ بغیر کسی آزادانہ تحقیق، بغیر تصدیق، اور بغیر اخلاقی ذمہ داری کے بی وائی سی کے خلاف منظم منفی پروپیگنڈہ چلانا صحافت نہیں بلکہ طاقتور حلقوں کی نمائندگی ہے۔ شاید اس طرزِ عمل سے چند ایوانوں میں داد وصول کی جاسکے مگر باشعور عوام بخوبی جانتے ہیں کہ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جارہا ہے تاکہ بی وائی سی جیسی عوامی، مزاحمتی اور پُرامن تحریک کو متنازع بنایا جاسکے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی آواز کو دلیل اور حقائق کے ذریعے دبایا نہیں جاسکتا تو پھر کردار کشی، جھوٹے الزامات اور میڈیا ٹرائل کا سہارا لیا جاتا ہے۔ بی وائی سی کی پُرامن جدوجہد سے اس قدر خوفزدگی ظاہر کرتی ہے کہ اسے کاؤنٹر کرنے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈہ استعمال کیا جارہا ہے۔ میڈیا ہاؤسز اگر اپنی ساکھ، صحافتی اصولوں اور عوامی اعتماد کو مسخ کرکے محض گھڑا ہوا پروپیگنڈہ آگے بڑھائیں گے تو اس سے وقتی طور پر سچ کو دھندلایا تو جاسکتا ہے مگر جھوٹ کو ہمیشہ کے لیے سچ ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ بی وائی سی ان تمام بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کو مسترد کرتی ہے اور اپنی پُرامن جدوجہد ایسے ہتھکنڈوں کے باوجود جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
Sammi Deen Baloch26,974 次观看 • 1 个月前

حمدان محمد علی کو 29 دسمبر 2025 کو کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ سے جبری حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں ان کی گرفتاری ظاہر کر کے انہیں عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کا مقدمہ سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھا۔ آج ان کا جسمانی ریمانڈ ختم ہونا تھا، مگر اس سے ایک دن قبل انہیں تین دیگر جبری طور پر لاپتہ افراد کے ہمراہ ایک جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا۔ بلوچستان میں جعلی مقابلوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اور اب ان افراد کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہیں عدالتوں میں پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ امر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سی ٹی ڈی اور پولیس قانون اور عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو قانون سے بالاتر سمجھ کر کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ان غیرقانونی کارروائیوں کے خلاف ریاستی اداروں اور عدلیہ کی خاموشی انتہائی تشویشناک ہے۔ آج حمدان کے لواحقین نے اس سنگین ناانصافی کے خلاف کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا۔ ریاستی جبر اور ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرنے والے تمام افراد، تنظیموں اور باشعور شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف بھرپور اور مؤثر آواز اٹھائیں، تاکہ جبری گمشدگیوں اور جعلی مقابلوں کا یہ سلسلہ روکا جا سکے۔
Sammi Deen Baloch54,869 次观看 • 5 个月前

وزیر اعظیم کے مطابق اسلام آباد میں جبری گمشدگیوں کے شکار لاپتہ افراد کے لواحقین کو دو ڈنڈے کیا پڑے تو دو ڈنڈوں سے سب کو تکلیف ہوئی کہ بلوچستان کا وزیر اعظم ہے اور لواحقین پر تشدد کیا گیا اس پر تکلیف نہیں ہونی چاہئے تھی وزیر اعظیم صاحب ! دو نہیں آپ ہمیں دس ڈنڈے ماریں ہماری زبان ہمارے حلق سے کھینچ لیں ہماری آنکھیں نکال لیں آپکا ہر ظلم سہہ لیں گے مگر تب بھی اپنے پیاروں کی بازیابی کے مطالبہ سے دستبردار نہیں ہونگے #EndEnforcedDisappearances #MarchAgainstBalochGenocide
Sammi Deen Baloch215,130 次观看 • 2 年前

پاکستان میں آج تک نہ وکیلوں اور ججز کو احترام دیا گیا ہے اور نہ کہ سیاستدانوں جرنلسٹوں اور استادوں کو عزت دی گئی ہے اور آج یہی رویہ ہمارے معزز ساتھیوں کے ساتھ بھی روا رکھا گیا اسلام آباد میں ہمارے کانفرنس میں شرکت کے لیے ائے ہوئے محترم استاد پروفیسر منظور بلوچ کے ساتھ پولیس نے نہ صرف بدتمیزی اور دھمکی آمیز لہجے میں بات کرتی رہی بلکہ انہیں زبردستی روک کر ہمارے پروگرام کیلئے انہیں آنے بھی نہیں دیا گیا معزز استاد ہمارے لیے سرمایہ کی حثیت رکھتے ہیں جنکے ساتھ کسی بھی قسم کی بے حرمتی ہم کبھی بھی برداشت نہیں کریں گے #MarchAgainstBalochGenocide
Sammi Deen Baloch197,635 次观看 • 2 年前

لاہور : یہ وڈیو کلپ 27 اکتوبر 2023 کی ہے جب لاہور میں بھرے بازار میں ٹریفک کی روانی کے باوجود پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم فرید بلوچ کو پنجاب پولیس کی سہولت کاری میں سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار جبری طور پر لاپتہ کررہے ہیں یہ وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو مجبورا فرید بلوچ کو منظر عام پر لایا گیا اور اس پر منشیات استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا ۔۔ ریاستی فورسز ایسے بلوچ نوجوانوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں جب لاہور جیسے گنجان آبادی پر مشتمل شہر میں ایسا ہوسکتا ہے تو زرا سوچیں بلوچستان میں کیا کیا نہیں ہوتا ہوگا ۔۔ #MarchAgainstBalochGenoscide
Sammi Deen Baloch194,078 次观看 • 2 年前

I am honored to receive the Front Line Defenders Award for Human Rights Defenders at Risk. It has been a painful and hard journey; however, receiving this recognition makes my resolve stronger. I will continue to raise my voice for the voiceless and dedicate this award to the resilient people of Balochistan. Their unwavering courage in the face of all forms of suppression and human rights violations inspires me every day. This award is a testament to their strength and determination, and together, we will persist in our fight for justice. Front Line Defenders
Sammi Deen Baloch142,126 次观看 • 2 年前