
Zorakh Baloch
@ZorakhBaloch • 13,371 subscribers
Activist | Nationalist | Voice Against State Violence |
Shorts
Videos

جو بشیر زیب آج آپ کو ہونڈا 125 دوڑاتے نظر آ رہا ہے، وہ کبھی کوئٹہ پریس کلب میں کھڑے ہو کر اپنے مطالبات سیاسی اور پرامن طریقے سے پیش کیا کرتا تھا، مگر 2014 میں بلوچستان کے سیاسی کارکنوں پر ہونے والے کریک ڈاؤن کے بعد جب بہت سے بلوچ رہنماؤں کو قتل کر دیا گیا تو بشیر زیب بھی انڈر گراؤنڈ ہو گئے کیونکہ ان کے مطالبات سننے والا کوئی نہ تھا اور جو کوئی بھی اپنے حقوق سیاسی طور پر مانگتا تھا اسے چپ کرا دیا جاتا تھا یا قتل کر دیا جاتا تھا، ان حالات نے بشیر زیب کو قلم کے بجائے بندوق اٹھانے پر مجبور کر دیا اور بی ایل اے میں شامل ہوگئے۔ آج وہ بشیر زیب بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کے ایک سینئر کمانڈر بن چکے ہیں، وہ تنظیم جو کبھی صرف گیارہ افراد پر مشتمل تھی آج اس کی ریکروٹمنٹ ہزاروں میں ہو چکی ہیں، پہلے بی ایل اے کئی طرف سے محدود حملے ہوتے تھے مگر اب جب سے بشیر زیب نے کمانڈ سنبھالی ہے بی ایل اے کا سکیل کافی وسیع ہو چکا ہے۔ اب بات کوئٹہ سمیت پورا بلوچستان ہائیجیکنگ تک پہنچ چکی ہے، اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان حالات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور ان کے ذمہ دار آخر کون ہیں، یہ فیصلہ آپ خود کریں !
Zorakh Baloch239,562 görüntüleme • 8 ay önce

آج اگر بشیر زیب پرامن سیاست کر رہا ہوتا تو یا تو اس کی مسخ شدہ، خون میں لت پت لاش کسی سنسان ویرانے میں پھینک دی جاتی، یا زاکر مجید کی طرح آج بھی اندھیروں کے زندان میں قید ہوتا، یا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی طرح عمر قید کی سزا کاٹتے ہوئے ریاستی تشدد کا نشانہ بنتا۔ اسے بشیر زیب کی دور اندیشی کہو، اس کی ذہانت کہو، اس کی صلاحیت کہو یا قسمت کہو،لیکن آج وہ ایک منظم اور بے خوف فوج کا کمانڈر ہے۔ اس کے ماتحت ہزاروں سرماچار ہر لحظہ جان لینے اور جان دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ بشیر زیب کے ایک اشارے پر پورا کوئٹہ شعلوں میں جل اٹھتا ہے، گوادر گولیوں کی گونج سے کانپ اٹھتا ہے، اور مکران دھماکوں سے لرز اٹھتا ہے۔ یہ ہرگز نہیں کہ بشیر زیب اور دیگر آزادی پسندوں کو خونریزی کا شوق ہے یا وہ اقتدار کے بھوکے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ بلوچ کے لیے سیاسی راستے کس نے بند کیے بشیر زیب پر سب سے پہلے بندوق کس نے تان دی ؟ اس کے ساتھیوں کا قتل عام کس نے شروع کیا ؟ بلوچ سیاسی رہنماؤں کو جس بے رحمی سے نشانہ بنایا گیا، اس کا آغاز کس نے کیا ؟ پچھلے پچھتر سال چھوڑ دیں، صرف پچھلے پچیس سالوں کی تاریخ ذرا باریکی سے پڑھیں، اسی دن صاف ہو جائے گا کہ بلوچستان کی موجودہ آگ اور خون کے کھیل کا اصل ذمہ دار کون ہے۔
Zorakh Baloch22,635 görüntüleme • 22 gün önce

پنجاب نے پتا نہیں کیا کیا گند مچایا ہوا ہے، ہر روز کسی فحش لیک ویڈیو کا زکر سوشل میڈیا پر ہو رہا ہوتا ہے، لیکن بلوچستان سے آپ کو ایسی غلیظ گھٹیا کنٹنیٹ نہیں ملے گا بلکہ ایسی ویڈیوز منظر عام پر آتی ہیں، زرا غور سے دیکھیں۔ یہ مستونگ میں ایک ملٹری کیمپ ہے، جہاں پانی اور خوراک کی قلت کی وجہ سے ملٹری اہلکار کیمپ خالی کرنے پر مجبور ہو گئے، یاد رہے راشن بلوچ مسلح افراد نے بند کر رکھا ہے۔
Zorakh Baloch57,600 görüntüleme • 2 ay önce
2:11
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

I can't stop laughing 😂. بچاری ایموشنل ہونے کی ناکام کوشش کر رہی ہے لیکن آنکھ سے آنسو نہیں نکل رہے 😆. یقین کریں ان ڈاگڑ دلوں کی چیخیں سن کر بہت مزہ آ رہا ہے۔ جیل میں بیٹھ کر ریاستی ٹاؤٹس کی نیندیں حرام کرنے والی کا نام ماہ رنگ بلوچ ہے۔ ژندہ باد راہشون ماہرنگ بلوچ
Zorakh Baloch194,775 görüntüleme • 1 yıl önce

سرفراز بگٹی نے بلوچ نوجوانوں کو تیسرا " راستہ" نہیں بتایا جو کہ ان کے باپ دادا کی طرف سے دیا گیا تحفہ ہے ان کی وراثت ہے۔ جس پر عمل کر کے سرفراز صاحب ماشاء اللہ وزیراعلی بھی بن گئے ہیں، اپنے قوم کی خدمت کر رہے ہیں، بلوچستان میں سرمچاروں کے خلاف بیانیہ کی جنگ لڑ رہے ہیں، سرفراز بگٹی کا یہ تیسرا راستہ انتہائی مشکل رہا، وزیراعلی بننے کے لیے یہی وہ راستہ تھا جس پر عمل پیرا ہوکر سرفراز صاحب کامیابیوں پر کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، شاید مزید ترقی بھی کر لیں، آپ لوگوں کے زہن میں وہ " راستہ" جس پر سرفراز صاحب عمل پیرا ہیں، پتا نہیں کیا چل رہا ہے، اس راستے کو جاننے کے لیے تاب ہوں گے۔ اس کامیابی کے راز کو جاننے کے لیے پہلا کمنٹ لازماً دیکھیں۔
Zorakh Baloch11,616 görüntüleme • 17 gün önce

دن کے وقت " شہادت شہادت" کا راگ الاپتے ہیں اور رات کے وقت بیرکس میں یہ نظارۓ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہاں ویڈیو ریکارڈ کرنے پر سخت پابندی ہے، تو وہاں کی ویڈیوز بہت کم نظر آتی ہیں لیکن ماحول یہی ہوتا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں پہلے پنجاب سے "شریف" ٹک ٹاکرز کو بلوچستان اسی سلسلے میں مدعو کیا گیا تھا۔ نوٹ: یہ ویڈیو سنٹرل پنجاب کی ہے، اگر پنجاب کے پبلک پلیسز پر ایسا ماحول ہے تو بیرکس میں کیا ماحول ہوتا ہوگا۔
Zorakh Baloch46,056 görüntüleme • 3 ay önce

بلوچ خواتین کے خلاف اس جیسی چلی ہوئی کارتوسوں کو بھی استعمال کیا گیا لیکن بلوچ خواتین کی وہی عزت و آبرو آج بھی برقرار ہے۔ اب استعمال شدہ نئی تتلیوں کو بھی لانچ کر کے دیکھ لو۔ یہ بھی اسی طرح کوڑۓ دان کی زینت بنیں گی۔ اس ویڈیو کو بھی زوم کر کے دیکھ لیں یہاں دیکھنے کے لیے مواد زیادہ ملے گا۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر اندازہ تو ہو گیا ہوگا کہ بلوچ کس قدر لباس اور غیرت میں تم لوگوں سے کتنا بہتر ہے !
Zorakh Baloch36,152 görüntüleme • 4 ay önce

میڈیا پر سرفراز مسوری اپنے ترجمانوں کے ساتھ بیٹھ کر بڑے بڑے دعوے کرتا ہے اور حکومت کی طرف سے ٹوئٹر اکاؤنٹس کے ذریعے دروغ گوئی و دھوکے کا سہارا لیا جاتا ہے جبکہ روزانہ کی بنیاد پر حکومتی ارکان میڈیا پر دعویٰ کرتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات مکمل کنٹرول میں ہیں اور ایک ایک انچ پر ریاستی رٹ قائم ہے، آج بلوچستان کے جیوانی علاقے میں کوسٹ گارڈ ہیڈ کوارٹر پر خودکش دھماکے کی اطلاعات ملیں تو فوراً ریاستی اکاؤنٹس نے دعویٰ کیا کہ حملہ ناکام بنا دیا گیا اور چار حملہ آور مار دیے گئے لیکن حملہ آوروں نے ویڈیو اپ لوڈ کر دی جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پورا کوسٹ گارڈ ہیڈ کوارٹر زمین بوس ہو گیا ہے اور حملہ آور بھی صرف ایک تھا، اطلاعات ملی ہیں کہ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کر لی ہے جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 30 کوسٹ گارڈ اہلکار مارے گئے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے کس قدر جھوٹ بولا جا رہا ہے اور حقائق کو کس طرح چھپایا جا رہا ہے، کہاں ہیں وہ سرفراز مسوری اور حکومتی ارکان جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، دلچسپ بات یہ ہے کہ حملہ آوروں نے زمہ داری بھی قبول کر لی اور ویڈیو بھی اپ لوڈ کر دی لیکن سیکورٹی فورسز اور بلوچستان حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی پریس ریلیز جاری نہیں ہوئی بلکہ ریاستی سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے صرف حملہ ناکام ہونے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ باقی مجھے آج تک پتہ نہیں چلا کہ پاکستان میں حملہ ناکام یا کامیاب کرنے کا کرائٹیریا کیا ہے ؟
Zorakh Baloch28,775 görüntüleme • 3 ay önce

نام نہاد سردار کینٹ میں چھپے بیٹھے ہیں ان کے لیے بلوچ سرزمین تنگ کر دی گئی ہے
Zorakh Baloch98,287 görüntüleme • 1 yıl önce

افغانوں کو تندور پر کام کرنے کا طعنہ دیا جاتا ہے جبکہ بلوچ خواتین کی جدوجہد پر انہیں "غیرت" کا طعنہ دیا جاتا ہے، لیکن اپنا کلچر کیا ہے؟ اس ویڈیو میں بس ایک چھوٹی سی جھلک دیکھ لیں اور پھر خود اندازہ لگائیں کہ ایسے لوگوں کو افغانوں یا بلوچوں پر تنقید کرنے کا حق ہے بھی یا نہیں؟
Zorakh Baloch38,047 görüntüleme • 8 ay önce

ہوشیار 🚨 اسلام آباد اور لاہور میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو بلوچی زبان سکھائی جا رہی ہے۔ ان میں سے کچھ کو کوہ سلیمانی لہجہ اور کچھ کو مکرانی لہجہ سکھایا گیا ہے۔آپ کو بتاتا چلوں کہ کوئی بھی زبان کے بنیادی الفاظ، عام جملے یا رٹی رٹائی باتیں یاد رکھنا یا کیمرہ کے سامنے بولنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ بہت سے لوگ روس، چین اور دیگر ممالک میں سکالرشپس پر پڑھنے جاتے ہیں اور وہاں کی زبان چھ ماہ سے ایک سال کے اندر آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔ اب جبکہ بلوچستان میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور بلوچ مسلح تنظیموں کی جنگی حکمت عملی بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ اب خواتین نے بھی جنگ کا حصہ بننے کے لیے ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ پنجاب کے سو کالڈ تجزیہ کار جن میں مختلف ٹاؤٹسس، کچھ پشتون لڑکیاں بھی، استعمال کی گئیں لیکن بلوچ عوام نے ان کو مسترد کیا، براق ڈیجیٹل، آزاد ڈیجیٹل سمیت ہر فارمولا ناکام ہوا کیونکہ بلوچ ان کے اصل چہرے جانتے ہیں۔ پاکستان کو بیانیہ کی جنگ (narrative warfare) میں بلوچ خواتین کی ضرورت پڑی، لیکن بلوچستان کی مقامی خواتین اس قسم کے پروپیگنڈا کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہوئیں (سوائے چند ایک کے)۔ اس لیے ریاست نے پنجاب اور دیگر شہروں کی لڑکیوں کو بلوچی زبان سکھانا شروع کر دیا۔آج کل انسٹاگرام، ایکس (ٹویٹر)، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بلوچی زبان بولتی ہوئی خواتین ایک مخصوص بیانیہ چلانے کی کوشش کر رہی ہیں، جو مکمل طور پر سرکار کی سرپرستی اور حمایت میں ہو رہا ہے۔ واضح کرتا چلوں اگر ان کا بائیو ڈیٹا نکالا جاۓ تو ان میں سے ہر ایک کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے۔ ان خواتین کا بلوچستان یا بلوچ کاز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
Zorakh Baloch18,916 görüntüleme • 4 ay önce

میں ہمیشہ سے کہتا آ رہا ہوں کہ جب بھی سیکیورٹی کی کوئی ناکامی پیش آئے تو متعلقہ اداروں اور ذمہ داروں سے براہ راست سوال کیا جانا چاہیے کہ اربوں روپے کا دفاعی بجٹ آخر کہاں خرچ کیا جا رہا ہے جبکہ مسلح افراد گاڑیوں میں بارود بھر بھر کوئٹہ شہر میں کھلے عام کارروائیاں کر رہے ہیں، پہلے یہ رواج تھا کہ کسی بھی مسلح کارروائی کے بعد ماہ رنگ بلوچ اور ایمان مزاری جیسی انسانی حقوق کی کارکنوں کے مذمت کا مطالبہ کیا جاتا تھا اور اصل مجرمان کی بجائے انسانی حقوق کے رہنماؤں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا، اب کم از کم کچھ لوگ تو اصل ذمہ داروں سے سوال کر رہے ہیں کہ یہ اربوں کا بجٹ کہاں جا رہا ہے اور یہ سوال دبانے کی بجائے اس کا جواب دینا اور احتساب کرنا ضروری ہے۔
Zorakh Baloch14,804 görüntüleme • 5 ay önce

یہ ہے بلوچستان ڈیرہ بگٹی سوئی ! یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے پورے پاکستان کو گیس سپلائی کی جاتی ہے مگر سوئی کے لوگ اج بھی لکڑیاں چن کر اپنا گزارہ کر رہے ہیں۔ یہ قبضہ نہیں تو کیا ہے جب ہم اپنے وسائل حق و حقوق اور قابض ریاست کی اس قبضے کے خلاف اواز اٹھاتے ہیں تو ہمیں غدار کہا جاتا ہے۔
Zorakh Baloch17,123 görüntüleme • 1 yıl önce
Daha fazla içerik yok.